کیا ریاست واقعی بوڑھی ہو چکی ہے؟
ریاستوں کی عمر ہزاروں برس تک ہوتی ہے۔ شاید اس لیے کہ ریاستی پیڑ کی جڑوں میں کئی ہزار انسانوں کا خون شامل ہوتا ہے۔ یہی خون، پیڑ کی بنیادوں کو اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑھنے کا ایندھن مہیا کرتا ہے۔ بیسویں صدی میں ایک ریاست جو جنوبی ایشیا میں ابھری تھی، اس کی بنیادیں بھی انسانی خون سے تر کی گئیں۔ مگر شاید ان لوگوں کے خون ملاوٹ زدہ تھے جو ریاستی پیڑ کو زیادہ دیر تک ہرا نہیں رکھ سکے۔
ابھی پچھتر برس بھی پورے نہیں ہوئے کہ ریاست پاکستان کا جھریوں زدہ چہرہ مفلسی اور بدحالی کا قصہ پیٹ رہا ہے۔
کہتے ہیں کہ اگر انسان غذا اور نیوٹریشن کا خیال نہ رکھے تو جلد بوڑھا ہوجاتا ہے۔ چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے، بینائی دھندلا جاتی ہے، دماغ جواب دے جاتا ہے، قوت سماعت ناقابل سماعت ہو جاتی ہے اور ہڈیاں ضعیف ہو کر کمان کی طرح مڑ جاتی ہیں۔
سو دیرپا تندرستی کے لیے غذا اور نیوٹریشن کی ذمہ داری سرپرست اعلی کی ہوتی ہے۔
ان پچھتر سالوں میں ریاست پاکستان شدید غذائی قلت اور میل نیوٹریشن کا شکار رہی ہے۔
یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ ریاست کی غذا آئین ہے اور نیوٹریشن ہر وہ ریاست دوست پالیسی ہے جسے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کے کیے نافذالعمل کیا جاتا ہے۔
مگر جب سرپرست اعلی ہی ریاستی جڑیں کاٹنا شروع کر دیں، اور غیر آئینی ہاتھوں کو مضبوط کرنے لگ جائیں تو پھر ریاست کی حیثیت پچھتر سالہ بیمار بڑھیا کی سی رہ جاتی ہے۔
باسی غذا اور عدم غذائیت (نیوٹریشن) کے سبب ریاست کا ایک دانت ستر کی دہائی میں گر چکا ہے۔ بقیہ اعضا بھی ٹھیک سے کام نہیں کر رہے۔
اب ریاست کی حیثیت ماں کی سی نہیں بلکہ کام والی ماسی کی سی ہے۔ دن رات کی مشقت کے باوجود جس کی متاع حیات فقط جھڑکیاں ہی ہیں۔
ریاست حقیقی ماں صرف اسی خطے میں ہے، جہاں اسے مقدس سمجھ کر اس کی غذا اور نیوٹریشن کا خاص خیال رکھا گیا۔
مگر چونکہ مملکت خداداد پر بڑھاپا غالب آ چکا، اب ٹیکس دہندگان کی ہچکیاں ریاستی کانوں میں نہیں پڑتی کیونکہ قوت سماعت ناقابل سماعت ہو چکی۔ مہنگائی کے سبب پست طبقے کے چہروں پر تھکن ریاست نہیں دیکھ سکتی کیونکہ ریاست اپنی بینائی کھو چکی ہے۔
اسمبلیوں کے اندر لگتے سرکس اور باہر ضمیروں کی منڈیوں کو ریاست نہیں روک سکتی۔ کیونکہ ریاستی بازو ضعیف ہو چکے ہیں۔ البتہ دل میں ضرور برا جان سکتی ہے۔ انصاف کے طالبوں کو ریاست کے کپکپاتے ہاتھوں میں جھولتے ترازو سے یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ اب انصاف نہیں بلکہ طاقت ہی سب سے بڑی دلیل ہے۔
انتہائی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ معلوم نہیں ارباب اختیار کون ہے۔ اقتدار سے نکلا کر مزاحمت کرنے والے کیا خبر اگلے ہی لمحے سلطانی وعدہ معاف گواہ بن کر صاحب اقتدار بن جائیں۔ اس سب کے بیچ سب سے زیادہ نقصان ریاست کو ہی ہوا ہے۔ جسے اب مہنگائی کے بلڈ پریشر اور قرضوں کے کینسر نے گھیر رکھا ہے۔ ریاست کے بدن پر جا بجا بدعنوانی کے پھوڑے نکلے ہوئے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ لاقانونیت کا شوگر لیول بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
چارہ گر وہ نیم حکیم ہیں جو مرض کو مزید بڑھاوا ہی دے رہے ہیں۔ خدا کی پناہ!
سو اٹھیے اور کندھا دیجیے، ریاست اب واقعی بوڑھی ہو چکی ہے۔


