ریاست ہوگی ماں کے جیسی؟


ہمیں پڑھایا گیا، بتایا گیا بلکہ سکھایا گیا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔ ہر شہری سے پیار کرے گی۔ عدل ملے گا ہر انساں کو ۔

مگر محسوس ہوا کہ ہمارے یہاں تو خیر سے اس جملے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ یہاں ماں جیسی ریاست اور اس کے سپوت بے آبرو، عدم توجہ اور بے توقیری کی نظر ہو رہے۔ اور جہاں تک بات ہے عدل اور انصاف کی تو نا انصافی اور حق تلفی ہماری رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے۔ ظلم قانون بن چکا ہے، جبر عام ہو چکا ہے اور عدل عنقا ہو چکا ہے۔ عدل پروری کے دعوے دار حلقوں کی جانب سے حالیہ پیش کیے جانے والے 2023۔ 2024 کے بجٹ میں نا انصافی اور حق تلفی کی ایک واضح مثال قائم کی ہے کہ ایک جانب تو پہلے سے مراعات یافتہ طبقے پر مزید نوازشات کی بھرمار کردی تو دوسری جانب مراعات سے محروم اور احساس کمتری میں مبتلا دوسرے طبقہ کو ان مراعات سے یکسر محروم رکھا گیا ہے ۔ جس کے سبب یہ مزید احساس محرومی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ریاست کی جانب سے دوہرے معیار پر مبنی کیے گئے فیصلے اور اٹھائے جانے والے اقدام نے محنت کشوں کی صفوں میں دراڑیں ڈال کر ان کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

ملک عزیز میں مسلسل بڑھتی ہوئی کمر توڑ مہنگائی کے سبب قلیل پینشن لینے والے ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا جینا محال ہو چکا ہے۔ روز مرہ ضروریات زندگی کی اشیاء، آٹا، گھی، دالیں، چینی، نمک، گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور ان کی قیمتوں میں روزانہ نہیں بلکہ گھنٹوں کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا جا چکا ہے۔ پیٹرول، ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب سفری سہولیات ختم ہو چکی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے ہوشربا کرایوں میں اضافے کے سبب قلیل آمدنی رکھنے والا یہ طبقہ اپنے عزیز و اقارب اور اپنے پیاروں کی خوشیوں اور غموں میں بھی شریک ہونے سے محروم ہو چکا ہے۔ ان کی سوشل زندگی یرغمال بنا لی گئی ہے۔

اپنی جوانی کے قیمتی 35 سے 40 چالیس اپنے اداروں کی ساک کی بحالی اور ملک و قوم کی خدمت میں نذر کرنے والے ضعیف العمر پینشنرز اور دوران ڈیوٹی اپنی جانوں کے نذرانے نچھاور کرنے والے ملازمین کی بیواؤں اور یتیم بچوں کے پاس اس پینشن کی مد میں ملنی والی رقم کے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے ان کی زندگی کے گزر اوقات کا تمام تر دار و مدار اس پینشن کی رقم پر ہی محیط ہے۔ ان کو ملنے والی پینشن کی مد میں قلیل رقم کے مقابلے میں مہنگائی میں حد درجہ اضافے کی وجہ سے ضروریات زندگی کی اشیاء ان کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہے۔

ان کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔ بھوک و افلاس نے ان کے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ ہر ماہ اضافے کے ساتھ موصول ہونے والے گیس اور بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے سبب محکموں کی جانب سے ان کے گیس اور بجلی کے کنکشن منقطع کیے جانے اور دکاندار، سبزی فروش اور دودھ فروش کی ادھار بروقت نہ چکائے جانے کے سبب ان کی جانب سے مزید سودا سلف نہ دیے جانے اور بقایا رقم کی ادائیگی کا تقاضا کرنے کے سبب ان کا اس معاشرے میں جینا محال اور مشکل ہو چکا ہے۔ بیوائیں اور ان کے یتیم بچے بے سروسامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یتیم بچے بہتر مالی وسائل اور اسباب نہ ہونے کی بدولت تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہوچکے ہیں۔ معاشی اور معاشرتی بد حالی نے ان کی زندگیوں کو اجیرن اور کٹھن بنا کر رکھ دیا ہے۔

ضعیف العمری، لاغری، جسمانی کمزوری اور مالی وسائل کی کمی کے سبب مسلسل ذہنی تناؤ اور انتشار میں رہنے کی وجہ سے یہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، ذہنی، نفسیاتی اور متعدد جان لیوا بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ ریاست کی جانب سے ان کے علاج و معالجہ کی سہولیات کا نہ ہونا کے سبب اور ادویات کی قیمتوں میں 400 فیصد اضافے اور ڈاکٹروں کی مہنگی فیسوں کی وجہ سے یہ بروقت اپنا علاج و معالجہ کرونے سے بھی قاصر ہیں۔ بروقت علاج کا نا ہونا اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ بیساکھیوں، ویل چیئر اور چارپائیوں کے نذر ہو کر انتہائی تکلیف دہ اور پریشان کن زندگی بتانے پر مجبور ہیں اور ان کے وارث مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے پیاروں کو بیماری کی اس تکلیف دہ حالت میں اپنی آنکھوں کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں ایسے درد ناک واقعات بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ ان کے وارثوں کو مرنے کے بعد ان کے کفن دفن کا انتظام بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر یا پھر قرض لے کر کرنا پڑتا ہے۔

معاشی اور معاشرتی مشکلات میں گھرے ہوئے یہ روتے، چیختے، چلاتے بچے آپ کے ہی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں اپنے ملک کی عظمت اور قوم کی حفاظت میں اپنی ذمہ داریاں انتہائی لگن، محنت اور ایمانداری کے ساتھ نبھانے کے لیے دوران ڈیوٹی پیاس۔ بھوک اور سخت موسمی صعوبتیں برداشت کی ہیں انہوں نے اپنی زندگی کے سنہرے قیمتی ماہ و سال اس ریاست کی خدمت میں قربان کیے ہیں یہ ملک و قوم کا سرمایہ ہیں۔ ان کی بے توقیری نہ کیجیئے ان کی داد رسی کیجیئے، ان کے درد اور دکھوں کا مداوا کیجئے۔ ان کی معاشی اور معاشرتی بدحالی کے پیش نذر ان کی پینشن کی مد میں حالیہ کیا جانے والا ساڑھے سترہ فیصد اضافہ انتہائی ناکافی ہے۔ یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کو احساس محرومی سے نکالنے کے لیے ۔ اور اپنے اوپر لگے (دوہرے معیار ) جیسے داغ کو مٹانے کے لیے حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ ان کی پینشن میں کیے جانے والے اضافے پر نظر ثانی کرے اگر زیادہ نہیں تو کم ازکم حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں کیے جانے والے اضافے کے برابر ان کی پینشن میں بھی 35 فیصد اضافہ کیا جائے۔ جیسا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ان کو دیے جانے والے میڈیکل الاؤنس میں کئی سالوں سے اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافہ کے سبب ان کے میڈیکل الاؤنس میں بھی سو ( 100 ) فیصد اضافہ فرمایا جائے۔ تاکہ یہ بھی اس معاشرے میں باعزت، باوقار اور پرسکون زندگی گزار سکیں۔

حکومت کی جانب سے حالیہ پینشن کی مد میں کیے جانے والے ساڑھے سترہ فیصد اضافے کو پینشنرز کی قیادت کرنے والی تنظیموں کی جانب سے اس اضافے کو تنقید کا نشانہ بنا کر اس کو یکسر مسترد کیا جانا ریاست اور حکمرانوں کے لئے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے روا رکھے جانے والے اس دوہرے معیار والے برتاؤ کے سبب پینشنرز اور ان کی نمائندہ تنظیموں میں پائی جانے والی بے چینی اور ذہنی تناؤ ایک فطری عمل ہے۔ حکومت وقت کی جانب پینشنرز کے مسائل کی جانب سے برتی جانے والی عدم توجہ اور بے اعتنائی اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کنٹرول نہ رکھنا کسی بھی وقت ایک نئے انسانی المیہ جیسی صورت حال کو جنم دے سکتا ہے۔

اس بے یقینی والی سیاسی صورت حال، سیاسی انتشار، بگڑتے ہوئے معاشی حالات، بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سبب مختلف قسم کے سر اٹھاتے ہوئے جرائم اور اندرونی و بیرونی امن وامان کی بگڑی ہوئی اس صورت حال میں یہ ملک و قوم کسی طور بھی اس نئے جنم لینے والے انسانی المیہ کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS