ہنی مون از اوور؟


لگتا ہے مخلوط وفاقی حکومت اور پختونخوا کے برائے نام نگران مگر دراصل جمعیت العلما اسلام حکومت کا ہنی مون پیریڈ بہت جلد ختم ہو گیا۔ ان دونوں حکومتوں کی مثال رات کے وقت آوارہ گردی کرتے ان اوباش نوجوانوں جیسی ہے جو بات بات پر آپس میں لڑ جھگڑتے ہیں مگر جوں ہی پولیس پارٹی دیکھتے ہیں تو خاموش ہو کر دوستوں کی طرح آگے بڑھتے ہیں پولیس سے گزرتے ہی دوبارہ لڑنے لگتے ہیں۔ پختونخوا حکومت کی بات بعد میں کرتے ہیں پہلے وفاقی حکومت لے لیجیے۔

اس حکومت پر جب تک عمران خان کا دباؤ برقرار تھا یہ سب شریف زادوں کی طرح یک جان دو قالب تھے۔ نہ شہباز شریف زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹ رہا تھا نہ بلاول نواز شریف کو مودی کا یار قرار دے رہا تھا مگر جوں ہی عمران خان کا خوف جاتا رہا، الیکشن کے لئے نیا ماحول بنانے، زیادہ سیٹیں لینے اور موجودہ حکومت میں زیادہ مراعات اور مفادات کے حصول کے لئے ان کی روایتی دھینگا مشتی شروع ہو گئی۔ وہ زرداری جنھوں نے عمران خان سے نجات حاصل کرنے کے لئے وزارت عظمی جیسی کرسی اپنے شدید ترین سیاسی مخالف شہباز شریف کو خود پیش کی آج کرکٹ بورڈ کے چیئر مین جیسے معمولی کرسی پر اپنا بندہ بٹھانے کے لئے اڑے ہوئے ہیں۔

لیکن میرے خیال میں زرداری کا یہ اڑ جانا صرف پی سی بی کے لئے نہیں ہو سکتا ہے۔ زرداری شطرنج کا کھلاڑی ہے وہ جانتا ہے کس مہرے کو کس وقت اور کہاں استعمال کرنا ہے۔ زرداری کا اصل مقصد آئندہ انتخابات میں پنجاب سے سیٹیں جیتنا ہے۔ کیونکہ وہ ہر ممکن حد تک اس کوشش میں ہے کہ آئندہ انتخابات میں بلاول کو وزارت عظمی کی کرسی پر بٹھایا جا سکے۔ اور ان کی یہ خواہش پنجاب سے مناسب تعداد میں سیٹیں جیتنے کے بغیر ممکن نہیں۔

کیونکہ پختونخوا اور بلوچستان میں سیاسی تقسیم پہلے سے موجود ہے تاریخی طور پر یہاں سے پی ٹی آئی کے سوا کبھی بھی کسی ایک پارٹی نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی ہے۔ سندھ سے سو فیصد کامیابی بھی بلاول کو وزارت عظمی کی کرسی پر بٹھانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کر سکتی ہے۔ اس لئے ان کا فوکس ہمیشہ جنوبی پنجاب ہوا کرتا ہے۔

پی ٹی آئی ٹوٹ جانے تک زرداری صاحب کو شاید یہ خوش فہمی تھی کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ہیوی ویٹ آسانی کے ساتھ ان کی جھولی میں آ گریں گے۔ کیونکہ مسلم لیگ کی نسبت پیپلز پارٹی میں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت اور فلیکسیبلیٹی زیادہ ہے۔ مگر ہمیشہ کی طرح تیسری قوت کو موجود رکھنے والے کنگ میکرز کا منصوبہ شاید اس مرتبہ تھوڑا سا مختلف ہے۔ اس لئے ان سب لڑکے بالوں نے ایک جگہ جمع ہو کر کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

جس نے زرداری کے منصوبے کی راہ میں مشکلات پیدا کردی۔ اب مشکل یہ ہے کہ ایک طرف پیپلز پارٹی حکومت میں ہے اب تک حکومتی جماعتوں کا بیانیہ صرف پی ٹی آئی مخالف تھا۔ وہ کارتوس چل گیا۔ اور اس سے عمران خان کا شکار بھی ہو گیا۔ اب اس چلے ہوئے کارتوس (پی ٹی آئی مخالف بیانئے ) کے ساتھ دوسرا شکار (انتخابات میں جیت) ناممکن ہے اس لئے پیپلز پارٹی کو پنجاب سے سیٹیں لینے کے لئے مجبوراً مسلم لیگ کے خلاف کسی نہ کسی شکل میں میدان میں اترنا ہو گا۔

اس لئے زرداری صاحب بہت سنجیدگی کے ساتھ اپنی بساط کھیلنے کے لئے غور و فکر کر رہے ہیں اور حکومت کے ساتھ اختلافات کا بہانہ بنا کر حکومت سے نکلنے سے لیکر، انتخابات کے التوا اور نئی پارٹی کے ساتھ اتحاد تک کے آپشن ان کے پاس موجود ہے۔ البتہ مسلم لیگ نے بھی بروقت کھیلنے کی جدوجہد شروع کردی ہے۔ اور استحکام پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی عطا تارڑ کا یہ بیان کہ جہانگیر ترین کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے اور ان کے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے۔ دیوانے کی بڑھ نہیں ہے۔ وہ ترپ کا پتہ کھیل گئے۔ جہانگیر ترین کی فوراً لندن یاترا اور نواز شریف سے ملاقات کی افواہوں نے پیپلز پارٹی کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔ دیکھتے ہیں کہ جون کے آخر تک اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

جہاں تک خیبر پختونخوا میں نگران حکومت کا تعلق ہے۔ یہ بات روز اول سے راز نہیں تھی کہ یہ نگران کم اور وفاقی حکومت کی نامزد قومی حکومت زیادہ ہے۔ اس میں بظاہر تو تمام پارٹیوں کو حصہ بقدر جثہ نمائندگی ملی ہوئی ہے۔ مگر حیران کن طور پر گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے صوبے کے چیف ایگزیکٹیو (وزیر اعلی) کے اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں اور صوبے میں کاغذات کی حد تک موجود نگران وزیر اعلی صاحب کے اختیارات اپنے سی ایم ہاؤس میں بھی نہیں چلتے ہیں۔

شنید ہے کہ انھوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ استعفی دینے کی بھی کوشش کی جسے کامیابی کے ساتھ روک دیا گیا۔ حاجی غلام علی نے گورنر ہاؤس کو حقیقی معنوں میں عوامی جگہ بنا دیا ہے یہ اور بات ہے کہ عوام سے مراد صرف جے یو آئی کے کارکن، مساجد اور مدارس کے اساتذہ اور طلباء ہیں۔ یہاں آنے جانے ملنے ملانے پر کوئی پابندی نہیں مگر کام صرف مخصوص لوگوں کے ہوتے ہیں اور مخصوص طریقہ کار کے مطابق۔ وزیر اعلی ہاؤس ویراں پڑا ہے۔

مگر تمام پر کشش عہدوں پر براجمان سرکاری افسران اور نگران وزرا ہفتے میں دو سے تین مرتبہ گورنر ہاؤس کے چکر ضرور لگاتے ہیں۔ اور اب تک یہاں کی رونقیں خوب جوبن پر ہے۔ مگر اب لگتا ہے کہ جس طرح پیپلز پارٹی کو مرکز میں اپنی سیاسی مفادات یاد آ گئیں یہاں بھی حاجی غلام علی اور ان کے سیاسی و کاروباری رفقاء کا ہنی مون پیریڈ ختم ہونے کو ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اے این پی کو احساس ہو گیا کہ حاجی غلام علی کے اختیارات کے اس ناجائز استعمال سے نہ صرف وہ مفادات کے حصول میں پیچھے رہ گئے بلکہ وہ آئندہ انتخابات میں بھی مشکلات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

اس لئے ایک ہفتے کے اندر اندر تینوں پارٹیوں نے کھل کر حاجی غلام علی کی مخالفت کر کے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا۔ اگرچہ ان سب کے تحفظات کا اظہار بجا سہی مگر حاجی غلام علی جیسے سیاسی کھلاڑی جسے آفتاب شیرپاؤ کی طرح ڈرائنگ روم کی سیاست کا ماہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اور بروقت فیصلہ کرنے اور بوقت ضرورت پیسہ خرچ کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہے۔ اس کو آسانی سے پیچھے ہٹانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ خاص کر ایسے وقت میں جب انتخابات سر پر ہے۔ اور ہر پارٹی کی توجہ کا مرکز موجودہ مفادات سے زیادہ آئندہ انتخابات میں جیت پر مرکوز ہے۔ دیکھتے ہیں کہ حاجی غلام علی کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوتا ہے یا وہ اس کا دورانیہ آئندہ پانچ سال تک بھی طول دینے کا رستہ نکالتے ہیں۔ یہ بھی جون کے آخر تک معلوم ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS