طاقت کا ننگا ناچ


شہباز شریف نے کئی بار عوامی اجتماعات میں کہا اور بار بار اپنا موقف دہرایا، اگر میں یہ کام نہ کروں، اگر وہ کام نہ کروں تو میرا نام بدل دینا، موصوف کا ان میں سے کوئی دعویٰ پورا ہوا اور نہ ان کا نام تبدیل ہوا لہٰذاء میرے خیال میں اب اس مملکت خداداد کا نام تبدیل کرنے کا وقت آ پہنچا ہے، اس اقدام سے لفظ پاکستان کی مزید بے حرمتی اور بے توقیری نہیں ہوگی۔ ایک ایسا آزاد وطن جو بظاہر تو آزاد ریاست ہے لیکن آج اس ملک میں سوچنا اور بولنا جرم ٹھہرا ہے، حق کی صدا بلند کرنے پر صرف زبان گدی سے نہیں بلکہ جسم سے جان بھی کھینچ لی جاتی ہے۔

کیا ہمارے باپ دادا نے یہ آزاد ملک خود پر فرعون کی باقیات مسلط کروانے کے لئے حاصل کیا تھا، کیا ان کی قربانیاں رائیگاں چلی گئی ہیں۔ شعبہ صحافت کے لئے عزت کی علامت اور دبنگ صحافی ارشد شریف کو جرم بے گناہی کی پاداش میں بے رحمی سے شہید کر دیا گیا لیکن آزاد عدلیہ کی مداخلت کے باوجود آج تک اس کے قاتلوں کا کچھ پتہ نہیں چل رہا، ارشد شریف شہید کی بیوہ اور یتیم بچوں کی انصاف کے انتظار میں آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔ پاکستان کے جرات مند اور بیباک صحافی عمران ریاض خان کے بارے میں آر ایس ایف کی حالیہ رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے، کیا عمران ریاض خان کوئی دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔

کیا ارشد شریف نے پاکستان میں لوٹ مار کی تھی۔ پاکستان میں تو ایسا انجام قومی مجرموں اور قومی چوروں کا بھی نہیں ہوتا تو پھر ارشد شریف کا دلخراش قتل ابھی تک معمہ کیوں بنا ہوا ہے۔ کیوں اس ملک کے ادارے خاموش ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے ان کے ہونٹ خار دار تار سے سلے ہوئے ہیں جبکہ ان کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس ملک میں سچ کا ساتھ دینا جرم جبکہ مجرموں اور طاقتوروں کی محفلیں سجانے کے لئے حق کا ساتھ دینے والوں کے گھروں کی عورتوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ نہیں چاہیے ایسی نام نہاد آزادی جہاں سوچ بچار کرتے اذہان پر گولی چلا دی جاتی ہے۔ اس ملک کا نام بدل کر اشرافیہ رکھ دینا چاہیے جہاں طاقتور طبقہ ہر قانون سے مستثنیٰ ہو۔ اس فرعونیت کے راج پر عوام 14 اگست اور 23 مارچ کو جشن منا کر جھنڈے لہرائے اور دنیا کو بتائے کہ ہمیں ظلم سہنے اور چپ رہنے کی آزادی ہے۔

مجبوری اور بے بسی جیسے الفاظ ہم سے شرمندہ ہیں۔ چند روز سے اس ملک میں ایک نیا سلسلہ ہر روز ہونے والی پریس کانفرنس لاقانونیت اور طاقت کے نشے کا وہ خمار ہے۔ جو اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اس کا کوئی حل نہیں لاچاری اور بے بسی سے بھری پریس کانفرنسیں تمسخر ہیں آزاد ریاست اور جمہوریت کا ۔ ایسے کیسے کوئی سیاستدان اچانک سے اپنی سیاسی محنت اور ساکھ سے دستبردار ہو سکتا ہے۔

میں نے زندگی میں شیریں مزاری جیسی دبنگ عورت بہت کم دیکھی ہے۔ شیریں مزاری کی پریس کانفرنس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے، پی ٹی آئی کے ہر جلسے ہر ریلی یہاں تک کہ زمان پارک میں پچھلے کتنے مہینوں سے دن کے اجالے کی شان اور راتوں کی محافظ پھر ایسا کیا ہو گیا کہ وہ ہی خاتون ایک دم پریس کانفرنس بلا کر اتنی بے بسی سے کہہ دے کے میرے بچوں کے سر پر اب ان کے والد نہیں میرے بچوں کو میری ضرورت ہے کیا یہ ضرورت اسے دو تین مہینے پہلے نہیں تھی اچانک کیوں؟ پانچ بار شیریں مزاری کو پکڑا گیا۔ کیا حکومت میدان سیاست میں اس صنف نازک کا بھی سامنا اور مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اس دبنگ خاتون سیاستدان پریس کانفرنس سے ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ اس کے اندر چھپی ایک کمزور اور مجبور ماں اپنی جوان بیٹی کی عفت اور اس کا مستقبل اپنے پی ٹی آئی سے علیحدگی کے پیغام کی مدد سے محفوظ کر رہی تھی۔ کیوں اس پارٹی سے دستبردار ہونے والے لوگوں کے الفاظ ان کے تاثرات کا ساتھ نہیں دے رہے ہوتے۔ ان کی جذبات سے عاری آنکھیں ان کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی ہوتیں۔ ایک کے بعد ایک پی ٹی آئی کارکنان کو ان کے گھروں سے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اٹھایا جا رہا ہے اور زندانوں سے اس شرط پر رہا کیا جا رہا ہے کہ نکلتے ساتھ ہی وہ پریس کانفرنس کرتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں اور گھر والوں کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی سے اپنا کئی دہائیوں کا سیاسی و نظریاتی تعلق ختم کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں۔

ملک کی تاریخ اس دور کو سیاہ حروف میں لکھے گی، سوچنے اور بولنے پر قفل کی پابندی ہے۔ زبانیں اتنی خاموشی سے بند کروائی گئی ہیں کہ ظلم سہنے والے یہ بھی نہ بتا سکے کہ وجوہات کیا تھیں اور دوران قید و بند اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا۔ خواتین نے آدھی رات کو پریس کانفرنس بلا کر خاموش جذبوں سے اپنے بچوں اور اپنے گھروں کو محفوظ رکھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنا سیاسی راستہ بدل دیا۔ اس کے باوجود مبارک ہو ہم سب آزاد ہیں اور ہمیں رات کو کسی وقت بھی پریس کانفرنس کرنے کی آزادی ہے۔ آج وہ جشن منائیں جن کی چادر اور چار دیواری محفوظ ہے، نہ جانے کل ہو نہ ہو۔ آؤ دعا کریں اللہ پاک ہر کسی کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ آمین

Facebook Comments HS