بائیس کروڑ کا دکھ محسوس کرنے والی قوت ناگزیر ہے
میں آپ پر واضح کرتا چلو کہ مجھے پاکستان کی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی پارٹیوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ لیکن تاریخ اور فلسفہ کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں۔
اگر ہم تحریک انصاف کی تین سالہ حکومت پر نظر ڈالے تو پاکستان کی تاریخ کا ستر فیصد قرضہ اس حکومت نے لیا اور ترقیاتی کاموں پر نظر ڈالیں تو صفر ہیں۔ پھر جن شرائط پر قرضے لئے گئے ان پر بھی عمل نہیں کیا ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہو گیا۔ رہی بات جمہوریت کی تو بدترین جمہوریت بھی آمریت سے سو گنا بہتر ہوتی ہے۔ اگر ہم پاکستان میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ادوار پر نظر ڈالیں تو یہ حکومتیں گو مکمل آزادانہ فیصلے تو نہیں کر رہی تھی۔ ان پر جرنیلوں کا پورا پورا اثر موجود تھا۔ لیکن ان سیاسی پارٹیوں نے جرنیلوں کے خلاف ایک فضا ضرور پیدا کر دی تھی۔ جو پاکستانی سماج کو جاگیردارانہ جمہوریت اور جرنیلوں کی گرفت سے روز کی بنیاد پر آزاد کر رہی تھی۔ پھر جرنیلوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت 2011 میں اس صورتحال کو جبراً روکنے کے لئے تحریک انصاف اور عمران خان کو لانچ کیا۔ یہ جماعت اور اس کا لیڈر ارتقائی مراحل کی پیداوار نہیں تھے۔ جنہوں نے نواز شریف اور بھٹو کو جنم دیا تھا۔
گو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو بھی عوامی مسائل اور تکلیفوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ لیکن ان کی ذاتی مفادات فوج کی آمریت سے ٹکرا رہے تھے۔ جو جاگیردارانہ جمہوریت کو سرمایہ دارانہ جمہوریت کی طرف دھکیل رہے تھے۔ تحریک انصاف جو کرپشن کے خلاف نعرہ لگا کر اور جرنیلوں کی پوری سپورٹ سے حکومت پر براجمان ہوئی تھی۔ پہلے تو انہوں نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور پاکستان کی سب سے مقبول لیڈر نواز شریف کے خلاف ہر سطح کا محاذ کھولا اس کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ پھر اپنے آقاؤں کے خلاف بغاوت کر دی یہ کیسے ہو سکتا ہے جو جنم دے رہا ہے جس کے ہاتھ میں تمہارا ریموٹ کنٹرول ہے تم اس کے خلاف کھڑے رہ سکوں۔ اب عمران کو گرفتار کیا گیا جو ایک فوجداری مقدمہ کی بنیاد پر کیا گیا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ عدالتوں کا سامنا کرتا لیکن گرفتاری سے پہلے ہی اس نے ایسا ماحول پیدا کیا ہوا تھا۔ کہ اگر گرفتاری عمل میں لائی گئی تو ہم ملک میں توڑ پھوڑ کریں گے۔ لہذا گرفتاری پر غیر سیاسی کارکنان جن کی کوئی سیاسی تربیت نہیں تھی۔ جن کو ایک شخصیت اور جذبات کی بنیاد پر اپنے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ ان سے ایسے ردعمل کی توقع ہی کی جا سکتی تھی۔ اب اس ردعمل کے بعد تحریک انصاف کی قیادت جو خود بھی کسی سیاسی عمل کی پیداوار نہیں بلکہ اس کا جنم بھی سابقہ پارٹیوں کی قیادت کی طرح فوجی بوٹ سے ہی ہوا تھا۔ اپنے کارکنان کی ذمہ داری لینے سے انکاری نظر آئی بلکہ اتنی بزدلی دیکھنے کو ملی کہ چند پولیس ملازمین کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور حواس باختہ نظر آئے۔
ان ساری حرکات سے جرنیل شاہی کو جمہوری آزادیاں سلب کرنے کا پورا موقع فراہم کر دیا گیا۔ پاکستانی سماج میں جرنیل شاہی نے جمہوری ارتقا کو جبراً روک دیا جو ایک قابل مذمت عمل ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں ایسی کوئی قوت موجود نہیں جو بائیس کروڑ انسانوں کی تکلیفوں کو محسوس کرے۔ آج پڑھے لکھے، دانشور اور باشعور پاکستانیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسی قوت کو پیدا کرنے کے لئے اپنی تمام تر انرجی صرف کریں۔ بصورت دیگر اس سماج کو تنزلی اور انارکی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔


