خبط عظمت کا وہم

ایک صاحب کو وہم ہو گیا کہ وہ شیشے کے بنے ہوئے ہیں، کسی نے انہیں چھو بھی لیا تو چکنا چور ہو جائیں گے۔ ماہرین نفسیات نے انہیں بہت سمجھایا لیکن وہ مصر رہے کہ میرا بدن شیشے کا ہے۔ ایک حکیم نے دعویٰ کیا کہ وہ مریض کو 5 منٹ میں ٹھیک کر دے گا۔ گھر والوں نے خوشی خوشی اسے بلا لیا۔ حکیم صاحب نے آتے ہی ڈنڈا نکالا اور ”مریض“ کی دھلائی شروع کر دی۔ لوگوں نے حکیم صاحب کو دبوچ لیا کہ بے چارے مریض کی جان لو گے کیا۔ حکیم صاحب نے کہا، اب ان سے پوچھیں، کہ وہ شیشے کے بنے ہیں؟ مریض کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ شیشے کا ہوتا تو اب تک ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ اس کا وہم کرچی کرچی ہو گیا۔ عمران خان کو بھی اپنی مقبولیت کا وہم اتنا تھا کہ وہ ڈیڈ لاک کو اپنی کامیابی سمجھتے اور ڈائیلاگ کو اپنی ناکامی گردانتے تھے۔ آج وہ ڈائیلاگ کے خواہاں ہیں مگر جواب ندارد۔ لگتا ہے کہ حکیم نے ان کا اہم ہونے کا وہم دور کر دیا ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ ان کی جبلت کا حصہ ہی نہیں۔ سیاسی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ
عمران سیاست دان نہیں، پاپولسٹ لیڈر ہیں۔ پاپولزم کی سیاست میں لیڈر وہ بات کرتا ہے، جو لوگ سننا چاہتے ہیں۔ اور عوامی حمایت سے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرتا ہے۔ وہ عوام کو شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا کر کے خود پرستی میں مست ہو جاتا ہے۔ صرف جذبات بھڑکائے جاتے ہیں۔ دلیل سے بات کرنا اور دلیل سننا ان کی سرشت میں نہیں ہوتا۔ پاپولسٹ لیڈر شارٹ کٹ چاہتا اور خود فریبی کا شکار ہوتا ہے۔ پاپولزم کی سیاست ایک بگولے کی طرح ہوتی ہے، جو آتی اور غائب ہو جاتی ہے۔
عمران خان سیاست دان ہوتے تو حکمت و دانائی اور فہم و فراست کو بروئے کار لاتے۔ ضد ’انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرتے۔ وہ مقبولیت سنبھالتے نہ کہ چوکوں چوراہوں پر مخالفین کی عزتیں اچھالتے اور جھوٹے سچے الزامات لگاتے۔ سیاسی ڈائیلاگ کے مواقع آئے تو مقبولیت کے خمار میں مخالفین کی شکلیں دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ جب تک لیڈر کی مقبولیت ہو اس کی اہمیت ہوتی ہے وقت کا جبر اسے تنہا کر دے تو کوئی اسے اہم نہیں سمجھتا۔ دنیا میں کوئی چیز یا شخص ایسا نہیں جس کا متبادل نہ ہو۔ سیاست ہو یا کھیل کا میدان‘ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عمران خان نے احتساب کی جو انتقامی بھٹی دہکائی تھی وہ ان کے لیے مکافات عمل کا بھڑکتا ہوا الاؤ بن چکی ہے۔ خان جی کی اہلیہ اور ان کی قریبی سہیلی ان کے تخت اقتدار کی چولیں ہلانے میں اہم کردار ادا کر نے شب و روز مصروف رہیں۔ باقی کسر اردگرد جو ارسطو اور سقراط اکٹھے کیے انھوں نے پوری کردی۔ عمران خان نے خبط عظمت میں جو کچھ کرتے رہے وہ گرہوں کی صورت میں ان کے سامنے ہے جو اب انہیں دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں۔ ء 2018 کے انتخابات کے بعد وسیم اکرم پلس کو تخت پنجاب پر لا بٹھایا اداروں کے تحفظات، اندرونی مزاحمت، لوٹ مار اور بے قاعدگیوں کے سنگین الزامات کے باوجود وہ بزدار کی تبدیلی سے انکار کرتے رہے۔ جن کی کارکردگی صفر اور اہلیت آخری وقت تک نامعلوم ہی رہی۔
انہیں آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑنے سائفر کا جھوٹا بیانیہ گھڑنے اور قومی اسمبلی سے مستعفی ہوتے سے روکا گیا مگر وہ اپنی ہٹ کے پکے نکلے۔ 25 مئی 2022 کو جب موجودہ حکومت مستعفی ہونے کے لئے تیار تھی انہیں لانگ مارچ سے منع کیا گیا مگر وہ باز نہ آئے۔ جنرل باجوہ کو میر جعفر اور میر صادق کے القاب دیے اور نیوٹرل ”عدم مداخلت“ کی پالیسی کو حیوانیت قرار دیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ارشد شریف کے اندوہناک قتل کے بعد مقتدر حلقوں پر الزام تراشی کی ’ان کے خلاف ٹرینڈز چلائے۔ نومبر 2022 میں چیف آف آرمی سٹاف کی معمول کی تعیناتی کو متنازع بنا یا۔ یہاں تک کہا گیا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت اپنی چوریاں بچانے کے لیے یہ تعیناتی کر رہی ہے۔ جب قاتلانہ حملہ ہوا تو ایک سینئر افسر کے متعلق ڈرٹی ہیری کی گردان کرتے رہے۔ جس کے خلاف ثبوت نہ ہونے کا اعتراف کرچکے ہیں۔ عدم اعتماد کے بعد جب بھی ڈائیلاگ کی بات کی گئی‘ انہوں نے انکار ہی کیا۔ اگر وہ اس وقت مذاکرات کو اہمیت دیتے تو آج ڈائیلاگ کی بھیک نہ مانگنی پڑتی۔ کل تک جو خود کو سب سے اہم سمجھتے تھے ’آج انہیں اپنی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔
عمران خان اپنی سیاسی شکست کو کبھی باوقار انداز میں قبول نہیں کر سکے۔ 2013 کے انتخابات میں شکست ہوئی تو پاکستان کو 126 دن کا دھرنا بھگتنا پڑا۔ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں ناکامی نظر آئی تو عملہ ہی دھند میں غائب ہو گیا۔ وہ صرف اقتدار چاہتے ہیں۔ ان کو اقتدار کے سنگھاسن پہ بٹھا دیا جاتا تو وہ جنرل عاصم منیر کی ویسے ہی تعریفیں کر رہے ہوتے جیسی وہ جنرل باجوہ کی کیا کرتے تھے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو واپس گود لے لیتی تو ساون کے سارے اندھوں کی طرح انہیں ہر طرف ہریالی دکھائی دیتی۔
سیاست میں اختلاف رائے ہوتا ہے ذاتی دشمنیاں نہیں۔ عمران خان نے سیاسی اختلافات کی جگہ نفرتوں کی فصل بوئی اب بیج فراہم کرنے اور کاشت کرنے والے دونوں ہی وہ فصل کاٹ رہے ہیں۔ اختلافات اور سیاسی نفرت خاندانوں کے غمی خوشی کے تعلق کو کھا گئی۔ سماجی وحدت بکھر گئی۔ اگر کسی نے انہیں سمجھایا تو گالیاں اچھالی گئیں۔ عمران خان میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہوتی تو ان کے پاس بہت وقت تھا کہ وہ تجزیہ کرتے کہ غلطیاں کہاں کہاں ہوئیں۔ لیکن وہ اپنے تکبر اور اڑیل پن میں رہے کہ میرے علاوہ کوئی چوائس ہی نہیں، اسی خبط نے انہیں جہاں لا کھڑا کیا وہ اس پر بھی سوچنے کو تیار نہیں۔ ان کا بس چلے تو اپنے ہر مخالف کو حرف غلط کی طرح مٹا دیں یہی زہر انہوں نے اپنے فالورز میں بھرا۔ انہیں سمجھنا ہو گا کہ سیاست میں دوسرے فریق بھی ہوتے ہیں یہی سیاسی حقیقت ہے۔ گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے والی سوچ درست تھی نہ ہے۔
جب عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو ان کے کارکنوں نے جو احتجاج کیا وہ اتفاقی نہیں تھا۔ 9 مئی سے پہلے عمران خان کے بیانات میں بار بار یہ پیغام دیا گیا کہ ان کی حکومت کو فوج نے ہٹایا اب فوج ان کی مخالفین کو سپورٹ کر رہی ہے، جو عمران خان کے نزدیک چور اور ڈاکو ہیں۔ انحراف اور فتنہ پرور سرگرمیوں کے باوجود عمران خان سیاست کے اکھاڑے میں تھے لیکن کیا نو مئی کی سوچی سمجھی منصوبہ بند بغاوت اور شرمناک دہشت گردی کو بھی سیاسی حرکیات کے کھاتے میں ڈالا جاسکتا ہے؟ کیا پٹرول بم متعارف کرانے، دفاعی تنصیبات پر حملے کرنے، کور کمانڈر ہاؤس راکھ کر دینے، فضائیہ کے اڈوں پر حملہ آور ہونے، جی ایچ کیو پر یلغار کرنے، ریڈیو پاکستان کو آگ لگانے اور شہدا کی مقدس یادگاروں کے ساتھ نفرت سے مغلوب دشمنوں جیسا سلوک کرنے والوں کو سیاسی کارکنوں ہی کی میزان پر تولنا چاہیے؟
عمران خان کو سوچنا چاہیے تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد حالات ان کے حق میں نہیں رہے۔ اپنی پارٹی اور سیاسی مستقبل کو بچانے کے لئے اپنے رویے میں لچک کا پیدا کرتے لیکن اب بھی ان کے ریلیز شدہ ویڈیو بیانات بین السطور یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ ظلم کے اس نظام کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔
ماضی میں عمران خان کو مذاکرات کی دعوت دی گئی تو انہوں نے غیر ملکی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں جن کو چور اور کرپٹ کہتا ہوں ان کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔ اگر بات چیت ہوئی تو پارٹی کے دیگر اراکین کریں گے۔ ایسے میں وہ اپنا وقار کھونے کے بعد انہی چوروں سے مذاکرات کے لیے سات رکنی کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں۔ آخر میں حالات حاضرہ پر منطبق ایک مصرعے پر بات ختم کرتے ہیں۔ اسلم گورداس پوری صاحب طرز شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کے کئی رنگ ہیں مگر ان کا یہ ایک مصرعہ ہی ان کی ساری شاعری اور کئی دیوانوں پر بھاری ہے۔ ”میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا“ اسلم گورداس پوری کا یہ مصرعہ عمران خان کی مقبولیت اور قبولیت کے بعد اس وقت وہ جس کیفیت سے دوچار ہیں اس پر صادق آتا ہے۔

