زرداری کی پلاننگ اور نواز شریف کے سمجھوتے


سیاست وقفوں کا نہیں تسلسل کا نام ہے۔ سیاسی ریس میں جو گھوڑے پیچھے رہ جاتے ہیں وہ دوبارہ پہلے جیسی پوزیشن حاصل کرنے میں کم ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ سیاسی میدان سے آؤٹ ہونا ایک متحرک سیاستدان کے لئے سزائے موت سے کم نہیں ہوتا۔ ایک وقت میں کسی سیاسی لیڈر کی مقبولیت کوہ ہمالیہ کو چھو رہی ہوتی ہے اگلے ہی لمحے اس کی سیاست نالہ لئی یا سمن آباد کے گندے نالے میں بہہ رہی ہوتی ہے۔ سیاسی لیڈر کے غلط فیصلے اور طاقت کے نشے میں کی حماقتیں اس کو 20 سال پیچھے پھینک دیتی ہیں اور کبھی کبھی اس کو تخت سے اٹھا کر تختہ دار تک پہنچا دیتی ہیں۔

اپنے جانثاروں اور قریبی رفقا پر ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی لیڈر کی سیاسی موت بن جاتی ہے۔ سچے اور مخلص ہمدرد ہر سیاسی لیڈر کی قسمت میں نہیں ہوتے۔ سیاسی رفقا کی اکثریت مفاد پرست اور موقعہ پرست ہوتی ہے۔ ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے بعد سب سے پہلے اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی کو خیر باد کہا جو آج کل جمہوریت کے چیمپیئن بن رہے ہیں۔ پھر نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ان کو خیر باد کہنے والوں کی لمبی فہرست ہے۔ جبکہ عمران خان ابھی نااہل ہوئے نا ہی جیل گئے ان کو چھوڑنے والے کی فہرست 250 کے قریب پہنچ چکی ہے۔

سیاستدان قربانی کا آغاز اپنے وزیر اعظم سے کرتے ہیں جبکہ آج تک کسی جج اور جرنیل کی قربانی ہوئی نہ ہی ان کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ پاکستان کے سیاسی لیڈروں کا سب سے بڑا المیہ ہر وزیراعظم کے خلاف سہولت کاری کا رول ادا کرتے آئے ہیں اور کرسی کھینچنے کا موقع تلاش کرتے ہیں۔ لیاقت علی خان سے عمران خان تک ہر وزیراعظم کے خلاف حزب اختلاف نے سہولت کاری کا ہی رول ادا کیا ہے۔ آج کوئی ایک بھی سیاسی لیڈر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کبھی اپنے مخالف سیاستدان کے خلاف سہولت کار نہیں رہا۔

نواز شریف اور بینظیر بھٹو میں 1988 سے 1999 تک یہی کشمکش چلتی رہی۔ پھر یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کیا ہوا؟ اور پھر نواز شریف کے خلاف عمران خان اور سراج الحق سہولت کار بن گئے پھر عمران خان کے خلاف شہباز شریف اور آصف زرداری سہولت کار بن گئے۔ حیرت کی بات ہے آج کوئی نرم گرم مداخلت کا نام بھی نہیں لے رہا۔ آج حکومتی جماعتوں کا ہر وزیر، مشیر اور ترجمان موجودہ ملکی حالات کے ذمہ دار عمران خان، ماضی اسٹبلشمنٹ اور ماضی کے ججز کو قرار دیتے ہیں جبکہ ایک سال کے اقتصادی سروے میں موجودہ حکومتی جماعتوں کے کریڈٹ پر ناکامیوں، نا اہلیوں، حماقتوں اور نالائقیوں کی لمبی فہرست ہے۔

پورا اقتصادی سروے پڑھ کر دیکھ لیں آپ کو ایک جملہ بھی قابل تعریف نہیں ملے بلکہ ایک ایک لفظ شہباز شریف کی گڈ گورننس اور اسحاق ڈار کی طلسماتی شخصیت کا منہ چڑھاتا ملے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس شہباز شریف اور اسحاق ڈار جیسے دو بہترین ماہر موجود تھے جن کو سسٹم چلانے کا کامیاب تجربہ تھا۔ ان دونوں کو ایسے وقت میں ضائع کیا جب ان کے پاس عوام کو دینے کو کچھ نہیں تھا۔ جبکہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں پیپلز پارٹی نے ٹھیک ٹھاک خود کو موبلائز بھی کیا اور سندھ سے نکل کر بلوچستان، کے پی، جنوبی پنجاب، سینٹر پنجاب اور آزاد کشمیر تک پہنچ گئی جبکہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں سمٹتے سمٹتے لاہور تک محدود ہو گئی ہے۔

نواز شریف کی تین سال سے لندن میں موجودگی کا سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ (ن) کو ہوا۔ مریم نواز کے کریڈٹ پر بھی پارلیمنٹ میں پہنچنے سے قبل ناکامیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ گلگت اسمبلی کا الیکشن ہو، آزاد کشمیر کا الیکشن ہو، پنجاب میں 20 حلقوں کا الیکشن ہو، روجھان اور باغ کے ضمنی الیکشن ہوں۔ ہر جگہ مریم نواز کیمپین کرنے پہنچی اور آخر میں جاتی امرا ناکامیوں کا ٹوکرا اٹھائے واپس پہنچ گئی۔ صرف جلسے کرنے سے الیکشن نہیں جیتے جاتے۔

الیکشن سے قبل ورکنگ، مینجمنٹ اور پولنگ ڈے کی پلاننگ سب سے اہم ہوتی ہے۔ مریم نواز کا الیکشن لڑنے کا ابھی تجربہ نہیں شاید اس لیے ہر جگہ مات کھائی ہے۔ چیف آرگنائزر بننے کے بعد بھی مریم نواز کا مسلم لیگ (ن) میں رول صرف جلسے کرنے کا ہے۔ جبکہ ان کے مدمقابل بلاول بھٹو نے سندھ کے بلدیاتی انتخابات بھی جیتے، سندھ میں ضمنی الیکشن بھی جیتے، ملتان والی مسلم لیگ نون کی سیٹ پر گیلانی کے بیٹے کو بھی کامیاب کروا لیا، بلوچستان اور کے پی کے بلدیاتی الیکشن میں بھی نمایاں سیٹیں نکال لی اور باغ والی سیٹ بھی جیت لی۔

جبکہ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی سے ڈپٹی میئر کا عہدہ مانگا آصف زرداری نے وہ بھی دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) اسلام آباد سے سینیٹر کا اپنا امیدوار کھڑا کرنے کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو کامیاب کروا لیا۔ آصف زرداری کی پالیسی امریکہ اور بھارت جیسی ہے یہ دونوں ملک بھی اپنے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ جبکہ نواز شریف 2019 سے مسلسل سمجھوتے کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال اور نواز شریف کی ضرورت سے زیادہ خاموشی سے لگ رہا ہے وہ آئندہ الیکشن پر بھی سمجھوتہ کرنے کے لئے ذہن بنا بیٹھے ہیں یا تمام سمجھوتوں کی ایک ساتھ قیمت وصول کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS