سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور چین پاکستان دوستی


پاکستان کے شمال مغرب میں سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے پانی کو بجلی میں تبدیل کرنے کے لیے انتہائی اہم 413 ٹن روٹر چار پیداواری یونٹس میں سے آ خری نصب کر دیا ہے۔ آخری روٹر کی کامیاب تنصیب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بجلی گھر کی تعمیر میں پیشرفت کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی جو پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے۔ 884 میگاواٹ کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ توانائی کے شعبے میں سی پیک پروگرام میں ایک اہم سنگ میل ہے جس میں سرمایہ کاری اور اس پر عمل درآمد کرنے والے ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے یونٹ باڈی کی تنصیب ختم ہو رہی ہے۔

ایک بار فعال ہونے کے بعد سی پیک منصوبہ سالانہ تقریباً 3.21 ارب کلو واٹ گھنٹے صاف بجلی پیدا کرے گا۔ یہ منصوبہ 12 لاکھ 80 ہزار ٹن کوئلے کی جگہ لے گا اور ہر سال 25 لاکھ 20 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرے گا۔ اس منصوبے سے پاکستان کے توانائی کے ڈھانچے کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکے گا اور ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ ملے گا۔

سال 2019 کے آخر میں چین پاک اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں سکی کناری ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے ڈیم کی بندش مکمل ہوئی تھی جس کے بعد اس منصوبے کا مرکزی تعمیراتی کام شروع ہوا۔ اس پن بجلی گھر کی تعمیر سے مقامی افراد کو فائدہ ہوا اور تقریباً 6000 سے زیادہ ملازمتیں دستیاب ہوئیں۔ سکی کناری پن بجلی منصوبہ دریائے کنہار پر واقع ہے۔ اس منصوبے پر کل سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب چھیانوے کروڑ امریکی ڈالر ہے۔ سکی کناری ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے 2024 میں باقاعدہ فعال ہونے کی امید ہے جس سے یومیہ 884 میگا واٹ بجلی بنائے جائے گی اور ایک تخمینے کے مطابق اس بجلی سے ایک کروڑ 30 لاکھ گھر مستفید ہو سکیں گے۔

اس پروجیکٹ کے لیے پہاڑوں کا سینہ کاٹ کر 30 کلومیٹر لمبی سرنگ نکالی گئی ہے۔ یہ ناران سے 12 کلومیٹر کے فاصلے پر بننے والے اپنی نوعیت کے منفرد اور انتہائی دشوار گزار پہاڑوں میں بننے والا بجلی کا منصوبہ ہے۔ اس کو ’رن آف دا ریور‘ پروجیکٹ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ ڈیم تخلیق نہیں ہوا بلکہ قدرتی دریائے کنہار کے 38 کلومیٹر رقبے پر توانائی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جو پلدراں سے شروع ہو کر کاغان میں پارس کے مقام پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ مکمل ہونے کے تیس برس بعد بلا معاوضہ حکومت پاکستان کی ملکیت بن جائے گا۔

اکنامک سروے 2021۔ 20 کے مطابق پاکستان میں بجلی کی کل پیداوار 37 ہزار میگاواٹ کے قریب ہے، جس میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 9874 میگاواٹ یعنی 26 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ ایل این جی سے 7300 اور فرننس آئل سے 6200 میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، جب کہ بقیہ حصہ کوئلے، قدرتی گیس، سولر، ہوا، اور دوسرے ذرائع سے پیدا کیا جاتا ہے۔ سکی کناری منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں پانی سے بننے والی بجلی کے ذخائر میں تقریباً نو فیصد کا اضافہ ہو جائے گا جس سے فرنس آئل اور ایل این جی جیسے مہنگے ذرائع پر انحصار میں کمی آئے گی۔

Facebook Comments HS