ہنری کسنجر کی ڈپلومیسی
ہنری کیسنجر سے ہمارا پہلا تعارف کئی برس قبل اپنے ایم فل کے دنوں میں ہوا تھا، جب مغرب کے جدید تنقیدی و فکری مباحث پڑھنے کے دوران ہمیں اقبال احمد کے مضامین اپنے نصاب میں پڑھنے کو ملے۔ معروف فلسطینی مستشرق ایڈورڈ سعید کے قریبی دوست اور سامراجی ممالک کے سخت ترین نقاد اقبال احمد جن کے نام ایڈروڈ سعید نے اپنی معروف کتاب ثقافت اور سامراج کا انتساب کیا تھا، تیسری دنیا کی مزاحمتی تحریکوں کے سرخیل اور سفارتی امور پر گہری نگاہ رکھنے کے باعث امریکی استعماری پالیسیوں کے سخت ترین نقاد رہے۔ وہ الجزائر کی فرانس سے آزادی کی جنگ، ویتنام، فلسطین، بوسنیا، چیچنیا، عراق، جنوبی لبنان اور ایران پر امریکی جارحیت کے خلاف تحریکوں میں عملی طور پر شریک رہے۔
اپنے مطالعے کے دوران ہمارے لیے چونکا دینے والی خبر ویت نام میں امریکا کی مسلط کی گئی جنگ کو بند کرنے کے لیے، اقبال احمد پر معروف امریکی سفارت کار و قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کے اغوا اور اہم سرکاری عمارتوں کے ہیٹنگ کے نظام کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی سازش کا الزام، قید و بند کی صعوبت اور امریکی فوجداری کے مقدمے کی خبر تھی۔ جس پر مزید تحقیق کی گئی تو علم ہوا کہ درحقیقت یہ ایک نجی محفل میں دوستوں کے مابین کی جانے والی لا ابالی گفتگو تھی، جسے کچھ شر پسندوں نے حکومت کے خلاف سازش کا نام دے کر اقبال احمد اور ان کے دوستوں کی سامراج مخالف مزاحمتی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا۔
اقبال احمد نڈر اور بیباک آدمی تھے، اس وقت کے اپنے قابل دوستوں، امریکی عوام کی حمایت اور اپنے ذہین وکیل رمزے کلارک، وہی جنھوں نے سنہ 1978 میں پاکستان کے معزول وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں ان کا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی لیکن قواعد و ضوابط کی سخت پابندیوں کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تھے، ان کی کاوشوں کی بدولت امریکی اٹارنی جنرل اور ایف بی آئی کے الزامات کے سامنے اپنے دوستوں کے ہمراہ امن کے پیغام کو ڈھال بنائے اس مقدمے سے باعزت بری ہوئے۔ تاہم ویت نام کی جنگ کے حوالے سے دنیا بھر کی نظروں کا ارتکاز ہنری کسنجر کی شخصیت پر مزید ہوتا چلا گیا، یوں ہمارے ذہن میں اس وقت کے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کی شخصیت کے بارے میں ہنوز مزید جاننے کا تجسس باقی رہا۔
ہنری کسنجر سے ہمارا دوسرا تعارف نڈر، بیباک اور دنیا کے طاقت ور ترین سربراہوں سے کڑے سوالات کرنے والی اطالوی صحافی اوریانا فلاشی کی کتاب تاریخ کا دریچہ سے ہوا۔ جس میں خوش قسمتی سے پہلا ہی انٹرویو ہنری کسنجر کا تھا۔ ہنری کسنجر کی متنازعہ شخصیت کو سمجھنے اور طاقت و اقتدار کے مضبوط ایوانوں کو تشکیل دینے والے مہروں اور ان کی چالوں کو جاننے کے لیے یہ انٹرویو خاصے کی چیز ہے۔ اوریانا فلاشی نے ہنری کسنجر سے اپنی ملاقات کا احوال اور ہنری کسنجر کی شخصیت کو یہاں اس انٹرویو میں بڑے دلچسپ پیرائے میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ:
”یہ بہت ہی مشہور، بہت ہی اہم اور انتہائی خوش قسمت آدمی، جسے لوگ سپر مین اور ایک چمکتے ہوئے ستارے کے نام سے پکارتے ہیں۔ مختلف نظریات کے غیر منطقی اتحاد کروانے کے ساتھ ساتھ کچھ نا ممکن قسم کے معاہدے کروانے کا سہرا بھی اس کے سر ہے۔ یہ دنیا کو اپنی مٹھی میں بند کیے رکھتا ہے جیسے دنیا ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک طالب علم رہی ہو۔ یہ حیرت انگیز، ناقابل بیان و ناقابل برداشت شخص جب چاہتا ہے ماؤزے تنگ سے ملنے چلا جاتا ہے، جب اس کا دل کرتا ہے یہ کریملن میں گھس جاتا ہے، اور جب اسے مناسب لگتا ہے یہ امریکی صدر کی خواب گاہ میں تشریف لے جا جاتا ہے۔
یہ نامعقول کردار اپنے سینگوں ایسے چشمے میں یوں دکھتا ہے کہ اس کے مقابلے میں جیمز بانڈ بھی بے ذائقہ تخلیق نظر آئے۔ یہ شخص کبھی گولی نہیں چلاتا، نہ ہی گھونسہ مارتا ہے اور نہ ہی کبھی چلتی گاڑیوں سے کودتا ہے، مگر یہ جنگوں کو شروع کرنے کے مشورے دیتا ہے اور ان کے خاتمے کے لیے بھی اپنی رائے پیش کرتا ہے اور یوں ظاہر کرتا ہے جیسے ہماری قسمت بدل رہا ہو اور سچ تو یہ ہے کہ ہاں یہ بدلتا بھی ہے۔ تو آخر کون ہے یہ ہنری کسنجر؟ ”

اوریانا فلاشی کا یہ تاریخی انٹرویو اس کے دیگر جاندار انٹرویوز کی طرح خاصا زور دار اور بیباک تھا، اس میں اس نے کئی طرح کے چبھتے سوالات کی مدد سے ہنری کسنجر کی شخصیت کو کھول کر رکھ دیا۔ جہاں اس کی ذہانت، شخصیت اور ایک چالاک امریکی سفارتکار و مشیر کی حیثیت سے اس کے فرائض منصبی کی توصیف کی وہیں اس کی وضع کی گئی امریکی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی۔ اس وقت کی عالمی سیاست کے منظر نامے کو امریکا کے نمائندہ اور قابل اعتماد سفیر ہنری کسنجر کی شخصیت کے ساتھ جوڑ کر سمجھنے کے لیے اوریانا فلاشی کا یہ انٹرویو اپنی نوعیت کے حوالے سے خاصا دلچسپ، حیرت ناک اور سامراجی ممالک کے سامنے تیسری دنیا کے مخدوم حالات کی تفہیم میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ہنری کسنجر کے بارے میں مزید جاننے میں ہماری مدد حال ہی میں بک کارنر جہلم سے شائع ہونے والی ان کی کتاب ڈپلومیسی نے کی۔ جس کے مترجم سید سعید نقوی صاحب ہیں۔ اردو زبان میں عالمی ادب کے کئی نادر فن پاروں کو منقلب کرنے کے ضمن میں سید سعید نقوی صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اپنے رواں، سلیس اور شستہ تراجم اور پر اثر تخلیقی نثر کی بدولت وہ اپنی ادیبانہ صلاحیتوں کا لوہا بہت پہلے منوا چکے ہیں۔ یہ بات کہنا غیر ضروری ہے کہ انھوں نے ہمیشہ کی طرح خاصی محنت و مہارت سے اس کتاب کو اردو زبان میں منقلب کیا ہے۔ تاریخ کی ایک معروف و متنازعہ شخصیت ہنری کسنجر کو سمجھنے اور اس کی امریکی مفادات پر مبنی سفارت کارانہ پالیسیوں، تیسری دنیا پر مسلط کی گئی مختلف جنگوں، سیاسی حکمت عملیوں اور معروف عالمی سیاسی جنگجو شخصیات کے بارے میں سخت دو ٹوک رائے کو جاننے کے حوالے سے یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کتاب کے کئی ابواب آپ کو نہ صرف ہنری کسنجر کا مزاج بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ امریکی سفارت کاری کا بھرپور اور منظم نظام سمجھنے اور عالمی جنگوں کی قیادت کرتی نمایاں شخصیات اور ان کی عیار شاطرانہ چالوں کو سمجھنے کا ایک نیا رخ دیں گے۔ ذرا درج ذیل اقتباسات سے ہنری کسنجر کے اسلوب، موضوعات و عالمی سیاسی منظر نامے کی سوجھ بوجھ ملاحظہ کیجیے۔
”اپنی تاریخ کے کسی بھی دورانیے میں امریکا نے طاقت کے توازن کے نظام میں کہیں براہ راست حصہ نہ لیا۔ دونوں عالمگیر جنگوں سے پہلے طاقت کے توازن کی قلابازیوں میں شامل ہوئے بغیر امریکا نے اس سے فائدہ اٹھایا، اور ساتھ جب دل چاہا انھیں دھتکارنے کا بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ سرد جنگ کے دوران امریکا روس سے دو طاقتوں والی دنیا میں نظریاتی، سیاسی اور عسکری حکمت عملی میں مشغول رہا۔ جس کی اساس طاقت کے توازن کے اصولوں سے بہت مختلف تھی۔ پھر دو طاقتوں کے نظام میں کوئی یہ فرض نہیں کرتا کہ تصادم سے کوئی مشترکہ اچھائی جنم لے سکتی ہے۔ ایک فریق کی کوئی بھی فتح دوسرے کی شکست ہی ہوتی ہے۔“

چین کے حوالے سے ہنری کسنجر کے خیالات ملاحظہ کیجیے۔ جس میں چینی حکومتوں کی سیاسی حکمت عملی کو چند سطروں میں بیان کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا کے چین سے بہتر تعلقات کا سہرا بھی ہنری کسنجر کے ہی سر باندھا جاتا ہے۔
”انیسویں صدی سے پہلے چین نے کبھی ایسے ہمسائے کا سامنا نہ کیا تھا جو اس کی برتری کے لیے خطرہ ہو، نہ اسے ادراک تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ بیرونی حملہ آوروں نے چینی شہنشائیت کو شکست دی، مگر وہ چینی معاشرے میں ضم ہو گئے۔ چینی ریاستوں میں خود مختاری برابر کی نہیں تھی۔ خارجیوں کو وحشی سمجھا جاتا اور انھیں بہت ضمنی حیثیت دی جاتی۔ اٹھارہویں صدی کے دوران بیجنگ میں برطانوی سفیر سے ایسا ہی رویہ رکھا گیا۔ خود چین کو اپنا سفیر بیرون ملک بھیجنا سخت ناپسند تھا۔ لیکن اسے نزدیک کے وحشیوں کی بیخ کنی کے لیے، دور کے وحشیوں کے استعمال میں تامل نہ تھا۔ لیکن یہ حکمت عملی بھی ہنگامی حالات میں ہی استعمال کی جاتی۔ انیسویں صدی میں یورپی استعمار کی ذلت آمیز غلامی کے بعد ، چین ابھی حال ہی میں دوبارہ ابھرا ہے۔“
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ہٹلر کی شخصیت کی دھاک ایک زمانے پر رہی۔ اس کتاب میں ہٹلر کی سفاک اور فاتح شخصیت، نفسیاتی پیچیدگیوں اور سیاسی بصیرت کا بڑی گہرائی سے تجزیہ کیا گیا ہے۔
ایک دفعہ ہٹلر نے نا انصافی کو ٹھیک کرنے کا ڈھونگ اتار دیا تو اس کی ساکھ ختم ہو گئی۔ فتح کو خود فتح کی خاطر حاصل کرنے کی تلاش میں وہ اپنا شعبدہ کھو بیٹھا۔ کبھی کبھار پھر وجدان کی جھلکیاں نظر آئیں، جیسے 1940 میں فرانس کے خلاف اس کی مہم اور 1941 میں ماسکو کے سامنے پسپائی سے انکار، جو یقیناً جرمن فوج کے انہدام کا باعث بنا۔ ہٹلر ہمیشہ حیرت انگیز طور پر اپنی فتوحات سے تشنہ ہی رہا۔ ماہرین نفسیات شاید اس میں توجیہ تلاش کر سکیں کہ اس نے جنگ ایسے انداز میں لڑی، جس میں کسی بھی حکمت عملی یا سیاسی توجیہ کا فقدان نظر آتا ہے۔ ”
ہٹلر کے ساتھ ساتھ سٹالن کی شخصیت بھی دنیا کے لیے مرکز نگاہ رہی۔ جنگی حکمت عملیوں اور یورپی سیاسی معاملات میں اس کی سوجھ بوجھ کے حوالے سے ہنری کسنجر کے خیالات ملاحظہ کیجیے :
”سٹالن جس کے خیال میں جنگ نا گزیر تھی، وہ جنگ میں شامل ہوئے بغیر اس سے فوائد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ وہ بہت معقولیت سے طرفین کے درمیان محو رقص رہا۔ لیکن آخر میں یہ کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔ صرف ہٹلر ہی اس کو وہ ارضی فوائد فراہم کر سکتا تھا، جس کا وہ مشرقی یورپ سے خواہاں تھا۔ اور جس کے لیے وہ ایک یورپی جنگ کی قیمت ادا کرنے کو بھی تیار تھا، جس میں سوویت یونین شریک نہ ہو۔
14 اپریل کو برطانیہ نے سوویت یونین کی جانب سے ایک یک طرفہ اعلامیہ تجویز کیا کہ : ”سوویت یونین کے کسی یورپی ہمسائے پر جارحیت کی صورت میں، جس کی وہ ملک مزاحمت کر رہا، سوویت یونین کی جانب سے مدد مہیا کی جائے گی۔“ سٹالن نے اس پھندے میں اپنا سر ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے سادہ لوحی پر مبنی اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا۔ ”“
امریکی صدر نکسن جو ہنری کسنجر کی سیاسی بصیرت کا اتنا معتقد تھا کہ اس کی مشاورت اور پیش بینی کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھاتا۔ اوریانا فلاشی نے اپنے انٹرویو میں ہنری کسنجر کو نکسن کی ذہنی نگہداشت کرنے والی نرس کا خطاب دیتے ہوئے سخت سوالات کیے۔ اس کے دور حکومت میں ویتنام کی جنگ کے حوالے سے ہنری کسنجر کی مشاورت اور نکسن کی سیاسی سوجھ بوجھ ملاحظہ کیجیے۔ واضح رہے کہ ویت نام کی جنگ بندی کے معاہدے میں عالمی سطح پر ہنری کسنجر کی کاوشوں کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
”یوں لگتا تھا جیسے امریکی عوام اپنی حکومت سے بیک وقت دو غیر مطابق مقاصد کی امید کر رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ جنگ ختم ہو، لیکن امریکا کو شکست نہ ہو۔ نکسن اور اس کے مشیر بھی اس ابہام میں برابر کے شریک تھے۔ امریکی پالیسی کو ان تضادات کے درمیان بڑھاتے ہوئے نکسن نے تیسرے راستے کا انتخاب کیا، جسے ویتنامی راستہ کہا گیا۔ اس لیے نہیں کہ اس کے خیال میں یہ کوئی جادوئی کایا پلٹ کی ترکیب تھی، بلکہ اس کے خیال میں امریکا کے ویتنام سے انخلاء کے تینوں اجزاء اس سے بہتر توازن حاصل کر پاتے۔ پالیسی کے تینوں رخوں کو ایک قابل نظم تعلق میں برقرار رکھنا ہی بالآخر ویتنام سے امریکی انخلاء کا امتحان بن گیا۔“

ہنری کسنجر امریکا کے سیاسی مفادات اور دنیا بھر میں اس کے بہتر سفارتی تعلقات اور طاقت کے ارتکاز کا سب بڑا حامی رہا تاہم اس کتاب میں کچھ جگہوں پہ بین السطور امریکا کے مستقبل اور عالمی سیاسی پالیسیوں کے لیے بین السطور کچھ تنبیہات بھی موجود ہیں، جنھیں بغور مطالعے سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ذرا دیکھیے :
”ایک ایسے وقت میں جب امریکا نہ تو دنیا پر غالب آنے کے قابل ہے اور نہ ہی اس سے دستبرداری پر، اور جب کہ وہ خود کو سب سے طاقتور اور سب سے غیر محفوظ دیکھتا ہے، تو اسے وہ نظریات ترک نہیں کرنے چاہئیں جو اس کی عظمت کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن نہ ہی اسے اس عظمت کو اپنی پہنچ کے بارے میں غلط فہمی سے نقصان پہنچانا چاہیے۔ امریکا کی طاقت اور اقتدار میں دنیا کی سربراہی طبعی طور پر موجود ہے لیکن اس مفروضے کا استحقاق شامل نہیں کہ امریکا دوسری اقوام سے تعلق قائم کر کے ان پر مہربانی کر رہا ہے، یا اس میں یہ کبھی نہ ختم ہونے والی اہلیت ہے کہ وہ مراعات روک کر اپنی مرضی لاگو کر سکتا ہے۔ امریکا کو عملی سیاست سے کوئی بھی نسبت قائم کرنے سے پہلے تاریخ کے اس پہلے معاشرے کی بنیادی اقدار کو یاد رکھنا چاہیے جو صرف آزادی کے نام پر قائم ہوا تھا۔“
بین الاقوامی بحرانوں کو جاننے، مغربی سفارتکاری کے پیچیدہ اسرار و رموز کا تجزیاتی مشاہدہ کرنے اور سرد جنگ کی عالمی سیاسی حکمت عملیوں کو سمجھنے کے حوالے سے ہنری کسنجر کی یہ کتاب ڈپلومیسی ایک بیش قیمت تاریخی دستاویز ہے، جسے سعید نقوی صاحب کے رواں اور شستہ ترجمے نے مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ ناشرین کتاب، برادران بک کارنر جہلم گگن شاہد صاحب اور امر شاہد صاحب نے عمدہ و خاص تصاویر، اہم نقشہ جات اور مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ اس کتاب کو خاصے دیدہ زیب پیرائے میں بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ اگر آپ کو عالمی سیاست کی مبادیات میں دلچسپی ہے تو اس کتاب کا مطالعہ آپ کو طاقت اور سامراج کے تشکیل کردہ نت نئے ورلڈ آرڈرز کا مفہوم سمجھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
(اقبال احمد پر ہنری کسنجر کے اغواء کے الزام کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے، دیے گئے لنک پر تفصیلی رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ )


