بوسنیا کی چشم دید کہانی (39)

15 دسمبر کو ہمارا الحاق موسطار کے ساتھ ہو گیا۔ اسی روز میں اتفاق سے کسی سرکاری کام کے سلسلے میں ہیڈ کوارٹر گیا۔ اب موسطار میں بین الاقوامی پولیس کے تمام دفاتر اس کے مشرقی حصہ میں واقع ایک بڑی عمارت میں منتقل ہو چکے تھے۔ اس عمارت کی مکمل طور پر تزئین نو کی گئی تھی۔ اس کی سج دھج یو این کے ریجنل ہیڈ کوارٹر کے شایان شان تھی۔ اس عمارت میں ایک چھوٹا مگر خوب صورت سا کیفے بار بھی بنایا گیا تھا جس کا انتظام ایک مقامی مسلمان کے پاس تھا۔
میں کام سے فارغ ہونے کے بعد اس کیفے بار میں آ گیا۔ مسلمان علاقوں میں قائم کیفے باروں میں سبز قہوہ بھی ملتا تھا جسے مقامی زبان میں چائے کہا جاتا تھا۔ میں نے قہوہ پیا اور جب کیفے بار سے نکلتے ہوئے کاؤنٹر پر پیسے ادا کرنے کے لیے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہاں موجود شخص نے بتایا کہ آج چونکہ اس کیفے بار کا افتتاح ہوا ہے لہٰذا آج گاہکوں کو چائے، کافی اور مشروبات بلا معاوضہ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مجھے اس انکشاف نے حیران کر دیا۔
اس حیرت کی اصل وجہ ماضی کا ایک واقعہ تھا جو ہمارے دوست راجہ عبدالقیوم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ان کے بقول ایک دفعہ انھیں کسی کام سے لاہور جانا پڑا۔ اسٹیشن پر بس سے اترنے کے بعد انھوں نے کسی ایسے ہوٹل کی تلاش شروع کی جہاں قیام و طعام کے اخراجات حسب حیثیت ہوں۔ منور نامی ہوٹل کی ظاہری صورت کو اپنی ”کاٹھی“ کے مطابق پا کر وہ اس میں داخل ہوئے اور قیام و طعام کے اخراجات کے بارے میں استفسار کیا۔ ان کی حیرت کی اس وقت کوئی انتہا نہ رہی جب انھیں یہ بتایا گیا کہ آج نئی انتظامیہ کے ساتھ اس ہوٹل کا افتتاح ہوا ہے اور آج یہاں ٹھہرنے والا ہر شخص ہمارا مہمان ہو گا۔ راجہ قیوم اگرچہ خود بھی شعر کہتے ہیں لیکن اس موقع پر ان کے بقول خود کوئی شعر موزوں کرنے کے بجائے انہوں نے ایک سینئر شاعر کا یہ شعر گنگنایا
کھلتے نہیں ہیں روز دریچے بہار کے
آتی ہے جان من یہ قیامت کبھی کبھی
اور منور ہوٹل کی نئی انتظامیہ کے مہمان بن گئے۔ راجہ صاحب کے ساتھ یہ واقعہ کوئی دس سال قبل پیش آیا تھا۔ ہم دوستوں نے ان سے تفریح طبع کی خاطر یہ واقعہ کئی بار سنا تھا اور ہر بار اسے حقیقی ماننے سے انکار کرتے رہے۔
15 دسمبر 1997 ء کو جب موسطار کے اس کیفے بار میں منور ہوٹل والا واقعہ اپنے ساتھ پیش آیا تو میں نے اسی شام شفیق، خلیل اور ظفر کو خط لکھ کر اس عجیب و غریب اتفاق سے آگاہ کیا۔ میرا خیال تھا کہ میری طرح اپنی ہٹ دھرمی پر وہ بھی اب ندامت محسوس کریں گے لیکن میرا خیال غلط ثابت ہوا۔ انھوں نے راجہ صاحب کے واقعے کی طرح میرے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو بھی سچ ماننے سے انکار کر دیا۔ پاکستان لوٹنے کے بعد میں نے راجہ صاحب کو بتایا کہ آپ کا منور ہوٹل والا واقعہ میری کتاب میں شامل ہو گا۔ بولے جس دن یہ واقعہ پیش آیا تھا مجھے اسی دن سے یہ یقین تھا کہ اس کی ادبی حیثیت مسلم ہے۔
دسمبر کا مہینہ ہماری ترجمانوں پر بہت بھاری تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع اس ماہ کے دوران اسٹیشن کمانڈر کی سفارش پر ہونا تھی۔ ایڈی اور ڈورنگ کی شکایت پر بل نے کرس کو لیجا کی ملازمت موقوف کرنے پر پہلے ہی رضا مند کر لیا تھا۔ دسمبر کے آخری ہفتے میں یہ خفیہ ہدایت موصول ہوئی کہ سٹولک میں ترجمانوں کی تعداد آٹھ سے کم کر کے چھ کرنی ہے لہٰذا ایسی دو ترجمانوں کے نام بھیجے جائیں جن کا کام تسلی بخش نہ ہو۔ لیجا کے بارے میں تو پہلے ہی فیصلہ کیا جا چکا تھا۔ دوسری بد نصیب کے طور پر ویسنا کو چنا گیا۔
یہ ایک حقیقت تھی کہ اہلیت کی بنیاد پر ترجمانوں میں لیپا کے بعد ویسنا ہی کا نمبر تھا لیکن وہ ایک ایسی لڑکی تھی جس کا مزاج نہ تو نوکری کے لیے موزوں تھا اور نہ عشق کے لیے۔ وہ چڑچڑی طبیعت کی مالک تھی۔ بعض اوقات اسٹیشن کمانڈر کو بھی کھلے عام تنقید کا نشانہ بنانے سے نہ جھجکتی تھی۔ کرس ایک تو کم زور شخص تھا، دوسرے کسی کو ضرر پہنچانا اس کی فطرت کے منافی تھا۔ لہٰذا وہ اکثر انجان بنے رہنے کو ترجیح دیتا تھا۔
ویسنا کے خلاف چونکہ کچھ مانیٹروں کو بھی غیر شائستہ رویے کی شکایات تھیں لہٰذا اس مرحلے پر اس کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کرنا کرس کے لیے ممکن نہ رہا۔ جس دن لیجا اور ویسنا کو اپنی نوکری ختم ہونے کی اطلاع ملی اس روز دونوں کی شام کی شفٹ میں ڈیوٹی تھی۔ لیجا نے تو یہ خبر سنتے ہی رونا شروع کر دیا۔ وہ پوری ڈیوٹی کے دوران اسٹیشن پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی لیکن ویسنا نہ تو روئی اور نہ ہی کوئی احتجاج کیا۔ اس نے اس شام اپنی ڈیوٹی حسب معمول سر انجام دی۔
رات کو ڈیوٹی ختم ہونے سے قبل اس نے ریجنل کمانڈر کے نام کمپیوٹر پر ایک خط ٹائپ کیا جس میں سیکا اور میرا کو خوب لتاڑا۔ لگتا تھا کہ بعد میں اس نے وہ خط ریجنل کمانڈر تک نہیں پہنچایا۔ کیوں کہ ہیڈ کوارٹر سے اس بارے میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تھا۔ لیجا ملازمت ختم ہونے کے بعد دوبارہ اس کے حصول کی کوشش کرتی رہی لیکن ویسنا نے یہاں بھی اپنی کج کلاہی قائم رکھی اور پھر یو این کے کسی بھی دفتر میں وہ کبھی بھی نہیں دیکھی گئی۔
ابھی تک میرا خیال تھا کہ تمام عیسائی 25 دسمبر کو کرسمس کا تہوار اسی طرح مناتے ہیں جس طرح عیدالفطر یا عیدالاضحیٰ کے تہوار تمام مسلمان بلا تفریق مسلک ایک ہی دن مناتے ہیں۔ میرے لیے یہ بات کسی انکشاف سے کم نہ تھی کہ ایسا ہرگز نہیں۔ 25 دسمبر کا کرسمس کا تہوار صرف کیتھولک فرقہ کے پیروکاروں کا تہوار ہے جب کہ آرتھوڈکس عیسائی یہ تہوار 7 جنوری کو مناتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ صرف کروایٹوں کا تہوار تھا اور سربوں کے لیے ایک عام سا دن۔
یہی نہیں بلکہ بعد کی معلومات کے مطابق جب کیتھولک اور آرتھوڈکس عیسائیوں کے اس طرح کے اختلافات کے کئی اور گوشے سامنے آئے تو پتہ چلا کہ نہ صرف ان کی کرسمس جدا جدا ہے بلکہ کئی اور مذہبی تہواروں میں بھی ان میں تفریق پائی جاتی ہے۔ ان اختلافات کی نشان دہی کرتے ہوئے جب کوئی مجھ سے شیعہ سنی تفریق کے حوالے سے اختلافی پہلوؤں کی نشان دہی چاہتا تھا تو مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں کیا جواب دوں۔ یہاں مجھے بنیادی عقائد سے لے کر تہواروں تک اختلاف کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔
یوں میرے پاس سائل کو مطمئن کرنے کے لیے ڈھنگ کا کوئی جواب نہ ہوتا تھا اور میں یوں لاجواب ہونے پر یہ سوچتا رہ جاتا تھا کہ یہی سوال ہم میں سے ہر کوئی اپنے آپ سے کیوں نہیں پوچھتا۔ ایک اور بات جو میرے لیے تو معمول کا درجہ رکھتی تھی لیکن گوروں کے لیے انتہائی حیرت کا باعث تھی، وہ مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا مشترکہ ہدیہ تہنیت ”السلام علیکم“ تھا۔ بہت سے گوروں کے علم میں یہ بات پہلی مرتبہ آئی تھی کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک دوسرے کو ملنے پر صرف اور صرف السلام علیکم کہتے ہیں۔
بہت سے سربوں اور کروایٹوں کے لیے یہ بات حیرت کا باعث تھی کہ بوسنیا کے مسلمانوں کی طرح ہر مسلمان ایک دوسرے کو ملنے پر السلام علیکم ہی کہتا ہے۔ ان کے لیے اسلام کی یہ آفاقیت حیران کن تھی۔ لیپا نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا کہ اس کے لیے یہ بات کسی معمہ سے کم نہیں کہ وہ مسلمان جو صدیوں سے ہمارے درمیان رہا، ہماری زبان بولتا ہے، ہم جیسا رہن سہن رکھتا ہے، لیکن وہ ہم سے وہ قربت محسوس نہیں کرتا جو وہ اپنے وطن کی سرحدوں سے باہر کوسوں دور بسنے والے ان لوگوں سے رکھتا ہے جو یوں تو ہر لحاظ سے اس کے لیے اجنبی ہیں لیکن اس کے ہم مذہب ہیں۔
بوسنیا کے مسلمانوں کی طرف سے اس ”قرابت داری“ کا مظاہرہ اکثر مشاہدے میں آتا رہتا تھا۔ شروع شروع میں ایک مرتبہ میں سرائیوو کے ایک بازار میں باوردی گھوم رہا تھا۔ میں جب ایک دکان کے سامنے سے گزر رہا تھا تو دکان دار کی نظر میرے سرحد پولیس کے نشان بازو پر بنے ہوئے ہلال پر پڑی۔ اس نے آواز دے کر میری توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ اپنی قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر لاکٹ باہر نکالا اور پھر اس پر بنا ہوا ہلال کا نشان مجھے لہرا کر دکھایا۔ اس وردی کے نشان بازو پر بنے ہوئے ہلال کی وجہ سے میرا تعارف سرائیوو کے مرکزی بازار باش چارشیہ میں چمڑے کی مصنوعات کا کاروبار کرنے والے ایک بزرگ مسلمان محمد غنی سے ہوا تھا اور وہ مجھے ہر ملاقات پر اسلامی اخوت کے موضوع پر آیات قرآنی سنایا کرتا تھا۔ اسی ہلال کے بارے میں ایڈی گرین نے مجھ سے پوچھا تھا
کیا نشان ہلال مسلمانوں کے آدھی دنیا پر حکومت قائم کرنے کے ارادوں کی غمازی کرتا ہے؟
یہ ایک روایتی نشان ہے۔ جس کا مسلمانوں کے سیاسی عزائم سے کوئی تعلق نہیں۔ ویسے اپنی سرحدوں سے باہر تک حکومت کا عزم چاہے مسلمان رکھیں یا کوئی اور پھر یہ آدھی دنیا تک محدود نہیں ہوتا اس کا نشانہ پوری دنیا ہوتی ہے اور اس حقیقت کو ایک امریکی سے بہتر بھلا کون جان سکتا۔

