سفرنامہ ”نیپالی نینھن“، بھیگی یادیں اور صحبت بلوچ


سفرنامہ ایک یادوں کا گلدستہ ہوتا ہے جس میں لکھاری کئی رنگ بھر کے اسے حسیں کر دیتا ہے۔ سفرنامے کو پڑھنے والا اس میں کھو جاتا ہے اور ان دیکھی وادیوں میں گھومتا پھرتا رہتا ہے، اسے نہ فقط اس علاقے کے سماجی، معاشی، ثقافتی، علمی و ادبی، تہذیب و تمدن، تاریخ کا علم مل جاتا ہے پر ساتھ ساتھ سفری ضروریات اور ضروری کاغذات سے بھی آشنا ہو جاتا ہے۔ صحبت بلوچ صاحب جو دادو شہر میں رہائش پذیر ہیں ان کے سفرنامے ”نیپالی نینھن“ میں بھی ہمیں اس طرح کی تمام معلومات ملتی ہے۔

صحبت بلوچ شعبے کے لحاظ سے تو وکالت سے جڑے ہیں، سارا دن حق اور ناحق کے بیچ کی لکیروں پر مصنف کو لانے کے لیے دلیل و دلائل کے ورق نوش کرتے رہتے ہیں پر اس نے خود کو ادب سے اس طرح جوڑے رکھا ہے کہ ان کے قلم سے کچھ نہ کچھ سرگوشیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ وہ شعر و شاعری سے شغوف بھی رکھتے ہیں اور فراز کی طرح اپنے ہنر کے معجزے بھی دکھاتے رہتے ہیں۔ کبھی سندھ کے مانے جانے والے سفر نگار الطاف شیخ کی مانند اس میں راستے پر نکل پڑتے ہیں تو کبھی خوبصورت نثر سے اپنے اندر میں چھپے لکھاری کو شائستگی سے پیش کرتے ہیں۔

سفر عربی زباں کا لفظ ہے جس کی معنی ہے ”مسافت کرنا“ ۔ سفرنامے میں سفر نگار دوران۔ سفر خود سے بیتے یا جڑے ہوئے واقعات یا حادثات کا ذکر کرتا ہے۔ مصنف تخیل اور تاریخ دونوں کو ایک ساتھ ملا کے حقیقت سے ہمکنار کرتا ہے۔ سفرنامہ جتنا ہی سادی زباں میں لکھا ہوتا ہے اتنا ہی پڑھنے والا اس سے جان کاری لے کے لطف اندوز ہوتا ہے۔

نیپال کے سفر کی یاترا میں صحبت بلوچ کے ساتھ ملاقات ہوئی اور پھر یوں ہے رفتہ رفتہ پہلے جاں، پھر جانے جاں اور پھر جانے جاناں کی کہانی تک کردار چلتے رہے۔ نظروں کی اڑان تھی، آنکھوں کا سفر تھا اور خوش مزاج لوگ تبدیلی کی طرح ارد گرد پھیلے ہوئے تھے۔ ”جے جے“ گروپ کی طرف سے بنایا گیا نیپال کی وادیوں کا سفر من کے بھیتر بیٹھے کرشن کی سوچ میں برندا بن میں ٹھیلتی گوپیوں کی طرح گھوم، جھوم اور دھوم رہا تھا۔ پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے وقت کے مسافروں کی نگاہوں کا مرکز جنید ڈہر تھا جو سب کو خوش اسلوبی کے ساتھ ہر کسی کی طبیعت کے انو سار ایڈجسٹ کر رہا تھا۔

اور اس نے بہت ہی دل کو بھانے اور چاہنے والے لوگوں سے ملایا۔ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے تعلیم دان اور پرانے ساتھی مختیار سموں، چنچل طبیعت کے مالک ڈاکٹر سنتوش کمار، سادگی سے ہم کنار پروفیسر اعجاز پنہور، اپنے پن اور فرض شناسی میں ملبوس منصور جانی، خاموشی کے ساگر صحافت سے وابستہ مظفر کھو کر اور ہر دم تیار یوگی بابا عبدل رسول چنہ اور کچھ دوست ساتھ تھے۔ نیپال میں کئی سالوں سے رہائش پذیر میرے گاؤں مٹھی کے دوست انیل پریانی جب وہاں ملنے آئے اور تین چار دن کا پروگرام دیکھا جس میں پوکھرا اور تپوبن شامل نہیں تھے اس نے جنید کو سمجھایا کہ نیپال آؤ اور یہاں نہ جاؤ تو کوئی فائدہ نہیں۔ انیل پریانی کی بدولت ہم نے دونوں دل بھاتے منظر دیکھ کے آئے جس نے صحبت بلوچ کے سفرنامے کو آنکھیں دی۔ انیل کے والد صاحب ڈاکٹر رانومل پریانی کافی برس وہاں رہے انہوں نے سندھی اور نیپالی لفظوں کی ڈکشنری پر کام کیا، آج کل وہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔

نیپال کے سفر کو اب تو کئی ماہ گزر چکے پر جیسے ہی صحبت صاحب کی کتاب آئی ہے پڑھتے پڑھتے یہ محسوس ہو رہا ہے یہ تو کل ہی کی بات ہے۔ صحبت بلوچ نے بڑی خوبصورتی سے لفظوں کو چنا ہے اور بدھا کی یاترا کی دل سے حق ادائیگی کی ہے۔ بلوچ صاحب نے کسی بھی خوبصورت عکس کو سجا دھجا کے لکھنے کے بجائے سادگی کو ترجیح دی ہے اور کمال سے چتر کاری کی ہے۔ سفرنامے میں صحبت بلوچ نے ہر باب میں تمام رنگ بہت ہی خوبصورتی سے بھرے ہیں۔

نیپال ہم ان سے ایک دن پہلے پہنچے تھے جبکہ ان دوستوں کی دوسرے دن روانگی تھی تو ائرپورٹ آنے والی دشواریوں کا بھی ذکر بڑے وثوق اور خلوص سے کیا ہے کہ کس کا سکہ کہاں اور کیسے چلتا ہے۔ پاکستان سے نیپال سیدھا دو تین گھنٹے کا ہی راستہ ہے پر دونوں ملکوں کے حکمرانوں کی اناؤں کا بوجھ غریب کے کاندھے ہی سہتے پیں۔

وہاں پہنچنے کے بعد لووان ہوٹل سے لے کر بدھا کے اسٹوپو، بخت پور، للیت پور، تپو بن، پوکھرا اور وہاں کے مندر، منوکامنا، چھوٹا سفر اور لمبی کہانیاں، مشاعرے، بادشاہ کی کہانی، ہوٹل میں جنید کی جانی بھائی سے چھپا چھپی، کلب اور خوابوں کی تتلیاں صحبت صاحب کی لکھائی میں غالب کے خطوط والی روانی، ردھم اور یکسانیت ہے جسے پڑھنے والا خود ہی یاترا کر رہا ہو۔ سب سے جو کمال کا باب ہے وہ ہے گرو رجنیش/ اوشو۔ جہاں لکھاری اس تپوبن میں اپنا دل بھول آیا ہے۔ سندھی زباں کے بہترین شاعر شمشیر حیدری کے شعر کی طرح،

اتنا مخلص کہیں بھی نہیں دیکھا
ایک دل تھا وہ بھی یہاں بھول گیا۔

اس سفر میں جیسا کہ میں بھی صحبت بلوچ صاحب کے ساتھ تھا، جیسے ہی صحبت صاحب نے منظر نگاری کی ہے نیپال اس کے لوگ، علاقے ایسے ہی ہیں۔ اس میں رتی برابر شک نہیں کہ نیپال تو قدرت کے کرشموں کا دیس ہے جہاں بادل اور ایوریسٹ کے ساتھ کئی اوچے پہاڑ آنکھوں سے رقص کرتے ہوئے دنیا کے کئی دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے ہر طرح کے لوگوں کا خوش اسلوبی اور گرم مزاجی سے نہ فقط سواگت کرتے ہیں پر دھنی واد کا پرساد بھی دیتے ہیں۔

نیپالی قوم کا مزاج پانی کی طرح گہرا اور ٹھہراؤ والا ہے۔ لکھاری نے ٹھیک لکھا ہے کہ ہم وقت کے بعد وقت پر پہنچنے والی جگہ تپو بن پہنچے۔ وقت آنے والے لوگوں کے لیے بند ہو چکا تھا پر شاید سب کے اندر کی تڑپ کی آواز اجازت نامے کے لیے گھنٹیاں بچاتی رہی اور پربھو پرسن ہوئے۔ ہمیں کہا گیا کہ میڈیٹیشن کے سیشن چل رہے ہیں خاموشی سے وزٹ کریں پر چنچل پن والا شور چلتا ہی رہا۔

تپو بن / اوشو آشرم گھومتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا یہ فضا اب بھی گرو رجنیش کے وچنوں سے مہک رہی ہے۔ لال کلر پہنے سوامی باہر کی دوڑ ختم کر کے اندر کے مندر کی پوجا میں اس قدر مگن تھے جیسے پرندے، پھول، در و دیوار بھی کھوج کی ساگر کی دھارا میں گم ہو۔

نیپال سکون کا دیس ہے، صحبت صاحب نے بڑی تشنگی کے عالم میں اور تجسس کے ساتھ ایک ایک بات کو نوٹ کیا ہے، وہاں کے لوگ مندروں پر بھیک نہیں مانگتے نہ ہی زوری زبردستی کچھ لینے پر اکساتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ پیس اسٹوپا پر بدھا جی سکون کی چادر میں لپٹے ہوئے تھے، ذرا سی آواز پر سیکیورٹی والے برہم ہو رہے تھے۔ سب کچھ سمجھ میں آنے کے بعد سکون میں ہی بندہ کھو جاتا ہے۔ بدھا جی کے ویسے تو کافی مندر دیکھے پر پیس اسٹوپا والے ماحول سے اندر ہی اندر میں روحانیت کی بانسری بج رہی تھی۔ کتنی خوش نصیب ہے نیپال کی دھرتی جہاں بدھا جیسے مہان انسان کا جنم ہوا اس سے بڑا کسی دھرتی کا مان و سمان ہو ہی نہیں سکتا۔ گوتم بدھ نے سنسار اپنے اندر کو کہا ہے اور اسی کو ہی سمجھنے، پرکھنے پر زور دیا ہے۔

سفر نگار صحبت بلوچ سفرنامے میں بھی سفر کو اتنی عقیدت سے بھر دیتے ہیں جس سے ہر بات آنکھوں کے سامنے گھومتی رہتی ہے، جیسے بیک گراؤنڈ میں صحبت جی کی مدھر آواز اور آگے آنکھوں کے اسکرین پر سفر کے منظر گھوم رہے ہو۔ پوکھرا کی یادوں کو انہوں نے نئے رنگ اور ڈھنگ سے سمیٹا ہے، بدن کی تکھن، آنکھوں میں خمار پر حوصلے میں اڑان۔ ہوٹل کے معاملات اور سنتوش جی کا سونا۔ سنتوش تو نام ہے سکون کا ہے اور ہمارے دوست سنتوش کمار اس نام کا پورا آنند لیتے تھے اور لمبی تان کے سو جاتے تھے پر پوکھرا میں انہوں نے انہونی کر دکھائی اور سب سے پہلے کمان کھینچ لیا۔

پوکھرا میں ہی صبح دیکھی ورنہ معمول کا اٹھنا تو 11 بجے کے بعد ہی ہوتا تھا۔ پوکھرا خوبصورتی اور ترقی دنوں میں کھٹمنڈو سے کئی مرتبہ بہتر ہے۔ سارنگ کوٹ پر ہم چھ بجے کے قریب پہنچ تو گئے پر سورج کو اویریسٹ کے ویو سے دیکھ نہ پائے سورج جیسے ہمارے دیر سے اٹھنے کے بعد ناراض ہو کر بادلوں میں چھپ گیا۔ حسب۔ معمول سائیں مختیار سموں کے ساتھ کارروائی (کوڈ ورڈ تصویریں نکالنا) میں مصروف ہو گئے۔ سفر کے دوران میں مختیار سموں کے ساتھ زیادہ کمپنی میں تھا ایک تو پرانی وابستگی تھی اور پھر کوچنگ سینٹر کی میں نے بھی شروعات کی تھی جو مختیار صاحب ابھی بھی مستقل مزاجی کے ساتھ وقت دے رہے ہیں اور پھر ہر جگہ پر اس جگہ کے منسابت سے وقت دینا دونوں کی طبیعت کا حصہ تھا۔ واپسی میں بھی شری بندھیا بیسنی کے مندر پر بھگوان جی کے درشن کر کے نکل پڑے۔ نیپال میں انسانوں سے زیادہ بھگوانوں کے درشن ہوئے۔

وہ حسین یادیں جو صحبت بلوچ صاحب کے سفرنامے ”نیپالی نینھن“ کا حصہ ہے ان میں سب سے خوبصورت یاد کھٹمنڈو سے پوکھرا کے سفر کی ہے جہاں ہمیں ایک دوسرے کو سننے اور سنانے کا موقع ملا، پروفیسر اعجاز پنہور صاحب کی میٹھی آواز اب تک ان راستوں پر گنگناتی ہوگی اور منو کامنا پر کی ہوئی تمنا پوری ہونے کے بعد ، مندر کی گھنٹیاں اعجاز صاحب کے ہاتھوں کا انتظار کرتی ہوں گی۔ ہم نے آٹھ دس کلو میٹرس پیدل بھی سفر کیا اور پوکھرا کی طرف جاتے وقت والا ٹاپک جو ادھورا چھوڑا تھا، میں نے کہا تھا، محبت میں کچھ ملے گا کی خواہش نہیں رکھنی چاہیے اور صحبت بلوچ صاحب نے کہا تھا بنا امید کے محبت کیسی وہ بات ابھی تک بات ہی رہی ہے، پھر بھی امید ہے کبھی وقت سے وقت مانگ کر اس الجھن کو کسی روز سلجھا دیں گے۔ یوں تو کھٹمنڈو سے پوکھرا سات گھنٹے کا سفر ہے، راستہ ٹھیک ٹھیک ہے، آمدورفت بہت ہے پر لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے جانے میں ہمیں تو خیر دس گھنٹے لگے لیکن واپسی میں کوئی اٹھارہ گھنٹے لگ گئے۔ ستمبر اور فروری کی موسم نیپال گھومنے کے لیے زبردست ہے۔

سندھی ادب سنگت شاھپور چاکر، شاھپور چاکر سجاگی فورم اور پریس کلب شاھپور چاکر کی طرف سے صحبت بلوچ کے اس سفرنامے، ”نیپالی نینھن“ کی مہورت کی تقریب 17 جون کو ہو رہی ہے جس کے خاص مہمان سفر کے ساتھی پروفیسر مختیار سموں صاحب ہوں گے، منتظمین سنتوش کمار اور سلیم کلیار ہوں گے پھر سے دوستوں کے ساتھ یادیں تازہ ہوں گی اور نیپال کو یاد کریں گے۔

Facebook Comments HS