سوشل میڈیا پر خواتین سے رابطے کے آداب
آداب! میں نے آپ کو بارہا سمجھایا تھا کہ میرے اور آپ کے درمیان تمیز اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے صرف دوستی ہو سکتی تھی اور اب وہ بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ کئی بار تنبیہ کے بعد بھی آپ باز نہیں آرہے ہیں اور مجھے مستقل ہراساں کر رہے ہیں۔ آپ کی آخری ای میل اس بات کا ثبوت ہے اور یہ تمام حرکتیں سائبر کرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
میں آپ کو ای میل سے بھی بلاک کر رہی ہوں کیونکہ اب آپ میرے صبر کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ حافظ۔
ایک خط جو کسی نے کسی کو بہت پریشان ہو کر لکھا اور چاہا کہ وہ سمجھ جائیں۔ ہوا کچھ یوں کہ سماجی رابطوں کی ایک ایپ پہ ان دو لوگوں کی ملاقات ہوئی۔ جناب نے محترمہ کو فالو کیا اور کچھ عرصہ بعد اظہار محبت بھی۔ محترمہ نے شکریہ کے ساتھ بتایا کہ وہ شادی شدہ ہیں اور اچھی بات چیت اور اہل ذوق لوگوں کی قدر کرتی ہیں اور ان جناب کو اپنے حلقہ احباب میں بخوشی شامل کرنا چاہیں گی۔ اس کے بعد دونوں کی گفتگو ادب کے حوالے سے شروع ہوئی۔
چند روز بعد پھر جناب نے نہ صرف اظہار عشق کیا بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ محترمہ بھی ان سے گوڈے گوڈے عشق میں مبتلا تھیں۔ محترمہ خبردار ہو گئیں اور جوابی سلسلہ فوراً منقطع کیا یہ کہہ کر کہ میں نے پہلے ہی آپ کو بتایا تھا کہ ہم اچھے دوست ہو سکتے ہیں وہ بھی جب عادات اور اطوار کچھ ملتے ہوئے۔ اب جناب تو بپھر گئے۔ پھر شروع ہوا معافی تلافی کا سلسلہ اور بے جا میسج اور ای میلز۔ محترمہ کے کئی بار منع کرنے کے باوجود یہ صاحب باز نہ آئے اور اپنی حرکات سے پرہیز و گریز نہ کیا۔ نہ صرف ان کے قریبی جان پہچان کے لوگوں سے رابطہ کیا گیا بلکہ محترمہ کو بھی دھمکی آمیز میسج متواتر موصول ہوتے رہے۔
آج فیسبک پر ڈاکٹر شازیہ صاحبہ کی ایک تحریر پڑھی۔ ڈاکٹر صاحبہ جو کہ امریکہ میں مقیم ہیں، مرد و عورت کے روابط پہ اکثر لکھتی رہتی ہیں، کبھی ذاتی تجربات سے جو سیکھا یا کبھی گرد و پیش میں جو نوٹس کیا۔ اس تحریر کو پڑھ کر مجھے یہ خیال آیا کہ زندگی میں تقریباً سبھی کا سامنا چند کم ظرف لوگوں سے ضرور ہوتا ہے۔ یہ کم ظرف لوگ کئی طرح کے ہوتے ہیں اور ان میں گھٹیا پن بھی کوٹ کوٹ کے بھرا ہوتا ہے۔
جس صورتحال کو تحریر میں بتایا گیا اس میں اگر ایک پارٹی ذہن تبدیل کر لے تو دوسری پارٹی اس کو ذلیل کرنے پہ اتر آتی ہے۔ یہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ظاہر ہے کسی سے دوستی، محبت اور شادی کے ارادے سے آپ کسی کی طرف بڑھے ہیں تو بات کرنا، ملنا ملانا ایک اہم قدم ہے۔ بات کیے بنا تو اس کے خیالات اور اطوار کا اندازہ نہیں ہو گا۔ یہ بھی اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آپ کی اس کے ساتھ کیا اور کتنی مطابقت ہے۔ یہ وہ زمانہ نہیں ہے کہ جب محبت ہوئی تو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا۔ آپ کسی کے ساتھ بھی تعلق واسطے میں جانے سے پہلے اس سے بات کرتے ہیں۔
خیر، کسی فرد سے بات کر کے ہی آپ پہ واضح ہوتا ہے کہ اس شخص میں کیا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا انداز، اس کا لہجہ آپ پہ کھلتا ہے۔ ایک شخص جو آپ کو بھا ہی نہیں رہا اس کے ساتھ نبھانا کوئی مجبوری نہیں۔ اب ایسے میں وہ شخص اپنے خیالوں میں محل بنا کر بیٹھ جائے تو یہ اس کی ذمہ داری ہے آپ کی نہیں۔ جب کہ آپ نے واضح کیا ہو کہ پروبیشن پیریڈ یا get to know چل رہا۔ بہت سی کم عمر لڑکیاں، بچے، لڑکے، مرد یا عورتوں کو خصوصاً سوشل میڈیا پہ اس ہراسانی کا سامنا ضرور ہوتا ہے۔ اس میں یہ سبھی کچھ آتا ہے۔
نفرت انگیز یا اشتعال انگیز تقریر Hate Speech
نفرت انگیز تقریر سائبر ایذا رسانی کی ایک عام شکل ہے جس میں جارحانہ اور امتیازی زبان یا شناخت کے پہلوؤں جیسے کہ نسل، مذہب، صنفی شناخت وغیرہ کے لیے دشمنی سے متاثر ہونے والی کارروائیاں شامل ہوتی ہیں۔ جبکہ نفرت انگیز تقریر کی کوئی قانونی تعریف نہیں ہے، لیکن اس کی خصوصیت اس کے استعمال سے ہوتی ہے۔ گالی گلوچ، نام پکارنا، اور زبانی بدسلوکی کی دوسری شکلیں اور سوشل میڈیا پر تصاویر اور میمز کے ذریعے بھی پہنچائی جا سکتی ہیں۔
Cyber bullying
سائبر دھونس ایک شخص یا گروہ کو ڈیجیٹل ذرائع سے، عام طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جان بوجھ کر، بار بار پہنچنے والا نقصان ہے۔ سائبر بلنگ سے متعلق ہر ریاست کے اپنے قوانین ہیں، بشمول مجرمانہ اور اسکول کی پابندیاں۔
سائبر اسٹالنگ Cyber stalking
سائبر ہراساں کرنے کی ایک اور عام مثال ہے جس میں ہدف بنا کر اور بار بار ڈرانے، دھمکیاں اور ہراساں کرنا شامل ہوتا ہے جو ایک شخص کی طرف جاتا ہے۔ اس میں جھوٹے الزامات، ہتک عزت، اور ڈیجیٹل توڑ پھوڑ شامل ہو سکتی ہے۔ بہت سے معاملات میں، یہ ایک ایسا جرم ہے جو وفاقی اور ریاستی قوانین کے تحت قابل سزا ہے۔
Online impersonation
آن لائن نقالی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص، تنظیم، یا برانڈ کی شناخت ان کی رضامندی کے بغیر اور دوسروں کو نقصان پہنچانے، ڈرانے، یا دھوکہ دینے کی نیت سے استعمال کرتا ہے۔ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے فشنگ اسکیموں میں نقالی بہت عام ہے اور یہ کاروبار کو مہنگا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
Doxxing (Doxing)
ڈاکسنگ کسی کی ذاتی معلومات کو ہراساں کرنے کی نیت سے آن لائن ظاہر کرنے کا عمل ہے۔ یہ گیمنگ اور ہیکر کمیونٹیز میں سب سے زیادہ عام ہے لیکن مشہور شخصیات، سیاست دانوں اور صحافیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ڈاکسنگ بدعنوانی سے لے کر سنگین جرم تک ہو سکتی ہے جس کا انحصار بدنیتی پر مبنی ارادے اور شکار کو پہنچنے والے نقصان پر ہوتا ہے۔
Swatting
سواتٹنگ ڈوکسنگ کی ایک توسیع ہے جہاں ایک برا اداکار شکار کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے ایک خطرناک کہانی گھڑتا ہے (یعنی ”یہ شخص کسی کو اپنے گھر میں یرغمال بنا رہا ہے ) ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، بدلے میں، متاثرہ کی رہائش گاہ پر طاقت کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کے نتیجے میں مجرم کے لیے سنگین قانونی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
Revenge Porn
ریوینج پورن کسی کی جنسی طور پر واضح تصاویر یا ویڈیوز کا غیر متفقہ اشتراک ہے، عام طور پر سابق ساتھی یا شریک حیات کی طرف سے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو ریاستی قوانین کے تحت قابل سزا ہے اور مجرم کے لیے سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
Sextortion
جنسی زیادتی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی فرد جنسی طور پر واضح تصاویر یا ویڈیوز کا استعمال کرتے ہوئے کسی مظلوم کو بھتہ لینے یا بلیک میل کرتا ہے۔ اس میں اکثر متاثرہ کے دوستوں، خاندان، یا آجر کے ساتھ مواد کا اشتراک اور تقسیم کرنے کی دھمکیاں شامل ہوتی ہیں اگر وہ مجرم کے مطالبات کی تعمیل نہیں کرتے ہیں۔ یہ ایک سنگین سائبر کرائم ہے جو وفاقی اور ریاستی قوانین کے تحت قابل سزا ہے۔
یاد رکھئیے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ اس صورتحال سے گزر چکے ہیں اور یہ سب قانونی طور پر یہ قابل سزا جرائم ہیں۔ اگر آپ کی تنبیہ سے کوئی نہیں سنبھل رہا تو اپنی زندگی سے پریشان نہ ہوں بلکہ پہلے قدم پہ آپ کسی خاص دوست جس پہ آپ کو بھروسا ہو ان سے بات کیجئیے۔ کسی وکیل کی رائے لے سکتے ہیں اور پھر پولیس میں باقاعدہ رپورٹ کروا سکتے ہیں۔ بہت سے وکیل اس طرح کا مواد ویب سائٹ سے ہٹانے یا ہتک عزت کے کیسز اور دوسرے فون سے ڈیلیٹ کروانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس کے متعلق مزید پڑھیے اور اپنے حقوق کو پہچاننے میں دیر نہ کیجئیے۔ یہ غلط ہے اور اس کو غلط ماننا اور کہنا آپ پہ لازم ہے۔ آپ کا آج اٹھایا ہوا قدم، آپ کے اور آپ کے بعد آنے والے لوگوں کے لیے اچھا ہو گا۔


