مسیحی علما کی عربی زبان کی خدمات (3)


 

دو صدیاں بیت جانے والے اس شخص کا تعارف وہ لقب ہے جو اسے عربی زبان کی خدمت میں استاد کی حیثیت سے ملا، جب عرب ثقافت ڈوب رہی تھی تو انہیں وہاں ”روشن خیالی کا باپ“ اور ”عرب نشاتہ ثانیہ کے علمبرداروں کے علمبردار“ کہا گیا، بطرس البستانی لبنانی مصنف، تاریخ دان عرب دنیا کے ادبی حلقوں میں ”المعلم بطرس“ کے خطاب سے معروف ہونے والا، عرب نشاتہ ثانیہ کے سب سے بڑے ستونوں میں سے ایک تھا، سنۂ 1819 ( 1819 ) لبنان کے گاؤں دیبیہ میں پیدا ہونے والا بطرس البستانی کا لبنان کے ادبی خاندان مارونائیٹ سے تھا، اپنی ابتدائی تعلیم اس عہد کے سب سے بڑے اسکول ”عین ورقہ“ سے حاصل کی، اس نے متعدد زبانیں سیکھیں، جن میں سریانی، عبرانی، لاطینی، انگریزی اور اطالوی شامل تھیں۔

اس کے علاوہ فلسفہ، الہیات اور قانون پر دسترس حاصل کی، سنۂ 1840 ( 1840 ) میں بطرس البستانی بیروت چلا گیا اور امریکی سفیروں سے رابطے رکھے، انہیں عربی سکھائی اور انہیں لبنان میں پرنٹنگ پریس کے کاروبار کی ترغیب دی۔ سنۂ 1860 ( 1860 ) میں اوبایا سکول میں پروفیسر مقرر ہوا دو سال تک اوبایا اسکول سے منسلک رہے، بطرس البستانی پروٹسٹنٹ فرقے کا عیسائی تھا، یہاں وہ مشنری اسکول سے اپنے مذہبی اغراض سے بھی وابستہ رہا، وہیں وہ کچھ عرصہ امریکی قونصل خانے میں بحیثیت مترجم رہا۔

بطرس البستانی نے سنۂ 1860 ( 1860 ) میں ہی اپنے ملک میں لوگوں کو تعلیم و شعور دینے کے لئے ایک قومی ہائی اسکول ”الوطانیہ“ قائم کیا، اس اسکول کا معیار اتنا بہتر رہا کہ بغیر مذہب و فرقے کے امتیاز کے آس پاس کی تمام عرب ریاستوں اور علاقوں کے طلباء یہاں تعلیم کے لئے آتے تھے، اسی دور میں بطرس البستانی نے ناصیف الیازجی کو اس اسکول میں بلوایا تھا، اور ”نفیر سوریۃ“ کے نام سے ایک اخبار بھی نکالا تھا۔ یہ اخبار اس عہد کا اعلی درجے کا قومی اخبار بنا، اس اخبار کے علاوہ اپنے بیٹے سلیم کی مدد سے مختلف ہفتہ وار و ماہانہ سیاسی و تجارتی چار اخبارات کا مزید اجراء بھی کیا تھا۔

اس نابغہ روزگار شخصیت نے بہت سے شعبوں میں ترجمے اور تالیف کا کام کیا۔ بطرس البستانی نے کئی کتابوں کو ریاضی، گرائمر، مورفولوجی، لسانیات و ادب میں درجہ بندی کی، اس کے کیے گئے کام نے اپنے عہد کی ثقافت پر بہت ان مٹ نشان چھوڑے اور اس وقت کی ثقافت پر اثرانداز ہوا۔ بطرس البستانی کے کئی خطبات، لیکچرز، مضامین بھی اس کے علاوہ ہیں مگر بطرس البستانی کی وجہ شہرت اور انقلابی کاموں میں سب سے بڑا کام ”دائرة معارف البستانی“ ہے۔

دائرة معارف البستانی:

یہ اس عہد کے مطابق جدید عربی زبان کا انسائیکلوپیڈیا تھا، یہ عربی زبان کا پہلا انسائیکلوپیڈیا ہے، جسے حروف تہجی کے مطابق ترتیب دیا گیا، اس انسائیکلوپیڈیا کے لئے بطرس البستانی نے اس وقت کے بہترین ادباء، مشاہیر، مترجم، نامہ نگار، محققین کی ٹیم تشکیل دی تھی جس میں اس کے دو بیٹے سلیم، نجیب اور بھتیجے سلیمان البستانی کو بھی شامل کیا تھا، اس کی ابتدائی چھ جلدیں بطرس البستانی نے خود لکھی اور ساتویں کے آغاز میں بطرس البستانی کا انتقال ہو گیا تھا، جسے سلیم البستانی نے مکمل کیا پھر آٹھویں جلد کے بعد نویں جلد کے آغاز میں سلیم البستانی کا بھی انتقال ہو گیا، اس کے بعد دوسرے بیٹے نجیب نے نویں جلد مکمل کی، پھر سلیمان البستانی نے نجیب کے ساتھ مل کر دسویں اور گیارہویں جلد بھی مکمل کی، بارہویں کا بھی ارادہ تھا مگر سنۂ 1900 ( 1900 ) میں اس پر کام رک گیا۔ مگر یہ کتاب آج بھی جدید اور کلاسیک عربی کا بہترین انسائیکلو پیڈیا مانا جاتا ہے۔

معجم محیط المحیط، (قاموس عصری مطول اللغة العربیة) :

یہ بھی بطرس البستانی کی ایک شاہکار تخلیق تھی، جسے پہلے سے موجود لغت ”اول قاموس عصری فی اللغة العربیة“ کو بھی شامل کیا اور مزید غیر ملکی سائنس، ادب اور آرٹس کے علاوہ جدید سیاسی و معاشرتی الفاظ کے علاوہ نئے عربی کے قواعد و ضوابط بھی شامل کیے ۔ جو اس سے پہلے قدیم لغات میں موجود نہ تھے، سنۂ 1869 ( 1869 ) میں یہ لغت مکمل ہوئی، اسے ابتداء میں دو بڑی جلدوں میں شائع کیا گیا، آج کل یہ نو جلدوں پر مشتمل سیٹ کی صورت میں دستیاب ہے۔

اس لغت کی تالیف میں ناصیف الیازجی کی معاونت بھی شامل رہی۔ یہ لغت عثمانی سلطان کو بھی پیش کی گئی تھی، جس پر بطرس البستانی کو عثمانی اعزاز ”مجیدی“ سے بھی نوازا گیا تھا۔ یہ لغت آج بھی عربی زبان کی نئی اور مستند لغات میں گنی جاتی ہے۔ آج بھی عربی طلباء اور دانشور اس لغت کو استعمال کرتے ہیں، باوجود کہ اس کتاب کو لکھے سو سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے، کیونکہ لغت کو حروف تہجی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، اس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بہت سی اصطلاحات کے علاوہ، ہر لفظ کی مکمل وضاحت اور تشریح کی گئی ہے جو کہ اصل میں عربی سے تھی یا عربی زبان میں داخل ہوئی تھی اور اس سلسلے میں بیرونی زبانوں کے الفاظ کے اصولوں کی وضاحت بھی دی گئی ہے۔ یہ ایک ضخیم لغت ہے۔ جس میں روزمرہ معمولات میں مستعمل عام الفاظ بھی ہیں۔

بائبل عہد نامہ عربی :

بطرس البستانی نے عہدنامہ ( بائبل ) کو عبرانی زبان سے عربی میں ترجمہ کرنے میں حصہ لیا، ڈاکٹر کارنیلیس وان ڈیک، بطرس البستانی اور شیخ یوسف الاسیری الاظہری، کے ساتھ مشترکہ کام کیا اور بالآخر بائبل کا پورا ترجمہ 23 اگست سنۂ 1864 ( 23 اگست 1864 ) کو مکمل ہوا، جو Van Dyck Version کے نام سے مشہور ہے، جو سیرین مشنری اور امریکن بائبل سوسائٹی کی مدد سے ہوا۔ یہ دنیا میں پہلا بائبل کا عربی ترجمہ ہے۔

قطر المحیط:

اس کے علاوہ عربی زبان پر ”قطر المحیط“ جو ”محیط المحیط“ سے مشہور ہے، جسے عربی زبان کو سمندر سے تشبیہ دے کر اس کو سمندر کے طواف سے ایک دائرے کے قطر اور اس کے احاطے جانچا گیا ہے۔

کشف الحجاب فی علم الحساب:
ریاضی کے اصولوں پر لکھی گئی کتاب جو نصاب کا حصہ بھی رہی۔ اس کے علاوہ
مسک الدفاتر :
تاریخ نابلیون: عربی میں نپولین کی تاریخ
المصباح: کتاب فی النحو
مفتاح المصباح: کتاب فی النحو
معارک العرب فی الاندلس:
ادباء العرب فی الجاہلیة وصدر الاسلام:

اس میں اسلام سے پہلے کے معروف عرب مصنفین اور اسلام کے آنے کے پہلے ادوار کے عرب مصنفین کی افکار و زندگی کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔

ادباء العرب فی الاعصر العباسیة۔
اس میں عہد عباسی کے عرب مصنفین کا تذکرہ و افکار ہیں۔

معجم محیط المحیط جیسی عربی کی گرانقدر خدمت پر عثمانی سلطان کی طرف سے انہیں تیسرا ”ماجدی ایوارڈ“ دیا گیا تھا، بلاشبہ عربی زبان کے ہر فن و ضرورت کے لئے ایک عمومی لغت کے علاوہ آج تک کہ جدید ترین عربی لغت ہے۔ جس نے اس سے پہلے کی تمام لغات کی ضرورت کو ختم کر دیا تھا۔ بطرس البستانی کی عربی زبان کی خدمات میں لا تعداد لیکچرز، عملی فورمز، ان کا اسکول، ان کی شاعری اور ماضی کے مصنفین و عربی پر گہری نظر نے انہیں عرب دنیا کا ہیرو بنا دیا تھا۔

بطرس البستانی کا انتقال لبنان میں سنۂ 1883 (سنۂ ہجری 1301) میں ہوا۔ بطرس البستانی کی پیدائش کی دو سالہ سالگرہ کے موقع پر لبنان کی نیشنل اتھارٹی نے بیروت میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں اس عہد کے اس روشن خیال انسان کی خواتین کے مسائل اور علم کی آگاہی کی خدمات، وطن کے لئے خدمات اور سوانح عمری کو دوبارہ یاد گار بنانے کے لئے ایک تقریب رکھی گئی۔ اس کے علاوہ 26 دسمبر سنۂ 1919 ( 26 دسمبر سنۂ 1919 ) میں امریکن کالج اسکول کلب میں بھی انہیں بطور سماجی خدمات انعام و اعزاز دیا گیا۔

 

Facebook Comments HS