ایک خان وہ تھا


چوڑی سڑک، دو رویہ سجی ہوئی دکانیں، کہیں قہوے کی پیالیوں سے اٹھتا دھواں، کہیں خشک میوہ جات کے ڈھیر، کپڑوں پھلے تھانوں کے آنکھوں میں کھبتے رنگ، مٹی کے برتنوں کے دمکتے نقوش، اپنی چھتوں پر در و دیوار کا بوجھ اٹھائے ان دکانوں کی جانے اوپری منزلوں میں جانے گودام ہیں یا گھریلو زندگی انھیں مسکن بنائے ہوئے ہے، اپنی اپنی مصروفیت کا ہاتھ تھامے آنکھوں میں تلاش، تجسس، شوق اور اشتیاق لیے گاہک، خرید کا مال تھیلوں میں لیے گھروں کو پلٹتے لوگ، نرخ بتانے، اشیاء کے گن گنوانے اور سودے بازی میں مصروف دکان دار، ان کے ہاتھوں میں آتے نوٹ جن پر برطانیہ کی ملکہ کا عکس چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ گوروں کے جزیرے سے ہزاروں میل دور اور سمندر و خشکی پر گزرتے لگ بھگ مہینے بھر کی مسافت پر آباد اس بستی کے یہ تاجر و خریدار ملکہ کی رعایا، غلام اور ”سبجیکٹ“ ہیں۔

گہماگہمی کے اس منظر میں بس ایک میں ہی بے مصرف موجود ہوں، اس واقعے کے انتظار میں جو ہونا ہے، جسے امر ہوجانا ہے، جسے انگریز کی انصاف دوستی، مسلم قوم کے علم برداروں کے اسلامی بھائی چارے اور ظلم کے خلاف جد و جہد کے نعرے بازوں کا منہ چڑاتی رہنا ہے۔ اس واقعے کی راہ دیکھتے دیکھتے میری آنکھیں کچھ چہرے ڈھونڈنے لگی ہیں۔ ”خوب رو پختونوں میں وہ عام سے خد و خال کا لڑکا صاف پہچانا جائے گا، کاش مل جائے تو میں اسے بتاؤں، یوسف خان!

بمبئی تمھاری راہ تک رہا ہے۔ اے قصہ خوانی بازار میں اپنا سودا کرتے یوسف! تم سے اتنے قصے منسوب ہوں گے کہ طلسم ہوش ربا کا کردار بن جاؤ گے، مدھوبالا کا حسن، وجنتی مالا کا سراپا، سائرہ بانو کا ملکوتی حسن تمھیں اپنی اپنی کہانی میں سمیٹ لیں گے اور تمھاری داستان میں سما جائیں گے جس کا عنوان ہو گا۔ دلیپ کمار۔ میں متلاشی ہوں کہ فلمی دنیا کے خاندان مغلیہ کا بابر، پرتھوی راج کہیں دکھائی دے جائے تو عرض کروں، مہاشے!

بدھائی ہو، آپ جلد اس بھیڑ سے نکل کر بڑے سے روشن پردے پر جلوہ گر ہوں گے، پھر آپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اس سے کہیں بڑی بھیڑ لگ جایا کرے گی، فلمی پرچوں کے قصہ خواں آپ اور آپ کے پریوار کے قصوں سے روزی کشید کر رہیں ہوں گے، وہ جو دور اس دکان پر لڑکا کھڑا ہے نا اس سے میل ملاپ کر لیں، آپ کو مہابلی کا روپ دھار کر اس باغی بیٹے کا باپ بننا ہے، ابھی سے انسیت پیدا کر لیں سوانگ رچانے میں آسانی رہے گی۔“

اچانک پختہ سڑک پر بجتی ٹاپوں کی تال میرے خیالات منتشر کر دیتی ہے، میرے قریب سے ایک تانگہ سبک رفتاری سے گزرا ہے۔ صبح کی دوپہر کی طرف بڑھی دھوپ تیز ہوتی جا رہی ہے، میں سائے میں جانے کے لیے سڑک سے ہٹ کر دکانوں کا رخ کرتا ہوں کہ یکایک امڈنے والا شور اور سروں کی بڑھتی تعداد مجھے چونکا دیتی ہے۔ میری سماعت میں آسمان کو چھوتے نعرے اتر رہے ہیں اور آنکھیں زمین پر ہر لمحے بڑھتے پھیلتے نعرہ زن دیکھ رہی ہیں۔ ”تو وہ واقعہ جنم لینے کو ہے جسے دیکھنے میں وقت میں الٹے قدموں سفر کر کے ان لمحوں میں پہنچا ہوں“ اس سوچ کے ساتھ ہی میرے پورے جسم میں سنسنی دوڑ جاتی ہے۔

”یہ کون سی جگہ ہے؟“ جانتے ہوئے بھی میں اپنے اطمینان کے لیے پاس کھڑے ایک شخص سے پوچھتا ہوں ”قصہ خوانی بازار“ وہ جواب دیتے ہوئے مجھے جس حیرت سے دیکھتا ہے اس میں بے وقوفی کا طعنہ صاف جھلک رہا ہے، ”آج کیا تاریخ ہے؟“ میں اگلا سوال کرتا ہوں ”23 اپریل“ جواب ملتا ہے ”،“ یہ سن 1930 ہے نا؟ ”،“ ہاں بئی کیا ہو گیا اے ”وہ چڑھ جاتا اور مجھے پاگل یا جھکی سمجھتے ہوئے کھسک لیتا ہے۔

مجھے پورا یقین ہوجاتا ہے کہ میں تاریخ کے صحیح وقت میں کھڑا ہوں۔ ”

لوگ بھی بڑھتے جا رہے ہیں ان کا جوش و خروش بھی۔ اب مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں، جانتا ہوں یہ کون ہیں یہاں کیوں جمع ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہونا ہے۔

یہ اپنے ”خان“ اور دوسرے راہ نماؤں کی گرفتاری پر احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ ان میں عام لوگ بھی ہیں لیکن وہ کھیپ اپنے نظم و ضبط میں بندھی اور آنکھوں میں عزم کی روشنی اور چہروں پر نظریے کی پختگی لیے الگ ہی نظر آ رہی ہے جسے خان تیار کر رہا ہے اپنے افکار کی سان چڑھا کر انھیں جہل پر مبنی رواجوں کے خلاف تلوار کر رہا ہے اور لفظوں سے زیادہ اپنے اجلے کردار سے ان کی کردار سازی کر رہا ہے۔ اس نے انھیں خدائی خدمت گار کا نام دیا ہے، ابھی کچھ دن پہلے ہی تو یہ تنظیم وجود میں آئی ہے، جس کے ہر رکن نے عہد کیا ہے کہ:

”اس خدا کے نام پر جو موجود ہے، میں ایک خدائی خدمت گار ہوں۔
میں بنا کسی مفاد کے قوم کی خدمت کروں گا۔
میں انتقام نہیں لوں گا اور میں جو کام کروں گا وہ کسی کے لیے بوجھ ثابت نہیں ہوں گے۔
میرے کسی کام میں تشدد شامل نہیں ہو گا۔
اس راستے میں چلنے کے لیے میں ہر قربانی دوں گا۔
میں لوگوں کی خدمت کروں گا چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب عقیدے سے ہو۔
میں ملکی مصنوعات کا استعمال کروں گا۔
میں کسی عہدے کے لالچ میں نہیں آؤں گا۔ ”

یہ شخص صرف نام کا خان نہیں، یہ سابقہ بتا رہا ہے کہ یہ پختونوں کے وطن کا، جسے انگریزوں نے بے شناخت رکھنے کے لیے شمال مغربی سرحدی صوبہ کا جغرافیائی تعارف جیسا نام دیا ہے، کا بہت بڑا جاگیردار ہے۔ پشاور سے بائیس میل دور اتمان زئی میں وسیع جاگیر اور کشادہ حویلی کا یہ مالک و وارث عیش و آرام اور سہولتوں کو ٹھکرا کر پختونوں میں خواندگی پھیلانے، انھیں قبائلی جھگڑوں اور نسل در نسل انتقام کی خونی رسم سے نجات دلانے، عورت کی تکریم اور وراثت میں اس کے شرعی حصے کا احساس اجاگر کرنے اور انھیں انگریز استعمار سے آزادی کے لیے یک جا و یک جان کرنے کی خاطر میدان میں نکلا ہے۔ یہ شخص دیوانگی کی مثال ہے کہ سر پھرے اور بندوق کی نوک سے ہر مسئلے اور نزع کی گرہ کھولتے پٹھانوں کو عدم تشدد کی تعلیم دے رہا ہے، یہ عشق کی نظیر ہے کہ پہاڑی راستوں کے اتار چڑھاؤ کی صعوبتیں سہرا گاؤں جاکر اپنی سوچ اور تعلیم کا پرچار کر رہا ہے۔

انگریز ہندوستان کے دروازے خیبر کے خطے میں دلوں کو جوڑتے اس راہ نما سے خود زدہ ہے۔ سو اس کی خدائی خدمت گار نے ابھی دھرتی پر سانس لی ہی ہے کہ وہ گرفتار کر لیا گیا۔ غاصب حکم رانوں کا ڈر سمجھ میں آتا ہے۔ سوویت یونین سی جڑی پٹی افغانستان سے لگے اس علاقے کے دلیر باسی ”خان“ اور دیگر راہ نماؤں کے نعرۂ حریت پر تیزی سے لبیک کہہ رہے ہیں، صوبے میں سول نافرمانی کی تحریک شروع ہو چکی ہے اور نمک بنا کر بیچا جا رہا ہے۔

آناً فاناً پختونوں کے کوچے کوچے قریے قریے خبر پھیل گئی کہ خان عبد الغفار خان عرف باچہ خان کو انگریز حکومت نے گرفتار کر لیا ہے۔

سول نافرمانی کی تحریک جذبوں کو متحرک کرچکی تھی، سیاسی ہلچل نے احساسات بیدار کر دیے تھے ایسے میں لوگوں کو اپنے باچہ خان کی گرفتاری کی خبر ملی تو ان میں غم و غصے کی لہر نے سر اٹھایا اور پھر پشاور کے قصہ خوانی بازار میں سروں کی فصل تیار کھڑی تھی، اور میں اس منظر میں مستقبل سے آیا راوی بنا اپنے حال کی ساری مصلحتوں، احتیاط اور خوف میں لپٹا ایک دکان کے چھکے کے نیچے دبکا سہمی ہوئی آنکھوں سے تاریخ بنتی دیکھ رہا تھا۔

فوج اچکی تھی اور مجمع کو منتشر ہونے کا حکم مل چکا تھا، مگر کوئی ٹس سے مس ہونے کو تیار نہ تھا۔

”بکتر بند گاڑیاں آ رہی ہیں“ دکان کے اوپر بنے چوبارے سے ایک آواز آئی، اگلے ہی لمحے انگریز فوج اپنی بکتر چند گاڑیوں سمیت میری نظروں کی رسائی میں تھی۔ ”لالہ جی! افسر نے گولی چلانے کا حکم دیا مگر فوجیوں نے انکار کر دیا، سلام ہے ان کو“ دور سے ہانپتے کانپتے آنے والے بوڑھے نے پنجابی لہجے میں دکان دار کو مخاطب کر کے اطلاع دی۔ ”جے ہو“ دکان دار کا لہجہ جوش سے بھرا تھا، تلک لگی پیشانی کے نیچے چھوٹی چھوٹی آنکھیں جیسے بڑی ہو کر دمکنے لگیں۔

”دیکھا کیسے جمے ہوئے ہیں، لاہور واپس جاکر لوگوں کو بتانا“ اس نے اطلاع دینے والے سے کہا، چہرے پر پھیلی سرخی سے لہجے تک فخر موجیں مار رہا تھا۔ ”ہاں ہاں کیوں نہیں۔ اچھا میرا مال تیار رکھنا، حالات ٹھیک ہوتے ہی لے کر نکل جاؤں گا“ بوڑھے نے جواب دیا ”اچھا تو یہ پنجاب سے آنے والا بیوپاری ہے۔“ میں سمجھ گیا۔

”یہ غیرت مند گڑھوالی رائفلز کے سپاہی ہیں“ اس نے دکان دار کو بتایا۔

”گڑھوالی۔ ہمالیہ کے دامن میں رہتے بستے بہادر، کبھی یہ ان کی سرزمین یوپی کا حصہ تھی اور میرے زمانے میں بننے والے نئے صوبے اترکھنڈ میں شامل ہے۔ جنگجو، جنھوں نے دوسری جنگ عظیم میں جرات کے وہ مظاہرے کیے کہ انھیں جنگ بازی کا ہنر سکھانے والے انگریز ششدر رہ گئے۔ لیکن آج ان کی بندوقوں نے ہم وطنوں کے خلاف اٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس جرم کی پاداش میں گولی چلانے سے انکار کرنے والی دونوں پلٹنوں کے افسر 8 سال قید کی سزا پائیں گے۔“ ابھرتی چیخیں مجھے مستقبل سے واپس ماضی میں کے گئیں۔

ایک بکتر بند مجمع پر چڑھ دوڑی تھی اور کئی مظاہرین کو کچل ڈالا تھا۔ چودہ مظاہرین کچلے گئے تھے۔ اس سانحے کی تاریخ کا ایک پنا میرے ذہن میں کھلا اور بند ہو گیا۔ اس درندگی پر مظاہرین مشتعل ہو گئے ہیں۔ دور ایک انگریز فوجی افسر موٹرسائیکل پر آتا دکھائی دے رہا ہے، تیز دھار ہتھیار چمکتا ہے اور حاکمیت کے گھمنڈ میں مجمع میں گھسنے کی کوشش کرتا انگریز افسر وہیں ڈھیر ہو گیا ہے۔ لوگ ٹوٹتے صبر کے ساتھ ایک آرمڈ کار پر ٹوٹ پڑے ہیں اور اس کی ٹنکی سے چھلکتے پیٹرول کو آگ دکھا کر اسے جلا دیا ہے، گاڑی اندر بیٹھے ڈرائیور سمیت بھسم ہو رہی ہے۔

دھماکوں نے میرا دل لرزا دیا اور میں دکان میں گھستا چلا گیا۔ بندوقوں کی دھائیں دھائیں سے اللہ اکبر کی صدائیں ٹکرا رہی ہیں۔ ہر صدا سن کر لگتا ہے جیسے ٹوٹ کر گر رہی ہو۔ گولیاں برس رہی ہیں، سینے خون میں نہا رہے ہیں، لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں، لیکن مظاہرین کی بڑی تعداد اپنی جگہ سے ہلنے کو بھی تیار نہیں۔ جو جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں انگریز فوجی انھیں بھی گولیوں کی باڑھ پر رکھ لیا ہے۔ اور جو جمے کھڑے ہیں وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے بلا رہے ہیں۔ ایک قطار اللہ کی بڑائی کا نعرہ لگاتی چھدے سینے تھام کر گرتی ہے تو عقب سے ایک اور قطار آگے بڑھ کر سنگینوں کے سامنے اپنے جسم سجا دیتی ہے، ان کے جسم سڑک کو رنگتے ہیں تو اور بدن اپنی رگوں سے خون چھلکانے بڑھ آتے ہیں۔

آگ برس رہی ہے، موت دونوں ہاتھوں سے زندگیاں لوٹ رہی ہے، لیکن سینہ تانے لوگوں میں دوڑ و بھاگو کی پکاریں ہیں، کوئی افراتفری نہ واویلا۔

دور دور تک۔ پھیلی لاشیں، زخمیوں کی دبی دبی کراہیں جیسے اپنی تکلیف ہونٹوں میں بھینچے لے رہے ہوں اور بارود کی بو پر چھاتی بڑھتی خون کی مہک۔

”اتنا ظلم۔ اب خان نے بدلہ لینے کا حکم دیا تو انگریز کو ہماری زمین چھوڑنی پڑے گی۔“

دکان دار نہ جانے مجھ سے کہہ رہا ہے یا خودکلامی کر رہا ہے، اس کی پتلیاں انگارہ بنی ہوئی ہیں جنھیں بہتے آنسو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔

”نہیں وہ بدلے کے لیے نہیں ملے گا، جلد دو خدائی خدمت گار چھپتے چھپاتے بچتے بچاتے اس تک پہنچ جائیں گے، وہ نم آنکھیں اٹھا کر اور درد اور دکھ میں لپٹی آواز میں کہے گا۔“ انتقام نہیں لینا۔ ”

”تمھیں کیسے پتا؟“ دکان دار نے چونک کر مجھے دیکھا اور میں جواب دیے بغیر قصہ خوانی بازار میں سرخ پوش ہو جانے والی 23 اپریل 1930 سے پلٹ آیا۔

Facebook Comments HS