دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام


ایک آدمی کی بیوی نافرمان تھی۔ وہ اسے راہ راست پر لانے کے لیے اکثر وعظ و تلقین کرتا رہتا۔ کبھی اس دنیا میں ذلت، رسوائی اور بدنامی کے خوف سے ڈراتا۔ تو کبھی موت کے بعد دوزخ میں ملنے والی سزاؤں کا ذکر کر کے اس کے چال چلن میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کوشاں رہتا۔ بالآخر ایک دن وہ خاتون تنگ آ کر بولی۔ کہ میں ایک شرط پر تمہاری بات ماننے کے لیے تیار ہوں۔ کہ تم ایک ماہ تک گھر سے کھانا کھانے کی بجائے باہر سے بھیک مانگ کر کھانا کھاؤ گے۔

اور اگر تم یہ شرط پوری کردو۔ تو میں ایک ماہ کے بعد ایک اچھی بیوی کی طرح تمہاری تابع فرمان بن کر بقیہ زندگی بسر کروں گی۔ خاوند نے فوراً ہی یہ مان لی۔ اس نے سوچا یہ کون سا مشکل کام ہے۔ ایک ماہ کی تو بات ہے۔ اس کے بعد میں بھیک مانگنا چھوڑ کر ایک اچھے انسان کی طرح اپنی زندگی گزارنا شروع کردوں گا۔ چنانچہ اس نے اسی دن سے بھیک مانگنا شروع کر دیا۔ پہلے دو تین دن تو وہ کسی ایک گھر کے دروازے پر جاکر کچھ کھا نے کے لیے مل جائے کی صدا لگاتا۔

اور اگر اسے وہاں سے روٹی مل جاتی۔ تو وہ وہیں بیٹھ کر کھا لیتا۔ اور گھر واپس آ جاتا۔ ایک دن اس نے سوچا۔ کہ مانگ کر ہی کھانا ہے تو دوچار گھروں سے اور مانگ لینا چاہیے۔ چنانچہ اگلے دن اس نے کئی گھروں سے خیرات اکٹھی کی۔ گھر آ کر کھانے پینے کی چیزیں علیحدہ کیں۔ اور جنہیں بیچا جاسکتا تھا۔ انہیں علیحدہ کر لیا۔ کھانے کے لیے انواع و اقسام اور مزے مزے کی کئی ڈشیں تیار ہو گئیں۔ جنہیں اس نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اور بقیہ چیزوں کو بازار میں بیچ کر پیسے کھرے کیے۔

اور بڑی احتیاط سے گن کر پلو میں باندھ لیے۔ اگلے دن وہ علی الصبح گھر سے نکلا۔ اور سارا دن بغیر کسی وقفے کے گھر گھر مانگتا رہا۔ شام کو گھر واپس آ کر بھیک میں ملے ہوئے انواع و اقسام کے کھانے کھائے۔ اور مونچھ مروڑ کر بقیہ سامان کو بازار میں فروخت کرنے نکل گیا۔ آج کل سے زیادہ رقم اس کے ہاتھ آئی۔ کیوں کہ اس نے محنت جو زیادہ کی تھی۔ اس نے کل والی رقم کو پلو سے کھول کر دوبارہ اچھے طریقے سے اس کی گنتی کی۔ آج والی رقم کو اس میں شامل کر کے دوبارہ کل رقم کا شمار کیا۔ اور اسے پھر پلو سے باندھ لیا۔ اب تو وہ دنیا مافیہا سے بے خبر ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ اس کام میں غرق ہو چکا تھا۔

وہ سارا دن بھیک مانگتا۔ شام کو اسی بھیک میں سے ملنے والی اشیائے خوردنی کو الگ کر کے ایک فائیو سٹار وی آئی پی قسم کا کھانا کھاتا۔ اور مونچھ کو تاؤ دے کر بقیہ سامان بازار میں فروخت کرنے چلا جاتا۔ وہ ہر روز اپنے پلو میں جمع ہونے والی رقم کو شمار کر کے جی ہی جی میں خوش ہوتا رہتا۔ کہ اس کے اکاؤنٹس میں بڑی تیزی کے ساتھ معقول اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب وہ آدمی یہ بات بھول چکا تھا۔ کہ اس نے یہ کام کس غرض و غایت کے پیش نظر شروع کیا تھا۔

غرض کہ ایک ماہ کا مقررہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی جب اس کے معمولات میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اس کی بیوی نے اس سے کہا۔ کہ بھلے مانس تم نے میری شرط اس سے کہیں بڑھ کر پوری کی۔ جیسے میں چاہتی تھی۔ اب ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے۔ اور تم اپنے امتحان میں پورے اترے ہو۔ آؤ اب ہم تم دونوں ہی پرانی علتوں کو بھلا کر نئے طریقے سے ایک باعزت اور باوقار زندگی کا آغاز کریں۔ تم بھیک مانگنا چھوڑ کر باہر سے رزق حلال کما کر لایا کرو۔

اور میں گھر کے اندر تمہارے لیے سکون اور آسانیاں فراہم کرنے کی کوشش کروں گی۔ اور بچوں کی بھلے طریقے سے پرورش کروں گی۔ وہ آدمی ٹکر ٹکر اپنی بیوی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جیسے کہ اسے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ جب اس عورت نے اپنی بات ختم کی۔ تو وہ بولا۔ اب مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے۔ کہ تم کیا کرتی ہو۔ کہاں جاتی ہو۔ یا تمہارے پاس کون آتا ہے۔ تم جو جی چاہے کرتی رہو۔ اب میں تم سے کوئی تعرض نہیں کروں گا۔

تم اپنا سابقہ چلن چھوڑو یا نہ چھوڑو۔ لیکن میں بھیک مانگنا نہیں چھوڑ سکتا۔ اب تمہاری بجائے یہ زندگی بھر میرے ساتھ نبھے گی۔ اس حکایت سے یہ بات سامنے آتی ہے۔ کہ جونہی بھیک کے ٹکڑے انسان کے پیٹ میں اترتے ہیں۔ اس کے وجود سے غیرت اور حمیت رخصت ہوجاتی ہے۔ اور جو شخص ایک بار بھیک کے ٹکڑوں پر پلنے کا عادی ہو جائے۔ وہ بقیہ زندگی کوئی باعزت اور باوقار پیشہ اپنانے کا نہیں سوچتا آج وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ہوئے پچھتر برس گزر چکے ہیں۔

اس عرصے میں ہم نے قومی معیشت کی بحالی کے لیے کوئی پالیسی ترتیب دی نہ کوئی پروگرام بنایا پچاس کی دہائی میں خیرات میں ملی ہوئی امریکی گندم کو کراچی کی بندر گاہ سے شہر لانے والے اونٹوں کے گلے میں شکریہ امریکہ کی تختیاں لٹکا کر ہم نے اسی وقت ساری دنیا کو اپنی معاشی پالیسی کے بنیادی خدو خال کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ اور ماشاء اللہ آج تک اسی

زرین پالیسی پر بڑی مستقل مزاجی سے رواں دواں ہیں۔ بھیک اور خیرات کے بعد جو تیسرا عنصر ہماری قومی معیشت میں شامل ہوا۔ وہ غیر ملکی قرضہ جات تھے۔ ان بیرونی قرضہ جات کو بھی ہم شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کرتے گئے۔ اور ان کی واپسی کے لیے نہ کوئی پالیسی بنائی۔ نہ پروگرام ترتیب دیا۔ ہم عالمی ساہوکاروں سے سود پر قرض لیتے۔ اگلے سال اس کا سود چکانے کے لیے پہلے سے زیادہ اور کڑی شرائط پر پھر قرض لیتے

ہم کبوتر کی طرح مستقبل کے خطرات سے آنکھیں بند کر کے یہی کھیل کھیلتے رہے۔ اور ہنوز اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ہمارے معیشت کے ماہر تجربہ کار اور کاریگر وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار صاحب کے بیانات اور منصوبہ بندی کو دیکھ لیں۔ بنیادی اصول آج بھی یہی ہے۔ اتنے بلین ڈالر کے قرضے فلاں فلاں ملک رول اوور کر دیں گے دبئی اور سعودی عرب سے اتنے بلین ڈالر کشکول میں آنے کی امید ہے۔ موجودہ بجٹ میں بیرونی قرضہ جات کے سود کی ادائیگیاں ہماری کل آمدنی کے قریب قریب ہی جا بنتی ہیں۔

اس صورت حال سے کیسے نمٹا جائے گا کوئی پروگرام نہیں۔ بلکہ اب تو موصوف نے بھی وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے کے مصداق سارے معاشی معاملات ایک اچھے مسلمان کی طرح اللہ کے ذمے لگا دیے ہیں وہ جانے اور اس کا کام۔ اور وہ خود کنارے پر بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ بجٹ اس طرح پیش کیا گیا ہے۔ جیسے کہ ہمیں ہفت اقلیم کے خزانوں پر دسترس حاصل ہے۔ میں ماہر معاشیات نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ کسی بھی مالی مشکلات میں پھنسے ہونے گھر کو مسائل سے نکالنے کے لیے صرف ایک ہی طریقہ ہوتا ہے کہ اس گھر کے اخراجات کم سے کم کیے جائیں۔

اور آمدنی زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ جبکہ ہماری ساری کی ساری توانائیاں مزید قرضوں کے حصول اور سابقہ قرضوں کے رول بیک پر صرف کی جا رہی ہیں ایسا کب تک چلے گا۔ اگر اس سال کچھ پکڑ پکڑا کر کام چلا بھی لیا۔ تو اگلے سال کیا ہو گا۔ یہ بھی بلین ڈالر کا سوال ہے۔ وزارت خزانہ کے قلم دان کے حصول کے لیے ڈار صاحب کی کی گئی خود ستائشی اور خود نمائشی اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات تھی۔ میں سب جانتا ہوں آئی۔ ایم۔ ایف سے نمٹ لوں گا۔ ڈالر کو دو سو پر لاؤں گا۔ ملکی معیشت کو کنٹرول کرنا کوئی بڑی بات ہی نہیں میں تجربہ کار ہوں

لیکن ان کا تجربہ بھی پی ڈی ایم کی تجربہ کار ٹیم جیسا ہی نکلا۔ اس تجربے نے ان کی ذات کو کس قدر فائدہ پہنچایا ہے۔ اس بات کا تو ہمیں علم نہیں ہے۔ لیکن وطن عزیز کی معیشت کا بیڑہ غرق کیے بیٹھے ہیں۔ اور اس پر طرہ امتیاز یہ ہے کہ کوئی شرمندگی اور ندامت کا اظہار نہیں۔ روایتی پنجابی فلموں کا کے ولن جیسی بڑھکیں پورے شد و مد سے آج بھی جاری و ساری ہیں۔ بلکہ اب تو وہ مژدہ جانفزا سنا رہے تھے۔ کہ آئی ایم ایف ہمارے ڈیفالٹ ہونے کے بعد ہم سے بات کرے گا گو گویا کہ ڈیفالٹ ہونا ان کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں۔ اور قوم کو بھی اس کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے

وزیر اعظم کو چاہیے کہ اس بات پر ان سے وضاحت طلب کریں۔ لیکن وہ تو خود ایک ایسی بے پتوار کشتی پر سوار میں۔ جس کی سمت اور رفتار کو کنٹرول کرنا ان کے اختیار سے باہر ہے۔ وہ تو آج کل بس واقعہ 9مئی کی نوحہ گری میں مصروف ہیں وہ اکیلے ہی نہیں بلکہ وطن عزیز کے بیشتر ادارے اور طبقے ایک ہی سر تال اور لے میں بڑی شد و مد کے ساتھ اسی مقدس فریضے میں مصروف ہیں۔ باقی حالات کی سنگینی کا نہ ہی تو کسی کو احساس دکھائی دے رہا ہے۔ اور نہ ہی اس کے لیے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے۔ کہ سب طبقوں اور مقتدروں نے اسحاق ڈار کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ان تمام مشکلات پر قابو پانے کی تمام تر ذمہ داری اللہ میاں پر ڈال دی ہے۔ اب وہ جانے اور اس کا کام۔ بس۔ اللہ اللہ اور خیر صلا۔ لیکن قدرت کے قوانین اٹل ہیں۔ قدرت از خود کسی قوم کی حالت تبدیل نہیں کرتی۔ جب تک وہ قوم خود اس کے لیے جد و جہد نہ کرے۔

دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام۔ کشتی کسی کی پا ر ہو۔ یا درمیاں رہے

Facebook Comments HS