پاکستان کی کہانی اوریا مقبول جان کی زبانی
ان سے غائبانہ تعارف ہمارے ہمعصر صحافی علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے کروایا، تب ان کی کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا تھا، ان کے کالم بھی بہت کم پڑھ رکھے تھے، اور یہ اندازہ تو بالکل ہی نہیں تھا کہ ایک چشم کشا اور عالم فاضل شخصیت سے چند گھنٹوں کی ملاقات اور صحبت کا شرف و اثر واقعی سو کتابوں کو پڑھنے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
ہاں! اوریا مقبول جان صاحب کے بارے میں یہ ضرور سنا تھا کہ وہ اعلیٰ سکیل کے ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں، انہیں پاکستان کے تقریباً ہر بڑے حکمران کے ساتھ کام کرنے اور اسے جانچنے و پرکھنے کا موقعہ ملا تھا اور وہ وہیں سے ایک پختہ کار اور منجھے ہوئے مصنف، کالم نگار اور ٹی وی کے سیاسی تجزیہ کار کے طور پر پاکستان کی ’مائنڈ میکنگ‘ صحافت کے ایک نامی گرامی ستون کے طور پر ابھرے تھے۔ جونہی دبئی میں ان کا نمبر میرے ہاتھ آیا میں نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور ان سے ملنے کا مقصد لکھ کر میسج کر دیا۔
میرے دو پاکستانی برٹش ساتھی سجاد احمد حسین اور چوہدری خاور زمان صاحب اوریا مقبول جان صاحب کو ملنے کے لئے مجھ سے زیادہ متجسس تھے۔ ہم نے مغرب کی نماز دبئی البرشا میں واقع اوریا مقبول جان کے بیٹے کے گھر کے سامنے ایک مسجد میں پڑھی اور پھر ہم ایک ہی گاڑی میں جمیرا روڈ کے ایک پاکستانی ریسٹورنٹ پر رات کا کھانا کھانے کے لئے روانہ ہو گئے۔
ہمارا یہ سفر ٹریفک کے رش کی وجہ سے کم و بیش چالیس منٹ میں طے ہوا، راستے میں انہوں نے پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ 1950 کے بعد پاکستان کی بربادی کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان کے ایک سفارت کار مرزا اصفہانی کی کوششوں کے پیش نظر پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے روس کی بجائے امریکہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا اور امریکہ جانے کے لئے امریکی حکومت سے ایک جیٹ طیارہ منگوایا، اس طیارے پر وہ پہلے امریکہ اور پھر کینیڈا اور برطانیہ گئے (جہاں لیاقت علی خان کے سسرال تھے ) اور واپس پاکستان بھی اسی طیارے پر آئے جس کے بدلے میں امریکہ نے وزیراعظم لیاقت علی خان سے پاکستان میں اپنی مرضی کا پہلا آرمی چیف لگوا لیا!
جب انہوں نے ہنری کسنجر کا ایک قول سنایا تو میں چونک گیا، انہوں نے بتایا کہ موصوف کہا کرتے تھے کہ:
”We are bad with our enemies, but are worst with our friends.“
جس کا ترجمہ ہے کہ ہم دشمنوں کے ساتھ برا اور دوستوں کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک کرتے ہیں، جس کا ان کے دوستوں کے لئے ایک بالواسطہ دھمکی آمیز مطلب یہ ہے کہ امریکی بے وفائی پسند نہیں کرتے اور جو ملک ان سے اسلحہ اور قرضوں یا ڈالرز وغیرہ کی مد میں بلاد سود مدد لیتا ہے، وہ ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرے یا ان کی بات نہ مانے تو وہ ان سے سخت انتقام لیتے ہیں۔ پاکستان میں لگنے والے چار مارشل، بھٹو صاحب کی پھانسی اور ضیاء الحق کا حادثہ ہنری کسنجر کے اسی قول کی تعبیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضیا الحق نے فوجی ’اشرافیہ‘ کو جو مراعات اور سہولیات دیں آج وہ اس کی عادی ہو چکی ہے۔
ہم جونہی مطلوبہ ریسٹورنٹ پر پہنچے تو استقبالیہ پر موجود عملے نے اوریا مقبول جان صاحب کو پہچان لیا، تین چار مہمان بھی کھانا چھوڑ کر ان کا استقبال کرنے کے لئے حال سے اٹھ کر باہر آ گئے، پانچ سے سات منٹ تک مرد و خواتین اوریا مقبول جان صاحب کے ساتھ فوٹو اور سیلفیاں بناتے رہے، ٹیبل تک پہنچنے اور کھانے کے دوران بھی لوگ آ کر ملتے رہے اور ہماری گفتگو بھی جاری رہی۔ اوریا مقبول جان صاحب نے عالمی سیاست، قید و بند، صحافیوں پر سختیوں، ’میثاق جمہوریت‘ اور ملک کے مشہور حکمرانوں اور سیاستدانوں کے بارے میں حیران کن واقعات سنائے۔
انہوں نے بتایا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو لیاقت باغ میں قتل ہوئیں تو وہ ہسپتال میں پہنچنے والے پہلے تین بندوں میں شامل تھے۔ انہوں نے محترمہ کی لاش کو غور سے دیکھا تھا، ان کے جسم کے کسی حصہ پر گولی لگنے کا کوئی نشان نہیں تھا، صرف سر اور گردن کے درمیان دھماکے کے بعد گاڑی میں بیٹھنے کے بعد چوٹ لگنے کا ایک زخم تھا، اور ڈاکٹروں کے معائنے سے پہلے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو مر چکی تھیں! بلوچستان اور کے پی کے سے متعلق بھی باتیں ہوتی رہیں۔
خاص طور پر انہوں نے بنگالیوں اور بلوچ قوم کے بارے میں بہت چشم کشا باتیں کیں۔ اس میں کچھ حلقوں کے چند اعترافات شرمناک تھے جن کا صحافتی آداب کی وجہ سے یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں۔ اوریا مقبول جان صاحب جس موضوع پر بھی بات کرتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے حقائق اور اعداد و شمار حفظ کیے ہوئے ہیں، اسی دوران یہ احساس ہوا کہ کسی شخصیت کو ’دبستان‘ کیوں کہا جاتا ہے یا ان سے چند لمحوں کی ملاقات کئی کتابوں کے مطالعہ سے کیوں بہتر ہوتی ہے۔
جب ہم ریسٹورنٹ سے باہر نکلے تو دو گورے چٹے لمبے قد کے باریش نوجوانوں نے اوریا مقبول جان صاحب کو گھیر لیا۔ میں قریب ہوا تو انہیں یہ کہتے سنا کہ، ’آپ پاکستانی ہیں؟‘ اوریا صاحب نے کہا، ’ہاں‘ اس پر جب اوریا مقبول جان صاحب نے پوچھا کہ، ’کیا آپ پاکستانی نہیں ہیں؟‘ تو انہوں نے پژمردہ چہرے کے ساتھ کہا، ’ہم بھی محب وطن پاکستانی ہیں مگر جب ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں پاکستانی ماننے سے انکار کیا جاتا ہے۔‘
پاکستان میں مسنگ پرسنز کی بھی ایک الگ کہانی ہے۔ ان نوجوان بلوچی لڑکوں نے بتایا کہ وہ بہت جلد پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔ نجانے ان لڑکوں کو کیسے معلوم ہوا اس سے قبل ہم بلوچستان ہی کے حقوق کی بات کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ہم گاڑی میں بیٹھ گئے اور واپسی پر بھی مختلف ’برننگ اشوز‘ پر باتیں ہوتی رہیں مگر سچی بات ہے ہم چاروں شہری پاکستان کے مستقبل سے دل ہی دل میں مایوس نظر آ رہے تھے۔ اوریا مقبول جان صاحب نے گاڑی سے اترتے وقت کہا، ’جب کسی سیاسی لیڈر کا قد بڑھ جائے تو اسے قابو کرنا مشکل ہو جاتا ہے، یہی بھٹو صاحب کے ساتھ ہوا اور اب عمران خان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، سیاسی بحران ابھی بھی باقی ہے، طاقتوروں حلقوں کو اسے دور اندیشی سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
جب ہم نے اوریا مقبول جان صاحب سے دبئی آنے کی ’افواہوں‘ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ 18 مئی تک واپس پاکستان جا رہے ہیں۔


