ایک اجنبی سے ملاقات


انسانی تاریخ عہد سازی کے لمحات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ لمحات نظریات اور مذاہب کی پیدائش، سائنسی دریافتوں، فیصلہ کن جنگوں اور نئے اور انقلابی نظریات کے تعارف سے وابستہ ہیں۔ بعض اوقات یہ لمحات ایک خاص وقت سے متعین ہوتے ہیں، مثلاً ایک جنگ کا نتیجہ تاریخ کا دھارا بدل دیتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ کسی فلسفی کی زندگی کی طرح ایک دور سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان لمحات کے پاس نہ صرف حال بلکہ قوموں اور بعض اوقات دنیا کے مستقبل کو تبدیل کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔

جب، یہودی مذہب کے مطابق، موسیٰ اپنے ہاتھوں میں رب کے احکام کے ساتھ کوہ سینا سے نیچے اترے تو مشرق وسطیٰ اور دنیا کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔

جب افلاطون اور ارسطو نے چوتھی صدی قبل مسیح میں اپنے فلسفیانہ نظریات کو بیان کیا تو انسانیت کی فکری نشوونما پر ایک بہت گہرا اثر چھوڑا۔

جب سکندر اعظم نے 331 قبل مسیح میں گاوگا میلہ کی لڑائی میں فارس کے بادشاہ دارا دوم کو شکست دی تو پہلی بار مشرق اور مغرب یکجا ہوئے۔

جب اقلیدس نے اپنی کتاب Elements لکھی تو اس نے جدید جیومیٹری کی بنیاد رکھی جس نے سائنسی نقطہ نظر کی ترقی پر دور رس نتائج مرتب کیے ۔

جب 32 عیسوی میں مسیح کو مصلوب کیا گیا اور ان کو مسیحا کا درجہ دیا گیا تو ایک نئے مذہب نے جنم لیا۔
610 ء کی ایک صبح جب پیغمبر اسلام (ص) کوہ حرا سے نیچے اترے تو تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔

جب پوپ اربن دوم نے، قرون وسطیٰ کی تاریخ کی شاید سب سے زیادہ نتیجہ خیز تقریر میں، 1095 میں پہلی صلیبی جنگ کا اعلان کیا، تو یورپی لوگ اسلامی تہذیب کے ساتھ پہلی مرتبہ براہ راست رابطے میں آئے، اور بالآخر یورپ کے تاریک دور کے خاتمے کا سبب بنے۔

جب شاہی حقوق کے چارٹر میگنا کارٹا پر 1215 میں کنگ جان نے دستخط کیے تو یہ برطانوی سلطنت کی پیدائش کی طرف پہلا قدم تھا۔

جب منگولوں نے 1258 میں بغداد پر حملہ کیا اور اسے تباہ کر دیا، تو اس نے ایک شاندار تہذیب کو ختم کیا جو کئی صدیوں پر محیط تھی۔

جب کوپرنیکس نے 1543 میں اپنا ہیلیو سینٹرک نظریہ پیش کیا اور اعلان کیا کہ سورج نظام شمسی کا مرکز ہے اور زمین سمیت تمام سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں، اس نے یورپ میں ایک نئے سائنسی دور کا آغاز کیا۔

جب نیوٹن نے 1666 میں حرکت کے قوانین دریافت کیے تو صنعتی انقلاب کی پہلی اینٹ رکھ دی گئی۔

جب والٹیئر اور روسو نے اٹھارہویں صدی کے وسط میں آزادی کے فلسفے کو بیان کیا تو انھوں نے جمہوریت کی پیدائش اور بادشاہتوں کے زوال کی نوید دی۔

اور جب میکس پلانک نے دسمبر 1899 میں ایک دیرینہ مسئلہ کو یہ دلیل دے کر حل کیا کہ توانائی صرف پیکٹوں میں آتی ہے، اس نے کوانٹم میکانکس کی پیدائش کے ساتھ طبیعیات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

یہ صرف چند تاریخی لمحات ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ اسی طرح کے واقعات آنے والے سالوں میں بھی ہو سکتے ہیں۔

لیکن کیا ہم کسی ممکنہ لمحے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو ان سب تاریخی لمحات سے کہیں زیادہ اہم ہو گا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں تقریباً ایک نئی شروعات کا وعدہ ہو گا؟ ایک لمحہ ایسا کہ اس کے مقابلے میں سب کچھ ہیچ لگے گا۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہو سکتا ہے جب ہم سوچیں گے کہ ہم جو کچھ جانتے اور مانتے ہیں وہ سب فرسودہ ہے۔ راتوں رات تقریباً ہر وہ چیز جو ہم نے صدیوں اور ہزاروں سالوں میں سیکھی ہے متروک ہو سکتی ہے۔

یہ لمحہ کب آئے گا؟ یہ کتنا ڈرامائی ہو گا؟ کیا یہ ایک ہی لمحے پر مرکوز ہو گا یا طویل عرصے پر پھیلا ہوا ہو گا؟ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ: کیا یہ لمحہ کبھی آئے گا؟

یہ لمحہ کیا ہو گا؟

یہ وہ لمحہ ہو گا جب ہم پہلی بار اپنے سیاروں کے نظام کے باہر سے کسی ذہین وجود کا سامنا کریں گے۔ اس ملاقات کے نتیجے میں زمین پر زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔

اس سے پہلے کہ اس ملاقات کا ذکر ہو، میں کچھ پس منظر بیان کرنا چاہوں گا۔

جدید سائنسی دریافتوں کے مطابق کائنات تقریباً چودہ ارب سال پرانی ہے، زمین چار ارب سال سے زیادہ پرانی ہے، انسان تقریباً تین لاکھ سال سے زمین پر آباد ہیں، انسانی تہذیب صرف چھ ہزار سال سے قائم ہے۔ اور موجودہ سائنسی دور پانچ سو سال سے بھی کم پرانا ہے۔ اگر ہم پوری انسانی تاریخ کو ایک لمبے دن میں ہونے والے واقعات کے طور پر دیکھیں تو پچھلے چھ ہزار سال کا عرصہ دن کے آخری سیکنڈ کے ایک مختصر حصے کے مساوی ہو گا۔

اب اس امکان کو دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیاروں کے نظام سے باہر، کائنات میں ہم جیسی ذہین زندگی موجود ہے۔ اس کے لیے زمین جیسے بہت سارے ایسے سیارے ہونے چاہئیں جو نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ ٹھنڈے ہوں۔ جب ہم ایک صاف رات میں آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، تو ستاروں کی ایک بہت بڑی تعداد سامنے ہوتی ہے۔ صرف ایک کہکشاں جہاں ہم رہتے ہیں، اس میں ستاروں کی تعداد کا تخمینہ دو سے تین ٹریلین ہے اور کائنات کو ہم جس حد تک دیکھ سکتے ہیں اس میں کھربوں کہکشائیں ہیں۔

ستاروں کی ایک بڑی تعداد ممکنہ طور پر سورج جیسے سیاروں کا نظام رکھتی ہے، دوربینوں کے ذریعے ہزاروں سیارے پہلے ہی دریافت ہو چکے ہیں۔ اس طرح، کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ صرف ہماری کہکشاں میں ہی اربوں ممکنہ طور پر قابل رہائش سیارے موجود ہیں۔ اس لیے اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ ہماری جیسی ذہین زندگی آس پاس کہیں موجود ہے۔ ہم اس کائنات میں اکیلے نہیں ہو سکتے۔

اگلا سوال جو ہم پوچھتے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا امکان ہے کہ یہ مخلوقات، اگر وہ موجود ہیں، تو ہم سے کہیں زیادہ نفیس اور علم والی ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ سورج اور زمین، تقریباً 4.5 ارب سال پرانے ہیں جبکہ ہماری کہکشاں تقریباً 13 ارب سال پرانی ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ اس کہکشاں میں بہت سے ستارے، اور غالباً ان کے سیارے، 11 ارب سال پرانے ہوں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان سیاروں پر زندگی کا آغاز کروڑوں، شاید اربوں سال پہلے ہوا ہو اور اگر اس کے بعد ارتقاء کی رفتار اسی طرح کی ہو جو یہاں زمین پر تھی، تو ان سیاروں پر موجود مخلوقات کروڑوں اور اربوں سال ہم سے آگے ہونی چاہئیں۔

یہاں تک کہ اگر وہ ہم سے معمولی ایک ہزار سال زیادہ ترقی یافتہ ہوں، جو کہ آفاقی ٹائم اسکیل پر ایک لمحے کے برابر ہے، تب بھی انہیں ہم سے بہت زیادہ جاننا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اتنے سارے سوالوں کے جواب جانتے ہوں جن کا ہمیں اس وقت کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اور اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ ہم مستقبل قریب میں اپنی کوششوں سے ان سوالات کا جواب حاصل کر سکیں۔ جبکہ وہ مخلوقات کائنات کے ان رازوں کو جانتے ہوں گے جو ہم شاید ہزار، بلکہ لاکھوں، سالوں کے بعد جان سکیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، ان مخلوقات کے ساتھ بات چیت عملی طور پر ہر چیز کے بارے میں ہمارے نظریات کو بدل دے گی۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے لیے ان سے رابطہ کرنا ممکن ہو گا۔ فزکس کے موجودہ قوانین کے مطابق کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں چل سکتی۔ اس لیے، جب تک ہم یا دور دراز کے سیاروں پر موجود مخلوق آنے والی صدیوں میں رفتار کی اس حد کو عبور کرنے کا کوئی راستہ تلاش نہیں کر لیتی، دسیوں یا سینکڑوں نوری سال دور زندگی سے بھر پور سیاروں سے براہ راست رابطہ قائم کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک مایوس کن صورت حال ہے۔ تاہم، اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں، کہ کس طرح ہم چند صدیوں کے عرصے میں ایک قدیم دور سے ایک اعلیٰ تکنیکی معاشرے کی طرف آئے ہیں، تو ہمارے پاس اجنبی مخلوق کے ساتھ اس ملاقات کے بارے میں پر امید ہونے کی وجوہات ہیں۔

اگر یہ اہم واقعہ کبھی رونما ہوا تو ان مخلوقات سے ہمارے سوالات کیا ہوں گے؟ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مختلف سوالات ہوں گے۔

مزید پڑھنے سے پہلے ایک لمحے کو توقف کر لیں اور سوچیں کہ اگر ہم کبھی ان سے آمنے سامنے آئیں تو ان سے ہمارا پہلا سوال کیا ہو گا؟

یہاں ایک ممکنہ نمونہ ہے۔

شاید سب سے بنیادی سوالات طبیعیات دان پوچھیں گے۔ وہ جگہ اور وقت (space and time) کی نوعیت اور ہماری کائنات کے حتمی قوانین کے بارے میں جاننا چاہیں گے۔ وہ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ کیا صرف ایک کائنات ہے یا کائناتوں کی تقریباً لامحدود تعداد ہے جیسا کہ کچھ کا سمولوجسٹ مانتے ہیں؟

ایک ٹیکنولوجسٹ توانائی کے حتمی منبع کے بارے میں جاننا چاہے گا کہ کیا خلا میں ذخیرہ شدہ توانائی کی لامحدود مقدار کو استعمال کرتے ہوئے ایک perpetualمشین کو چلانا ممکن ہے۔ وہ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ کیا ٹیلی پورٹیشن، جیسا کہ سٹار ٹریک میں کیا جاتا ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حمل کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور کیا ہم ایک دوسرے کے ذہن کو پڑھ سکیں گے، اس طرح زبانی یا تحریری طور پر بات چیت کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

ایک ماہر حیاتیات زندگی کی ابتدا، فطرت اور خوابوں کی حقیقت، زندگی کی نقل کے امکان، اور بیماریوں اور موت کو فتح کرنے کے بارے میں جاننا چاہے گا۔ وہ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ کیا کسی بائیو کیمیکل یا بائیو فزیکل عمل کے ذریعے ذہنی صلاحیتوں، جسمانی طاقت اور فنی ذوق میں تبدیلی ممکن ہوئی ہے۔ وہ یہ بھی پوچھیں گے کہ کیا انسانی حیاتیاتی نظام کو اس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے کہ خوراک اور پانی کی ضرورت ختم ہو جائے، اس طرح زندگی انتہائی آسان ہو جائے۔

ایک انسان دوست ہمارے مصائب کا منبع جاننا چاہے گا اور ایک دائمی خوشگوار زندگی کا نسخہ۔

ایک ماہر بشریات پوچھے گا کہ کیا ان کے سیارے پر تہذیب کے ارتقاء نے زمین کی طرح کا راستہ اختیار کیا : ایک پتھر کا دور جس کے بعد کانسی کا دور اور پھر لوہے کا دور۔ کیا ان کے پاس کوئی ایسا دور تھا جو Neolithic انقلاب کے مترادف تھا جس میں زراعت کی ترقی نے انسانی زندگی کو بدل دیا۔ جس کے بعد ایک دور آیا جس نے بیک وقت لیکن آزادانہ طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف نظریات اور مذاہب کو جنم دیا۔ ریاضی اور سائنسی نظریات کی ترقی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

کیا انہوں نے ایک ترتیب کی پیروی کی جس کے مطابق انسان نے پہلے ریاضی اور جیومیٹری اس کے بعد الجبرا، اور پھر کیلکولس دریافت کیے؟ اسی طرح کیا انہوں نے بڑی اشیاء کے لیے حرکت کے کلاسیکی قوانین پہلے دریافت کیے جس کے بعد کوانٹم میکینکس جس کا اطلاق تمام اشیاء پر ہوتا ہے بڑی یا چھوٹی؟ یا کیا ان کی ترقی کا سلسلہ بالکل مختلف تھا؟

ایک فلسفی ان کی زندگی میں رویے اور اخلاقیات کی اصل کے بارے میں سوالات پوچھ سکتا ہے (کیا اس کی جڑیں کسی قسم کے مذہب میں ہیں یا بقا کی جبلت میں ) ۔ وہ کسی بھی معروضی حقیقت کی نوعیت اور علم کے ذرائع کے بارے میں بھی جاننا چاہے گا۔

شاید سب سے مشکل اور دلچسپ سوالات ان مذہبی افراد کی طرف سے آئیں گے جن کی ساری زندگی عقائد پر مبنی رہی ہے۔ وہ یہ جاننا چاہیں گے کہ آیا خدا کے وجود، فرشتوں کی نوعیت، اور ان کے انفرادی مذہبی عقائد کی سچائی کے بارے میں کوئی براہ راست سراغ ملا یا نہیں۔ ان میں سے کچھ یہ جاننا چاہیں گے کہ کیا ان اجنبیوں کی دنیا میں بالکل اسی طرح سچائی لانے کے لیے کوئی خاص رسول آئے جس طرح زمین پر آئے۔ موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سوالات ہوں گے۔ نیز یہ کہ آیا روح جسم سے آزاد کوئی چیز ہے۔ کیا انہیں یہ معلوم ہے کہ جنت اور جہنم کہاں واقع ہیں۔ کیا وہ اس کائنات کے اندر ہیں یا اس سے باہر؟

یہودی یہ جاننا چاہیں گے کہ آیا ان کے انبیاء نے زمین پر اپنی زندگی سے پہلے یا بعد میں کبھی ان سے ملاقات کی تھی۔

مسیحی یہ جاننا چاہیں گے کہ آیا خدا کا بیٹا کبھی ان کے پاس آیا تھا اور اگر ایسا ہے تو کیا انہوں نے بھی اسے مصلوب کیا تھا؟

مسلمان یہ جاننا چاہیں گے کہ کیا انہیں وہی مقدس کتاب قرآن ملی اور اگر ملی، تو وہ ان کے پاس کون لائے تھے۔

ہندو یہ جاننا چاہیں گے کہ کیا ان کی دنیا میں دوبارہ جنم کا نظریہ سائنسی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

یہ سب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ اجنبی مخلوق کے ساتھ ملاقات، اگر کبھی ہوتی ہے، دوستانہ ہوگی اور وہ ہمارے سوالات کے جوابات دینے، اپنے تجربات بتانے، اور اپنے علم کو ہماری زندگی میں شامل کرنے میں ہماری مدد کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ لیکن اگر یہ مخلوق دشمن نکلی تو کیا ہو گا۔ اگر ان کی جبلتیں ہماری جیسی ہوئیں، جیسے دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے، ان کو غلام بنانے اور فتح کرنے کی خواہشات۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ہمارے تصور سے بھی بڑی تباہی ثابت ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں زمین سے اپنے سیاروں پر غلام بنا کر لے جائیں جہاں سے ہم کبھی واپس نہ آ سکیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy