436 افراد میں سے صرف ایک ہی خاندان
”پاناما کا معاملہ کچھ اور ہی تھا۔ چار سو چھتیس افراد ہیں سے صرف ایک ہی خاندان کو الگ کر کے اس پر کیس چلایا گیا۔ میں کچھ کہنا تو نہیں چاہتا لیکن ایسا کیا ہوا کہ محض چوبیس سماعتوں کے بعد ہی ایک خاندان کے سوا دیگر تمام افراد کے کیسز الگ کر دیے گئے؟“ ۔ یہ جسٹس طارق مسعود کے ریمارکس ہیں جو انھوں نے پاناما سکینڈل کی سماعت کے دوران دیے۔ انھوں نے جماعت اسلامی کے وکیل سے یہ سوال بھی پوچھا کہ کیا آپ کا مقصد صرف ایک ہی خاندان کے خلاف کیس چلانا تھا؟ اسی کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کے ریمارکس بھی قابل توجہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں بیٹھ کر بہت سی باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے مگر کہہ نہیں سکتے۔
یہ تھی پاناما کی کل کہانی جس کے آخر سے ”اقامہ بن لادن“ نکلا تھا جس نے چلتے پاکستان کو ریورس گیئر لگایا اور ایسا زلزلہ بپا کیا جس کے آفٹر شاکس آج تک اس ملک کی جڑیں ہلا رہے ہیں۔ میرا اول دن سے یقین تھا کہ یہ بین الاقوامی سازش تھی جس میں عالمی ”اصطبلشیہ“ بھی شامل تھی جو پاکستان کو ترقی اور چین سے دور کرنا چاہتی تھی۔ ممکن ہے کہ یہ سازش عالمی نہ ہو لیکن کچھ چیزیں ایسی ترتیب سے ہوئیں کہ ایسا ماننے کے سوا چارہ بھی نہیں۔ کچھ رخ آپ کے سامنے بھی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی میں رہے۔
1۔ لندن پلان کی بازگشت اس ملک کی تاریخ کا حصہ ہے۔ لندن میں کچھ لوگ مل بیٹھے جن کے متعلق مسلم لیگ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے نواز شریف حکومت ختم کرنے کی سازش کی۔ ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو لیکن کیا یہ بھی محض اتفاق تھا کہ بعد میں ہونے والے دھرنوں میں وہ سارے فریق ایک دوسرے کے اتحادی بنے جن پر لندن پلان کا الزام تھا؟ کیا یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے مدرسے کے باہر قتل عام ہوا؟ مزید کیا یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ قتل کرنے والے ”پولیس“ اہلکار گرفتار تک نہ ہوئے بلکہ ان کی پہچان تک نہ ہوئی؟
تباہی کرتے ہجوم میں اگر گلو بٹ پہچانا جا سکتا ہے تو فائرنگ کرتے باقی اہلکار کیوں نہ پہچانے جا سکے؟ تحریک انصاف تو پہچان والے معاملے میں ویسے ہی ماسٹر ہے۔ حالیہ دنوں میں جس افسر نے بھی ان کے بلوائیوں کو دنگا فساد کرنے سے روکا، تحریک انصاف نے ان کے گھر کا پتے اور اہل خانہ تک کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دیں تو کیا وجہ ہے کہ وہی جماعت اپنی ہی حکومت میں ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کی تصاویر اور ان کی پہچان پبلک نہ کر سکی؟ پھر علامہ طاہر القادری صاحب کے کزن کی حکومت آئی لیکن کزن نے بھی قاتل نہ پکڑے۔ کیوں؟ کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ کزن کی چار سالہ حکومت میں علامہ صاحب نے کوئی دھرنا پروگرام نہ کیا؟
2۔ انھی دنوں یمن میں فوج بھیجنے کا مسئلہ پیدا ہوا۔ پاکستان کے سیاہ سفید کے مالک ایکسٹینشن کے دلدادہ نے ایک دوست ملک کو ہاں کر دی کہ ہم حوثی باغیوں کے خلاف یمن کی مدد کرنے فوج بھیجیں گے لیکن کیا یہ محض اتفاق تھا کہ وہاں ہاں کر کے آنے والا یہاں آ کر مکر گیا اور سارا ملبہ پارلیمنٹ پر ڈال دیا۔ وہاں سے فیصلہ ہوا کہ فوج نہیں بھیج سکتے او ر اس طرح کچھ دوست اسلامی ملک ناراض ہو گئے۔ پھر پاناما کا معاملہ آیا اور نواز شریف کو وہاں کے ایک برادر اسلامی ملک سے وہ منی ٹریل نہ مل سکی جو اس کیس میں کلیدی اہمیت رکھتی تھی۔ کیسے ممکن ہے کہ وہاں مل لگانے اور بیچنے کا ریکارڈ موجود نہ ہو؟ کیا یہ ساری ترتیب محض اتفاقیہ تھی؟
3۔ کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ پاکستان یا ایک عرب ملک سے لندن کی منی ٹریل مانگی حالانکہ اول تو پیسا پاکستان سے عرب گیا تھا اور پھر وہاں سے لندن گیا تو ایسا کیا تھا کہ پاکستان سے اس عرب ملک کی منی ٹریل نہ مانگی گئی یا اس پر زور نہیں دیا گیا؟ یہ کیا بھی محض اتفاق تھا کہ حسین نواز چیختا رہا کہ لندن فلیٹ میری ملکیت ہیں لیکن ان کی ملکیت زبردستی نواز شریف پر ڈال کر کہا جاتا رہا کہ ملکیت ثابت کرو؟ منی لانڈرنگ کا قانون 2016 میں بنا جبکہ حسین نواز کی ملکیت میں یہ فلیٹ 2006 میں آئے تو اس قانون کو پیدائش سے پہلے لاگو کرنا بھی کیا محض اتفاق تھا؟ کیا یہ بھی محض اتفاق تھا کہ حسین نواز کو فلیٹ دادا سے ملے لیکن ملبہ نواز شریف پر ڈال دیا گیا؟
4۔ کیا یہ بھی محض اتفاق تھا کہ کیس کرپشن کا بنایا گیا لیکن سزا اس بات پر دی گئی کہ بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی؟ کیا کسی باپ کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ بیٹے سے تنخواہ لے؟ پھر کیا یہ بھی محض اتفاق تھا کہ قابل وصول تنخواہ کو اثاثہ ثابت کرنے کے لیے سمندر پار یار غار امریکا کی بلیک ڈکشنری کا سہارا لیا گیا؟ ملکی قانون یا لغت کہاں چلے گئے تھے؟ شریف فیملی کا پہلے دن سے یہی موقف تھا کہ یہ فلیٹ حسین نواز کے ہیں اور انھیں دادا سے ملے اور میاں شریف کے شاہی خاندان ایک بزنس سیٹل کے طور پر ملے لیکن کیا یہ بھی محض اتفاق ہی تھا کہ قطر کے شہزادے کی گواہی قبول نہ کی گئی جبکہ عمران کیس میں جمائما کی سادے کاغذ پر لکھی عبارت بھی صحیفہ قرار پائی؟
آخر ایسا کیا تھا کہ ایک ملک کے شاہی فرد کو ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں پیش ہونے پر مجبور کا گیا جو کہ ظاہر ہے ممکن نہیں تھا؟ کیا یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ لندن فلیٹ کی کل ملکیت تقریباً اس وقت کے حساب سے دو ارب تھی لیکن اس کی تحقیق کے لیے بائیس ارب اخراجات اور جرمانے کی مد میں ضائع کر دیے گئے؟ حالانکہ برطانیہ سے ان فلیٹس کا ریکارڈ اور تفصیلات سرکاری سطح پر آسانی سے مہیا ہو سکتی تھیں لیکن؟


