مبشر سعید کی خواب سرا کے بھید


مبشر سعید معاصر اردو شاعری بالخصوص اردو غزل کا ایک اہم نام اور معتبر حوالہ ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”خواب گاہ میں ریت“ کے عنوان سے شائع ہو کر اہل علم و ادب سے پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ حال ہی میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ”خواب سرا کے بھید“ اردو غزل کی دنیا میں ایک خوبصورت اور دل کش اضافے کی صورت منصہ شہود پر آیا ہے۔ ان کی شاعری کے مطالعے کے بعد ان کی شخصیت کے بارے میں عمومی تاثر ابھر تا ہے وہ یہ ہے کہ عادتاً نہیں بلکہ فطرتاً شاعر ہیں۔

ان کی شعری کائنات میں حیران کن حد تک تازہ کاری نظر آتی ہے۔ ونسٹن چرچل کے بقول ”تم خود اپنی دنیا تخلیق کر سکتے ہو۔ تمہاری قوت متخیلہ جس قدر مضبوط ہو گی تمہاری دنیا اس قدر خوش رنگ ہو گی اور جب تم خواب دیکھنا چھوڑ دو گے تو تمہاری دنیا اپنا وجود کھو دے گی۔“ مبشر سعید کی اپنی شعری دنیا ہے جو رومانویت کے سنگ و خشت سے تعمیر ہوئی ہے۔ جہاں چاروں اور حسن کی حکمرانی ہے جہاں سرمدی لہجے میں گاتے ہوئے پرندے ان کی آواز میں آواز ملاتے دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں وہ پھول کی پتی پر محبوب کا عکس اتارتے ہیں تو تتلیاں طواف کو پہنچ جاتی ہیں، جہاں خوابوں کی فراوانی ہے اور وہ خوشبو کا ہاتھ تھامے غزل سرا نظر آتے ہیں۔

رات بھر چاند کو احوال سنانے کے لیے
کیا ٹھہرتی ہے دریچوں کی ہوا میری طرح
افق جاں پہ نمودار ستارے نے کہا
درد سے ہجر کی تصویر بنا میری طرح

کسی بھی شاعر کے کلام میں الفاظ کے معنی اور جمالیاتی برتاؤ سے ہی شعریت، کیفیت، معنی خیزی اور تاثیر پیدا ہوتی ہے۔ لفظوں کے اس جمالیاتی برتاؤ میں مبشر سعید طاق ہیں وہ لفظوں سے یوں تصویر بناتے ہیں کہ مصور کی تصویر اس کی برابری تک نہیں پہنچ پاتی:

وہ مصور کے بس کا کام نہیں جو بناتی ہے شاعری تصویر
حسرت کی تصویر بنے ہیں تیری آنکھیں میرا چہرہ
وہ محبوب کے خد و خال بناتے ہوئے اس کی دل نشیں آنکھوں کا عکس لفظوں میں کچھ یوں اتارتے ہیں :
ہم اگر تیرے خد و خال بنانے لگ جائیں صرف آنکھوں پہ ہی کئی زمانے لگ جائیں

رومان کے بعد جو رجحان ہمیں مبشر سعید کے ہاں غالب ملتا ہے وہ تصوف، متعلقات تصوف وخانقاہی نظام ہیں۔ تصوف دراصل ایک نظام حیات ہے جو انسانی قلب و ذہن کو دنیاوی اور مادی آلائشوں سے پاک کر کے رواداری، اخوت و محبت، تحمل و صبر اور بقائے باہمی کو جنم دیتا ہے اور نفس انسانی کو اخلاقی رذائل سے پاک کر کے حقیقی معنوں میں اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتا ہے۔ تصوف کا ماخذ کچھ لوگ بدھ مت کو قرار دیتے ہیں کچھ اسے یونانی فلسفہ اور کچھ اسے رہبانیت سے جوڑتے ہیں تو کچھ عالم اسلام کو اس کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔

اس بحث سے قطع نظر دنیا کے تمام مذاہب نے تصوف کو اپنے طور اپنایا اور انسان کو اخوت و محبت اور انسان دوستی کا سبق دے کر خدا سے ملایا۔ مذاہب کے ساتھ ساتھ تصوف دنیا بھر کے ادب کے بھی مرکزی موضوع رہا ہے۔ اردو شاعری کے اولین نقوش میں بھی یہ رجحان عام دیکھا جاسکتا ہے۔ اس روایت کو مبشر سعید نے اپنی شاعری میں عمدگی سے آگے بڑھایا ہے۔ خانقاہ، صوفی، ملنگ، پیر، فقیر، رقص، دھمال اور وجد ان کی مخصوص لفظیات ہیں جن میں معنی کا ایک جہان آباد ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے :

خانقاہوں کے ہر کبوتر سے
کچھ فقیری مکالمہ کیجیے
رقص کرتے ہوئے سب ہوش بھلا دیتا ہوں
دیر تک وجد میں رہتا ہے سراپا میرا
خود اپنے آپ سے ملنے کو جب بھی جی چاہا
بدن کو وجد میں لائے دھمال کر بیٹھے
رقص کرتے ہوئے پاؤ کیے زخمی سب نے
مدتوں بعد فقیر کو جلال آیا ہے
میری رگوں میں ہے سرعت پذیر وجد کی رو
دھمال رقص کو جس نے لہو کیا ہوا ہے
آنے لگا ہے لطف سراسر دھمال میں
رکھتا ہوں اب میں خود کو برابر دھمال میں

شاعر اور ادیب معاشرے کے حساس افراد ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے کے درد، کرب اور نا انصافی کو دوسرے انسانوں کی نسبت زیادہ قربت اور شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ مبشر سعید بھی ایک ایسے ہی تخلیق کار ہیں جو وہ اپنے معاشرے میں گھٹن، ظلم اور مختلف امتیازات کو دیکھتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں :

نہ کوئی بند نہ در وا دکھائی دیتا ہے
عجب شہر کا نقشہ دکھائی دیتا ہے
مبشر سعید مختلف علامتوں اور استعاروں سے استحصال کے اس نظام کے خلاف آواز اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں :
کیا ہواؤں کے قبیلے سے تعلق ہے ترا
تو چراغوں کا طرف دار نہیں ہو سکتا؟

وہ ایک انسان دوست لکھاری ہیں جو شاداب چہرے کے پیچھے چھپے کرب اور درد کو بھی محسوس کر سکتے ہیں اور انسانوں سے ہم دردی اور محبت ان کا شعار حیات ہے۔ وہ نا امیدی اور مایوسی میں بھی امید کی کرن کی بات کرتے ہیں۔ وہ گماں زادوں کی بستی میں یقین کا گیت گاتے چلے جاتے ہیں اور موت کی آخری حدوں پر بھی جینے کی گفتگو کرتے سنائی دیتے ہیں۔

موت کی آخری حدوں پر بھی
بات جینے کی برملا کیجیے
لوگ جہاں پر موت کے نغمے گاتے اور سناتے تھے
ہم نے اپنے شعر میں واں پر زیست کا نام اٹھایا ہے

کچھ استعارے مبشر سعید کو بہت محبوب ہیں۔ شجر بھی انہی استعاروں میں سے ایک ہے۔ شجر اور پودے فطری ماحول کے بنیادی جزو ہیں۔ صاف آب و ہوا اور صحت بخش فضا انہی کی بدولت ممکن ہے۔ درخت یا شجر اردو کی صوفیانہ شاعری میں بھی ایک اہم استعارہ ہے جو خود تو کڑی دھوپ میں جلتا ہے لیکن مسافروں کے چھاؤں، سکھ اور سکون مہیا کرتا ہے۔ جو لوگوں سے پتھر کھاتا ہے لیکن جواب میں انہیں پتھر نہیں پھل دیتا ہے۔ صوفیا شجر کے استعارے سے صبر، ہمت، حوصلہ اور تحمل جیسی اوصاف کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اسی کی توسیع ہمیں مبشر سعید کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔

یہ پرندوں کی جائے اماں ہوتے ہیں
اپنے آنگن میں بھی کچھ پیڑ اگانا مرے دوست
درد مندی کا تقاضا ہے مبشر یہ بھی
پیڑ کا طرح جلوں، سائے بچھانے لگ جاؤں

لیکن شجر صفت بننے میں بھی ایک زمانہ اور کڑی ریاضت درکار ہوتی ہے۔ یہ مقام آسانی سے ہاتھ لگنے والا نہیں۔ بقول مبشر سعید:

شجر پہ پات آنے لگ گئے ہیں
مگر اس میں زمانے لگ گئے ہیں

اسی طرح وہ تنہائی، اکلاپے اور عدم توجہی کو بھی ایک درخت کے نوحے کی صورت پیش کرتے ہیں۔ درختوں کا تنہائی اور اکیلا پن دراصل ایک طنزیہ بیانیہ ہے جو گروہی زندگی کا خواہاں ہے :

وہاں باغ میں جو شجر کھڑا تھا ہرا بھرا
کسی غم سے یہ بھی نڈھال ہے، کوئی پوچھتا

دشت اردو شاعری کا ایک اور مستقل استعارہ ہے جو مبشر سعید کا پسندیدہ ہے۔ اردو شاعری میں دشت اور دیوانگی کا مضمون بہت پرانا ہے اور طرح طرح سے شاعروں نے اسے باندھا ہے۔ مبشر سعید کے یہاں یہ روایتی مضمون اظہار کی سطح پر نیا معلوم ہوتا ہے۔ جب انہیں گل و گلزار کے ساتھ تعلق راس نہیں آتا تو دشت کو اوڑھ لیتے ہیں :

راس آیا نہ تعلق گل و گلزار کے ساتھ
دشت کو باندھ لیا ذہن کی دیوار کے ساتھ
جب سے ویران ہوا دشت تمنا میرا
خوف میں ڈوب گیا سوچ کا دریا میرا
عمر بھر حیرت امکان میں رہنا ہے مجھے
دشت بالکل میرے اعصاب پہ چھایا ہوا ہے
بن گیا ہوں دشت کی تصویر
دل میں اک شہر کو بسائے ہوئے

لوک دانش انسان کے صدیوں کے تجربات، مشاہدات اور تجزیات کا نچوڑ اور انسان کی مشترک میراث ہے جو ادب میں مختلف طریقوں سے اظہار پاتی ہے۔ مبشر سعید کی شاعری بھی لوک دانش کا گنجینہ ہے :چند اشعار ملاحظہ کیجیے

چین ملنے کی توقع تو نہ رکھے وہ بھی
جس کسی نے دل درویش دکھایا ہوا ہے
اپنی جانب چلنے سے
سفر سہانا ہوتا ہے
کس نے جیون کاٹا ہے؟
آسانی آسانی میں
جو وجوہات بتا تا ہے دھوئیں کی سب کو
مجھ کو لگتا ہے وہی آگ لگانے والا

معاصر اردو شاعری کے منظر نامے پر جہاں انفرادیت اور جدت کے چاؤ میں جس طرح کی بے تاثیر، لایعنی اور بے ڈھنگی شاعری کی بہتات نظر آتی ہے وہاں مبشر سعید جیسے تخلیق کار کا دم غنیمت ہے جو اردو کی کلاسیکی شعری روایت کی جڑت کی وجہ سے سر سبز و شاداب اور نمایاں نظر آتے ہیں۔ اردو کی کلاسیکی شاعری میں صنف غزل کو سب سے زیادہ اہمیت اور مرکزیت حاصل رہی ہے۔ غزل نہ صرف اردو شاعری کی آبرو ہے بلکہ ہمارے ادبی کلچر کی عکاس بھی ہے۔

مبشر سعید جیسے جدید شاعر نے نظم کے اس دور میں بھی غزل کو اپنی تخلیقی اظہار کا وسیلہ بنا رکھا ہے۔ جو قابل صد ستائش ہے۔ وہ اردو زبان اور اس کے تخلیقی برتاؤ کا سلیقہ رکھتے ہیں جو شاعرانہ اظہار و بیان کی بنیادی شرط ہے۔ اور جسے اصطلاح میں ”مذاق سلیم“ کہتے ہیں۔ ان کے ہاں کلاسیکیت کے ساتھ ساتھ ندرت اور حیرت انگیز جدت ہے، انہیں موضوع کو نئے نئے انداز سے باندھنے کا ڈھنگ بھی آتا ہے اور الفاظ کے چناؤ اور برتاؤ کا سلیقہ بھی۔ بحیثیت مجموعی ان کی شاعری امکانات سے بھر پور ہے۔

Facebook Comments HS