مصنوعی بمقابلہ انسانی ذہانت
اکثر لوگ جب مصنوعی ذہانت کا سنتے ہیں تو سب سے پہلے خیال روبوٹ کی طرف جاتا ہے ۔ آج کل کی فلمی دنیا بڑے بڑے خود کار روبوٹ کو ایکشنز میں دکھائی دیتے نظر آتے ہیں۔ جو نہ صرف ذہانت کا استعمال بلکہ ہر کام آسانی اور برق رفتاری سے کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن مصنوعی ذہانت ایک ایسا عمل جس سے کمپیوٹر یا کسی مشین کے ذریعے انسانی کام کاج کو بروئے کار لانا، مختلف زبانوں، مسئلوں اور نئی چیزوں کے سیکھنے کے عمل کا نام ہے۔
تیکنیکی طور پر یہ دوسرے اوزاروں کی طرح ایک اوزار ہے۔ جسے انسان ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے استعمال میں لا رہا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر کمپیوٹر کا عمل انسانی دماغ کے کام کرنے کے طریقہ کار کی طرح ہے۔ دونوں میں بنیادی فرق کمپیوٹر کا بہت بڑے ڈیٹا کا آسانی سے تجزیہ کرنا ہے جو عموماً انسانی ذہن کے بس کی بات نہیں۔ مصنوعی ذہانت میں مختلف پیٹرنز کی شناخت، فیصلے صادر کرنا اور چیزوں کو پرکھنا آسان ہوتا ہے۔
آج کل دنیا میں کئی قسم کے مصنوعی ذہانت کے بنیادی تا ایڈوانس اپلیکیشنز ایجاد ہو چکے ہیں۔ جن میں مختلف زبانوں کی سوجھ بوجھ، انسانی لہجے کی پہچان اور اس کی آنکھ کی پتلی کی شناخت بھی شامل ہیں۔ مثلاً سری، گوگل اسسٹنٹ اور ایمزون کا الیکسا اب سمارٹ موبائل فونوں میں در آئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز بھی آج کل مصروف زندگی ہیں۔ جن میں اچھی چیزوں کے علاوہ جھوٹی خبریں اور دوسرے کئی نا پسندیدہ عوامل بھی شامل ہیں۔
لیکن مصنوعی ذہانت سے بری اشیاء پر نظر رکھتے ہوئے اور اب جھوٹی خبروں کا تدارک بھی ہو چلا ہے۔ اب کاروباری ادارے روبوٹ چاٹ (روبوٹ کے ذریعے بات چیت) اور ورچوئل اسسٹنٹ کو اپنے زیر استعمال لا رہے ہیں۔ ان کی مدد سے یہ کاروباری ادارے گاہکوں کے آرڈرز کی ترسیلی نظام میں سرعت و مدد کے علاوہ ان کی واپس بھیجی گئی اشیاء کو بھی وصول کرتے اور نبھاتے ہیں۔ صحت کے میدان میں مریضوں کی مانیٹرنگ، ان کے طبی عکس اور ان کا تجزیہ جس میں اعضاء میں مرض کی علامات و تشخیص اور مزید کیا تحقیق درکار ہے یہ سب مصنوعی ذہانت کے کارنامے ہیں۔
دوائیوں کی نئی تحقیق و ایجاد میں بھی مصنوعی ذہانت بہت مفید ہے۔ مصنوعی ذہانت اب کاروں، بسوں اور ٹرکوں میں بھی قابل ذکر طور استعمال ہو رہی ہے۔ جس سے خود کار کاریں اپنے روٹس، مثلاً سڑکوں یا موٹر وے، پر چلتے ہوئے اپنی جائے مقام پر پہنچ جاتی ہیں مزید یہ کہ پارکنگ کے ایریاز میں انہیں خودکار سسٹم کے تحت کیسے پارک ہونا ہوتا ہے جس میں اب ڈرائیور کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس سے سڑکوں میں حادثات کی شرح میں کمی، گنجان آباد علاقوں میں کاروں کی بھیڑ کا کم ہونا اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی واقع ہو گی۔ گھروں میں سمارٹ خودکار سیکورٹی سسٹم کے آلات جن کو موبائل فون سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔ اب ہر طرف مشہور ہو رہے ہیں اور گاہک اپنے پسندیدہ آلات کو زیر استعمال لا رہے ہیں۔
گو کہ مصنوعی ذہانت ہماری زندگی میں سائنسی انقلاب رونما کر رہی ہے لیکن دوسری طرف اس کے منفی پہلو بھی ہیں مثلاً ملازمتوں کے کئی شعبوں کا متروک ہونا، انسانی راز داری پر اس کے اثرات و سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔ جب تک اس کے استعمال کے لئے قوانین وضع نہ کیے جائیں اور اس کے اخلاقی و سماجی پہلوؤں پر سیر حاصل بحث نہ ہو اور بین الاقوامی برادری اکٹھے مل کر کوئی میکانزم وضع نہ کریں تب تک انسان اس کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہ ہو گا۔
مصنوعی ذہانت میں انسان کی اپروچ یہ ہے کہ ایک ایسا سسٹم موجود ہو جو انسانوں کی طرح سوچے اور انہی کی طرح کام نبٹائے۔ یعنی ایک ایسا مشینی میکانزم جو انسانوں کی طرح سوچے لیکن برق رفتار ہو۔ مصنوعی ذہانت کی اعلی مثالوں میں نقشے اور سمت شناسی ہے جس میں راستوں کا تعین آسان بنا دیا گیا ہے۔ انسانی چہروں کی شناخت سے اب مجرموں کا چھپنا محال ہو گا۔ اب کمپیوٹر کے لکھنے والے ایپلیکیشن میں خودکار طور پر ہجوں اور گرامر کی تصحیح، چاٹ بوٹ جو آپ سے بات چیت کے ذریعے انسانی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ اب ای پیمنٹ سے ادائیگی کے لئے آسان طریقہ کار نظام بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے دوسرے فوائد میں انسانی خطا کا نہ ہونا، رسک نہ ہونا، اس کی چوبیس گھنٹوں کی دستیابی، ڈیجیٹل عنصر کی مدد کا حاصل ہونا، نئی ایجادات میں پیش رفت، غیر متنازعہ فیصلے، عمل کو بآسانی بار بار دہرایا جانا اور روز مرہ کا آسان استعمال ہیں۔
دوسری طرف اس کے نقصانات کا موازنہ اس کے فوائد سے کرتے ہیں۔ تو نقصانات میں سب سے پہلے ایسے کمپیوٹر یا مشین کا خرچ ہے۔ جسے بنانے میں انتہائی رقم درکار ہوتی ہے۔ جس میں ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر دونوں ہی شامل ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان اس کے اندر ڈالے گئے سافٹ وئیر کے سہارے سب امور کا طے کرنا ہوتا ہے یعنی اس میں جدت پسندی یا اپنے طور نئی اختراع و ایجادات کا طے کرنے کا عنصر مفقود ہوتا ہے۔ روبوٹس کے آ جانے اور روزمرہ کے کام کاج نبھانے سے بیروزگاری کا بڑھ جانا ایک قدرتی عمل ہے اور انسانوں میں سست روی کا پیدا ہو جانا بھی ایک قدرتی امر ہو گا۔
مصنوعی ذہانت والی مشینیں جذبات سے عاری ہوں گی۔ ان مشینوں کے اپنے کوئی جذبات نہیں ہوں گے۔ جس طرح انسان ایک ٹیم میں رہتے ہوئے اپنے اپنے ٹاسک ادا کرتا ہے یہ کمپیوٹرز ان سے عاری ہوں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کام کاج میں یہ انسانوں سے اعلی درجہ رکھتے ہوں گے۔ لیکن انسانوں کی طرح ان میں جذبات و اخلاقیات نام کی کوئی شے نہ ہو گی۔ جو بنی نوع انسان کو دوسری مخلوق سے ممتاز کرتی ہے۔ انسانی وصف میں آگے بڑھنے کی صلاحیت، رشتے ناتے قائم کرنا و نبھانا، بچوں کی نگہداشت بزرگوں سے صلہ رحمی، ایک دوسرے کی مدد اور کام آنا جو انسانی فطرت ہے مصنوعی ذہانت والی مشینیں ان سے عاری ہوں گی کیونکہ یہ انسان کی ایجاد کردہ مشین ہے جس میں سافٹ وئیر کے ذریعے مصنوعی ذہانت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے لیکن اپنے طور کوئی بھی نئی شے یا کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ ایک پروگرام کے تحت کام نبھانا جانتی ہوں گی۔
مصنوعی ذہانت فوائد و نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس سے یہ دنیا رہنے کے لئے ایک بہتر جگہ ہو گی۔ اس میں بنی نوع انسان کے لئے ایک چیلنج ہو گا کہ وہ اس بات پہ نظر رکھے کہ یہ مصنوعی ذہانت کی مشینیں اس کے کنٹرول سے باہر نہ ہوں۔ اس کے لئے ہمارے ہاں مصنوعی ذہانت کے ماہرین کا ہونا اشد ضروری ہو گا۔ سوچنے کا مقام ہے کیا ہم بدلتی دنیا کے لوازمات کو سمجھ کر اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔
بحیثیت قوم ہم بدلتے ماحول میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیا ہم اس چیلنج کے لئے اپنی نوجوان نسل کے ماہرین کو تیار کرنے کے کورس اپنی درسگاہوں میں پڑھا رہے ہیں؟ سوالات تو بہت ہیں لیکن ان دو سوالوں کے جوابات اگر ہم نے تلاش کر لئے تو ہم اپنی ترقی کی جانب ایک قدم اور بڑھا چکے ہوں گے۔


