شندور میلہ کیلنڈر ایونٹ اور مقامی ثقافت کی نظر اندازی


کسی بھی علاقے میں منائے جانے والے مقامی تہوار کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ ان تہواروں کی وجہ سے علاقے کی پہچان، زبان و ثقافت کی ترقی اور آپس میں بھائی چارے کا رشتہ قائم رہتا ہے۔ یہیں مقامی میلے اور جشن ہوتے ہیں جن میں علاقے کے مقامی لوگوں کو اپنی روایات، ثقافت اور ادب کو دوسرے قوموں کے سامنے پیش کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔ ان میلوں سے مقامی گلوکاروں اور فن کاروں کی پہچان بنتی ہے اور ان کو پروان چڑھنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔

چترال کے لوگوں کی طرف سے کافی کوششوں کے بعد جشن شندور کو کیلنڈر ایونٹ میں شامل کیا گیا تو مقامی لوگ بہت خوش تھے کہ ایک مقامی تہوار کو ملکی سطح پر شناخت مل گئی۔ اس بہانے مقامی کلچر اور فنکاروں کو پذیرائی مل جائے گی، اور یہ جشن بغیر تعطل کے سالانہ منعقد ہوتا رہے گا۔ لیکن اس کے بعد جو رویہ اس مقامی تہوار کے ساتھ روا رکھا گیا بیان سے باہر ہے۔ کیلنڈر ایونٹ میں شامل ہونے کے بعد یہ میلہ سالانہ منعقد تو ہوتا ہے لیکن اس کی مقامی شناخت اس سے چھن گئی ہے اور مقامی زبان و ثقافت کا رنگ اس میلے میں کم ہونے سے علاقے کے لوگوں کی جوش جذبہ اور دلچسپی بھی کم ہو گئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مقامی لوگوں اور مقامی انتظامیہ کو اس ایونٹ کی منصوبہ بندی میں شریک نہ کرنا ہے اور اسی عمل کا اثر کھو زبان و ثقافت پر بہت ہی منفی پڑ رہا ہے۔

سطح سمندر سے 12205 فٹ کی بلندی پر واقع شندور پاس ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے۔ یہ علاقہ چترال کے بالائی گاؤں لاسپور کے مکینوں کی گرمائی چراگاہ بھی ہے۔ اس علاقے کی خوبصورتی کی خاص وجہ شندور پاس میں موجود صاف شفاف قدرتی جھیل اور اس سے متصل قدرتی پولو گراؤنڈ ہے جو پوری دنیا میں سطح سمندر سے اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔ شندور کی خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شندور میں موجود اس قدرتی پولو گراؤنڈ کا نام ہی مقامی زبان میں مہوران پڑ ( پریوں کا مسکن ) ہے۔ اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر جنرل ضیاء کے دور میں اس مقام پر چترال سکاوٹس کے لیے ایک چھاؤنی بھی تعمیر کی گئی ہے۔ اس چھاؤنی میں چترال سکاوٹس کے جوان سال کے بارہ مہینے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں۔

شندور میلے کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ لیکن اس میلے کی معلوم تاریخ کے مطابق 1935ء میں شمالی علاقوں کے لیے برطانوی پولیٹکل ایجنٹ مسٹر کاب جو پولو کے بہت شوقین تھے۔ انہوں نے شندور میں چترال اور گلگت کے ٹیموں کے درمیاں میچ کھیلنے کا اہتمام کرایا۔ اس کے بعد سے یہ میلہ منعقد ہوتا آ رہا ہے۔ اس میلے کی خاص بات چترال اور گلگت کے ٹیموں کے درمیاں فری سٹائل پولو کا مقابلہ ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے اس میلے کی سرپرستی مہتران چترال اور گلگت کے راجہ گان آپس کی مشاورت سے کرتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد یہ میلہ سرکاری سرپرستی سے محروم رہا، تب چترال کے مقامی لوگ خاص کر کے علاقہ لاسپور اور گلگت بلتستان غذر کے باسی اس میلے کو منعقد کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

جب یہ میلہ مقامی طور پر منایا جاتا تھا تو اس میلے میں فری سٹائل پولو کے ساتھ ساتھ موسیقی کا پروگرام، شعر و شاعری، رسہ کشی، نشانہ بازی، گدھا پولو کے علاوہ اور بھی بہت سارے مقامی کھیل شامل ہوتے تھے۔ چترال کے لوگ گلوکار، مقامی گائیک، کھیلوں کے کھلاڑی یہاں پر سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔ روایتی لوک گیت گائے جاتے، ، سٹیج پر مقامی فنکار، پولو پلیر براجمان ہوتے، اس میلے سے مقامی گلوکار، رقاص اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔ صبح کے وقت پولو کھیلا جاتا، دو پھر کو دوسرے مقامی کھیل منعقد ہوتے اور رات کو لوک گلوکار پھوم براش (bonfire ) کی روشنی میں پروگرام منعقد کر کے میلے میں شرکت کرنے والوں کو محظوظ کرتے۔ میلے کی پوری رونق ان لوگوں سے ہوتی۔ یوں مقامی انتظامیہ اور مقامی لوگوں کی کمیٹی کے تعاون سے یہ میلہ منعقد ہوتا۔

1980 ء کے بعد صوبائی حکومت نے جشن شندور کو کیلنڈر ایونٹ میں شامل کیا ہے تو اس میلے کی مقامی ثقافتی رنگا رنگی ختم ہو گئی ہے۔ میلے کی منصوبہ بندی پشاور میں ہوتی ہے چترال کی نمائندہ گی کے لیے چترال سے ایک انتظامی افسر کو بلایا جاتا ہے وہ بھی ان ہی کا نمائندہ ہوتا ہے مقامی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ مل کر تاریخ کا تعین کیا جاتا ہے اور افسرشاہی کے زور پر یہ میلہ منعقد ہوتا ہے۔ میلے سے کئی دن پہلے شہر اقتدار سے لوگوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے، بھاری بھرکم گاڑیوں میں افسران بالا جا رہے ہوتے ہیں اور آرہے ہوتے ہیں۔

شندور میں مقامی انتظامیہ ان کی خدمت میں لگ جاتا ہے ۔ صوبائی اور وفاقی اداروں کے اپنے اپنے مہمان ہوتے ہیں۔ ان اداروں کے مہمانوں میں افسران بالا کی فیملی والوں سے لے کر ان کے رشتہ دار یار دوست تک شامل ہوتے ہیں۔ شندور میں مختلف جگہوں میں حصار بنا کے ان کے اندر ان لوگوں کو ہر وہ سہولت دی جاتی ہے جو شہروں میں ان کے گھروں میں میسر ہوتے ہیں۔ یہاں پر سوال ان کے یہاں پر آنے کا نہیں ہے۔ لیکن یہ سب خرچے شندور کے لیے منظور شدہ بچت سے ہو رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ پیسے پولو کے کھلاڑی، مقامی فنکاروں اور مقامی جشن میں ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں پر خرچ ہونا چاہیے۔ ظلم یہ ہے شندور میلے میں حصہ لینے والے پولو پلیئرز کو اتنا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے گھوڑے کو شندور تک لے جانے اور لینے آنے اور شندور میں کچھ دن رہنے کا ان کا خرچہ پورا ہوں۔

میلے کے اول روز سے آخر تک خٹک ڈانس، سکاوٹس کے بینڈ اور آرمی کے جوان ہوتے ہیں۔ پیراشوٹ اڑائے جاتے ہیں کمانڈوز اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ رات کو پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں۔ باہر سے گائیک بلوا کر ان سے موسیقی کا پروگرام منعقد کرایا جاتا ہے ، بس میلہ ختم اور پیسہ ہضم۔

اس میلے کے دوران جب بندہ مقامی ہوکے سوچتا ہے تو صرف ایک پولو میچ کے علاوہ کسی بھی سرگرمی میں مقامی رنگ غالب نہیں ہوتا۔ ساری سرگرمیاں چترال سے باہر کے آئے ہوئے مہمان سرانجام دیتے ہیں۔ اس میلے میں مقامی لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور نہ مقامی فنکاروں اور موسیقاروں کو موقع دیا جاتا ہے ۔ یہیں وجہ ہے چترال کے باسی اس میلے میں اجنبی بن کے رہ گئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مقامی انتظامیہ کا کردار اس ایونٹ میں نہ ہونے کی وجہ سے باہر سے لائے ہوئے سکیورٹی کے اہلکار مقامی لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں۔

اٹھتے بیٹھتے تماشائیوں کو تنگ کرتے ہیں، کھیل شروع ہونے سے تین گھنٹے پہلے تماشائیوں کا گراؤنڈ میں داخلہ بند کر دیا جاتا ہے ۔ گراؤنڈ میں موبائل لے جانے اور پانی کے بوتل تک ساتھ لے جانے کی پابندی ہوتی ہے۔ میلے کے تین دن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بندہ چترال جیسے پرامن علاقے میں میلہ دیکھنے نہیں بلکہ وار زون میں آ گئے ہوں۔ مقامی بندہ سٹیج سے دور مٹی یا پتھر کے اوپر بیٹھ کر بھی آرام سے میچ نہیں دیکھ سکتا۔

کسی بھی میلے کو کیلنڈر ایونٹ میں شامل کرنے کا مطلب سیاحت کا فروغ ہے۔ اگر اس ایونٹ کا مطلب علاقے میں سیرو سیاحت کو فروغ دینا ہے تو اس کے لیے مقامی انتظامیہ اور علاقے کے لوگوں سے مل کر نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ اس ایونٹ میں مقامی ثقافت اور زبان و ادب کو نمائندہ گی دینا ہوگی۔ مقامی ثقافتی سرگرمی لوگوں کو دکھانا ہوگی تاکہ چترال سے باہر کے آئے ہوئے سیاحوں کو بھی مقامی لوگوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملے۔

وہ خوبصورت علاقے کی سیر کے ساتھ ساتھ مقامی ثقافتی رنگ کا لطف اٹھا سکے۔ سکیورٹی کے بے جا پابندی سے مقامی لوگ ہی نہیں بلکہ بیرونی چترال سے تشریف لانے والے سیاح بھی گھبرا جاتے ہیں۔ یہ سارے مسائل اصل میں علاقے سے نابلد، مقامی ثقافت سے نا اشنا منتظمین کی پیدا کردہ ہے۔ ورنہ چترال جیسے پرامن علاقے میں مقامی انتظامیہ کی مدد سے بہت ہی احسن طریقے سے یہ میلہ منعقد جا سکتا ہے۔

کیلنڈر ایونٹ کا مطلب ایک میلہ یا جشن یا کسی سرگرمی کو حکومت کی سرپرستی میں لاکر بہتر طور پر اس سرگرمی کو منعقد کرنا ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ کچھ پیسے خرچ کر کے پوری ایونٹ کو ہی ہائی جیک کر لیا جائے اور مقامی لوگوں کا تعلق ہی اس سرگرمی سے ختم کر دیا جائے۔ اگر بچت شندور میلہ کے نام پر ایک مقامی ایونٹ کو منعقد کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں تو اس ایونٹ کو مقامی ثقافتی رنگ کے اندر رہتے ہوئے منعقد کرنا چاہیے۔

اس میں مقامی فنکار شریک ہوں، مقامی کھلاڑیوں کے لیے مالی فائدہ ہوں۔ مختلف قسم کی مقامی کھیلوں کا فروغ ہوں، اس میلے سے مقامی زبان ثقافت کی ترقی میں مدد ملے۔ اگر شندور جیسے مقامی تہوار میں بھی ایک مقامی گائیک کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے وقت نہ ملے اور نہ اس میلے کی بچت سے مقامی فنکاروں کو کچھ فائدہ ہو، ساتھ اس میلے سے علاقے کی ثقافتی رنگ کو بھی ختم کر دیا گیا ہو۔ اس طرح سے یہ شہری بابوؤں کے لیے وقت گزاری کا ایک اچھا موقع تو ہو گا لیکن مقامی لوگ اس سے دن بدن دور ہوتے رہیں گے اور یہ کیلنڈر ایونٹ کے نام پر مقامی ثقافتوں کو ختم کرنے کی نادانستہ طور پر ایک کوشش سمجھی جائے گی۔ اور ہاں یہ بھی سنا ہے شندور فیسٹیول 2023کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کر دیے گئے ہیں اور یہ میلہ اس سال 7 سے 9 جولائی کو منعقد ہو گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “شندور میلہ کیلنڈر ایونٹ اور مقامی ثقافت کی نظر اندازی

  • 20/06/2023 at 11:49 شام
    Permalink

    قابل تعریف
    ایک بہت ہی اہم مسئلے کو اپ نے احسن طریقے سے پیش کیا ہے ۔

Comments are closed.