قطبی ستارہ: کامریڈ ظفر محی الدین


ظفر محی الدین 3، جنوری، 1948 ء کو حیدرآباد دکن (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ہجرت کے بعد ان کے والدین نے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں سکونت اختیار کی۔ ان کے والد غوث محی الدین جو جامعہ عثمانیہ کے گریجویٹ اور معروف رسالہ ماہ نامہ ”سویرا“ حیدرآباد، دکن کے مدیر اعلی تھے ان کے فکری اور علمی حوالے سے استاد تھے جن کی خصوصی تربیت نے انہیں مطالعے، مشاہدے اور قلم و قرطاس کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ 1960 ء کے عشرے میں انہوں نے غلام حسین ہدایت اللہ ہائی اسکول، حیدرآباد سے میٹرک، 1970 ء کی دہائی میں سٹی کالج سے انٹر میڈیٹ، بی اے اور سندھ یونی ورسٹی سے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے پاس کیا۔

اس زمانے میں حیدرآباد کا ماحول علم و ادب کی خوشبوؤں سے مہکا رہتا تھا، ہر ماہ کم از کم تین یا چار ادبی نشستیں ہوتی تھیں اس کے علاوہ چائے خانوں اور ادب دوستوں کے گھروں پر بھی علمی و ادبی مجالس کا سلسلہ جاری رہتا تھا جہاں ظفر محی الدین اپنی تخلیقی کاوشیں پیش کرتے تھے اس تعمیری ماحول نے بھی ان کی علمی، ادبی اور فکری سوچ کو مزید زرخیز اور پختہ بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ 1960 ء کی دہائی میں آمریت کی وجہ سے ملک بھر میں حبس، گھٹن اور خوف کا راج تھا جس کے خلاف اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سینکڑوں سر پھرے جمہوریت بحالی کی جدوجہد کر رہے تھے جس میں سٹی کالج کی ایک طلبہ تنظیم ”حیدرآباد اسٹوڈنٹس فیڈریشن“ جو بعد ازاں ”سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن“ بنی کے پلیٹ فارم سے مخلص، ذہین، راست گو اور جرات مند راہ نما ظفر محی الدین بھی شب و روز سرگرمی سے مصروف عمل تھے۔

سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے تلک چاڑی پر واقع جامعہ عربیہ ہائی اسکول میں ذوالفقار علی بھٹو کا کامیاب جلسہ منعقد کرانے میں عنایت اللہ کاشمیری، قادر نظامانی، منیر سندھی، میر تھیبو، جام ساقی کے ساتھ ظفر محی الدین بھی پیش پیش تھے۔ آمریت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں انہیں قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن انہوں نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری۔ زمانہ طالب علمی میں ان کا پہلا مضمون معروف اخبار ”حریت“ میں شائع ہوا۔ انہوں نے پہلا افسانہ سٹی کالج کے میگزین کے لیے لکھا جس کے ایڈیٹر پروفیسر خالد وہاب مرحوم تھے جنہوں نے ان کے افسانے کی تعریف اور مزید لکھنے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کی تھی۔

انہوں نے 1970 ء کے عشرے سے افسانے لکھنا شروع کیے۔ آپ نے 1987 ء سے ”روزنامہ جنگ“ میں سیاسی، سماجی، بین الاقوامی اور ماحولیات کے موضوعات پر کالم نگاری کی اور اسی دوران 2001 ء تا 2003 ء ”روزنامہ ایکسپریس“ میں بھی ہفتے میں دو کالم لکھتے رہے۔ ان کے بے شمار مضامین نے قارئین میں بے حد پذیرائی حاصل کی۔ ظفر محی الدین کی تصانیف میں ( 1 ) سندھ کی عدالت۔ حصہ اول، دوم ( 2 ) تمثیل آزادی (سیاسی و سماجی کالمز کا مجموعہ) ، ( 3 ) سب اچھا ہے (فکاہیہ کالمز کا مجموعہ) ، ( 4 ) سرورق کی لڑکی (افسانوں کا مجموعہ) ، ( 5 ) حیدرآباد (دکن) کی علمی و فلاحی خدمات ( 6 ) زندگی اے زندگی (آپ بیتی) شامل ہیں۔ یہ تمام تصانیف مصنف کی زندگی بھر کی بے لوث عرق ریزی کا نچوڑ ہیں جو بلاشبہ علم و ادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہیں۔ کامریڈ ظفر محی الدین کی تحریر کردہ کتابیں، کالمز اور افسانے عنوانات سے لے کر متن کے اختتام تک ان کے منفرد خیال، رواں اور دلکش طرز تحریر، درست معلومات، بہترین تجزیے اور اختصار کی بدولت قارئین کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں اور یاد رہے کہ یہ خاصیت بہت ہی کم اور اعلی پائے کے مصنفین کی شناخت ہوتی ہے۔

ان کی علمی، ادبی و سماجی خدمات کا اعتراف ان کی کتاب ”سرورق کی لڑکی“ کے لیے لکھے گئے ڈاکٹر اسلم فرخی کے تاثرات میں شامل اس ایک جملے ”میں ظفر محی الدین کو ایک بہت ذہین کالم نگار، دانش ور اور اعلی منتظم سمجھتا ہوں“ سے ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ادبی تنظیم ”دائرہ ادب و ثقافت“ جس کے جنرل سیکریٹری ظفر محی الدین تھے کی ایک تقریب پر جمیل الدین عالی مرحوم نے جنگ اخبار میں لکھے گئے اپنے کالم کا عنوان ”ظفر محی الدین، اظفر رضوی ہم سب خوشحال پاکستان کے آرزو مند ہیں“ رکھ کر دراصل ان کی بھی علم، انسان اور وطن دوستی کے اعتراف سمیت انہیں بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔

انہوں نے عوامی جمہوریہ چین، رومانیہ، شام، مصر، اٹلی، انڈونیشیا، ایران اور سلطنت عمان کا مطالعاتی دورہ کیا اور سیاحت سے شغف کی بنا پر ایک سفر نامہ بھی لکھا جو کسی وجہ سے ضائع ہو گیا یوں ایک بہترین تحریر ادب کا حصہ بن کر قارئین کے مطالعے میں نہ آ سکی۔ انہوں نے علمی و ادبی تنظیموں ”پاکستان رائٹرز فاؤنڈیشن“ ، ”دائرہ ادب و ثقافت“ اور ”فورم برائے ماحولیات پاکستان“ کے جنرل سیکریٹری سمیت نائب مدیر مجلہ عثمانیہ (طلبہ و قدیم جامعہ عثمانیہ) اور 1999 ء تا 2003 ء سہ ماہی ”کہکشاں“ کراچی کے ناشر اور مدیر اعلی کی حیثیت سے بھی عوام کو باشعور بنانے کی خدمات احسن طور سے سر انجام دیں۔

انہوں نے 1980 ء کی دہائی میں غم روزگار کے سلسلے میں کراچی میں رہائش اختیار کی اور وہاں مختلف جگہوں پر ملازمتیں کیں جن میں سے ایک وفاقی اردو یونی ورسٹی بھی شامل ہے جہاں سے وہ ریٹائرڈ ہوئے۔ سیاسی، علمی، ادبی اور پیشہ وارانہ میں زندگی میں اپنے نظریے، جدوجہد اور قلم کا سودا کرنے کے کئی پر کشش مواقع کامریڈ ظفر محی الدین کو پیش کیے گئے جن کو انہوں نے حقارت سے ٹھکرا دیا جس کا ثبوت آپ کی گھریلو زندگی کے علاوہ بہ طور نثر نگار، کالم نگار، افسانہ نگار اور تجزیہ نگار ان کی تحریریں اور تصانیف ہیں جو قطبی ستارے کی مانند ترقی پسند، خوشحال اور مضبوط جمہوری سماج کی شاہ راہ پر عوام کو گامزن کرتی ہیں۔

13، جون، 2023 کی شام کراچی میں ظفر محی الدین انتقال کر گئے۔ ”حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا“ ۔

Facebook Comments HS