مکتوب مرنجاں مرنج برائے شفا


یقین جانیں کچھ عرصے سے حرکتِ قلب میں عجیب گڑ بڑ سی محسوس ہو رہی، دھڑکنیں رک رک سی جاتی ہیں آنکھیں پانیوں سے لبالب بھر جاتی ہیں، رخساروں پہ تمازت اور سانسوں میں تیزی کی کیفیت ہوتی ہے، روشنی اور اندھیروں کا توازن برقرار نہیں رہتا اور راتوں کو ‘مجھے نیند نا آ ئے ، چین نا آ ئے’ والی حالت ہے ، خدارا نظر کرم کریں، کسی کام میں دل نہیں لگتا بس آپکو دیکھتے ہی خیال آتا ہے کہ آپ سے بات کروں اور آپکو یہ سب لکھوں ، مگر بھول جاتا ہوں، کسی اور دن کے لئے خود کو ٹال دیتا ہوں۔ اسی کشمکش میں ایک سال گزر گیا مگر اب کی بار فیصلہ کیا ہے امسال یہ تجاہل عارفانہ نہیں چلے گا۔

پہلے مزاج میں کچھ توازن تھا اب یہ بھی ممکن نہیں رہا، اٹھتے بیٹھتے یہی خیال آتا ہے کہ آپ سے بات کی جائے اور معاملات کو آگے بڑھایا جائے ۔ ایسا کب تک چلے گا ؟ آج کل تو لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے اور ‘چلتے چلتے یونہی کھو جاتا ہوں میں’ والی کیفیت ہے، ایسے حالات میں بات تو کرنی ہوگی، خاموشی مسئلے کا حل نہیں ہے، مجھے پہل کرنے ہی ہوگی ایسا نہ ہو کے زندگی کے گھڑیال کا سارا وقت مٹھی میں رکھی ریت کی طرح پھسل جاے اور بعد میں آپ انکار کر دیں۔

آپکو یاد ہوگا فروری میں آپ سے بالمشافہ ملاقات ہوئی ، اور بات کرنی بھی چاہی پر آپ نے کچھ اور انتظار کا کہہ کر خاموش کرا دیا، آپکو کیا بتاتا کہ کتنی شدت اور خواہش سے عرض گزار کرنا چاہتا تھا۔ پر شاید آپ بھی مجبور تھیں۔ ورنہ کہاں ایسا تغافل کرتیں؟ بس یہی سوچ کر خاموش ہو گیا اور پچھلے کئی بار کی طرح پھر کبھی سہی کا سوچ کر چلا آیا ۔

آج آپ نے پہل کر ہی دی اور لکھنے کا کہہ دیا، تو اب یہ موقع ضایع نہیں کر سکتا اور لکھ رہا ہوں، امید ہے آپ توجہ سے پڑھیں گی اور میری توقعات پر پورا اتریں گی، آپ سے نیکی اور اچھائی کا گماں ہے اور یقین کامل ہے آپ شکریہ کا بھرپور موقع دیں گیں، آپ کہیں گی تو بالمشافہ ملاقات کے لئے حاضر ہو جاؤں گا۔ اور معاملات کو رسمی و روایتی طریقے سے سر انجام دے دیں گے۔

تو بس محترمہ آنسہ منیجر بہبود و فلاح  برآے ملازمین، عرض ہے کہ بندہ کو صحت کی بیمہ پالیسی میں داخل کیا جائے، تاکہ عمر رسیدگی اور مہنگائی کے اس دور میں ادوایات اور اسپتالوں کے اخراجات سے بچا جا سکے، اور سرکاری و نجی اسپتالوں میں تسلی سے علاج کرایا جا سکے۔ بندے کو بلند فشارخون اور بے خوابی کے مرض کا شائبہ ہے، اور یہ موے بخار، نزلہ وزکام تو جیسے لڑکپن کے عشق کی طرح ہیں، ہر روز ہو جانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ مزید برآں  پیرانہ سالی کی بھی بس آمد ہی ہے بدیسی برگر، اطالوی پیزے اور کولا کے اثرات واضح ہیں ، ورزش کی کوشش کی تو جسم نے کچھ یوں جواب دیا ۔۔۔

عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنٓ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

یہ تھوڑا کہا زیادہ جانیں اور ہمارا نام صحت کی بیمہ پالیسی میں داخل کریں ۔

آپکا بہت بہت شکریہ

Facebook Comments HS