ائر ٹیکسی

پچھلے ماہ پاکستان میں ائر ٹیکسی سروس کا آغاز ہوا۔ اسکائی ونگ کے سی ای او کیپٹن عاصم نواز کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کمپنیز نے بھی اس بزنس میں شراکت کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ سروس ملک کے نو ہوائی اڈوں اور نجی ائرپورٹس کے علاوہ رحیم یار خان اور بلوچستان سے بھی کام کرے گی۔ اور اس سروس کو بتدریج ملک بھر میں پھیلایا جائے گا۔
ان کا دعوی ہے کہ ہوابازی کے بیڑے میں شامل اسکائی ونگز الیکٹرک ائر وہیکلز (ای اے وی ایس) 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور دوران پرواز 14 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر سکتی ہیں۔ فضائی ٹیکسی سروس کے ذریعے ملک بھر کے دور دراز علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر بروقت آمد اور روانگی کی جا سکتی ہے۔ ٹکٹنگ اور لینڈنگ کے لیے ملک بھر میں تقریباً 29 فضائی اڈے موجود ہیں جن میں سے آٹھ مکمل طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ انتہائی خوش آئند ہے کہ پاکستانی کمپنی کی تیار کردہ ایپلیکیشن کے نتائج شاندار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی پاکستانی کمپنی کی ایپلی کیشن کو سروس کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کراچی سے نوابشاہ تک ایک راؤنڈ ٹرپ کا تخمینہ کرایہ تقریباً 180,000 روپے اور کراچی سے گوادر تک تقریباً 430,000 روپے ہو گا۔ ائر ٹیکسی کا کرایہ عام چارٹر سروسز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گا، جو کراچی سے سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں کے سفر کے لیے 2.5 ملین روپے کی لاگت سے شروع ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”سروس صرف سیاسی، مذہبی، یا کاروباری شخصیات تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے قابل رسائی ہوگی۔“
یہ واقعی ہی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونے کے لیے کوشاں ہے۔ لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی جیسے کہ آٹا، چینی، آئل، پٹرول، پانی، بجلی اور گیس ہی نصیب نہیں۔ لوگ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے کار، بائیکس تو کیا پبلک ٹرانسپورٹ بھی استعمال کرنے کے قابل نہیں رہے۔ وہاں ائر ٹیکسی جیسی مہنگی ٹرانسپورٹ کون استعمال کرے گا؟
ایک شخص جو بس کا 200 کرایہ نہیں دے سکتا وہ جہاز کا دو لاکھ سے 5 لاکھ تک کرایہ کہاں سے دے گا۔ جس شخص کی تنخواہ ہی 35 ہزار ہو اور گھر کے اخراجات 70 ہزار وہ اس ٹیکسی میں کیسے سفر کرے گا؟ سچ تو یہ ہے کہ ایسی سروسز دوبئی، قطر، سعودیہ، امریکہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں تو ٹھیک ہیں جہاں ہر شہری لگژریز سے لطف اندوز ہو رہا ہے جہاں ہر شخص کو بنیادی ضروریات زندگی ہی نہیں بلکہ ہر چیز وافر مقدار میں اور بآسانی میسر ہے۔ ان کے لیے یہ سہولت ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ امراء کے چونچلے ہی ہیں۔ اور عوام کے لیے یہ ایک اور حسرت اور ڈپریشن کا سبب ہے۔
اس سروس کے اجراء سے عوام کو تو کوئی سہولت نہیں ملے گی ہاں مراعات یافتہ اشرافیہ کے مزے ہوں گے۔ حالانکہ جو لوگ اس سروس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں وہ سبھی ذاتی جہازوں کے مالک ہیں مگر شو آف کے لیے وہ اس سروس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
جیسے کہ کچھ ماہ پہلے کچھ شادیوں کے لیے ہیلی کاپٹرز کرائے پر لیے گئے اور پھر ان کے ذریعے ڈالرز، فونز اور دیگر قیمتی تحائف کی بارش برسائی گئی۔ ان ہیلی کاپٹرز کا ایک گھنٹے کا کرایہ 8 لاکھ روپے تھا۔ اگر ہمارے امراء اس نمود و نمائش کی بجائے غریب عوام کی مدد کریں انہیں روزگار کے قابل بنا دیں اور غربت کا خاتمہ کر دیں تو شاید پاکستان واقعی ہی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے۔
ان حالات میں جب ملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے بے روزگاری اور مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوام خودکشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اچھے خاصے سفید پوش اور مڈل کلاس لوگ بھی مدد کے منتظر ہیں اس سروس کی کیا ضرورت تھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر حکومت حقیقتاً عوام کو سہولت دینا چاہتی ہے تو انہیں اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ، پٹرول، گیس، بجلی، پانی سمیت تنخواہوں میں اضافہ دے، ٹیکسز کی بھرمار کی بجائے سبسڈی دے تاکہ لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔ ایسی سروسز کا آغاز کر کے ان کے زخموں پر نمک پاشی کر کے ان کے دکھ درد میں اضافہ نہ کرے۔
