احمد جاوید کا فلسفہ ”حمیت و غیرت“ اور جاوید احمد غامدی کا جواب


کیا مذہبی ذہن فلسفی ہو سکتا ہے؟
کیا تشکیک اور عقیدہ ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟
کیا تجسس و تشکک کا مذہب کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعلق قائم کیا جا سکتا ہے؟
کیا ایک متکلم اپنے سسٹم آف بلیف سے باہر نکل کر اپنی ایک منفرد اور آزاد رائے قائم کر سکتا ہے؟
اگر علم الکلام عقیدے کا جزو لاینفک ہے تو پھر اس نطام کو دائرہ تعقل میں لانے کی اتنی تگ و دو کیوں؟

جس سسٹم آف تھاٹ یا بلیف پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا یا جس کے متعلق ذہن اپلائی کرنے سے اس کے چھن جانے کا فوبیا لاحق رہے تو پھر اسے ڈسکشن کے دائرے میں لانے کا کیا مقصد؟

یہ سوالات اس وقت ذہن کی اسکرین پر نمایاں ہوئے جب میں نے احمد جاوید کا ایک ویڈیو کلپ سنا، جس میں وہ انتہائی جارحانہ اور نپی تلی سی خفگی والے انداز میں دینی حمیت و غیرت کے نام پر کچھ اشخاص کو لتاڑ رہے تھے اور خود کا دفاع کرنے کے لیے انتہائی عامیانہ سی گفتگو فرما رہے تھے، جو کہ عام طور پر ان کے مزاج کے بالکل برعکس تھی اور وہ تو انتہائی فصاحت و بلاغت اور نرم گوئی سے اپنا موقف بیان کرنے والے انسان ہیں۔

خود کو ماڈرن فلسفہ و فکر سے مزین کیے ہوئے ہیں، طبیعت میں کھلا پن، چہرے پر بشاشت و مسکراہٹ اور دلیل و گفتار میں انتہائی وسیع الظرف اور کھلا ذہن رکھنے والے انسان ہیں۔ فلسفیانہ سی اور انتہائی دقیق و بے ربط قسم کی گفتگو کرنے کے باوجود عقیدہ کی پختگی پر یقین رکھتے ہیں اور صوفیانہ فلسفے کے پرچارک ہیں۔

ان کی گفتگو سے یہ گمان سا ہونے لگتا ہے کہ وہ روایتی فکر کے ناقد ہیں اور فلسفہ و سائنس کے طالب علم ہیں مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

فلسفہ اور سائنس کا طالب علم یا تجسس و تشکک کا مارا ہوا شخص کبھی بھی دینی حمیت و غیرت کی باتیں نہیں کرتا بلکہ وہ اس قسم کی جذباتیت سے بہت اوپر بلکہ یوں کہیں کہ کوسوں دور ہوتا ہے۔

فلسفہ و سائنس کا امتزاج تو انسان کے اندر سے اڑیل پن، ضد اور سستی جذباتیت جیسی قباحتوں کو نکال باہر کرتا ہے۔ کیونکہ فلسفہ و سائنس کے حاصلات فل سٹاپ کے حتمی گول دائرے سے ماورا اور تغیر پذیر ہوتے ہیں۔

یہ تو مذہب ہے جس کے اصول اٹل اور ہمیشہ کے لئے ہوتے ہیں، جس میں تغیر و تبدل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

احمد جاوید کا کلپ سننے کے بعد کانوں کو یقین سا نہیں آیا کہ ”نہیں یار یہ بندہ کوئی اور ہو سکتا ہے احمد جاوید بالکل نہیں“

کہاں ان کا انداز گفتگو بھلے سمجھ میں آئے یا نہ آئے، بلکہ بہت سے لوگوں کا تو یہ تک کہنا ہے کہ ان کی گفتگو ایک طرح سے (psychic onanism) یا خیالی استلزاذ پر مشتمل ہوتی ہے۔ خیر یہ ایک اور موضوع ہے، اور کہاں ویڈیو کلپ کے مطابق ایک اجڈ اور اتھرے انداز میں گفتگو کرنے والا مولوی؟

ذرا توقف کر کے دوبارہ اس کلپ کو ”پاز موڈ“ سے ہٹا کر سننے لگا تو حیرت کی انتہا نہ رہی وہ واقعی احمد جاوید ہی نکلے جو اپنے حقیقی معیار سے بہت نیچے اتر کر گفتگو فرما رہے تھے اور فلسفہ کو لایعنی بنانے پر تلے ہوئے تھے۔

جب ظرف کا بندھن بکھرتا ہے تبھی تو اندر سے حقیقی انسان باہر آتا ہے، چہرے پر سجائے ہوئے عاجزی و انکساری اور برداشت و تحمل اور رواداری کے تمام تکلفات چند سیکنڈ میں دھل جاتے ہیں۔

اس قسم کی جذباتی سی گفتگو کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ کچھ اگناسٹک دوستوں کے فلسفیانہ سوالات نے احمد جاوید کو پریشان کیا ہوا ہے اور وہ اس فکری بحث میں سے بہت ہی شائستہ انداز میں اور اپنے قد کاٹھ کا بھرم رکھتے ہوئے باہر نکل سکتے تھے مگر وہ اس ”انٹلیکچوئل سپیٹ“ میں دھنستے ہی چلے گئے اور اب حالت یہ ہے کہ مضحکہ خیزیوں پہ مضحکہ خیزیاں کیے جا رہے ہیں۔

کم ازکم جو لبادہ خود پر ایک طویل عرصہ سے اوڑھ رکھا تھا اس کا بھرم تو قائم رہنے دیتے۔ ذرا سی تنقید و تحقیر پر اپنا ”اصل“ آشکار کر دیا اور اپنی گفتگو سے اس تاثر کو مزید پختہ کر دیا کہ ”آپ حقیقت میں ایک کٹھ ملا ہی ہیں“

فلسفیانہ سی نان سٹاپ گفتگو، موٹی موٹی انگریزی کی اصطلاحات کا استعمال، ماورائے ذہن قسم کی فلسفیانہ سی جلیبیاں بناتے ہی چلے جانا جیسے رجحانات یا عادات و اطوار سب دکھاوے کی چیزیں ہیں تاکہ لوگ آپ کو مولوی نہ کہیں بلکہ ماڈرن کہیں۔ لیکن کیا کہا جاسکتا ہے آپ نے تو بیچ چوراہے ہنڈیا خود ہی پھوڑ ڈالی۔

سیانے کہتے ہیں کہ بندے کو ہمیشہ انہی راہوں کا راہی بننا چاہیے یا انتخاب کرنا چاہیے جس کے تقاضوں کو آپ پورا کرسکیں ورنہ شروع میں ہی آرام سے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرلینا چاہیے۔

بھائی! جب آپ خود کو فلسفی کہلوانا پسند کرتے ہیں تو پھر کانچ کی طرح نازک مزاج کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور آپ کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو گئی کہ فلسفے میں حتمیت یا فل سٹاپ جیسی کوئی چیز ہوتی ہے؟

فلسفہ تو بندے کو بھگا بھگا کے ہلکان کیے رکھتا ہے، اس میدان میں متجسس و متشکک ہی بھاگ سکتا ہے، روایتی نہیں۔ اس قسم کے سر پھرے، سنکی اور شک مزاج طالب علم تو اپنے سالوں کے ماحصل پر نئی ابھرنے والی سچائی کے آگے ہار مانتے ہوئے سیاہی پھیرنے تک کو ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔ اگر آپ نے حمیت و غیرت کی باتیں ہی کرنی ہیں تو کم از کم ذہنی دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو فلسفے کا طالب علم تو نہ کہیں نا!

فلسفہ ذاتیات و جذبات سے ماورا ہوتا ہے اور حمیت و غیرت فلسفے کی لغت کے شبد ہی نہیں ہیں ہاں عقیدہ و عقائد کی لغت کا حصہ ضرور ہیں، عقیدے میں سوال کی گنجائش نہیں ہوتی اور جو سوال کرتا ہے وہ مذہبی نہیں ہوتا، مذہب کی تعلیمات میں چاہے وہ کوئی بھی مذہب ہو صرف اور صرف سرتسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں ہوتا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ آ خر ایسا کیا ہوا کہ احمد جاوید جیسے نستعلیق اور شائستہ انسان کی شائستگی جس کا بھرم انہوں نے ایک طویل عرصہ سے بنا کے رکھا ہوا تھا ریت کی دیوار ثابت ہوا اور سالوں کی محنت و ریاضت چند چبھتے سے سوالات کی نذر ہو گئی۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ دو کشتیوں کے سوار ہیں اور ایک ہی وقت میں دونوں میں سوار ہو کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ایسا شاید ممکن نہیں ہوتا اور اس وقت تو انتہائی نا ممکن ہو جاتا ہے جب اپ دو بعد المشرقین کے درمیان کھڑے ہوں۔ ہماری نظر میں جو کہ غلط بھی ہو سکتی ہے ایک وقت میں بلیف سسٹم اور تشکیک کو ساتھ ساتھ نہیں چلایا جا سکتا۔ زبردستی کا نبھاؤ مضحکہ خیزی و تضادات کو تو جنم دے سکتا ہے، شفافیت کو نہیں۔

اب یہ بھی تو ایک طرح کی مضحکہ خیزی ہی ہے کہ مذہب میں فلسفہ و سائنس کی اصطلاحات کو استعمال کرتے ہوئے ریشنلائز کرنے کی کوشش کی جائے۔ بھئی! ایک پڑھی لکھی موٹی سی بات ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ مذہب حتمی اور فل اینڈ فائنل قسم کا بندوبست ہوتا ہے جبکہ فلسفہ و سائنس میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

یقین یا کسی بھی تصور کے اوپر خیالات در خیالات کی تہیں تو ضرور چڑھائی جا سکتی ہیں مگر ٹھوس یا مادی صورت میں کچھ بھی سامنے نہیں لایا جا سکتا جبکہ سائنس مادے کا علم ہے اور فلسفہ تشکیکیت کا اور دونوں ہی فالسیفائی ایبل ہیں۔ اس طرح سے ان دونوں چیزوں یا علوم کو زبردستی مذہب کے دائرے میں داخل کرنا ایک طرح سے مذہب کے ساتھ نا انصافی ہے۔ احمد جاوید کی شائستگی کے انہدام کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ آج تک فیصلہ نہیں کر سکے کہ وہ علم الکلام کے آدمی ہیں یہ فلسفہ کے؟ عقیدے کی راہوں کے راہی ہیں یا فلسفے کے طالب علم؟

اب اگر آپ ارادی یا غیر ارادی طور پر ان ٹیڑھی میڑھی راہوں پر چل ہی پڑے ہیں تو کم از کم سالہاسال سے کمائے ہوئے ظرف اور بھرم کو یوں برباد مت کیجئے کہ عمر کے اس آخری پہر میں آپ قوالوں کی مثالیں دینے لگیں، یہ مضحکہ خیزی اور اپنے مرتبے سے بہت نیچے آنے والی باتیں ہیں۔ فتویٰ بازی کرنا، خود کی رائے پر ہٹ دھرمی اختیار کرنا یا اپنی کسی بات کے رد پر سیخ پا ہو جانا کم ظرف یا چھوٹے ذہنوں کا خاصا ہوتا ہے۔

یا پھر جاوید احمد غامدی جتنا حوصلہ پیدا کر لیں جو کم ازکم شائستگی کو برقرار رکھتے ہیں۔ غامدی نے دینی حمیت و غیرت کی بہت اچھی تعریف فرمائی ہے جس پر غور کرنا بہت ضروری ہے، ان سے پوچھا گیا کہ ” کیا حمیت و غیرت دین کا تقاضا ہے“ ؟
ان کا کہنا تھا کہ

حمیت و غیرت کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی انسانوں سے اس کا کوئی تقاضا کیا گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ بھوک، پیاس یا جنس کی طرح سے یہ انسانی جبلت ہے، حمیت یا غیرت اس وقت بیدار ہوتی ہے جب آپ کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے، ظاہر ہے جو بندہ داعی ہوتا ہے اسے حتی الامکان بچ بچا کے چلنا پڑتا ہے اور اس کا کام پوری دیانت داری سے دوسروں تک پیغام پہنچانا ہوتا ہے۔

اب آگے سے پلٹ کر کوئی بدتمیزی کرتا ہے یہ ایذا پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو تلخی اختیار کرنے کی بجائے شائستہ گریز بہتر ہوتا ہے۔ لہجوں سے حتمیت ٹپکنا اور خود کو ناگزیر سمجھنا کوئی مثبت یا صحت مند رویہ نہیں ہوتا۔

Facebook Comments HS