ڈی جی اطلاعات راجہ اظہر اقبال کو خراج تحسین
محکمہ اطلاعات آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر راجہ اظہر اقبال 37 سال کی سروس کے بعد 14 جون کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ عمومی طور پر کسی بھی سرکاری افسر کو ریٹائر منٹ کے وقت اپنے محکمے کی طرف سے ہی الوداعی تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی سرکاری افسر کی ریٹائرمنٹ کے قریب صحافتی تنظیموں، صحافیوں و دیگر کی طرف سے متعدد الوداعی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ راجہ اظہر اقبال کی محکمہ اطلاعات، صحافت اور صحافیوں کے لئے گرانقدر کردار پہ ان کے اعزاز میں آزاد کشمیر کے اضلاعی پریس کلبوں، آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی، پریس فاؤنڈیشن اور دو صحافتی شخصیات کی طرف سے بھی الوداعی تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ سے ہر دوسرے تیسرے دن ان کے اعزاز میں الوداعی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر امجد چودھری کی طرف سے منعقدہ الوداعی تقریب میں سینیئر صحافیوں کے علاوہ پاکستان کے قائد صحافت افضل بٹ اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر سمیت انتظامیہ کے دیگر عہدیدار بھی شریک تھے اور یوں اس تقریب کو بلاشبہ آزاد کشمیر اور پاکستان کی صحافت کا ایک نمائندہ اجتماع قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں سینیئر صحافی عامر محبوب کی طرف سے بھی ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی جس میں آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری، آزاد کشمیر حکومت کے چند بیورو کریٹ اور صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
محکمہ اطلاعات آزاد کشمیر کا دفتر سالہا سال مظفر آباد میں کسٹوڈین بلڈنگ میں قائم رہا اور 2005 کے تباہ کن ہولناک زلزلے کے بعد محکمہ اطلاعات کی کئی منزلہ عمارت میں بڑی دراڑیں پڑ گئیں اور اس خستہ حال خطرناک عمارت میں بھی محکمہ اطلاعات کا عملہ اپنا کام کرتا رہا۔ محکمہ اطلاعات کو وسائل کے اعتبار سے آزاد کشمیر کا سب سے کمزور محکمہ قرار دیا جاتا تھا۔ ماضی میں کئی معروف افسران محکمہ اطلاعات کے سربراہی کرتے رہے لیکن اس محکمے کی حالت نہ بدلی۔
اسی صورتحال میں راجہ اظہر اقبال نے محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا۔ راجہ اظہر اقبال نے محکمہ اطلاعات کو مضبوط بنانے اور اس کے وسائل میں اضافے کے لئے سالہا سال سخت محبت کی اور مختلف مراحل میں محکمہ اطلاعات کو بہتر سے بہتر بناتے گئے۔ پہلے اولڈ سیکرٹریٹ میں محکمہ اطلاعات کے دفاتر قائم کیے گئے اور کچھ عرصے بعد نیو سیکرٹریٹ میں محکمے کے لئے بہتر جگہ حاصل کر لی گئی۔ راجہ اظہر اقبال نے محکمے کے وسائل، فنڈز میں مناسب اضافے کے لئے مختلف حکومتوں کے دور میں کوششیں جاری رکھیں اور مرحلہ وار اس صورتحال میں بہتری آتی گئی۔ چند ہی سال قبل محکمہ اطلاعات کے لئے ایک الگ عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی اور محکمے کے فنڈز اور وسائل میں بھی بہت اضافہ ہو گیا۔
راجہ اظہر اقبال کو اپنی سروس کے دوران آزاد کشمیر کے کئی سینئر سیاستدان حکمرانوں کے علاوہ ریاست کشمیر کی کئی نامور صحافتی شخصیات کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ راجہ اظہر اقبال نے ایک موقع پہ بتایا کہ ریاست کا ایک معتبر جریدہ ہفت روزہ ’کشمیر‘ ان کے گھر آتا تھا اور وہ اپنے طالب علمی کے دور سے اس کو پڑھتے رہے۔
راجہ اظہر اقبال نے محکمہ اطلاعات کی ترقی اور استحکام کے لئے جو کردار ادا کیا وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ گزشتہ دنوں راجہ اظہر اقبال نے ایک تقریب میں انکشاف کیا کہ محکمے کی ترقی کے تمام مراحل کے کاموں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید آصف نقوی ان کے ساتھ تمام امور میں شامل رہے اور اس حوالے سے راجہ اظہر اقبال نے شاندار الفاظ میں آصف نقوی کو خراج تحسین پیش کیا۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ الوداعی تقریب میں راجہ اظہر اقبال کی محکمہ اطلاعات اور ریاستی صحافت کے لئے خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے ان سے گزارش کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی سے پہلے محکمہ تعلقات عامہ کے افسران کو مختلف حوالوں سے تفصیلی بریفنگ دیں تا کہ وہ ان کے تجربات اور مقاصد کے طریقہ کا رسے بھی آگاہی حاصل کرسکیں۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی تقریب میں محکمہ اطلاعات آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر امجد منہاس بھی شریک تھے۔
میں نے یہ بھی کہا کہ محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریاں معمول کی ذمہ داریوں سے بڑھ کر ہیں۔ محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریوں میں حکومتی اقدامات، سرگرمیوں کی تشہیر، ریاستی اخبارات و صحافت کی امور کے علاوہ تحریک آزادی کشمیر، کشمیر کاز اور آزاد کشمیر حکومت کی حیثیت و مقام کے حوالے سے بھی صحافتی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تا کہ محکمہ اطلاعات آزاد کشمیر حکومت کے اس مقصد اعلی کو بھی ترجیح دے سکے جس کے لئے آزاد کشمیر حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ مجھے توقع ہے کہ راجہ اظہر اقبال ان امور کی اہمیت و افادیت سے آگاہ ہیں اور وہ اپنے ساتھی افسران کی توجہ اس جانب بھی ضرور مبذول کرائیں گے۔ میری رائے میں راجہ اظہر اقبال کو اپنی زندگی کے حالات و واقعات، تجربات اور خیالات پر مبنی کتاب ضرور لکھنی چاہیے۔
گزشتہ دو عشروں کے دوران آزاد کشمیر میں درجنوں روزنامہ اخبارات جاری ہوئے اور ان میں سے کئی ترقی کر رہے ہیں تاہم انہی دو عشروں کے دوران عشروں سے جاری متعدد ہفت روزہ اخبارات بند ہو گئے اور اب ایسے ہفت روزہ اخبارات بھی بند ہونے کی صورتحال سے دوچار ہیں جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر، کشمیر کاز اور آزاد کشمیر کے حقوق کے لئے نصف صدی ایسا بہترین کردار ادا کیا جو ریکارڈ پہ موجود ہے اور تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ انہی دو عشروں کے دوران آزاد کشمیر میں میڈیا کے حوالے سے ایسے متعدد قواعد و ضوابط بنائے گئے جو نظریاتی اخبارات کے لئے زہرقاتل ثابت ہوئے تاہم تجارتی مقصد سے جاری اخبارات کو ان سے فائدہ ہی پہنچا۔
ایسی ہی ایک مثال پریس فاؤنڈیشن ہے جس کا بنیادی مقصد تو صحافیوں کی فلاح و بہبود ہے لیکن اس کے متعدد قواعد و ضوابط کے ذریعے صحافیوں اور صحافت کو متعدد پابندی میں لایا گیا۔ اب جبکہ وسائل اور دائرہ کا رکے حوالے سے محکمہ اطلاعات بہت مضبوط اور موثر ہو چکا ہے، اس بات کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ صحافتی تنظیموں کی نمائندگی کے علاوہ ایسے صحافیوں کی مشاورت کو بھی محکمہ اطلاعات کی پالیسی کا حصہ بنایا جائے جن کا صحافتی کام نمایاں ہے اور ان کی اہلیت، صلاحیت اور صحافت کے موضوع پران کی مضبوط گرفت مسلمہ ہے کیونکہ محکمہ اطلاعات کی ذمہ داریاں حکومتی سرگرمیوں کے علاوہ کشمیر کاز کے حوالے سے بھی ہیں اور کشمیر کاز کے حوالے سے محکمہ اطلاعات کے کام کو موثر بنانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔


