ہندی متوازی سینما اور مطالعات فلمز


اس ہفتے کراچی آرٹس کونسل میں حسب سابقہ ریڈر اینڈ رائٹر کیفے کے زیر اہتمام صدر محمد احمد شاہ اور ڈاکٹر تنویر انجم کی انتھک محنت و کاوشوں سے ڈاکٹر عمیر احمد خان کی نظامت و مسحور کن ابتدائیہ اور مطالعاتی جاذبیت کے ساتھ منعقد ہوا۔

اس بار ہندی متوازی سینما کی تین فلمیں، دو بیگھہ زمین، البرٹو پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے اور روئی کا بوجھ زیر مطالعہ تھیں۔

پروگرام کے آغاز سے ڈاکٹر عمیر احمد خان نے بحث کو عالمانہ، ماہرانہ اور تیکنیکی آگہی کے ساتھ آگے بڑھایا اور حاضرین نشست کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ ہندی متوازی سینما کی تاریخ، ترویج، آغاز، پھیلاؤ اور انجماد کو بڑے کمال مہارت سے موضوع گفتگو بنایا۔ فلمز کی اصطلاحاتی لہجے کی چاشنی اور اس کا مختلف جگہوں پر استعمال اور موجودگی کے ادراک کو ایک ایسے انداز سے سامنے لایا گیا کہ اس میں ہر حوالہ ایک نئی اور تازہ خبر کی مانند سماعت آشنا ہو رہا تھا ہندی سینما پر علاقائی فلموں خصوصاً بنگلہ فلموں کے آغاز، تحریک، ماضی اور حال کے ساتھ ساتھ ہسپانوی، ایرانی، لاطینی امریکن، فرانسیسی اور روسی فلموں پر بھی اپنی گفتگو کو بڑھایا اور ان فلموں کے سماجی اثر کے پھیلاؤ اور اثر پذیری کے طول و عرض کو ادبی انداز میں ناپا۔

سب سے پہلی فلم دو بیگھہ زمین پر اس عاجز کی ٹوٹے پھوٹے کلمات سے باری کی شروعات تھی اور اس فلم کی طبقاتی، سوشلسٹ اپروچ، کمٹمنٹ، انتھک محنت، زور بازو، خود پر اعتماد، مٹی سے پیار، اقدار کا پاس، مزاحمت اور صنعتی و زرعی چپقلش کے ساتھ ساتھ پرولتاریہ اور بورژوائی فرق کو بحث کا موضوع بنایا اور مزید یہ کہ رکشہ کا کھینچنا صرف رکشہ کا کھینچا نہیں بلکہ اپر کلاس کے بوجھ کو اپنے کندھے پر لادنے کے مترادف تھا۔

دوسری فلم البرٹو پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟ جس پر ڈاکٹر تنویر انجم نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس فلم کے ہر گوشے کو کنگال ڈالا اور فلم کی ہمہ جہت مطالعے کو سامنے لایا۔ جس میں فیمینزم، مردانہ بالادستی، کیپیٹلزم اور سوشلزم کے ٹکراؤ، زندگی کے بدلاؤ اور اپنی زندگی کے موجودہ خول سے نکلنے کی جدوجہد کو سراہا گیا۔ فلم کی ہیروئن کو فیمینزم کی ایک جیتی جاگتی علامت کے طور پر نہ صرف اجاگر کیا بلکہ جو الزام اس پر ہیرو ایک برے لفظ کے ساتھ لگا رہا تھا اس کا کھل کر بڑے دلیری سے اظہار کیا اور معاشرے کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کرنے میں بریالی ہو گئی۔

تیسری فلم روئی کا بوجھ پر آصف علی آصف نے گفتگو کا آغاز کیا۔

انھوں نے اس خانگی جھگڑے اور خانگی اختلافات پر مبنی اس فلم پر آغاز تو فلم کے پلاٹ سے ہی کیا لیکن جو اس فلم کی تھیم ہے اس کو کچھ اس طرح بیان کیا کہ پہلی دونوں فلمیں جو ڈسکس ہوئی وہ تھیم کے لحاظ ملتی جلتی تھیں لیکن یہ فلم دونوں سے بالکل الگ ہے موضوع کے لحاظ سے بھی اور کرداروں کے لحاظ سے بھی گو کہ فلم کی کہانی بہت سنجیدہ ہے لیکن اس کو نبھایا گیا ہے مزاحیہ انداز سے۔ اس فلم کی کہانی ایک گھر ایک محلے اور ایک گاؤں کی خانگی اور خاندانی رشتوں کے گرد گھومتی ہے جو باپ بیٹوں کے درمیان ہوتی ہے جو بیٹوں اور بہوؤں سے خدمت گزاری اور اطاعت گزاری کا تقاضا کرتی ہے۔

اس کے بعد نشست میں بیٹھے ہوئے حاضرین نے بھی اپنے اپنے انداز میں تینوں فلموں پر گفتگو کی جو سیر حاصل رہی۔

اس نشست کے بعد ایک اور نشست نظم فاؤنڈیشن کی جانب سے افضال احمد سید کے ساتھ ایک نشست تھی اور ان کی ایک نظم مٹی کی کان پر تنقیدی بحث تھی۔

ڈاکٹر ثروت کی نظم پر ابتدائیہ گفتگو کرنے کے بعد افضال احمد سید پہلے اپنی نظم پڑھی اور پھر اس پر باری باری حاضرین نشست نے اپنی اپنی تنقیدی رائے پیش کی۔

نظم کو مجموعی طور پر ایک غیر معمولی نثری نظم قرار دیا گیا جو علامات اور تجریدیت کا مرقع تھا۔ نظم گو کہ طویل تھی لیکن اس کی تہہ داری نے اس کی فنی اور جمالیاتی جہت کو قاری کے لئے نہ صرف سہل کر دیا تھا بلکہ جاذبیت کی سطح پر لایا تھا جو بار بار پڑھنے پر بھی بار گراں نہیں تھی۔ نظم میں تخلیقی قوت اس قدر مضبوط تھی کہ نظم پر اتنی ساری بحث ہونے کے بعد بھی تشنگی کا احساس ہو رہا تھا۔ مٹی کی کان کی نظم میں آگ، پانی مٹی، نگراں، مزدور، ناخن، دل کی لکیر، کوڑے کا ڈھیر، روٹی، بیج، پودا، درخت، دہشت، چوری، سرنگ کا اگلا دہانا، دریا، پل، بے پانی دریا، جال مچھلی، ناؤ، چھتری جیسے ایک دوسرے سے الگ الگ علامتیں تھیں جو پوری نظم کو یک جا کر کے ایک لڑی میں پروئے ہوئی تھی۔ اور اس لڑی نے معنی کی کڑیاں کھولنے میں قارئین کے ذوق مطالعہ اور شوق مباحثہ کو ابتدا تا انتہا اس طرح جوڑے رکھا کہ نہ کسی نے اکتاہٹ محسوس کی اور نہ تھکاوٹ اور حاضرین نشست نے افضال احمد سید سے ان کی مزید نظمیں اور غزلیں بھی داد و تحسین دیتے ہوئے سنی اور یوں یہ نشست اگلی نشست تک لئے برخاست ہو گئی۔

Facebook Comments HS