پاکستان : تزویراتی گہرائی سے معاشی کھائی تک


تزویراتی گہرائی کا تصور اگر کسی ریاست کی فوجی حکمت عملی میں مناسب حد تک محدود رہے تو یہ امر قابل فہم ہو سکتا ہے لیکن اس حکمت عملی کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگا دیا جائے تو ریاست پر گہرے گھاؤ لگ سکتے ہیں اور زخموں سے گھائل ریاست کو اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے خود پیدا کردہ طوفان سے نبرد آزما رہنا پڑتا ہے، معاشی اور سیاسی کمزوری اس سنگین نہج تک پہنچ جاتی ہے جس سے آج کل پاکستان دوچار ہے۔

‎برطانیہ نے ہندوستان سے رخصت ہوتے وقت سوویت کمیونسٹ کے بڑھتے سرخ انقلاب کے آگے بند باندھنے کی پیش بندی کے حوالے سے پاکستان کے جس کردار کا تصور کیا تھا اس میں تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی جاری رکھنے کو بنیادی اہمیت حاصل تھی جس کے نتیجے میں پاکستانی وسائل کے ایک بڑے حصہ کا عسکری اور غیر پیداواری اخراجات پر خرچ ہونا ناگزیر تھا۔ تزویراتی گہرائی کو عوامی زندگی کے ہر ضروری شعبے پر ترجیح کے نتائج پر نظر ڈالیں تو ملک میں پھیلی معاشی ابتری اور سیاسی افراتفری کے اسباب کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔

‎پاکستان کی تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی آزادی کے 75 برس تسلسل سے جاری رہتے ہوئے اب ایک تزویراتی ثقافت یا اسٹریٹجک کلچر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ افغانستان میں تزویراتی گہرائی کے اس تسلسل کے بارے میں عسکری حلقے عام طور پر یہ بتاتے ہیں کہ فوج کو 1970 کی دہائی کے آخر میں اس حکمت عملی کو اختیار کرنے میں دلچسپی پیدا ہوئی، حالانکہ یہ حکمت عملی پاکستانی فوج کو 1947 میں برطانیہ سے ودیعت ہوئی تھی۔ جس کا مقصد انڈیا میں موجود پوری برطانوی فوج اپنی سلطنت کو لاحق ان خطرات سے بچانے کے لیے ترتیب دی گئی تھی جس کے مطابق سویت روس کا افغانستان کے راستے برصغیر میں آنے کا گمان تھا۔

‎تزویراتی گہرائی کے اس بین الاقوامی کھیل کے تانے بانے وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا پر اثر رسوخ کے حصول کے لیے انیسویں صدی سے جاری اس گریٹ گیم تک جا ملتے ہیں جس کا ایک کردار زار روس کی سلطنت تھی جو 19 ویں صدی کے آخری عشرے تک ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان پر غلبہ حاصل کر کے اپنی سرحدیں افغانستان کی سرحد تک پہنچا چکی تھی جہاں سے آگے انڈیا پر برطانوی سلطنت کا راج قائم تھا جو اپنی نوآبادی کے قدرتی وسائل کو بشرکت غیرے لوٹنے میں مشغول تھی۔ اثر و رسوخ بڑھانے کے اس کھیل میں جھونکنے کے لیے اس کے پاس دنیا بھر میں برطانوی نو آبادیوں سمیت انڈیا کے تمامتر وسائل اور بڑی تعداد میں نوآبادیاتی نفوس پر مشتمل فوج میسر تھی۔

‎ 19 ویں صدی میں وسطی اور جنوبی ایشیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے برطانیہ اور روس کے درمیان رسہ کشی نے انتہائی شدت اختیار کر لی، ایک دوسرے پر بازی لے جانے کا یہ عمل ”دی گریٹ گیم“ کے نام سے جانا جانے لگا جو بڑے پیمانے پر جاسوسی، سیاسی چالبازی، اور فوجی تصادم سے پر خطرات کا دوسرا نام تھا۔ گریٹ گیم کے نتیجے میں برطانیہ نے 1893 میں افغانستان کے امیر عبدالرحمان کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے ذریعے انڈیا اور افغانستان کے درمیان ازسرنو سرحد بندی کے منصوبے کو حتمی شکل دے کر بین الاقوامی سرحد قرار دے دیا۔

دنیا کی اس 2670 کلومیٹر سب سے طویل غیر محفوظ سرحد کو دنیا ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانتی ہے۔ یہ معاہدہ صرف ایک صفحہ پر مشتمل تھا جس کا تعین برطانوی سیکرٹری خارجہ سر مورٹیمر ڈیورنڈ نے ایک مشترکہ افغان۔ برطانوی سروے کے ذریعے کیا تھا، اس نئی سرحد نے افغانستان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے پاکستان کے موجودہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون اور بلوچی بولنے والے کچھ علاقوں پر سے افغانستان کی عملداری ختم کر دی جبکہ 500 سال قبل مسیح سے انہیں افغان علاقہ جانا اور سمجھا جاتا رہا ہے۔

‎دوسری جنگ عظیم سے پہنچنے والے نقصانات کے بعد برطانوی سلطنت اپنی نوآبادیاتی ریاستوں پر براہ راست تسلط قائم رکھنے کے قابل نا رہ پائی۔ دنیا پر دم توڑتے اثر و رسوخ سے پریشان برطانوی راج نے دور رس حکمت عملی اپناتے ہوئے دنیا پر تسلط جاری رکھنے کے لیے نوآبادیاتی نظام کو طفیلی یا سیٹیلائٹ اسٹیٹس میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کیا۔ ان طفیلی ریاستوں کو مستقبل میں برطانیہ کی تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی پر برطانوی سامراج کے مفادات کی حفاظت کے لیے حسب سابق عمل پیرا رکھنا تھا تاکہ برطانوی استعمار کے نو آبادیاتی دور کو جدید شکل میں جاری رکھا جا سکے۔

‎ڈیورنڈ لائن کو خط تقسیم قرار دینے کا مقصد افغانستان کو بفر اسٹیٹ یا حائلی ریاست بنا کر جنوبی ایشیا کے راستے گرم پانیوں اور اس سے آگے بڑھ کر انڈیا پر اپنے مد مقابل روس کا راستہ مسدود کرنا تھا جہاں 1917 میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد سوویت یونین کا قیام عمل میں آ کر عوامی پذیرائی کے باعث زار کے روس کی طاقت سے کئی گنا زیادہ اور برطانوی استعمار کے لیے شدید خطرہ بن چکا تھا۔

‎انڈیا کے کونے کونے سے اٹھنے والی آزادی کے نعروں نے قدم لڑکھڑاتی برطانوی سلطنت کے لیے جلد فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی اور جاتے جاتے طفیلی ریاستوں کے قیام کی حکمت عملی کے تحت انڈیا کی تقسیم کا فیصلہ کر لیا۔ اس کام کے لیے انڈیا کی سرزمین پر صدیوں سے آباد پرامن عوام میں اپنے حلیف کرداروں کے ذریعے مذہبی منافرت کا شوشہ کھڑا کیا اور اپنے مفادات کی نگہداشت کا یقین دلانے والی اشرافیہ جو نوابوں، وڈیروں، جاگیرداروں، سرداروں، مزاروں کے سجادہ نشینوں اور اسلحہ چلانے میں مہارت اور احکامات پر بے چون و چرا عملدرآمد کرتے آئے مارشل نسل کہلائے جانے والے گروہوں پر مشتمل تھی رہنمائی کے فرائض سونپ کر ، انڈیا کو ہندو اور مسلمان کی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم کر ڈالا۔

‎تقسیم کے نتیجے میں دنیا کی سب سے منفرد ریاست پاکستان وجود میں آئی جس کا ایک بازو مغربی اور دوسرا ایک ہزار میل پرے مشرقی پاکستان تھا۔ انڈیا کو آزادی دلانے کی جدوجہد کرنے والے بیشتر انڈین نیشنلسٹ ہندو اور مسلمان رہنماؤں نے انگریز کے ہاتھوں ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کیں جن میں جیل کاٹنے کے طویل زمانے شامل ہیں مثال کے طور پر ابوالکلام آزاد، خان عبدالغفار خان، جواہر لعل نہرو، گاندھی، سردار ولبھ بھائی پٹیل جبکہ بنگال کی جنگ آزادی لڑنے والے سراج الحق، حامد الحق، عبدالمومن، مکس الدین احمد، مولوی غیاث الدین، ناصرالدین، رضیہ خاتون، عبدالقادر، ولی نواز، اسماعیل، ظہیر الدین، چاند میاں، الطاف علی، علیم الدین، اور فضل القادر چودھری ان مسلمان انقلابیوں میں سے تھے جنہوں نے ہندوؤں کے ساتھ مل کر آزادی کے لیے ہتھیار اٹھا لیے۔ ان میں سے کئی کو انڈمان بھیج دیا گیا یا مار دیا گیا۔ انگریز سے آزادی مانگنے پر قہر کا سامنا کرنے والوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے یا جیلیں کاٹیں، ماسوائے قائد اعظم محمد علی جناح کے جنہیں پاکستان کے حصول کی سیاست میں جیل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

‎قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان بننے پر فرماتے سنا گیا کہ:

I alone with the help of my Personal Secretary & Type Writer made Pakistan۔

‎قائداعظم نے اپنی ایسی کوئی یادداشت، کتاب یا دو صفحے لکھ کر بھی نہیں چھوڑے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہو کہ وہ پاکستان بنا کر کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ہماری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے تعلق سے یہ امر بے حد دلچسپ ہے کہ اسلامی جمہوریہ میں کوئی ایک شخص بھی قائد پر پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں رکھتا، ایسا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ قائد سے متعلق پی ایچ ڈی کے حصول پر پاکستان حکومت کی جانب سے پابندی عائد ہے۔

‎دلچسپ امر یہ ہے کہ انڈیا کی تقسیم کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ضرور وجود میں آئی لیکن پاکستان کی مسلمان آبادی سے بڑی تعداد نے انڈیا ہی میں سکونت کو ترجیح دی، یوں ہندو مسلمان ریاست کے نام پر تقسیم کے نتیجے میں مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، جبکہ مسلمان ریاست ان مسلم علاقوں میں قائم ہوئی جہاں پاکستان بننے سے پہلے مسلمان صدیوں سے اکثریت میں موجود تھے۔ تاریخ کی اس سب سے بڑی تقسیم نے دکھ، رنج، اور الم کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جو تقسیم کے نتیجے میں نسل در نسل حساس انسانوں کے سینوں میں ان زخموں کی یاد لیے آج تک موجود اور تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوچکے ہیں۔ اس تقسیم نے انسان کو انسان سے، خاندانوں کو ، ثقافتوں کو اور صدیوں سے شیر و شکر زبانوں کو تقسیم کر ڈالا۔

‎برطانوی سامراج سے ورثے میں ملنے والی تزویراتی گہرائی نے پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی اپنے اثرات واضح کرنا شروع کر دیے، نئے ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے پاکستان کا مغربی بازو برطانوی سامراج کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ڈیورنڈ لائن سمیت وہ جغرافیہ تھا جس میں موجودہ صوبہ خیبر پختونخوا سمیت صوبہ بلوچستان کے وہ پشتون علاقے شامل ہیں جن کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے، یہ وہ علاقے ہیں جو ہزاروں سال افغانستان کا حصہ رہ چکے تھے۔

‎سوویت انقلاب کے براستہ افغانستان مزید پیشقدمی میں موثر رکاوٹ کھڑی کرنے کے لیے ایک منظم اور طاقتور فوج کی ضرورت تھی لہذا تقسیم کے وقت انڈیا سے ملنے والے کل اثاثوں کا 36 فیصد بھاری بھرکم بوجھ برطانوی سامراج سے پاکستان کو فوج کی صورت میں حوالے کیا گیا جبکہ صرف 64 فیصد ریاست کے دیگر تمام معاشی معاملات سنبھالنے اور چلانے کے لیے وصول پائے جس میں سے 5.6 بلین روپے انڈیا حکومت پر اب تک واجب الادا ہیں۔ اتنے کمزور معاشی حالات میں ملک سنبھالنا یقیناً ایک بے حد مشکل کام تھا جس کی قیمت نئی اور ناتواں ریاست پاکستان کی عوام نے ادا کرنی تھی۔

‎دوسری جنگ عظیم سے زخمی برطانیہ نے اپنی کمزور معیشت کے باعث طفیلی ریاستوں کے نظام اور بین الاقوامی امور پر توجہ مرکوز رکھنے میں ناکامی کے باعث معاشی اور دفاعی طور پر دنیا کے نمبر ون کی حیثیت اختیار کرتے امریکہ کے نائب کا کردار اختیار کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ سوویت یونین کی بے تحاشا بڑھتی طاقت کو قابو میں رکھنے کے لیے جیو پولیٹیکل معاملات امریکہ کے سپرد کر کے خود کو امریکہ کا وفادار حلیف بنا کر مشورے، جنگی ساز و سامان کی فراہمی اور کسی قدر مالی معاونت تک محدود کر لیا۔

‎قیام پاکستان کے فوری بعد سے تزویراتی گہرائی کے موروثی منصوبے نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ اس تزویراتی گہرائی کا ایک جزو انڈیا پر نظر رکھنے کے لیے کشمیر ضرور رہا لیکن اس گہرائی کا اصل مرکز ڈیورنڈ لائن کا تحفظ اور اس سے آگے افغانستان میں گہرا اثر و رسوخ حاصل کرنا تھا۔ نئے گریٹ گیم کے تحت تزویراتی گہرائی کے اثرات کا پہلا نشانہ پاکستان کا مشرقی بازو بنا جس کا جغرافیہ پاکستان وجود میں آنے کے اول روز سے تزویراتی گہرائی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا، اس کے باوجود کہ متحدہ پاکستان میں آبادی کا 55 فیصد مشرقی پاکستان میں تھا جس کی اپنی علیحدہ ثقافت اور زبان موجود تھی قائد اعظم محمد علی جناح نے ملک کی بمشکل 6 فیصد سے کم آبادی کی زبان اردو کو جسے انگریز اپنے دور حاکمیت میں سرکاری زبان کا درجہ دے گیا تھا ملک کی واحد قومی زبان کا درجہ دے کر مشرقی پاکستان کے تمام شہریوں میں دوری کے احساس کا بیج بو دیا۔ بالآخر مشرقی بازو میں احتجاج شروع ہوئے جن میں درجنوں شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور بالآخر مطالبے کے آگے سر جھکاتے ہوئے بنگالی کو اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ دینا پڑا لیکن بنگالی مسلمانوں میں اجنبیت کے اس احساس کی داغ بیل پڑ چکی تھی کہ ہم پاکستان کے لیے اہمیت نہیں رکھتے۔

‎مغربی پاکستان کی تزویراتی گہرائی کے حصول میں مرکزی حیثیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا نعرہ لگانے والوں نے ملک کی مسلمان اکثریت مشرقی پاکستان میں ہونے کے باوجود ڈھاکہ کے بجائے کراچی کو ملک کا دارالخلافہ قرار دیا تاکہ تمام انتظامی امور کا محور مغربی پاکستان ہو، پاکستان کی عوامی اکثریت کا اس اہم فیصلے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

‎امریکہ بین الاقوامی امور میں بڑھتی دلچسپی کی وجہ سے نئے گریٹ گیم کی بنیاد رکھ چکا تھا جس نے مغرب کی سوویت یونین مخالف حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے ایک نئے جارحانہ دور کا آغاز کر دیا جس کے ہراول دستہ ہونے کی ذمہ داری پاکستان کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی، اس مہم پر اٹھنے والے کثیر اخراجات نے پاکستانی معیشت اور سیاست دونوں پر مشرقی پاکستان سے علیحدگی سے بڑھ کر مزید گہرے منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے۔

‎بنگالی زبان کے تنازعہ کے بعد تزویراتی گہرائی کا دوسرا مرحلہ وزیراعظم اول لیاقت علی خان کے غیر ملکی دورے کی متنازعہ شکل بنی کہ یہ دورہ سوویت یونین کا ہو یا امریکہ کا جبکہ وزیراعظم لیاقت علی خان کے سوویت یونین کا دورہ کرنے کی باقاعدہ درخواست حکومت پاکستان کو موصول ہو چکی تھی، لیکن اس کے باوجود وزیراعظم کے تزویراتی گہرائی کے نگران پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے امریکہ کے دورے کے لیے انتظامات کرنے میں مصروف رہے تاکہ امریکہ سے امداد میں ڈالر بٹورنے کا آغاز کیا جا سکے، بالآخر لیاقت علی خان پاکستان کے لیے امداد کا کشکول لیے 3 مئی 1950 کو سوویت یونین کے بجائے امریکہ دورے پر جا پہنچے جس نے ملک کے آئندہ مستقبل کو امریکی امداد کے ساتھ لازم و ملزوم بنا ڈالا۔

‎وزیراعظم کے امریکی دورے کو تزویراتی گہرائی کے وہ مخالفین جو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے تھے وزیراعظم اول خان لیاقت علی خان کے امریکہ کا دورہ کرنے سے بے حد ناخوش تھے، نتیجتاً لیاقت علی خان کی حکومت کو امریکہ سے واپسی کے چند ماہ میں ہی 1951 میں فوجی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا جو ناکام رہی، اس بغاوت کے چند ماہ گزرتے ہی 16 مئی 1951 کو ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں بھرے مجمع سے خطاب کے دوران قتل کر دیا گیا۔

ان کے قتل پر ملک کی امریکہ مخالف لابی نے خوشی منائی، لیکن، لیاقت علی خان کے امریکی دورے سے امریکہ کے بنائے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جس میں فوجی اڈوں کی فراہمی کے عوامی سطح پر انتہائی ناپسندیدہ فیصلے شامل ہیں۔ یوں ایک ڈھکا چھپا سیاسی خلفشار ہمیشہ جاری رہنے کے لیے شروع ہو گیا۔ لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات پر اگر کوئی فائل بنی تھی تو اس کا کوئی سراغ آج تک نہیں ملا، شاید تزویراتی گہرائی کے عمیق اندھیروں میں کہیں گم ہو گئی آج تک پتہ نہیں کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ قتل کے اصل ذمہ دار کون تھے؟ کچھ پتہ نہیں چل پایا۔

‎لیاقت علی خان کے قتل کے بعد آنے والی سول قیادت نے ملک کو سیاسی خلفشار سے دور رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی لیکن مضبوط سول اور ملٹری افسر شاہی کے گٹھ جوڑ نے یکے باد دیگرے حکومتوں کو کمزور کر کے معزول کیے جانے کا عمل شروع کر دیا جس نے پاکستان کی بنیاد میں دیمک کا گھر بنا لیا، نہ معاشی محاذ پر نہ ہی سیاسی میدان میں مضبوط حکمت عملی وضع ہو سکی اور بالآخر برطانیہ کے سندھرسٹ کالج سے تربیت یافتہ میجر جنرل اسکندر مرزا نے پہلے فوجی صدر کا عہدہ سنبھال لیا جس کے دور میں یکے بعد دیگرے چار وزرائے اعظم کی قانونی اور آئینی حکومتوں کو گھر بھیج کر ایک غیر موجود سیاسی بحران کو حقیقی بحران بنا ڈالا تاکہ فوج کے براہ راست اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار ہو سکے، حتی ’کہ 8 اکتوبر 1958 کو جمہوریت اور عوامی سول حکومت پر شب خون مارتے ہوئے خود اپنی حکومت کے سول وزیراعظم فیروز خان نون کو معزول کر کے میجر جنرل ایوب خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نامزد کر دیا اور یوں کسی بین الاقوامی سیاسی اور معاشی دھڑے بندی سے علیحدہ اور غیرجانبدار رہنے کی سیاسی کوششوں کو طویل عرصے کے لیے خاموش کر کے تزویراتی گہرائی، امریکہ اور مغرب کے سوویت مخالف ایجنڈے کا مضبوط حلیف بنا ڈالا۔

‎میجر جنرل اسکندر مرزا کی ناعاقبت اندیشی نے کچھ ہی روز میں رنگ دکھایا اور اپنے ہی مقرر کیے جنرل ایوب خان کے ہاتھوں اکتوبر 1958 کی 27 تاریخ کو بمشکل 20 روز صدر رہ کر معزول کر دیے گئے، ایوب حکومت نے جنرل اسکندر مرزا کو ایک طیارے میں سوار کر کے برطانیہ کے سفر پر روانہ کر دیا جہاں ملک بدری کے دوران آخری سانس تک کسمپرسی کی زندگی گزار کر موت سے ہمکنار ہوئے۔

‎جنرل ایوب نے مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ تیزرفتاری سے ملکی معاملات پر گرفت اور قرض مانگتے رہنے کی روایت کو مضبوط کیا اور اپنی مضبوط سیاسی حریف قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو اپنے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے راستے سے ہٹانے کے لیے غلیظ پروپیگنڈے، ریاستی مشینری سمیت تمام ہتھکنڈے استعمال کر کے 1965 کے عام انتخابات میں کھلی انتخابی دھاندلی کے ذریعے نتائج میں خرید و فروخت کا حربہ استعمال کر کے محترمہ کو جعلی شکست کے ذریعے اقتدار کی دوڑ سے باہر کر دیا۔

یہ انتہائی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ محترمہ کی مشرقی بازو میں مقبولیت آگے چل کر تزویراتی گہرائی کے پلان پر عملدرآمد میں رکاوٹ بن سکتی تھی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ محترمہ پر مسلم لیگ کی اندرونی دھڑے بندیوں نے 1951 سے ہی لیاقت حکومت کے دوران محترمہ کی تقریر ریڈیو سے نشر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی، جبکہ ملک کے مشرقی بازو میں محترمہ انتہائی مقبولیت رکھتی تھیں جہاں عوام کی رہنمائی کی ذمہ داری محترمہ نے آگے چل کر بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے ہاتھوں سونپ رکھی تھی جو محترمہ کی مسلم لیگ کے ہراول دستے اور پاکستان کی یکجہتی کے رہنما کی حیثیت میں پاکستان کے لیے جمہوریت اور عوام کے حقوق کی لڑائی میں ڈکٹیٹر شپ کے خلاف صف آراء تھے۔

‎جنرل ایوب خان کے تاریک دور میں حکومت پر باوردی محکمے کے مکمل اثر رسوخ نے افغانستان میں تزویراتی گہرائی کو اس قدر تیزرفتاری بخشی کہ ابھی تو ڈیورنڈ لائن ہی مسئلہ تھی کہ 50 کی دہائی میں جنرل ایوب خان افغانستان کو پاکستان میں ضم کر دینے کا منصوبہ لے کر افغانستان جا پہنچے جسے ابتدا میں ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن، افغانستان میں تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی پر عمل پیرا سرکاری محکمے نے اس پراجیکٹ کو شد و مد کے ساتھ جاری رکھا۔

‎آئی ایم ایف کے آگے پہلی مرتبہ قرض کا کشکول بھی ایوب حکومت نے 1958 میں بڑھایا جس کے بعد سے آج تک وقفے وقفے سے تئیس 23 مرتبہ آئی ایم ایف کی فرمائشی شرائط پر حاصل کردہ قرضوں کا طومار بندھا رہا ہے، ہر مرتبہ کی کڑی شرائط اور بہت کم قیمت پر ملنے والے ڈالر کی کسی صنعتی ترقی یا برامدات بڑھائے بغیر حصول نے قیام پاکستان کے 75 برس گزر جانے کے باوجود آج تک ایک روز کے لیے بھی معاشی طور پر مضبوط ریاست کی صورت اختیار نہیں کی۔

‎جنرل ایوب خان نے روز بروز کم ہوتی مقبولیت، جمہوری آزادیوں کے لیے بڑھتے ہوئے مطالبوں، تزویراتی گہرائی پر نظر مرکوز رکھنے اور بڑھتے بنیادی مسائل سے عوام کی نظر ہٹانے کے لیے ایک طرف ملک کے واحد برامدی پیداوار جوٹ کے مرکز مشرقی پاکستان میں تشدد کا استعمال بڑھایا تو دوسری طرف کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے نام سے انڈیا کے ساتھ جنگ چھیڑ ڈالی جس کا نتیجہ منفی اور انڈیا سے مصالحت پر مجبور ہونے کی صورت میں نکلا۔

‎بمشکل تین برس مزید اقتدار کا مشکل ترین دور گزار کر فوج کے اندرونی دباؤ پر ملٹری کمانڈر انچیف جنرل یحیی ’خان کو عنان حکومت سونپ کر مستعفی ہونا پڑا، اس بلاوجہ اور بلا سوچی سمجھی جنگ پر عوام کا کتنا سرمایہ جھونک ڈالا گیا، کیا کچھ تباہی کی نظر ہوا، کتنے سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا اور آخر میں کیا ہاتھ آیا سب خفیہ فائلوں کی نظر کر کے عوام کی نظروں سے اوجھل کر دیا گیا۔

‎جنرل یحیی ’خان نے ملک کے پہلے صاف و شفاف انتخابات ضرور کروائے لیکن مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت کے انتخابات میں فتح حاصل کرنے پر یحیی‘ خان اور مغربی پاکستان سے اکثریت حاصل کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو دونوں کے درمیان اقتدار مشرقی پاکستان سے اکثریت حاصل کرنے والی عوامی لیگ اور اس کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کے حوالے نہ کرنے پر اتفاق نے ایک پیج پر لا کھڑا کیا جس نے مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک کا آغاز کر دیا، نتیجے میں مغربی پاکستان کی فوجی قیادت نے ناکام فوجی آپریشن کیا جس نے تقریباً تیس لاکھ بے گناہ ہم وطنوں کی جانیں تلف کرنے کے بعد بالآخر ہتھیار ڈال کر جنگی قیدی بننا پسند کیا۔

بالآخر مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن پاکستان کا مطالبہ کرنے والی بنگالی اکثریت کو اپنی عوام سے زیادہ تزویراتی گہرائی میں دلچسپی رکھنے والی اقلیت سے جائز حقوق کے حصول کی جنگ لڑنا پڑی اور مجبوراً 26 مارچ 1971 کو اپنے لیے علیحدہ وطن بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کرنا پڑا جہاں شیخ مجیب الرحمان نے باوجود بے انتہا عوامی پذیرائی کے دوبارہ عام انتخابات کروا کر عوام سے رائے لینا ضروری جانا اور اکثریت حاصل کرنے پر وزارت عظمی ’کا قلمدان قبول کیا۔

‎بچے کھچے پاکستان کے اکثریتی رہنما جناب ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل یحیی ’خان نے کسی نئے انتخاب کو غیر ضروری جانتے ہوئے ملک کے پہلے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر کا عہدہ تھمایا اور ایک مشکل وقت میں عنان حکومت بھٹو صاحب کے سپرد کر کے خود مستعفی ہو گئے۔

‎بھٹو مرحوم کی حکومت نے تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی سے دور رہنے کے بجائے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ میں ایک باقاعدہ ”افغان سیل“ قائم کیا جس کے فرائض منصبی میں افغانستان کے اسلامی جہاد لڑنے والے گروہوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا اور کابل میں افغان حکومت پر اپنے اثر و رسوخ میں ہر ممکن اضافہ اور مداخلت کے ذریعے سردار داود کی افغان ریپبلکن حکومت کو کمزور کرنا تھا۔ افغانستان کے اسلامی جہادیوں کی مدد سے لے کر اندرون ملک سیاسی مخالفین کے مذہبی نعروں کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے بھٹو مرحوم پاکستان کے مستقبل پر گہرے نقوش ثبت کرنے والے مذہبی انتہا پسندانہ اقدامات کرتے رہے جن میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا، جمعہ کی تعطیل، معمولی نوعیت کے شراب خانوں پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

‎بھٹو حکومت ابھی ملک ٹوٹنے، جنگی قیدیوں کی واپسی اور ملک کو دوبارہ پاوں پر کھڑا کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھی کہ جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کو معزول کر کے مارشل لاء لگا دیا یوں حکومت کا کنٹرول سنبھال کر ملک کے ایک نئے تاریک دور کا آغاز کر دیا جس کے اثرات سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکا۔ جنرل ضیاء ایک جانا مانا اسلامسٹ تھا جس نے افغانستان کے اسلامی جہادیوں سے رسم و راہ بڑھانے میں تیزی پیدا کی۔

افغانستان کے پار بیٹھے سوویت یونین نے امریکی عزائم بھانپ لیے ، ایک مذہبی انتہا پسند کے پاکستان میں حکومت سنبھالنے کو افغانستان کے مستقبل کے لیے نامناسب تصور کیا، حتی ’کہ 1979 میں سوویت افواج کی لشکر کشی نے افغانستان میں کمیونسٹ حکومت قائم کر دی جس نے پاکستان میں موجود پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کی کھل کر حمایت کی۔ اس تبدیلی کو پاکستان کے لیے براہ راست خطرہ سمجھا گیا۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں بھٹو حکومت کی برطرفی کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو کو قید کر کے ایک بے بنیاد قتل کیس کی ابتدا کی، اعلی‘ عدالت نے حسب روایت انصاف کے بجائے ذاتی مفاد جنرل ضیاء کی ذاتی دلچسپی سمیت بھٹو صاحب کی عداوت میں پھانسی کی سزا سنا دی جس پر 4 اپریل 1979 کو عمل کر دیا گیا، یوں تزویراتی گہرائی لیاقت علی خان کے بعد دوسرے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی نگل گئی۔

جنرل ضیاء الحق پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اسلامی جہادیوں کی امداد میں اضافہ کرتا رہا۔ 1979 میں سوویت افواج کے افغانستان میں داخلے کے نے نا صرف ضیاء حکومت کے پاؤں جما دیے بلکہ افغانستان میں امریکی دلچسپی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا، ملک رفتہ رفتہ مذہبی شدت پسندوں کی آماجگاہ بنتا چلا گیا، امریکہ نے پاکستان کو بذریعہ ضیاء الحق افغانستان کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کے طور پر کھل کر استعمال کرنا شروع کر دیا، اب افغانستان کے طول و ارض میں اسلامی جہادیوں نے سوویت افواج اور حکومتی دفاتر پر کھل کر حملے کرنے شروع کر دیے اور یوں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان بذریعہ پاکستان ایک کھلی جنگ کا آغاز ہو گیا۔

ضیاء دور حکومت نے ایک جانب پاکستان میں امدادی ڈالر کی برسات سمیت کلاشنکوف اور ہیروئن فروشی اور اس کے استعمال کو عام بنایا تو دوسری جانب افغان جہادیوں کے ساتھ شانہ بشانہ گوریلا جنگ لڑنے کے لیے غیر ممالک سے اسلامی جہادیوں کو دعوت جہاد دے کر پاکستان کے راستے افغانستان میں طالع آزماؤں کے لیے ایک خالص سیاسی ٹکراؤ کو مذہبی رنگ دے کر جہاد لڑنے کی خاطر جھونکنا شروع کر دیا، یہیں سے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ اور داعش نے زور پکڑا، القاعدہ کی کمان باقاعدہ سعودی نژاد اسامہ بن لادن نے سنبھال رکھی تھی جس نے افغانستان اور پاکستان کے لیے ایک خوفناک مستقبل کی بنیاد رکھ دی۔

تزویراتی گہرائی کے شوق میں ملنے والی یہ سزا پاکستان اور اس کا عام شہری آج تک بھگت رہا ہے۔ ضیاء نے ملکی آئین سمیت کسی ادارے کو کمزور اور اپنے تابع بنانے کے کسی ہتھکنڈے سے گریز نہیں کیا اور یوں پاکستان تزویراتی گہرائی کے اندھیرے میں دھکیلا جاتا رہا۔ ملک جنرل ضیاء کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے ہوائی حادثے میں موت تک مسلسل زخمی ہوتا رہا۔

‎جنرل ضیاء کی موت کے بعد آنے والی بینظیر بھٹو اور نواز شریف حکومتوں نے افغانستان میں تزویراتی گہرائی کے منصوبے پر سابقہ حکومتوں کی طرح شد و مد سے عملدرآمد جاری رکھا۔ افغان جہادی لیڈرشپ پاکستان میں پناہ لیتی رہی، خصوصاً کراچی اور کوئٹہ اسلامی جہاد کے رہنماؤں کے لیے پناہ گاہ بنے رہے جہاں ہسپتالوں میں ان کی مفت نگہداشت حکومت پاکستان نے اپنے ذمہ لیے رکھی۔

‎ 1988 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی بینظیر بھٹو کی حکومت کو تین برس سے کم عرصہ میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے ضیاء کے مارشل لاء دور میں کی گئی ( 58 ) 2۔ B کی آئینی ترمیم کا سہارا لیتے ہوئے اگست 1990 میں ختم کر ڈالا جس نے ملک میں مزید سیاسی اور معاشی بحران کو گہرا کر دیا۔ ضیاء الحق کی موت کے بعد سے آج تک کوئی وزیراعظم اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کر سکا، ہر وزیراعظم کسی نہ کسی بہانے سے اپنی مدت پوری کیے بغیر فارغ کیا جاتا رہا جس کا براہ راست خمیازہ ملک کی معیشت اور سیاسی استحکام کو ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

‎ 1996 میں ایک جانب بینظیر حکومت، ان کے وزیرداخلہ نصیراللہ بابر اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی تزویراتی گہرائی پالیسی پر شبانہ روز محنت سے طالبان کابل میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے تو دوسری جانب پاکستان میں بینظیر حکومت کو ان کی اپنی پارٹی کے بانی رکن اور اس وقت کے صدر سردار فاروق لغاری جنرل ضیاء دور کی ( 58 ) 2 B کی غیر جمہوری ترمیم کے ذریعے بینظیر کی منتخب حکومت کے خاتمے کا پیغام دے رہے تھے کہ کہیں کابل طالبان کے ہاتھوں آ جانے کی کامیابی اسٹیبلشمنٹ کے بجائے بینظیر حکومت کے ہاتھ نا لگ جائے، یوں بینظیر کی منتخب حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کیے بغیر ختم کر دی گئی۔

‎جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کا لگ بھگ گیارہ سالہ دور گزرنے کے بعد عام انتخابات ضرور ہوئے لیکن منتخب ہونے والی حکومتوں کے ساتھ پچاس کی دہائی میں روا رکھا جانے والا سلسلہ بدستور جاری رہا اور کسی حکومت کو مدت پوری کیے بغیر آئین میں جنرل ضیاء کی ترمیم کا سہارا لے کر برخواست کیا جاتا رہا حتی ’کہ 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے جنرل ایوب اور جنرل ضیاء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نواز شریف کی حکومت پر قبضہ کر کے ملک کو ایک مرتبہ پھر سیاسی عدم استحکام سے دوچار کر دیا، منتخب وزیراعظم کو ایک طیارے میں بٹھا کر اگلے دس برس کے لیے جلا وطن کر دیا، لیکن یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں 1998 سے بے بنیاد مقدموں کا طومار باندھ کر اپنی سیاسی مخالف سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو جلا وطنی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا جو کسی طور بھی ملک کی سیاسی فضاء کے لیے انتہائی نامناسب بات تھی۔ اس بات کا احساس نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں دس سالہ جبری جلاوطنی کی سزا حاصل ہونے کے بعد ہوا جو بالآخر لندن میں ہونے والی میثاق جمہوریت کی صورت میں ظاہر ہوا، اس میثاق کے مثبت نتائج آج بھی قوم اور ملک کے لیے اچھے مستقبل کی نوید دیتے نظر آتے ہیں۔

‎افغانستان میں تزویراتی گہرائی میں غیر ملکی جہادیوں کی شمولیت کے ناعاقبت اندیش فیصلوں نے آخر کار اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف کے اچانک اور بلا سوچے سمجھے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر افغان پالیسی پر یو ٹرن نے اپنے ہی مسلح اور تربیت یافتہ جنگجو جہادیوں کے قہر و غصب کا سامنا کرنا پڑا جس میں تقریباً ایک لاکھ پاکستانی شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ پرویز مشرف کے غیر اعلانیہ مارشل لاء کے دوران 9 ستمبر 2001 کو خودکش بمباروں نے عام مسافر طیارے اغوا کر کے نیویارک امریکہ کے ٹوئن ٹاورز سمیت کئی امریکی شہروں میں تنصیبات کو نشانہ بنا کر مسافر طیارے ٹکرا دیے جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ شہری موت کی نیند سو گئے۔

‎امریکہ جس نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان کو اپنے مفادات کے حصول کی خاطر ہر اول دستے کا کردار سونپ رکھا تھا 9 / 11 کی تحقیقات کے نتیجے میں سراغ افغانستان کی القاعدہ سے ملنے پر 180 ڈگری کے زاویے سے رخ بدل کر سخت ترین مخالفانہ رویہ اختیار کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ بش انتظامیہ نے جنرل پرویز مشرف کو افغان اور پاکستانی جہادیوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات پر احکامات دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا ”تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے مخالف“ ۔

تزویراتی گہرائی کے ماسٹر مائنڈ امریکی انتظامیہ کا اشارہ اتنا صاف اور اس قدر تحکمانہ تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے فوری طور پر کچھ سوچے سمجھے بغیر آمنا صدقنا کہتے ہوئے اپنے تیار کردہ طالبان اور دیگر جہادی گروہوں سے پیٹھ موڑ لی، افغانستان پر امریکی لڑاکا طیاروں کی بمباری نے افغانستان کے کونے کونے کو نشانہ بنایا، بھاگ کر پاکستان میں پناہ کے لیے آنے والے گروہوں کو بھی سابقہ سہولیات کے بجائے گرفتاریوں اور امریکہ حوالگی کا سامنا کرنا پڑا، یوں طالبانی جتھوں اور دیگر افغانی جہادیوں میں پاکستان کی مخالفت زور پکڑ گئی، پاکستان کے اندر قبائلی علاقوں میں پناہ لینے والے جہادیوں پر پاکستان اور امریکہ نے بے تحاشا آپریشنز کر کے ایک پاکستان مخالف اور انتہائی دشمن جہادی دھڑا بنانے پر مجبور کر دیا جسے سب ٹی ٹی پی یا تحریک طالبان پاکستان کے نام سے جانتے ہیں۔

اس نئی تنظیم نے پاکستان میں دہشت گرد حملے کر کے بے گناہ شہریوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے، اب تک تقریباً ایک لاکھ عام پاکستانی اس جنگ کی نظر ہو چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں فوجی جوانوں کی دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہادت ہو چکی ہے۔ تزویراتی گہرائی کے بدترین اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس اندرونی خلفشار میں کسی غیرملکی فوج سے لڑے بغیر جہادیوں کے ہاتھوں کم از کم تین آرمی جنرلز نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ جہادیوں کی وحشیانہ کارروائیوں نے پشاور میں اسکول کے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا اور ایک ہی کارروائی میں ڈیڑھ سو ( 150 ) سے زائد بے گناہ معصوم بچے اور اساتذہ ان کی وحشیانہ کارروائی کا شکار ہو کر جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔

‎بظاہر مذہبی شدت پسندی سے دور ہونے کا پیغام دینے کے باوجود درون خانہ افغانستان میں طالبان اور جہادی گروہوں کی مدد جاری رہی، اب انہیں اچھے طالبان اور برے طالبان کے القاب سے جانا جانے لگا، اس کے باوجود در پردہ سب جہادی متفق تھے کہ پاکستان ہمیشہ دشمن تھا اور آج بھی ہے۔ نہ جنرل پرویز مشرف افغان جہادیوں کے حملوں سے محفوظ رہ سکا نہ بے گناہ شہری نا معصوم بچے۔ جنرل پرویز مشرف پر وردی اتارنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا اور بالآخر 8 برس گزر جانے کے بعد زندگی کو کھلے عام دھمکیوں کی موجودگی میں نڈر، بہادر اور بیباک بینظیر بھٹو نے ہر خطرے کی پرواہ کیے بغیر اپنی جلا وطنی ختم کر کے پاکستان واپس آ کر شہر شہر عوامی اجتماعات سے خطاب شروع کر دیے۔

‎بینظیر کی پاکستان آمد کو جہادیوں اور ان کے مددگاروں نے قبول نہیں کیا۔ بینظیر کو مسلسل مطلع کیا جاتا رہا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، کراچی میں آمد کے روز ہی زبردست دھماکوں نے استقبال کر کے ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کی جس میں درجنوں افراد کی جانیں گئیں لیکن بینظیر اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں، جن لوگوں سے جان کو خطرات لاحق تھے وضاحت سے نام لے کر بتا دیے یہاں تک کہ 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے جلسہ عام سے خطاب کر کے واپسی پر انتہاء پسند جہادیوں کے حملے کا شکار ہوئیں اور تزویراتی گہرائی کے عشق میں مبتلا ملک کا ایک جوہر نایاب دیگر داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے معصوم شہید شہریوں کی صف سے جا ملیں۔

‎تزویراتی گہرائی کے اس گہرے گھاؤ کی خبر ملک کے طول و ارض میں آگ کی طرح پھیل گئی خصوصاً سندھ باقاعدہ آگ کے شعلوں میں لپٹ گیا، ہر طرف بسوں ٹرک گاڑیوں پیٹرول پمپس اور بازاروں کو آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے کر راکھ کر ڈالا متعدد افراد جنونی گروہوں کے ہاتھوں موت کی نیند سلا دیے گئے، مہینوں راکھ سمیٹنے میں لگ گئے۔

‎بینظیر بھٹو کی شہادت نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے پاؤں اکھیڑ پھینکے، وردی اتارنی پڑی نئے انتخابات کی راہ کھلی اور پہلی مرتبہ ایک جنرل کو جلا وطنی اختیار کرنی پڑی، سپریم کورٹ کی قائم کردہ خصوصی عدالت نے جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی قدم کو آئین میں دی گئی شق 6 کے مطابق سزائے موت سنائی، نئے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ایک مرتبہ پھر معاشی بحران، سیاسی ہلچل اور تزویراتی گہرائی کے اثرات کے نتیجے میں جاری دہشت گردی کے زیراثر حکومت بنانے کا موقع ملا، پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو حسب سابق مدت سے پہلے اب ایک نئے حریف سپریم کورٹ کے غضب کا سامنا کرتے ہوئے برخواست کر دیا گیا، حکومت نے پہلی مرتبہ پانچ سال انتہائی مشکل وقت گزار کر کامیابی سے پورے کیے، ان پانچ برسوں میں 18 ویں ترمیم کا انتہائی اہم قدم اٹھا کر B 2۔ ( 58 ) کی لعنت سے ملک کی جان چھڑائی گئی، 2013 کے انتخابات میں ن۔ لیگ نے کامیابی حاصل کی لیکن حسب سابق 2017 میں بیٹے سے تنخواہ وصولی کے ایک قیاس کی بنیاد پر وزارت عظمی ’کے پانچ برس پورے کیے بغیر سپریم کورٹ کے ہاتھوں گھر بھیج دیے گئے، 58۔ 2 B کا کام اب سپریم کورٹ نے ادا کرنا شروع کر دیا۔

‎ن۔ لیگ کی حکومت نے میعاد پوری کی لیکن نواز شریف وزارت عظمی ’کے پانچ برس پورے کیے بغیر گھر بھیج دیے گئے، عدالت عظمی‘ نے اپنے اختیارات ضیاء کی 58۔ 2 B کی مانند استعمال کرنا شروع کر کے اپنی تاریخ کو دہرایا جس نے سیاسی اور معاشی دونوں محاذ سے پاکستان کو پیچھے دھکیل دیا، 2018 کے عام انتخابات میں کنٹینر پر چڑھے فضول احتجاج کرتے عمران خان کو اتار کر وزیراعظم بنا دیا گیا جس میں بیلٹ سے زیادہ آر ٹی ایس سسٹم کے ناکارہ بنائے جانے کا ہاتھ بتایا جاتا ہے، عمران نے انتخابات سے پہلے ہی طالبان خان کے نام سے شہرت اختیار کر کے تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کروا دی تھی، لیکن، عمران کو وزیراعظم بنانے میں بیلٹ باکس کے بجائے آر ٹی ایس پر اعتماد کرنے والوں کو کف افسوس ملنا پڑا جبکہ وزارت عظمی ’کا قلمدان سنبھالنے کے بعد کرکٹ کے کپتان نے ملک کو بھی کرکٹ ٹیم سمجھ کر ہانکنا شروع کیا اور کچھ ہی روز میں محکمے کو احساس دلا دیا کہ جس پر تکیہ کیا وہ تیز رفتار گھوڑا نہیں ہے، مجبوری کا یہ عالم ہو گیا کہ 10 اپریل 2022 کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اس تجربے سے جان چھڑا لی گئی۔

عمران کے غیر سیاسی ہونے کا نقصان خود عمران کی جماعت پی ٹی آئی کو اس وقت اٹھانا پڑا جب عمران نے حسب عادت کچھ سوچے سمجھے بغیر قومی اسمبلی سے اپنے ممبران سے استعفے جمع کروا دیے، تزویراتی گہرائی ایک نیا منہ پھاڑتا سیاسی اور معاشی بحران لے کر عوام پر ٹوٹ پڑا، زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک نیچے گر گئے اور آئی ایم ایف نے پیشگی خطرناک شرائط پوری کیے بغیر مدد کرنے سے انکار کر کے ڈیفالٹ کے خوفناک اسٹیج پر لا کھڑا کیا ہے۔

‎عمران حکومت کے بعد سے اب تک عمران حکومت کی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم حکومت میں ہے، سیاسی بحران ٹلنے کا نام نہیں لے رہا، معیشت زمین بوس ہے، مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے، ملک میں دہشت گردوں کے وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں، متعدد آپریشنز مثلاً رد الفساد یہ بتاتے رہے ہیں کہ دشمن کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن دہشت گرد پھر نمودار ہو کارروائی کرتے ہیں، یا مارے جاتے ہیں یا مار کر چھپ جاتے ہیں۔

‎تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی نے افغانستان میں اپنے تمام ممکنہ وسائل سے مدد کر کے طالبان حکومت قائم کرنے کا دعوی ’ضرور کیا لیکن افغانستان میں دوست نا بنا پائے۔

‎خلقی طور پر ناہموار معیشت اور بتدریج طاقتور ہوتے محکموں نے سیاسی استحکام پیدا کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی سول حکومتوں کو تسلسل سے ناکام ظاہر کر کے تزویراتی گہرائی کی بے بصیرت سوچ نے پاکستان کو 1956 کے بعد سے نسبتاً تیزرفتاری کے ساتھ قرضوں کی عمیق گہرائی میں دھکیلنا شروع کر دیا۔ تیزرفتاری سے کم ہوتے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر، افراط زر کا نہ تھمنے والا طوفان، مہنگائی کا عفریت، دن دونی رات چوگنی بڑھتی بے روزگاری، بنیادی ضروریات کی کمیابی اور کسی معقول صنعتی ڈھانچے کی عدم موجودگی کے باعث معیشت میں درآمدات کے مقابلے میں برامدات کا نصف سے بھی کم نے پاکستان کو غیر علانیہ ناکام ریاستوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ افغانستان میں امیر عبدالرحمان کے بعد آنے والی کسی حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو کبھی تسلیم نہیں کیا، حتی ’کہ پاکستان کی تمامتر مالی، اخلاقی اور عسکری مدد سے قائم ہونے والی طالبان حکومت بھی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کو قطعی تیار نہیں ہے۔

‎فوج کی جانب سے تزویراتی گہرائی کے حصول کے نہ صرف انتظام کرنے کے طریقوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں بلکہ اس نے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں رہنے والے بلوچ پاکستانیوں کے لیے ریاست کی پالیسیوں اور نسلی پشتونوں کے ساتھ تعلقات کو بھی گہرائی سے تشکیل دیا ہے۔ جس کی سرحدیں افغانستان (نیز ایران) سے ملتی ہیں۔

‎تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی سے کنارہ کشی، معیشت کو جلا بخشنے کے لیے انڈیا کے ساتھ دوستی اور معمول کے تجارتی تعلقات ملک کی اشد ضرورت ہیں جس کے ثمرات صرف پاکستان کی عوام ہی نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی استحکام کے نتیجے میں افغانستان کو بھی منتقل ہو سکتے ہیں جن سے تعلقات مضبوط ہوں گے۔ چین اور انڈیا میں سرحدی تنازع پاکستان کے قیام سے پہلے کا ہے لیکن شدید تناؤ کے باوجود دونوں ملکوں میں 100 سو بلین ڈالر کے لگ بھگ تجارت جاری ہے جس میں اضافہ یقینی ہے، امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان سمیت متعدد معاملات میں تنازعات ہیں لیکن اس کے باوجود باہمی تجارت کا حجم 600 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ پاکستان کے لیے اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کا اس سے بہتر اور اس سے زیادہ خطرناک وقت کوئی اور نہیں ہے، اپنے پاوں پر جم کر کھڑا ہونے کے لیے تزویراتی گہرائی کی حکمت عملی پر فی الفور نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ معیشت مضبوط بنیاد پر کھڑی ہو اور اس حکمت عملی کے نتیجے میں جاری مسلسل سیاسی بحرانوں کا خاتمہ ہو سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments