لال لپ سٹک اور فصیح باری خان کا ڈرامہ گھریلو عورت
گھریلو عورت، ایک ایسی ویب سیریز ہے جس میں ہمیں ہلکا پھلکا طنز و مزاح اور مختلف طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا، لیکن تیسری قسط تک پہنچتے پہنچتے یہ معلوم ہوا کہ اس ویب سیریز میں تو بہت بڑی بڑی بات کہی گئی ہیں۔ تیسری قسط ”لال لپ اسٹک“ میں تو دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا۔
احوال کچھ یوں ہے، ادھیڑ عمر اور بیوہ یا یوں کہیے ایک ادھیڑ عمر بیوہ پر ہار سنگھار ہمارے معاشرے نے حرام کر رکھا ہے، اسے شجر ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔ فصیح باری خان کے لکھے ویب سیریز ”گھریلو عورت“ میں تیسری قسط اس بوسیدہ رواج یا روایت کو توڑنے کی سعی کی گئی ہے کہ ہار سنگھار، شوخ لپ اسٹک یا شوخ و شنگ حرکتیں سب پر جائز ہیں بالکل ویسے ہی جیسے باقی خواتین پر جائز ہیں۔ ادھیڑ عمر عورتیں، بیوہ یا مطلقہ عورتیں، وہ بھی عین اسی طرح زندگی کو خوشی خوشی جینے کا حق رکھتی ہیں۔ لوگوں کا کیا ہے، ان کا تو کام ہی دوسروں پر باتیں کرنا ہے۔ اب ان کی باتوں کی وجہ سے کیا عورتیں جینا چھوڑ دیں؟ ہر عورت کے اندر بچپنا یا ایک الہڑ دوشیزہ مرتے دم تک موجود رہتی ہے۔ اس الہڑ دوشیزہ کو کیوں مارا جائے، کس لیے اس کا قتل کیا جائے؟
ویب سیریز کی یہ قسط ”لال لپ اسٹک“ ایک روایت شکن قسط تھی، جس میں دو جملوں میں ایک پوری داستان بیان ہو گئی۔ اس کمال بیان پر میں فصیح باری خان کو سلام پیش کرتی ہوں۔
10 منٹ کے کھیل میں آخر دو منٹ میں دس صدیوں یا شاید اس سے بھی زیادہ عرصے سے رائج ایک ظالمانہ رواج، فصیح باری خان چیلنج کر گئے ہیں۔ فصیح باری خان وہ مرد ہیں جو صحیح معنوں میں فیمنسٹ کہلائے جا سکتے ہیں۔ ان کا قلم جب بھی اٹھتا ہے ظلم اور جبر کے خلاف اٹھتا ہے، غلط رسوم اور رواج کے خلاف اٹھتا ہے، یہ بغاوت کرتے ہیں ہر اس چیز سے جس سے بغاوت کرنا چاہیے۔ عورتوں کے حقوق کے لیے ایک مضبوط آواز ہے فصیح باری خان۔
گھریلو عورت، ہر جمعہ کو یو ٹیوب کے چینل ”کباڑ خانہ“ پر نشر ہوتی ہے۔ دیکھتے ہیں یہ ویب سیریز آگے کیا کیا رنگ لے کر آتی ہے۔


