کوئٹہ کے 22 لاکھ شہریوں کے لئے صرف 405 سرکاری ٹیوب ویلز اور 50 سے زائد غیر فعال


کوئٹہ کے پہاڑی علاقہ ہزارہ ٹاؤن میں اپنے تین بچوں کی واحد کفیل نجمہ حسین ہر مہینے دو سے تین پانی کے ٹینکرز جس کی قیمت 1500 سے 2300 روپے تک کا ہوتا ہے منگاتی ہے۔ ‎پینتالیس سالہ بیوہ نجمہ حسین ایک پرائیویٹ سکول میں ماہانہ 25 ہزار کی تنخواہ پر ٹیچنگ کرتی ہے جس کی بیس فیصد سے زائد تنخواہ پانی کی ضرورت پورا کرنے میں چلا جاتا ہے۔ ”زیادہ تر وقت بچوں کے ضروری چیزیں پورا کرنا بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے کیونکہ ماہانہ چار سے چھ ہزار روپے تو چھوٹے سے گھر کے پانی کا خرچہ کا ہوجاتا ہے۔“

‎معلومات تک رسائی کے ایکٹ 2017 کے تحت محکمہ واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (واسا) سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق صرف بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کی بائیس لاکھ آبادی کے لئے روزانہ کی بنیاد پر 81 ملین سے زائد گیلن پانی کی ضرورت ہے جبکہ محکمہ واسا کے جانب سے شہر میں بنائے گئے 405 ٹیوب ویلز سے صرف 25 ملین گیلن پانی فراہم کی جا رہی ہے۔ ‎نجمہ حسین کہتی ہے کہ سالوں سال ہو گئے ہے اور انہیں یاد نہیں کہ آخری بار کب محکمہ واسا کے طرف سے انہیں پانی فراہم کی گئی تھی۔ ‎ ”ہمارے محلے میں سرکار کی طرف سے پانی کے فراہمی کے لئے بچائے گئے پائپس بھی اب نہیں ملتی اور سب نے نکال دی ہے کیونکہ اگر پانی آتا ہی نہیں تو نلکے کی کیا ضرورت ہے۔“

‎محکمہ واسا کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ محکمے کے طرف سے مہیا کی گئی 405 ٹیوب ویلز میں سے پچاس سے زائد ٹیوب ویلز خرابی کے باعث غیر فعال ہیں۔ ‎محکمہ واسا کے ہائیڈرولوجسٹ حمید اللہ نے بتایا کہ پانی کا ناپید ہونا کوئٹہ میں زیر زمین پانی کا گراف نیچے گرنے کے سبب ہے حمیداللہ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر دس میٹر سے زائد تک گر رہا ہے۔ ‎ ”سن 1998 ء میں زیر زمیں پانی کی سطح 80 سے 100 فٹ کے درمیان میں تھا مگر اب یہ 500 سے فٹ سے بھی اوپر تک چلا گیا ہے۔“

‎ حمید اللہ کہتے ہیں کہ کوئٹہ میں پانی کی ڈسچارج شرح 97 ملین کیوبک میٹر، ری چارج کی شرح 67 ملین کیوبک میٹر ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہر کو 30 ملین کیوبک میٹر پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ‎محکمہ ایری گیشن کی رپورٹ ’کوئٹہ کے آبی وسائل کے ذخائر کا جائزہ 2020‘ کے مطابق شہر میں ایک ٹیوب ویل سے فی سیکنڈ 8.5 لیٹر پانی نکالا جاتا ہے جبکہ کل 2000 ٹیوب ویلز میں 1850 جو آلیوئل ایکویفر میں واقع ہے، سے 106 کیوسک، 150 جو چٹانی علاقوں میں لگائے گئے ہیں سے 15 کیوسک اور دیگر سے چھ کیوسک پانی نکالاجا رہا ہے۔

‎کوئٹہ شہر کے سبزل روڈ کی رہائشی بی بی عائشہ کہتی ہے کہ وسا کی جانب سے پانی کی عدم فراہمی کے ساتھ ساتھ شہر میں پرائیویٹ ٹیوب ویلز سے پیسوں کے عوض ٹینکرز کے ذریعے پانی بھیجنا بھی سہولت کے بہ نسبت سردرد بنتا جا رہا ہے۔

‎ ”ہمارے گھر میں پچھلے چالیس سالوں سے کنواں تھا جس سے ہم کپڑے دھونے کے ساتھ زندگی کے سارے ضروریات پورے کرتے تھے مگر پچھلے تین سالوں سے جب محلے کے پاس پانی بھیجنے کی خاطر ٹیوب ویلز بنائے گئے تب سے کنواں سوکھ گیا ہے اب ہمیں وہی پانی 1500 روپے فی ٹینکر خریدنے کے ساتھ ساتھ ان کے نخرے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔“ ‎بی بی عائشہ الزام لگاتی ہے کہ شکایت درج کرنے کے باوجود حکومت لین دین کے ان غیر قانونی ٹیوب ویلز کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ ‎واسا کے حکام کے مطابق غیر قانونی ٹیوب ویلز کے خلاف کارروائی ڈی سی آفس کے ذمہ ہوتا ہے مگر ڈی سی آفس سے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود اعداد و شمار حاصل کرنے نہیں کی جا سکی کہ پچھلے ایک سال میں کتنے ٹیوب ویلز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

‎کوئٹہ کی بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ میں زیر تعلیم تین طلباء کے سروے کے مطابق شہر میں اس وقت دو ہزار سے زائد غیر قانونی ٹیوب ویلز ہیں۔ ‎پانی کے اس گمبھیر مسئلے کو سمجھتے ہوئے بیوٹمز یونیورسٹی کے ان تین اپنے فائنل پروجیکٹ کے طور پر ”ایٹماسفیرک واٹر جنریٹر فار پبلک ڈسپینسر“ نامی مشین بنائی ہے جو ہوا میں موجود نمی سے صاف پانی نکال لیتی ہے۔ ‎محمد موسیٰ کے مطابق وہ اور ان کے دو اور مرد کلاس فیروز نے ایٹماسفیرک واٹر جنریٹر فار پبلک ڈسپینسر نامی اس مشین کو بنیادی طور پر چار چیزوں پل شیئر، ہیٹ سنک، ریڈی ایٹر اور بیٹری سے بنایا گیا ہے۔

‎ ”مشین کو سٹارٹ کرنے سے پہلے اس میں تھوڑا سا پانی ڈالتے ہیں پر جب یہ سٹارٹ ہو جائے تو یہ آہستہ آہستہ پانی جنریٹ کرنا شروع کر دیتی ہے اگر ہم رات کے وقت چونکہ تب ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے سٹارٹ کرے تو یہ مشین ایک گھنٹے میں تیس ملی لیٹر کے آس پاس صاف اور پینے کے قابل پانی ہوا سے کھینچ لاتی ہے۔“

‎موسیٰ نے مزید بتایا کہ یہ مشین اگر ان سمندری علاقوں میں نصب کی جائے جہاں پر ہوا میں نمی زیادہ ہو تو یہ اور بھی اچھا نتیجہ دے سکتی ہے۔ محمد موسیٰ اور ان کے دوستوں کی رہنمائی کرنے والے اور بیوٹمز یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹرک انجینئرنگ کے استاد ڈاکٹر یوسف نودہانی نے بتایا کہ ایٹماسفیرک واٹر جنریٹر فار پبلک ڈسپینسر نامی مشین پر مزید اگر حکومتی سطح پر کام کیا جائے تو اس کو چھوٹا کر کے کٹ کی شکل دی جا سکتی ہے۔ ”اگر اس پر مزید کام کیا جائے تو یہ چھوٹے بیگ کے شکل میں کنورٹ کیا جاسکتا ہے جس سے یہ فائدہ ہو گا کہ اس کو بوقت ضرورت پیک کر کے آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر بڑے پہاڑوں پر جہاں پانی نا پید ہوتی ہے چڑھتے وقت اگر یہ مشین ساتھ لے جاکر استعمال کیا جائے تو یہ اچھے رزلٹ کے ساتھ ساتھ ہزاروں فٹ نیچے سے پانی ساتھ لے جانے کی جھنجھٹ کا خاتمہ کر سکتا ہے۔“

کوئٹہ کے سردار بہادر خان ومین یونیورسٹی میں پروفیسر اور ماحولیاتی تبدیلی کی ایکسپرٹ نیلوفر جمیل کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے مشینیں ان جگہوں پر جہاں ہوا میں نمی کی مقدار زیادہ ہو استعمال میں لایا جائے تو یہ مشین بلوچستان جیسے خشک پہاڑی اور صحراؤں پر مشتمل زمینوں کو آباد کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت کے لئے بھی کافی کار آمد ثابت ہو سکتا ہے۔ ”اس مشین کے ذریعے اگر زراعت میں ڈراپ واٹرنگ کے تحت استعمال کیا جائے تو ہم ان جگہوں پر مختلف قسم کے فصلیں اگا سکیں گے جہاں پر اس وقت یہ تصور بھی ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ جس سے نہ صرف ہماری زیر زمین پانی کافی اندازے سے بچ جائے گا بلکہ روزگار معیشت آبادی اور سب سے اچھی اور مثبت بات ہم موسمیاتی تبدیلی کو زیادہ تر حد رکھنے میں بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔“

‎محکمہ آب پاشی کے ڈائریکٹر برائے پلاننگ ومانیٹرنگ عبدالرزاق خلجی دعویٰ کرتے ہیں کہ شہر میں پانی کی صورتحال خطرناک نہیں، تاہم پانی کی زیر زمین سطح کو اوپر لانے کے لیے ری چارج کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ”شہر میں غیر قانونی ٹیوب ویلز، ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔“

‎ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پانی کے حوالے سے اچھی پالیسی مرتب کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آنے والے دنوں میں کوئٹہ کے شہریوں کو پینے کے پانی کے حصول میں بہت زیادہ مشکلات ہوں گی۔ ‎نجمہ حسین جیسے سینکڑوں لوگ کوئٹہ میں نجی ٹینکرز کے ذریعے پانی منگوا کر اپنی ضروریات پورا کرنے پر مجبور ہیں۔ ‎ان حالات میں محمد موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے بنائے گئے ہوا سے پانی بنانے والی مشین کتنی کار آمد ثابت ہوتی ہے یہ بھی وقت ہی طے کرے گا۔

Facebook Comments HS