مسلمانوں کا شاندار ماضی اور زوال
مسلمان بجا طور پر اپنے شاندار ماضی پر فخر کر سکتے ہیں جو تین یا ساڑھے تین سو سال پر محیط تھا۔ اس عرصے میں مسلمانوں نے فتوحات کے علاوہ علم۔ سائنس۔ تحقیق اور ترقی کی وہ منزلیں طے کر لیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نبی پاک کے وصال کے بعد محض سو سال کے اندر ہی مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ تقریباً تین براعظم تک پہنچ چکا تھا۔ تیرہویں صدی تک وہ ہر شعبے میں باقی دنیا سے بہت آگے تھے۔
بنی امیہ کے دور میں فتوحات تو بہت ہوئیں لیکن باہمی اختلافات اور محلاتی سازشیں بھی عروج پر تھیں جس کا انجام ان کی حکومت کے زوال کا سبب بنا۔ ان کے بعد بنو عباس اقتدار میں آئے۔ ان کے دور میں جو قتل۔ انتقام۔ اندرونی خلفشار۔ قبائلی اور مسلکی منافرت عام تھی لیکن اس کے باوجود اسی دور میں علم و تحقیق بھی اپنے عروج پر تھی۔ اگر اس دور کو مسلمانوں کا سنہرا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ نامور فلاسفر جیسے کہ ابن رشد۔ ابن سینا۔ الکندی۔ الرازی اور دوسرے بے شمار مفکرین اسی دور میں سامنے آئے جنہوں نے سقراط۔ افلاطون۔ ارسطو اور دیگر یونانی سائنسدانوں اور فلسفہ کے استادوں کی تحقیقات اور علم کو عربی میں منتقل کیا اور ان کی ایجادات و فلسفے کو مزید بڑھاوا دیا۔ دور بنو عباس کے یہ روشن دماغ۔ عظیم سائنسداں۔ مفکر اور محققین کا تعلق معتزلہ تحریک سے تھا جو ”منطق اور استدلال“ (Logic & Reasoning) پر یقین رکھتے تھے
معتزلہ تحریک کے بانی عطاس ابن واصل ایک عالم دین تھے۔ متعزلہ کا لفظی مطلب ہے ”وہ جو الگ ہو گئے“ ۔ عطاس ابن واصل اس زمانے کے مشہور دینی عالم حسن البصری کے تعلیمی حلقہ میں شامل تھا۔ لیکن وہ ایک دینی اختلاف کی وجہ سے حسن بصری سے الگ ہو گیا۔ متعزلہ موومنٹ کی ابتدا آٹھویں صدی کے آغاز میں ہوئی، بصرہ اور بغداد اس کا مرکز تھے ان کے افکار خلافت بغداد کا سرکاری نظریہ (Official Doctrine) رہا۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید خود بھی متعزلہ نظریے کا پیروکار تھا مامون کے زمانے میں اس تحریک کو بام عروج حاصل ہوا۔
علی عباس جلال پوری نے اپنی کتاب علم الکلام میں معتزلہ تحریک پر بہت اعلی تحقیق کی ہے۔
مامون کے دور میں معتزلہ کی تحریک کو عروج حاصل ہوا اور مسلمانوں نے طب۔ فلکیات۔ جغرافیہ اور فلسفہ میں تہلکہ مچا دیا۔ بغداد اور اسپین میں اندلس اور غرناتا علم و حکمت سے جگمگا رہے تھے جبکہ یورپ تاریکی اور جہالت میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہاں کی سڑکوں پر کیچڑ اور گلیاں تاریک تھیں اور غرناتا میں الحمرا جیسے عالیشان محل اور خوبصورت باغات تھے۔ اندلس اور بغداد کی یونیورسٹیوں اور درسگاہوں میں دنیا بھر سے آئے طالبعلم یہاں سے فیضیاب ہو کر جاتے۔ انہی میں پورپ سے آئے طلبا نے بھی استفادہ حاصل کی اور اپنے ملکوں میں واپس جاکر علم و آگہی کی روشنی پھیلائی۔
بدقسمتی سے علم و تحقیق کے عروج کا زمانہ صرف دو سو سال کے بعد ہی زوال پذیر ہو گیا جب ریاست پر علما اور مذہبی انتہا پسندوں کا غلبہ ہو گیا۔ ابو غزالی اور ابن عربی نے روشن خیالی کی تحریک کو ختم کر کے تقلیدی نظریے کو فروغ دیا اور عوام کو دلیل و منطق سے ہٹا کر اندھی تقلید کی راہ پر لگادیا۔ کتب خانے۔ درس گاہوں اور رصد گاہیں فتوے دے کر برباد کر دیے گئے۔ عظیم مفکروں اور سائنسدانوں کی سرراہ تذلیل کی گئی۔ انہیں کوڑے لگوائے گئے۔ ابن سینا۔ الکندی۔ ابن رشد جیسے باعلم لوگوں کو قید میں ڈال دیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا جس کے بعد علم و آگہی کا دور ختم ہو گیا۔ اور تاریکی پھلنے لگی۔
دوسری طرف حکمران طبقہ اور امرا اپنے محلوں میں حرم سجائے عیاشیوں میں مصروف تھے اسی سبب Arabian Nights کی اصطلاح وجود میں آئی جو عیش و عشرت کی ضرب المثل بن گئی۔ حکمرانوں کو رعایا کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی سلطنت کے کاروبار سے وہ تو صرف محلاتی سازشوں میں مصروف تھے
دوسری طرف سرحدوں پر منگول خطرہ منڈلا رہا تھا۔ بغداد شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا اور شہر کے اندر مسلمانوں کے مختلف مسلکی گروہ اس بات پے مناظرے کر رہے تھے کہ ”کوا حلال ہے یا حرام“ ۔ اور پھر منگولوں نے شہر پر قبضہ کر لیا شہر میں خون کی ندیاں بہا دی گئیں۔ بغداد کو نذر آتش کر دیا گیا۔ سارے کتب خانے جلا دیے گئے کتابوں کی سیاہی سے دجلہ اور فرات کا پانی سیاہ ہو گیا اور اس کے ساتھ علم و تحقیق کا دور بھی انجام کو پہنچا۔ خلیفہ معتصم باللہ اور شاہی خاندان کو قتل کر دیا گیا۔ منگولوں کا عقیدہ تھا کہ حکمرانوں کا خون سڑکوں پر بہنے سے آفات آتی ہیں لہذا انہیں بوریوں میں لپیٹ کر گھوڑوں سے روند ڈالا گیا۔
بغداد اور اندلس کی درسگاہوں سے فارغ التحصیل یہودی اور عیسائی طلبا نے اپنے ملکوں میں واپس جا کر علم و تحقیق کی شمع منور کیں جو یورپ میں رینساں کی تحریک کی وجہ بنی۔ کلیسا کے اختیارات محدود کئیے گئے۔ ریاست اور مذہب کو علیحدہ کیا گیا اور جمہوری سوچ کو فروغ دیا گیا۔ بحر احمر کے دوسری طرف سنہ تیرہ سو میں۔ مسلمان اندلوسیہ ( اسپین) فتح کرچکے تھے۔ بنو امیہ کی حکومت وہاں قائم ہو چکی تھی۔ غرناتا اور قرطبہ علم اور حکمت کی روشنی سے جگمگا رہے تھے۔ مسلمان سائنس اور تحقیق کے میدان میں بہت آگے جا چکے تھے۔ وہاں بھی
عظیم سائنسداں۔ مفکر۔ محقق بھی معتزلہ خیالات کے حامل روشن خیال افراد ہی تھے۔ اسپین میں بھی حکمران عیاشیاں اور محلاتی سازشیں میں مصروف تھے۔ امور سلطنت پر ان کی گرفت کمزور ہوتی چلی گئی اور ان کی سرحدیں سمٹنے لگیں۔ اس صورتحال کا مخالفوں نے فائدہ اٹھایا۔ ملکہ ازابیلا اور شاہ راڈرک نے اتحاد کر لیا دونوں مل کر مسلمانوں کے قلعوں پر حملے شروع کر دیے۔ مسلمانوں کو شکست پر شکست ہونے لگی یہاں تک کہ آٹھ سو سال کی حکومت زوال کو پہنچی۔ اندولوسیہ پر قبضے کے بعد ملکہ ازابیلا نے مسلمانوں کے سامنے صرف دو شرطیں رکھیں پہلی یہ کہ اپنا مذہب چھوڑ کر دوبارہ عیسائی ہو جاؤ یا پھر اسپین چھوڑ دو۔ اس ذلت آمیز معاہدے کے بعد جب آخری سلطان ملک بدر ہوا تو اس نے روتے ہوئے شہر کی طرف مڑ کر دیکھا تو اس کی والدہ نے تاریخی جملہ کہا ”تم جس سلطنت کی مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکے اب اس پر بزدلوں کی طرح رونے سے کیا حاصل“ اور اس طرح مور Moor ( اسپینی زبان میں مسلمان ) کا دور ختم ہوا اور مسلمانوں کا ایک شاندار دور زوال پذیر ہوا۔
بارہویں صدی کے آخر میں عثمان غازی نے قسطنطنیہ ( استنبول) فتح کر کے ترکی میں ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی جو تاریخ میں خلافت عثمانیہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ جس نے دوسرے ممالک کے علاوہ یورپ کے ایک بڑے حصے پر تقریباً نو سو سال حکومت کی۔ خلافت عثمانیہ کو تاریخ کی چند بڑی سلطنتوں میں شمار کیا جا سکتا ہے اس کی حدود مصر۔ عرب۔ شام۔ فلسطین۔ یونان۔ مقدونیہ۔ ہنگری۔ بلغاریہ اور جرمنی و فرانس کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
یورپ کے حکمراں اور بازنطینی بادشاہ ان کو خراج دیتے تھے۔ ترکوں کی فوج کی دہشت کے آگے کسی کو سر اٹھانے کی ہمت نہیں تھی لیکن یہاں بھی وہی ہوا حکمراں اور امرا عیاشیاں اور حرم سجاتے رہے جن میں دنیا بھر سے حسین عورتوں لائی جاتیں۔ کنیزیں اور خواجہ سراؤں کے جھرمٹ میں یہ حشیش اور افیون کے نشے میں دھت محلاتی سازشوں میں ایک دوسرے کا قتل کرتے رہے۔ جو بھی خلیفہ تخت پر بیٹھتا وہ سب سے پہلے تخت کے تمام ممکنہ جانشینوں کو قتل کروا دیتا۔ ایک خلیفہ نے تخت نشین ہوتے ہی ایک ہی رات اپنے انیس بھائیوں کے سر تن سے جدا کر دیے۔
یہی عیش و عشرت اور عیاشیاں سلطنت عثمانیہ کے زوال کا سبب بنیں۔ وہ ترکی جس کی دہشت سے یورپ کے حکمراں کانپتے تھے کمزور ہوتا گیا اور انیسویں صدی کے شروع میں یورپ کا مرد بیمار Sick Man of Europe کہلانے لگا۔ اور پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد 1922 میں ایک معاہدہ Treaty of Lassane کے تحت ترکی سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر دیا گیا اور آخری سلطان محمد ششم کو ایک برطانوی جنگی جہاز کے ذریعے جلاوطن کر دیا گیا جس کے بعد ترکی کی عظیم الشان خلافت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا فرانس اور جرمنی اس کے بڑے حصہ دار بنے۔
خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں برطانوی حکومت اور اس کے ایک ایجنٹ میجر ٹی ای لارنس جسے لارنس آف عربیہ کے نام سے جانا اتا ہے۔ اس نے عرب قبائل کو متحد کیا اور ترکوں کی تنصیبات اور ٹھکانوں پر حملے کر کے انہیں مزید دھچکا پہنچایا۔ ان ہی عرب قبائل کی مدد سے لارنس نے عقبہ کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔ عربوں کی اس ”وفاداری“ کے عوض تاج برطانیہ نے انہیں اردن کی سلطنت کا تحفہ دیا اور اس کے ساتھ ہی اس خطے میں ایک اور ریاست ”اسرائیل“ کے نام سے قائم کردی۔ اسرائیل کا قیام یہودیوں کا دیرینہ خواب تھا وہ فلسطین کی اس سرزمین کو Promised Land مانتے ہیں جو بالآخر انہیں مل گیا۔ اسرائیل مغربی ممالک کی آشیرباد اور امداد کی بدولت روز بروز ترقی کر رہا ہے اور متعدد عرب ممالک میں گھری یہ چھوٹی سی ریاست ان سب کو آنکھیں دکھاتی رہتی ہے اور سب اس کے آگے بے بس ہیں۔
ترکی میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ایک فوجی افسر مصطفے کمال نے انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا ان کی سیاسی جماعت ”ٹرکش نیشنل موومنٹ“ نے ملک میں اصلاحات کے ذریعے ترکی کو جدیدیت کے سفر پر ڈال دیا اور مصطفی کمال کو اتا ترک یعنی ”ترکوں کا باپ“ کے لقب سے نوازا گیا۔ انہوں نے خلافت ختم کر کے صدارت کا عہدہ سنبھال لیا۔ مصطفی کمال نے عربی رسم الخط کی جگہ رومن رسم الخط کو فروغ دیا۔ ملک بھر میں تعلیمی انقلاب لایا۔ پورپیئن طرز زندگی رائج کی اور ترکی کو روشن خیال ماڈرن ملک کے طور پر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا۔
انہی منگولوں۔ ترکوں اور سنٹرل ایشیائی ممالک کے نومسلم سرداروں نے برصغیر میں حملہ آور ہوئے اور بالآخر ایک عظیم الشان مغل سلطنت وجود میں آئی۔ مسلمان اس خطہ میں کئی سو سال حکمراں رہے۔ ایک سے بڑھ کے ایک نامور شہنشاہ جنہوں نے تاریخ ہند میں سنہرے الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔ ان کے دور میں شاندار قلعے۔ محل و باغات تعمیر ہوئے لیکن عوام کا پرسان حال کوئی نہ تھا وہ اسی طرح نان شبینہ کے محتاج رہے۔ حکمراں اپنی عیاشیوں اور سازشوں میں مصروف حرم۔ مجروں۔ کبوتر بازی یا بٹیر بازی میں وقت گزارتے یا شکار کھیلتے۔
شاہجہاں کا بنوایا تاج محل جو اس نے اپنی چہیتی بیگم ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا اور یہ عمارت آج بھی سیاحت کا مرکز ہے لیکن مجھے ذاتی طور پر اس ”محبت کی یادگار“ سے کوئی دلچسپی نہیں جو ایک بوڑھے عاشق بادشاہ نے اپنی بیوی کے چودھویں بچے کی ولادت جس میں اس کی موت واقع ہوئی کی یاد میں یہ تاج محل بنوایا جو بلاشبہ فن تعمیر کا ایک عجوبہ ہے۔ اور پھر اسی بادشاہ کے ولی اللہ بیٹے اورنگزیب نے اپنے بادشاہ باپ کو قید کر دیا اور اتنی اجازت دی کہ اس کی قید میں بوڑھا باپ تاج محل کو ایک کھڑکی سے دیکھ سکتا تھا۔
عجیب اتفاق ہے کہ جس زمانے میں عاشق بادشاہ تاج محل بنوا رہا تھا انہی دنوں امریکہ میں ایک استاد نے ایک کمرے میں تعلیم کے فروغ کے لیے کلاسیں شروع کیں وہ جگہ آج ہارورڈ یونیورسٹی کے نام سے جانی جاتی ہے اور دنیا کی بہترین درسگاہ ہے جہاں سے فارغ التحصیل طلبا آج کی دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔
شہنشاہ جہانگیر کے دور میں انگریز برصغیر آئے اور تجارت کے بہانے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے گئے جب طاقت بڑھی تو مقامی لوگوں پے مشتمل لشکر بھی تیار کر لیے ۔ محض تین ہزار گوروں نے صدیوں پرانی عظیم مغل سلطنت کو دو سو سال سے کم عرصے میں ختم کر دیا اور آخری تاجدار ہند کو قیدی بنا کر رنگون بھیج دیا۔ یہ مقام عبرت ہے کہ سات سمندر پار سے آئے چند ہزار تاجروں نے یہیں کے لوگوں کی باہمی چپقلش کو استعمال کیا اور خود بادشاہ بن بیٹھے۔
اس پورے دور میں شاید ایک ہی بادشاہ شیر شاہ سوری ہی تھا جس نے عوام کی سہولت اور آسانی کے لیے کچھ کیا اس نے گرینڈ ٹرنک روڈ بنوائی یہ سڑک جو عرف عام میں جی ٹی روڈ کہلاتی ہے کلکتہ سے پشاور تک جاتی ہے اور آج بھی لاکھوں لوگ اس پر سفر کر رہے ہیں۔
صد افسوس اب کچھ نہیں باقی بچا نہ وہ سنہرا ماضی اور نہ وہ دبدبہ اور شان شوکت۔ اب صرف اسے یاد ہی کیا جاسکتا ہے جس سے شاید ہماری کسی نوسٹیلجیا کی تسکین تو ہو جائے لیکن اس سے حاصل کچھ نہیں ہو گا زیادہ اچھا تو یہ ہے کہ سوچا جائے اس عروج کے بعد زوال آیا تو کیوں اور کن وجوہات کی بنا پر یہ ذلت و رسوائی ہوئی۔ تو آپ بنو امیہ۔ بنو عباس۔ اسپین۔ سلطنت عثمانیہ سے مغل ایمپائر تک کا مطالعہ کر لیں تو معلوم ہو گا کہ عروج کا سبب علم و تحقیق۔ روشن خیالی اور زوال کا سبب جہالت۔ عیاشیاں۔ قتل و غارتگری اور باہمی ریشہ دوانیوں کے سوا کچھ نہیں۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم جدید اور ترقی یافتہ اقوام سے پیچھے ہوتے جاتے ہیں۔
آج کی جنگ ہتھیاروں کی نہیں بلکہ معیشت کی ہے۔ علم و تحقیق کی ہے آج چھوٹی چھوٹی قومیں بغیر ایٹمی ہتھیاروں کے دنیا کی معیشت پر چھائی ہوئی ہیں۔ ہمیں بھی اگر ترقی کرنا ہے اور دنیا کے ساتھ قدم ملا کے چلنا ہے تو ہتھیاروں کی دوڑ کو ترک کر کے معیشت۔ سوشل جسٹس اور علم کے میدان میں نمایاں ہونا پڑے گا۔


