باپ: اولاد کے لئے سائبان
مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندر ادب کا ایک گہرا سمندر بہتا ہے جس کو مجھے دنیا کو دکھانا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنا بہت کٹھن امر ہے۔ اپنے کاموں میں معروف تھا کہ خیال آیا کہ جون میں ”فادرز ڈے“ منایا جاتا ہے جو اس سال اتوار 18 جون کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جائے گا تو آج اس آرٹیکل میں باپ کی قربانی، عظمت اور کردار پر خصوصی روشنی ڈالوں گا۔ ہم چونکہ جذباتی اور خیالی پلاؤ پکانے والا معاشرہ ہیں۔ ہمیں جذبات پر مبنی گفتگو بہت جلد متاثر کرتی ہے اس لئے ہم ماں کی عظمت کو خوب سلام پیش کرتے ہیں لیکن باپ کی قدر کرنا ذرا معیوب سمجھتے ہیں۔
جس کی کئی وجوہات ہیں۔ نفسیات اور ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ باپ کا بچوں کی سوچ، شخصیت اور زندگی پر گہرا بلکہ ”ہارڈ کور“ اثر ہوتا ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں جو بچے باپ کی شفقت اور سائے سے محروم رہتے ہیں وہ زندگی کو کیسے محسوس کرتے ہوں گے؟ کیونکہ بچے کی شخصیت کی تعمیر پر سب سے زیادہ باپ کا اثر ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں چونکہ باپ، معاشی، سماجی اور مذہبی ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کے لئے گھر سے زیادہ وقت دور رہتا ہے اس لئے اس کا بچوں کے ساتھ وہ تعلق اور رشتہ نہیں بن پاتا جو ماں کی قربت سے پروان چڑھتا ہے۔ ایک اور مسئلہ جو ہمارے ہاں بڑا عام ہے کہ ہمیں بچوں میں ماں اور باپ کے درمیان محبت کا فرق کرنے ایک کو کمتر اور دوسرے کو بہتر ثابت کرنے کی عجیب روایت ہے جو کہ بنیادی طور پر غلط ہے۔
ایک بہترین انسانی شخصیت کی تعمیر کے لئے ہر رشتے کا کردار اہم اور منفرد ہوتا ہے۔ بچوں اور باپ کے درمیان بے وجہ اور خود ساختہ دوری ہماری سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ میرے ایک مینٹور شوکت بھٹی کہتے ہیں کہ ”والد اور بچوں کے رشتے کے درمیان بہت باریک لکیر ہونے چاہیے دیوار نہیں، اکثر ہمارے رویوں کی وجہ سے یہ لکیر دیوار بن جاتی ہے، یاد رکھیں یہ لکیر مٹ نہیں جانی چاہیے، کیونکہ اس سے رشتے میں ایک تقدس قائم رہتا ہے۔“
باپ بچوں کے لئے جو پاپ کرتا ہے وہ ہمیشہ ان سے چھپتا ہے تاکہ وہ بچوں کے سامنے ہیرو بن سکے۔ باپ کو اپنی کمزوریاں اور ناکامیوں کو چھپانے کی بجائے بچوں کو بتانا چاہیے تاکہ ان میں عاجزی اور انکساری پیدا ہو۔ وہ یہ جان سکیں کہ ان کا باپ ایک انسان ہے کوئی جادؤئی اور کرشماتی شخصیت نہیں جو ان کے لئے سب کچھ کر سکتا ہے۔ اگر آپ والد ہیں تو دنیا کا بہترین باپ بننے کی بجائے اچھے انسان بنیں۔ آپ اس سے بہتر بچوں کوئی اور تحفہ اور میراث نہیں دے سکتے ہیں۔ باپ ماں کی طرح بچوں کو سینے سے لگا کر نہیں رکھتا ہاں لیکن باپ کے دل کی دھڑکن تو دھڑکتی ہی بچوں کی سانسوں کی وجہ سے ہے۔ اگر آپ جوان باپ ہیں تو اپنے بچوں کا پہلا پیار اور دوست بن جائیں اور اگر آپ بچے ہیں تو اپنے باپ کی جینے کی امید اور بڑھاپے کا فخر بن جائیں۔
مجھے بھی یہ ساری باتیں کتابی اور فرضی سی لگتی تھیں لیکن جب خود باپ بنا تو احساس ہوتا ہے کہ باپ کی عظمت اور کردار کتنا اہم ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے اور خاندانوں کی بد قسمتی کہیں یا ماحول ہمارے والد بچوں سے اس قدر سخت رویہ اور فاصلے رکھتے ہیں کہ زندگی کے اہم فیصلوں میں بچوں کو باپ کی دوری محسوس ہی نہیں ہوتی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے والد صاحب ہم سب سے لیکن مجھے سب سے زیادہ پیار کرتے تھے لیکن بلاوجہ کی سختی اور دوری نے مجھے اس رشتہ کی شدت کو جانچنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ آج بھی نجانے کیوں ابا سے بات کرتے ہوئے ایک عجب سے ڈر اور فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ حالانکہ کہ مجھے کسی بھی انسان سے بات کرتے ہوئے گھبراہٹ اور ڈر محسوس نہیں ہوتا لیکن پھر بھی ابا سے ایک خاص تعلق ہونے کے باوجود یہ دوری سمجھ سے باہر ہے۔ اس مضمون کی تکمیل کے لئے مجھے کافی رات ہو چکی ہے۔ میں پہلے سوچتا تھا کہ یہ میرے ساتھ ہی ہوتا ہے لیکن ابھی پتہ چلا ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ اب ہمیں اس روایت کو بدلنا ہو گا نئی شروعات کرنی ہوگی۔
میں نے کاغذ قلم ایک سائیڈ پر رکھا اور سب سے پہلے ابو کو وٹس ایپ پر آئی لو یو کا میسج بھیجا۔ باپ ایک انسان جو پورے خاندان کا انجن ہے وہ اکثر اپنی ذمہ داریاں پوری پوری کرتے کرتے اپنی زندگی داؤ پر لگا لیتا ہے۔ لیکن اپنے بچوں کو کسی قسم کا دکھ نہیں دینا چاہتا ہے۔ باپ ایک سایہ دار شجر، جس کی موجودگی اور شفقت دنیا کی نعمتوں سے افضل ہے۔
باپ کا سایہ تسلی اور سہارا مشکل وقت میں انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ باپ جو زندگی کی پہلی موٹیویشن اور آگے بڑھنے کی جستجو ہوتا ہے۔ کس قدر یہ سب خاموشی سے سرانجام دیتا رہتا ہے۔ میں زندگی میں اگر کچھ بننا چاہتا ہوں تو وہ صرف ایک اچھا باپ بننا چاہتا ہوں۔ آج اپنے والد کی زندگی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کریں۔ باپ کے دل سے دعا سے زیادہ بچوں کے لئے ہمت کی التجا نکلتی ہے جو اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر بچوں کی زندگی میں اپنی زندگی جیتا ہے۔


