جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا


معاشرے افراد سے تشکیل پاتے ہیں۔ افراد ہی معاشرہ بناتے ہیں اور افراد ہی ان کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ کسی بھی قوم کا زوال ایک یا دو دن کی کہانی نہیں ہوتی اس کے پس پردہ بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ تباہی و بربادی کا سامان اپنے ہی گھر سے نکلتا ہے اور مکین اپنے ہی مکانوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیتے ہیں۔ کبھی جانے میں اور کبھی انجانے میں۔ آج ہمارا معاشرہ بھی ایک ایسے ہی نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں افراد معاشرہ اپنی تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں کر رہے ہیں۔

غیروں کی تہذیب کی چکاچوند ہماری آنکھوں کو خیرہ کر چکی ہے۔ وہ مغربی تہذیب جو کل تک محض امراء کی محفلوں تک محدود تھی آج عام آدمی کے صحن تک آ چکی ہے۔ ہم مغرب کی تقلید کو سرمایہ افتخار جان کر اپنی تہذیب کو دقیانوس اور فرسودہ قرار دے کر اس کو خیرآباد کہہ چکے۔ یہ بات بھول گئے کہ مغرب کو روشن خیالی اور ترقی کے سارے قرینے ہماری تہذیب نے دیے ہیں۔ ورنہ مغرب تو جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا۔ ہم نے جو کھویا اہل مغرب نے پا لیا۔

کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ وہ کوشش اور جدوجہد کرنے والوں کی کوشش رائیگاں نہیں جانے دیتا کیونکہ وہ عادل ہے۔ اپنی روایات اور اقدار کو چھوڑ دینا کبھی بھی ترقی کا باعث نہ بنا ہے اور نہ ہی آئندہ بنے گا۔ ہاں کسی تہذیب میں موجود اچھی قدر کو اپنا لینے میں کوئی قباحت ہرگز نہیں اور نہ ہی میں اس کی مخالف ہوں۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم باطن کو جانے بغیر ظاہر پر فدا ہو گئے اور نتیجہ سامنے ہے کہ نہ تو خدا ملا نہ وصال صنم۔

الٹا ہم بہت سی خرابیوں کا شکار ہو گئے۔ آج خاندانی نظام روبہ زوال ہے۔ عورت کا پردہ اس کی ترقی کا دشمن دکھائی دے رہا ہے۔ سود کے بغیر ہمارا معاشی نظام مفلوج ہے۔ آج کے بزرگ نوجوانوں سے اور نوجوان بزرگوں سے نالاں ہیں۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کلچر عام ہے۔ داڑھی اور عمامہ دقیانوس اور اولڈ فیشن کہہ کر رد۔ جس معاشرے میں بزرگ اہم ترین ستون تھے اس معاشرے میں اولڈ ہاؤس کا قیام ہو رہا ہے کیا یہ سب ہماری تہذیب ہے؟

کیا یہ تمام تر ہماری روایات ہیں؟ کیا یہ ترقی ہے؟ کیا یہ اسلامی تعلیمات کی بجاآوری ہے؟ کیا ہم درست سمت کی جانب گامزن ہیں؟ اگر تو ان تمام تر سوالات کا جواب ”ہاں“ ہے تو پھر ہمارا معاشرہ بے سکونی کا شکار کیوں ہے؟ اپنی تہذیب، اپنی تعلیمات، اپنی اقدار تو ترقی کی ضامن ہوتی ہیں پھر ہم زوال آمادہ کیوں ہیں؟ ترقی کی دوڑ میں ہم اقوام عالم کے شانہ بشانہ کیوں نہیں کھڑے ہیں؟

قارئین محترم! سوچئے۔ خود سے سوال کریں غلطی ضرور ہمارے اندر سے ملے گی۔ اغیار کی سازشیں دوستوں کی مہربانیوں کے بغیر کامیاب ہونا دیوانے کا خواب ہی دکھائی دیتی ہیں۔ ہمیں خود کا محاسبہ کرنا ہو گا۔ ہمیں بس آج کی نسل کو الزام دینے کے بجائے اپنی ”تربیت“ کو بھی کٹہرے میں لانا ہو گا۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ہو گا۔ گھروں کے اندر کے ماحول پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہو گی۔ ”جنریشن گیپ“ کو ختم کرنا ہو گا۔

ٹیکنالوجی کے درست استعمال کی تربیت دینا از حد ضروری ہے۔ اپنی زبان، اپنی روایات، اپنے لباس کو ہمیں عزت دینا ہے۔ اسلاف کی شاندار تاریخ اپنی نسلوں کو دکھانی اور پڑھانی گھروں اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دنیا کی ہزاروں سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم کامیاب ہوئی اپنی تہذیب کو اپنا کر ہوئی۔ ہمیں بھی اگر اپنی نسلوں کو سنوارنا ہے۔ بچانا ہے اور آگے لے کر بڑھنا ہے تو اپنی روایات سے جڑنا ہو گا۔

Facebook Comments HS