30 سالہ جرمنی جنگ اور 1648 ویسٹ فیلیا امن معاہدہ


قرون وسطی کے اوائل ادوار ( 500 تا 1300 ) میں رومن کیھتولک چرچ مغربی یورپ میں سب سے مستحکم اور با اثر ادارہ تھا۔ جو وہاں کے تمام پہلووں ( مذہب۔ سماج سیاست) پر حاوی تھا۔

آخری دور وسطی ( 14 ویں اور 15 ویں صدی ) میں اگرچہ کئی چیلنجوں اور مسائل کے باعث چرچ کا روایتی اثر و رسوخ اور مطلق اتھارٹی میں کمی آ گئی تھی مگر اس کو سب سے بڑے بحران کا سامنا 16 ویں صدی کی دوسری دہائی میں کرنا پڑا۔ جب 1517 میں چرچ کے ایک جرمن راہب اور مذہبی مصلح ”مارٹن لوتھر“ کا اصلاح کی غرض سے چرچ کے بعض تعلیمات اور رسومات پر تنقید سے ریفارمیشن ( تحریک اصلاح کلیسا) کا آغاز ہوا

جس کے نتیجے میں مغربی یورپ کا مذہبی اتحاد ٹوٹ گیا۔ اس تحریک کے مغربی یورپ پر مختلف ( مذہبی، سیاسی، سماجی اور فکری ) اثرات پڑے۔ چرچ کی تقسیم ہو گئی۔ کیتھولک چرچ کے مخالفین پروٹسٹنٹ کہلائے۔ ان گروہوں کے مابین اگرچہ کچھ فروعی اختلافات تھے جن کی مناسبت سے بعض ”لوتھرئن“ اور بعض ”کالونیسٹ“ اور انگلوسٹ ”کے نام سے جائے جانے لگے“ مگر پوپ کے عہدے اور کیتھولک چرچ کے بعض عقائد اور رسومات سے انکار اور نجات کا انحصار خدا پر عقیدے اور صرف بائبل ہی کو خدا کی تعلیمات کا واحد ذریعہ سمجھنے کے نکات پر ان سارے پروٹسٹنٹ فرقوں کا باہمی اتفاق تھا۔

مغربی یورپ کے ممالک بھی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ میں تقسیم ہو گئے بیشتر شمالی یورپ ( انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، نیدر لینڈ، سویڈن، ڈنمارک، ناروے اور بہت ساری جرمنوں۔ ریاستوں ) میں پروٹسٹنٹ مسلک پھیل گیا جبکہ جنوبی یورپ کے ممالک میں کیتھولک مذہب غالب رہا

اس کا ایک نتیجہ یورپ میں ایک صدی تک مذہبی جنگوں کی صورت میں نکلا۔ فرانس میں کیھتولک اور کالونیسٹ (پروٹسٹنٹ کا ایک اہم فرقہ) ایک عرصے (1562 تا 1598) تک برسرپیکار رہے۔ 1560 کی دہائی میں ”اسپین“ کے کٹر کیتھولک بادشاہ ”فلپ دوم“ نے ہالینڈ کے پروٹسٹنٹ مخالفین کو کچلنے کے لیے بہت بڑی فوج بھیجی اگرچہ میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اسی طرح وہ پروٹسٹنٹ انگلینڈ کے ”ملکہ الزبتھ“ کو ہالینڈ کے پروٹسٹنٹ باغیوں کو پناہ دینے کے باعث سزا دینا مقدس جنگ سمجھتا تھا۔ اور 1588 میں 22 ہزار پر مشتمل بحری بیڑا (آرمیدا) انگلینڈ پر بنیادی طور مذہبی محرک کے تحت حملہ کے لیے روانہ کیا تھا۔ انگلینڈ کے ملاحوں نے اس کے بیڑے کو تباہ کر کے حملہ ناکام کر دیا۔ انگلینڈ میں 1640 تا 1660 کی خانہ جنگی کا ایک اہم عامل مذہبی اختلافات بھی تھے۔

ان مذہبی جنگوں میں سب سے اہم جرمنی کی 1618 تا 1648 تک لڑی والی ”تیس سالہ جنگ“ رہی۔ پروٹسٹنٹ مخالفین کا تدارک کرنے کے لیے ایک طرف ”پوپ“ بعض مذہبی اقدامات سے کیتھولک چرچ کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں تھا جبکہ دوسری طرف مقدس رومی شہنشاہ ”اسپین کا چارلس پنجم“ ان کے خلاف فوجی اقدامات پر اتر آیا۔ 1544 میں ”چارلس“ نے جرمن کے پروٹسٹنٹ ریاستوں ”جنہوں نے ایک متحدہ گروپ بنایا تھا، کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ 1547 میں اگرچہ“ چارلس ”نے ان کو شکست دی مگر جرمنی کے کھتیولک ریاستوں کے حکمرانوں نے چارلس کا ساتھ نہیں دیا۔ جنگ سے بے زار ہو کر“ چارلس ”نے 1555 میں تمام کیھتولک اور پروٹسٹنٹ جرمن حکمرانوں کا ایک اجلاس“ آگسبرگ ”شہر میں منعقد کرایا جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا، کہ ہر جرمن ریاست کے مذہب کا تعین اس کا متعلقہ حکمران کرے گا۔ یہ اہم مذہبی تصفیہ آکسبرگ امن“ معاہدہ کہلایا۔ اگرچہ آگسبرگ معاہدہ کے تحت جرمن حکمرانوں نے مذہبی اختلاف کے بارے اتفاق کیا تھا تاہم ان کے درمیان تناؤ موجود ریا۔

1608 میں جب جرمن کے پروٹسٹنٹ حکمرانوں نے یونین تشکیل دی تو اگلے سال وہاں کے کیتھولک حکمرانوں نے کیتھولک لیگ بنا دی۔ ایسے حالات میں جنگ بھڑکنے کے لیے ایک چنگاری کی دیر تھی۔ فیرڈینڈ دوم ” ( Ferdinand! ) جو“ ہیسبرگ شاہی خاندان کا سربراہ اور ”دو سال بعد 1619 میں مقدس رومن شہنشاہ بنے والا تھا، کٹر کیتھولک تھا جب وہ آسٹریا کا بادشاہ بنا تو اس کے ماتحت“ بوہیمیا ”کی پروٹسٹنٹ آبادی کو“ فریں ڈینڈ ”پر اجنبی ( غیر چیک) اور کیتھولک ہونے کے باعث اعتماد نہیں تھا۔ جبکہ ہیسبرگ (شاہی خاندان) ہونے کے باعث فرانس کے“ بھوربن ”بادشاہ اس کو سیاسی بنیادوں پر اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ یوں مختلف حوالوں سے اس کے متعدد مخالفین تھے جو اس کے خلاف متحد ہونے لگے تھے

فرٹنیڈینڈ دوم ”نے بادشاہ بننے کے بعد جب 1618 میں“ بوہیمیا کی پروٹسٹنٹ آبادی کو حاصل مذہبی آزادی کو ختم کر دیا اور وہاں بعض پروٹسٹنٹ چرچ بند کر دیے تو ”بوہیمیا“ کے پروٹسٹنٹ بغاوت پر اتر آئے۔ اور انہوں نے دریائے رائن ”کے ساتھ ایک بڑے صوبے“ پالٹینٹ ” (Palatinate ) کے الیکٹر“ فریڈریک دوم ”کو دعوت دے کر اپنا حکمران بنایا۔ اس کو کچلنے کے لیے“ فیرڈینڈ ”نے فوج بھیجی۔ جس سے کئی جرمن پروٹسٹنٹ حکمرانوں کو کیتھولک شہنشاہ کو چیلنج کرنے کا موقع فراہم کیا۔

یوں مذہب اور قوم پرستی کی بنیاد پر 30 سالہ جنگ کا آغاز ہو گیا۔“ فیرڈینڈ ”کے“ کیتھولک آسٹریا ”اور اس کے رشتہ دار اور اتحادی“ اسپین کے ہیسبرگ سلسلہ ”کے بادشاہ“ فلپ چہارم ”کے افواج نے 1620 میں“ بوہمیا ”اور اس کے نئے حکمران“ فریڈریک ”کو شکست دی۔ بوہمیا اور آسٹریا میں پروٹسٹنٹ مذیب پر پابندی عائد کر دی“ پالٹینٹ ”صوبے کو کیتھولک باوریہ ( Bavaria) کے تحت کر دیا۔ (اسی دوران اسپین کے ”فلپ چہارم“ نے ہیسبرگ بادشاہت اور کھتولک مفاد کے لیے ہالینڈ پر حملہ کر دیا تھا۔ جس میں فرانس اور انگلینڈ نے ہالینڈ کا ساتھ دیا ) ۔

بوہمیا بغاوت جنگ کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس کا اگلا مرحلہ ”ڈنمارک“ کا جنگ میں شامل ہونے سے شروع ہوا۔ ڈنمارک اور ناروے کے بادشاہ ”کرسجین چہارم“ کچھ پروٹسٹنٹ جذبے اور کچھ ”بحیرہ شمال“ کے بندرگاہوں پر مزید کنٹرول حاصل کرنے نیز ہیسبرگ شاہی کے سامراجی عزائم کو روکنے کے تحت جنگ میں شامل ہوا۔ 1625 میں جرمن علاقے پر حملہ کرنے پراس کو ”والنسٹئن“ نامی کرایہ کا جنگجو (جس کی فوجی خدمات ہیسبرگ بادشاہ نے حاصل کی تھی) کی قیادت میں ہیسبرگ افواج کا مقابلہ کرنا پڑا 1629 میں ڈنمارک کے بادشاہ ”کرسچن“ کو شکست ہوئی۔

ہیسبرگ بادشاہوں ( آسٹریا اور اسپین) کے تحت کیتھولک کامیابی کے ردعمل میں ”پروٹسٹنٹ سویڈن“ کے بادشاہ نے مذہبی جذبے کے ساتھ سویڈن کے قومی مفادات ( بحیرہ بالٹک میں بندرگاہوں اور سمندری تجارت پر ہیسبرگ کے ممکنہ قبضے کے خدشے ) کے باعث متحرک ہو کر 1630 میں جرمنی کی جنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ 1618 تا 1648 تک جاری اس جنگ کے آوائل 12 سالوں میں آسٹریا اور اسپین کے سپاہیوں پر مشتمل ہیسبرگ شاہی افواج پروٹسٹنٹ حکمرانوں کے لشکروں کو کچلتے رہے اس کے ساتھ چیک قوم پرست بغاوتوں کو بھی ناکام کرایا گیا۔ نیز اسی عرصے میں ”فریں ڈینڈ“ کے لشکر جرمنی دیہاتوں کو لوٹ کر بری طرح تاراج کرتے رہے۔ مگر 1830 میں سویڈن کے پروٹسٹنٹ بادشاہ ”گستاوس ایڈولفس دوم“ کا 22 ہزار لشکر کے ساتھ جرمن پروٹیسٹنوں کی مدد کو آنے کے بعد جنگ کا پانسہ پلٹنے لگا دو سال کے اندر اس نے شمالی جرمنی سے ہیسبرگ افواج کو نکال باہر کیا۔ مگر نومبر 1632 کو ایک معرکہ میں قتل ہو گیا۔ اس کے دو سال بعد ہیسبرگ کی طرف سے لڑنے والا جنگجو جرنیل ”والنسٹئن“ بھی قتل ہوا۔

Westphalia treaty 1648

1635 میں رومن شہنشاہ ”فریں ڈینڈ“ اور مختلف جرمن پروٹسٹنٹ شہزادوں کے درمیان ”معاہدہ پراگ“ کے تحت امن سمجھوتا ہوا۔ مگر یہ امن سمجھوتا اس وقت بے اثر ہو گیا جب فرانس کے بادشاہ کے بڑے وزیر کارڈنیل ریشولو ( ) نے فرانس کی سیاسی بالادستی کے قیام کے لیے Richlieu ہیسبرگ بادشاہتوں ( آسٹریا اور اسپین ) کو شکست دینا ضروری سمجھا۔ باوجو یہ کہ خود کیتھولک فرانس کے کیتھولک چرچ کا اہم عہدیدار ہونے کے 1635 تک ”ریشولو“ اپنے ہم مسلک کیتھولک مگر سیاسی حریف ہپسبرگ بادشاہت کے خلاف برسرپیکار جرمن پروٹسٹنٹ شہزادوں، ڈنمارک اور سویڈن کو خفیہ امداد دیتا رہا تھا مگر اب وہ کھل کر مقابلے پر آ گیا 1635 میں اس نے جرمن پروٹسٹنٹ کی مدد کے لیے فرانسیسی لشکر بھیجے اگرچہ جرمنی میں برسرپیکار متحارب فریق جنگ اور خون ریزی سے تھک چکے تھے مگر ریشولو ”کی فرانسیسی طاقت کی سیاست کے باعث جنگ مزید اگلے 13 سال تک جاری رہی۔ اس مرحلے میں اب جنگ کا مذہبی عنصر تقریباً عنقا ہو گیا تھا اور اس بنیادی محرک اور مقصد فرانس کے بھوربن اور آسٹریا کے ہیسبرگ بادشاہوں کے درمیان یورپ میں غلبے کا حصول تھا۔

فرانس کافی مضبوط پوزیشن میں تھا۔ فرانسیسی افواج کے حملہ آوار ہونے پر اسپین کے ہیسبرگ بادشاہ ”فلپ چہارم“ کو ہالینڈ میں اپنی جارحانہ جنگی کارروائیاں ترک کرنی پڑیں اور ”بارگنڈی“ ، ”ہسپانوی ہالینڈ“ ”، آٹلی“ اور مرکزی اسپین میں فرانسیسیوں سے نبرد آزما ہونا پڑا۔

قریبا 2 لاکھ پر مشتمل فرانسیسی فوج کو اگرچہ ابتداء میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اس، کے دو قابل جرنیلوں ”کوندے“ (Condey) اور ”تورینے“ (Turenne ) کی قیادت میں اسپین کے منفرد جنگی تیکنیکس کو بے اثر بنانے کا حل نکالا۔ جرنیل ”کوندے“ نے ”روکرائے (Rocroy ) کی لڑائی میں اسپین کی جنگی طاقت اور شہرت کو بھر پور دھچکا دیا۔ 1647 / 48 میں فرانس کے دوسرے جرنیل ”تورینے“ نے آسٹرین ہیسبرگ افواج کے مقابلے میں کئی کامیابیاں حاصل کر لیں۔ سویڈن اور فرانس کی مشترکہ فوج بیشتر باویریا ( Bavaria) کو تاراج کرتے ہوئی ”میونح“ کے قریب پہنچ گئی۔ اور اس سے ”کارڈنیل ریشولو“ (جو اگرچہ 1642 میں فوت ہو گیا تھا ) کے فرانسیسی بالادستی کا مقصد حاصل ہونا ممکن ہو گیا،

ریشولو ”کے بعد اس کے جانشین مازارین“ ( Mazarin) نے ہیسبرگ طاقت کو بھر پور طور پر کمزور کرنے اور فرانس کی مطلق العنانیت کو مستحکم کرنے کا مقصد کامیابی سے آگے بڑھایا۔ فرانس تو فائدہ میں رہا مگر اس 30 سالہ جنگ کا مرکزی میدان مقدس رومن سلطنت (جرمنی کی ریاستیں ) رہی تھیں جس کے باعث جرمنی کو مختلف حوالوں سے بے تحاشا نقصان پہنچا۔ زرعی اور تجارتی تباہی کے ساتھ اس کے تقریباً 80 لاکھ افراد موت کا شکار ہوئے۔ تباہ شدہ معیشت کو بحال کرنے میں اس کو بڑا عرصہ لگا۔ ( جرمنی کا 19 ویں صدی سے پہلے تک متحد نہ ہونے کی یہ ایک بڑی وجہ رہی ) ۔

چونکہ جنگ میں پروٹسٹنٹ اتحادی آسٹرین ہپسبرگ اور اس کے ہیسبرگ اتحادی اسپین پر بتدریج غالب ہونے لگے تھے اس لیے جنگ کے آخری مراحلے میں امن مذاکرات بھی شروع ہو گئے تھے جس کے تحت بالآخر 1648 میں جرمنی کے شمال مغربی خطے ”ویسٹ فیلیا“ کے شہروں میں متعدد معاہدے طے ہوئے۔ جن کو ”ویسٹ فیلیا امن“ کا مجموعی نام دیا گیا۔

1سوئزر لینڈ کنفیڈریشن ”اور ہالینڈ کی آزادی کو“ باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا
2۔ فرانس کو ”دریا رائن“ کے مغربی کنارے پر زرخیز زمینیں مل گئیں
4۔ سویڈن کو شمالی جرمنی اور بحیرہ بالٹک میں کچھ علاقے مل گئے

4۔ 300 سے زیادہ تمام جرمن ریاستوں کے حکمران مقدس رومن سلطنت سے مکمل آزاد اور اپنے معاملات میں خود مختار ہو گئے۔

5۔ کالونیسٹ ( پروٹسٹنٹ کا ایک اہم فرقہ) پیروکاروں کو بھی یکساں حقوق مل گئے۔
شاہی عدالتوں میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ججوں کی تعداد مساوی ہو گئی

6 ”برینڈن برگ“ کی ابھرتی پروٹسٹنٹ ریاست (جو بعد میں ”برینڈن برگ پریشیا“ کے نام سے ایک طاقتور ملک بن گیا) نے اہم فوائد حاصل ہوئے

ویسٹ پیلیا امن ”کے مذکورہ نتائج سے زیادہ اہم اس کے طویل المدت نتائج رہے

1جرمنی کا بجا کچھا اتحاد عنقا ہوا۔ اس کے 300 سے زیادہ تمام ریاستیں عملاً خودمختار ہو گئیں۔ جرمنی شہزادوں کو یکجا کر سکنی والی۔ مقدس رومن سلطنت کی حیثیت برائے نام رہ گئی۔

2۔ فرانس زیادہ فائدے میں رہا ”ریشولو“ کے پیشتر اہداف ا) ہیسبرگ شاہی ریاستوں اسپین اور آسٹریا کی باہمی علیحدگی، ب) فرانس کی سرحدوں کی توسیع اور ج) شمالی یورپ میں اسپین کی عسکری بالادستی کا خاتمہ) حاصل کر لیے۔ (اگرچہ فرانس اور اسپین کی جنگ 1659 تک جاری رہی۔ جس میں بالآخر ”معاہدہ پائرنیس“ کے تحت اسپین کو پائرنیس ”میں ایک صوبے اور“ ہسپانوی نیدر لینڈ ”کا“ جنوبی سرا فرانس کو دے گیا۔ ان حالات میں ”لوئیس“ 14 کے تحت فرانس اسپین کی جگہ بتدریج غالب یورپی طاقت کی حیثیت اختیار کرنے کی پوزیشن میں آنے لگا،

ویسٹ فلیا امن معاہدہ ”یورپ کی ائندہ سیاست پر ذیل“ کے کچھ اثرات مرتب کرنے کا باعث بھی ہوا

1۔ اس معاہدے نے مذاکرات کا نیا طریقہ متعارف کرایا جس میں تمام فریقین کی درمیان جنگ کے مسائل اور امن کے شرائط طے کرنے کی روایت پنپی۔

2۔ یورپ میں کیھتولک سلطنت کی حکمرانی کی سوچ ترک کر دی گئی۔ یورپی ممالک کو مساوی ریاستوں کا گروپ تسلیم کیا گیا

جس سے جدید قومی ریاستی نظام کا آغاز ہوا۔ بحیثیت سیاسی نظام مطلق العنانیت کو اسی دور میں فروغ ملا۔ جس میں ریاستوں کا معیشت اور چرچ پر کنٹرول اور بڑے فوجی اداروں اور سخت طبقاتی ڈھانچہ کا نظام اپنے وقت کے حالات کے مطابق کافی موثر رہا۔

لوئیس 14 ”کے تحت فرانس اسی نظام کا اہم ماڈل تھا۔“ فرانس کے علاوہ ”آسٹریا“ مستحکم ہوا۔ ”روس“ اور ”پریشیا“ بڑی طاقتیں بن کر ابھریں۔ جبکہ برطانیہ نے بحیثیت عالمی سلطنت کے اپنا تسلط جمایا۔

بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں نیا اپروچ بنا۔ 3

مطلق العنان اشرافیہ کا نظام سیکولر بنیادوں پر جنگیں لڑنے کا نظام تھا۔ اس لیے ان کا محرک مذہب یا نظریے کے بجائے قومی مفادات کا حصول اور تخفظ ٹھہرا

4۔ امن اور بین الاقوامی نظم و ضبط کے قیام کے لیے ”طاقت کا توازن“ کا اصول پنپنے لگا۔ جو بعد میں باقاعدہ طور پر متشکل ہوا، اس اصول کے تحت ”طاقت کے توازن“ کو برقرار رکھنے کے لیے جارح ریاستوں کو مخالف اتحادی طاقت سے روکنا تھا۔ یہ اصول آج تک بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم جز رہا ہے۔ ویسٹ فلایا امن معاہدہ ”یورپ کی سیاست میں ایک“ بڑا موڑ تھا۔ اس میں تمام ممالک کا برابری کی سطح پر ہونا، مذہبی آزادی کا تصور اور اہم یورپی ممالک کا مل کر معاہدہ کرنا ایسے اقدامات تھے جن کو بعد میں یورپ کے سیاسی مدبرین نے ہمیشہ مد نظر رکھا۔ انہی امور اور اصولوں کا بعد کی یورپی سیاست میں مختلف حوالوں سے بنیادی رول رہا ہے۔

Facebook Comments HS