ہریش میسی: انسانی ترقی کا سفیر
ہمارے معاشرے اور ترقی یافتہ معاشروں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہاں کام نہ کرنے والوں سے نفرت کی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں کام کرنے والوں سے نفرت کی جاتی ہے۔ مجھے ہمیشہ ایسے لوگ انسپائر کرتے ہیں جو انسان یعنی فرد کی ترقی، خوشحالی اور بحالی کے لئے کام کرتے ہیں۔ جناب ہریش میسی سے بھی میرا تعلق اس احساس کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ میں ان کی شخصیت سے بہت سال پہلے سے واقف تھا، ان کے کام کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا لیکن ان سے ملاقات آج تک نہ ہو سکی۔
تاہم سوشل میڈیا کی بدولت ان سے رابطہ ہو گیا اور میں نے ان سے دو مرتبہ اپنے یوٹیوب چینل کے لئے انٹرویو کیا۔ پھر وقفے وقفے سے ان سے مختلف امور پر بات چیت ہوتی رہی اور میں ان کی شخصیت، حکمت اور تجربے سے مستفید ہو تا رہا ہوں۔ گزشتہ دنوں میں نے ان کا ایک افسانہ کتابی سلسلے ”ادبیت“ میں پڑھا تو انہیں مبارکباد دینے کے لئے فون کیا۔
میں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آپ بہت اچھی نثر لکھتے ہیں جس پر انہوں نے قہقہہ لگایا اور کہا جلدی سے اپنا پوسٹل ایڈریس بھیجو میں تمہیں اپنی کتابیں پوسٹ کر رہا ہوں۔ چند دنوں بعد برطانیہ سے یہ ان کی دو کتابیں موصول ہوئیں تو اس میں ہاتھ سے لکھا ہوا ایک میرے نام خط بھی تھا۔ جہاں مجھے ان کتابوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی وہیں اس خط کو پڑھ کر دل کو سکون اور روح کو تشفی محسوس ہوئی۔ خیر چند دنوں کے بعد ان کی ایک کتاب ”لوگوں کی انجیل“ (حصہ دوم) پڑھنا شروع کی تو میں ان کی تحریروں کے سحر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ کیا شاندار کتاب ہے۔ کتاب کے نام سے عمومی تاثر یہ ملتا ہے کہ کوئی مذہبی یا تبلیغی موضوعات پر مبنی کتاب ہوگی۔ کتاب کے لئے پیش لفظ نامور مورخ اور مصنف ڈاکٹر مبارک علی نے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
”ہریش میسی نے اپنے مضامین میں اس معاشرے کے انہی بنیادی مسائل اور معاشرے کے انہیں تضادات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگ ان مسائل سے آگاہ ہیں۔ انہیں علم ہے کہ اس معاشرے میں کیا ہو رہا ہے، وہ اس سے واقف ہیں۔ کہ کون لوگ ان کا استحصال کر رہے ہیں۔ مگر ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں کوئی ایسا راستہ نظر نہیں آ رہا ہے کہ جو اس نظام کو بدلے۔ اس لئے اس مرحلہ پر یہ دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی راہنمائی کرتے ہوئے انہیں ایک نئے نظام کا خاکہ دیں۔ تاکہ وہ مزاحمت اور جدوجہد کے بعد اس فرسودہ نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ ایسا نظام لائیں کہ جس میں انصاف اور رواداری ہو۔ امید ہے کہ یہ مضامین اس سمت ایک قدم ثابت ہوں گے۔“
معروف صحافی اور کالم نگار جناب حمید اختر نے اپنے اظہار خیال میں یوں لکھا ہے۔
”ہریش میسی سیاسی سوجھ بوجھ اور عالمی حالات سے پوری آگاہی رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کی باتیں محض رسمی احتجاج کا درجہ نہیں رکھتیں بلکہ اعداد و شمار سے لیس ہونے کی وجہ سے پڑھنے والوں کے دل میں اتر جاتی ہیں لیکن یہ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں ہیں بلکہ ایک درد مند باشعور اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال پاکستانی کا رد عمل ہے۔ عدم مساوات، نا برابری اور استحصالی قوتوں کے جبر کے خلاف، جسے انہوں نے نئے اور پرانے عہد ناموں کے اقتباسات سے مربوط کر کے اور بھی پر اثر بنا دیا ہے ان کی آواز میں بڑا وزن پیدا ہو گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کی مضامین کا یہ مجموعہ سیاسی اور سماجی کارکنوں کی ذہنی تربیت کا انتہائی موثر ذریعہ ثابت ہو گا۔“
1994 میں شائع ہونے والی یہ کتاب 227 صفحات پر مشتمل ہے جس میں جناب ہریش میسی کے مختلف موضوعات پر مبنی 32 آرٹیکل ہیں۔ جو جنوری 1991 سے لے کر دسمبر 1993 تک ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر حقیقت پسندانہ تبصرہ ہے۔ یہ کتاب انہوں نے بشپ پطرس یوسف کے نام منسوب کی تھی۔
ہریش میسی لکھتے ہیں کہ
”مجھے ’انہوں‘ نے کہا کہ آخر لوگوں کی انجیل کیوں؟ میرا جواب یہی سوال ہوتا کہ آخر لوگوں ہی کی انجیل کیوں نہیں؟ میرے نزدیک وہ خوشخبری تو لوگوں کے لئے تھی۔ مگر یہ“ خوشخبری لوگوں کی ”ہے۔ وہ آسمان سے زمین پر اتری اور زور آوروں نے اسے اپنے تسلط میں لے لیا۔ اور یہ زمین سے اگی اس لئے زور آوروں نے اسے رد کر دیا یا کر دیں گے۔ کیونکہ یہ رد کیے گئے لوگوں کی محرومیوں اور ان قوتوں کا انکشاف کرتی ہے جو ان محرومیوں کا سبب بنتی ہیں۔“
میں نے اس کتاب کو پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ہمارے معاشرے کے حالات بدستور پہلے جیسے ہی ہیں۔
مجھے یہ پڑھ کہ خوشی ہوئی کہ مسیحی نثر نگاروں نے بھی قومی سطح پر سیاسی، سماجی اور عوامی مسائل پر خوب لکھا ہے۔ جس کے لئے ہریش میسی کو داد دینی پڑھے گی کہ انہوں نے روایتی مسیحی قلم کاروں کی فہرست سے نکل کر قومی سطح پر اپنی آواز کو پہنچایا ہے۔ میں اس کتاب کے متعلق بہت زیادہ کچھ نہیں لکھوں گا، جو لوگ پڑھ سکتے ہیں انہیں ضرور پڑھنی چاہیے۔ البتہ میں ہریش میسی کے بارے میں اپنے اب تک کہ تاثرات ضرور بیان کرنا چاہوں گا۔
مجھے پتہ نہیں کیوں یہ احساس اور گمان ہوتا ہے کہ میں ہریش میسی کو جانتا ہوں اور میرا ان کے ساتھ بہت گہرا اور قدیم رشتہ ہے۔ عمر کا فرق اور کئی سو میل کا فاصلہ لیکن یہ عجیب احساس ہے۔ ان کی تحریروں کو پڑھ کر یہ احساس تجربے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ان کی تحریروں اور انداز گفتگو سے ان کی سوچ اور شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اتنے نفیس اور دھیمے انداز سے اپنی زندگی کے دکھ بیان کرتے ہیں جیسے کوئی داستان سنا رہے ہوں۔ میں ان کے کئی خیالات اور باتیں سے مختلف رائے رکھتا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ میں اپنی رائے ان کو بتاتے ہوئے کسی قسم کا خوف اور ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتا ہوں۔ شاید یہ ہی ان کی شخصیت کا خاصہ ہے کہ وہ دوسروں کو اتنی عزت، جگہ اور مقام دیتے ہیں کہ وہ اپنی رائے اور سوچ کا اظہار کر سکیں۔
اس کے علاوہ بھی ہریش میسی کی دیگر کتب ہیں، جن میں تنظیمی امور، لوگوں کی انجیل (حصہ اول) ، کاغذی دھوپ شامل ہیں۔ جن پر پھر کبھی تفصیلی تبصرہ کریں گے۔ آج صرف ان کی تحریروں اور شخصیت کا مختصر تعارف پیش کیا ہے۔ میں ہریش میسی کے بارے میں بڑے واثق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہریش میسی نے ہمیشہ معاشرتی بھلائی کے لئے فرد کی اچھائی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ ہی ان کی زندگی کی سب سے بڑی کمائی اور گواہی ہے۔


