خاص محبوبین کے لئے
”اپنی گاڑی ریو نکالوں ساتھ میں جاناں تجھ کو بٹھا لوں،
مچھلی پلا کھلاؤں تجھے سندھو دریا کے کنارے،
ہم سندھ میں رہنے والے سندھی مہمان نواز ہیں سارے۔ ”
سندھی زبان کے گلوکار ممتاز مولائی کا اردو میں گایا ہوا یہ گانا آج کل مشہور ہے۔ کچھ اس کی میمز بنا رہے ہیں اور اکثریت، جنہیں فی زمانہ عاشق بلایا جاتا ہے، اپنے معشوقین کو ٹک ٹاک، واٹس ایپ، انسٹا اور فیس بک پر یہی سنائے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملک اندر یہ گانا ریپلے پر لگا ہوا ہے۔ کہیں نہ کہیں سے سننے میں آ جاتا ہے۔ اگر چہ گانے میں ”ریوو“ کا ذکر کر کے اسے طبقہ امرا کے ساتھ خاص کر دیا گیا ہے مگر مجھے تو افسوس اس محبوب پر ہو گا جو ریوو جیسی لوفر ٹائپ گاڑی میں بیٹھنے پر تیار ہو جائے۔
خیر یہ الگ بحث ہو جائے گی۔ ہم گانے کی طرف لوٹتے ہیں۔ گانے میں ایک بات جو دلچسپ ہے وہ ”پلا“ نامی مچھلی کھلانے کی ہے۔
پلا سندھی تہذیب میں ایک اہمیت رکھتا ہے۔ لوگ اس کے ذائقے اور لطف کی وجہ سے اہتمام کے طور پر کھاتے تھے اور اس وجہ سے یہ ذرا مہنگا ملتا تھا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ پلا مچھلی کھانا خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
پلا اصل میں کھارے پانی سے تعلق رکھتا ہے جو تب سمندر سے ہجرت کر کے سندھو دریا میں آتا تھا جن دنوں دریا کا بہاؤ مستقل سمندر تک پہنچتا تھا۔ جن دنوں پانی زیادہ بہاؤ کے ساتھ سمندر تک رسائی حاصل کرتا، پلے کی کثرت ہو جاتی۔ لوگ دور دور سے پلا کھانے کے لئے بطور خاص جامشورو کا رخ کرتے تھے۔ اب تو بس سیلابی پانی ہی سمندر تک رسائی حاصل کر پاتا ہے اس لئے پلا مچھلی کھانا جیسے مٹتی تہذیب کی بات محسوس ہوتی ہے۔
پلا مچھلی کے معروف ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اپنے زور پر بہاؤ کے مخالف سمت تیرتا دریا میں کافی اوپر تک جاتا ہے۔ اس بات کو سندھ کا پدرسری معاشرہ اہمیت کا حامل سمجھ کر پلے کو مذکر کے طور پر پہچانتا اور پکارتا ہے۔ دادو میں سندھو کے کنارے موجود ایک گوٹھ کے اندر پلا مچھلی کی تعریف بیان کرتے ہوئے ایک بوڑھے سے سنا تھا کہ جس زمانے دریا بادشاہ کو جامشورو کے پاس دروازے بند کر کے روکتے نہ تھے، ان دنوں پلا جا کر سکھر نکلتا تھا۔
خیر پلا مچھلی کا ذکر کرتے ہیں کہ اس کا ذائقہ لذیذ اور گوشت نرم تر ہوتا ہے مگر سب سے کام کی بات یہ ہے کہ پلا مچھلی کی وجہ شہرت کانٹے بھی ہیں۔ اس کے اندر اتنے زیادہ کانٹوں کو موجودگی ہوتی ہے کہ ان کا نکالنا مشکل تر کام ہے۔ یہ چیز اس کا کھانا مشکل کر دیتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی آپ کو پلا کھلانے کی دعوت دے تو اس سے پہلے یہ وعدہ ضرور لیں کہ اس کے کانٹے بھی وہی نکالے۔ ورنہ پلا کھانا ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔ گویا، اک کانٹوں کا دریا ہے اور نکالتے جانا ہے۔
رہے نام اللہ کا، باقی سب اچھا ہے۔


