اردو افسانے کا دوسرا جنم
اردو افسانہ دوسری اصناف ادب کی نسبت ایک نووارد صنف سخن ہے جس کا ظہور گزشتہ دہائی میں مغربی ادب کے توسل سے ہوا۔ اس صنف کی خوش بختی کہ اسے اردو میں ابتدا ہی سے پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، رشید جہاں ایسے نابغہ روزگار تخلیق کار میسر آئے جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے یہ صنف ادب میں مرکزیت اختیار کر گئی۔ جدید فکری رویے، فنی میلانات، ثقافتی و تہذیبی تغیرات اور لسانی ڈھانچے جس طرح افسانے میں رچے بسے ملتے ہیں ایسے کسی اور صنف میں شاذ و نادر ہے۔ اسی لیے آج بھی افسانہ مقبول ترین اصناف فکشن کے استھان پر شان و شوکت سے براجمان ہے۔
اردو افسانے کے دور اول میں پریم چند، سجاد حیدر یلدرم، علامہ نیاز فتح پوری، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، رشید جہاں، عصمت چغتائی، سدرشن نے زندگی کی خوبصورتیوں اور تلخیوں کے مختلف رنگوں سے افسانوی ادب کے کینوس کو رونق اور وسعت بخشی۔ انہوں نے رومانویت اور حقیقت پسندی کے امتزاج سے اردو افسانے کی ایک پائیدار بنیاد رکھی جس پر آنے والے دور میں ایک بلند بالا اور پرشکوہ عمارت تعمیر ہوئی۔
”اردو افسانے کا دوسرا جنم“ کے نام سے حال ہی میں ڈاکٹر خاور نوازش اور ڈاکٹر عبد العزیز ملک کی ایک بھرپور تصنیف منظر عام پر آئی ہے۔ یہ کتاب فکشن ہاؤس لاہور نے نہایت دیدہ زیب انداز میں شائع کی ہے۔ کتاب کا انتساب سعادت حسن منٹو کے نام ہے۔ اور ”اردو افسانہ: ابتدا سے مابعد جدید عہد تک“ کے نام سے مرتبین نے اردو افسانے پر ایک پرمغز تحریر سپرد قلم کی ہے جو اردو افسانے اور اس انتخاب میں شامل افسانہ نگاروں کے فن کے حوالے سے خاصے کی چیز ہے۔
اس کتاب میں افسانے کے دوسرے اہم دور جہاں اس کی اٹھان پہلے دور کے متوازی نظر آتی ہے، سے پانچ افسانہ نگاروں کا انتخاب کیا گیا ہے اور اس دور کو اردو افسانے کے دوسرے جنم سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس پانچ تخلیق کاروں میں سریندر پرکاش، اسد محمد خان، نیر مسعود، منشا یاد اور رشید امجد شامل ہیں۔ ہر افسانہ نگار کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ”عکس اور خیال“ کے عنوان سے افسانہ نگاروں کے سوانحی کوائف پر تین تین تحریریں منتخب کی گئی ہیں، ”منتخب افسانے“ کے عنوان سے تین نمائندہ افسانوں کا انتخاب کیا گیا ہے اور ”انتقاد“ کے ذیل میں ہر افسانہ نگار پر بارہ تنقیدی مضامین منتخب کیے گئے ہیں۔ یوں قارئین کو ہر ایک افسانہ نگار کی زندگی اور فن سے بھرپور انداز میں متعارف کرا یا گیا ہے۔
سریندر پرکاش کے تین افسانے (دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم، بجوکا اور باز گوئی) منتخب کیے گئے ہیں اور تنقید میں گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، مہدی جعفر، انوار احمد، شہزاد منظر، اسلم جمشید پوری، اعجاز راہی، نثار احمد، انور خان، جمیل اختر محبی، رخسانہ پروین اور زاہد امروز جیسے نابغہ روزگار ناقدین کے مضامین کا منتخب کیے گئے ہیں۔ اسد محمد خان کے افسانے ”باسودے کی مریم“ ، ”ترلوچن“ اور ”غصے کی نئی فصل“ اس کتاب کا حصہ بنے ہیں اور تنقیدی تحریروں میں سید مظہر جمیل، محمد حمید شاہد، مبین مرزا، حمیرا اشفاق اور عبد العزیز ملک جیسے نامور ناقدین کے مضامین منتخب کیے گئے ہیں۔
تیسرے افسانہ نگار نیر مسعود ہیں جو اردو افسانہ کے ایک منفرد، انوکھے اور بظاہر مشکل افسانہ نگار ہیں۔ ان کے تین معروف افسانے ”طاؤس چمن کی مینا، بائی کے ماتم دار“ اور ”گنجفہ“ منتخب کیے گئے ہیں۔ منشا یاد کے تین افسانے ”ماس اور مٹی“ ، کچی پکی قبریں ”اور“ تماشا ”اس انتخاب کی زینت ہیں۔ آخری افسانہ نگار رشید امجد جو اردو کے علامتی افسانے کے حوالے سے بڑا نام ہیں، کے تین افسانے“ بیزار آدم کے بیٹے ”، گملے میں اگا ہوا شہر“ اور ”ست رنگے پرندے کے تعاقب میں“ اس انتخاب میں شامل ہیں۔
اس انتخاب کو حسن انتخاب سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ افسانہ نگاروں کے انتخاب سے لے کر ان کی افسانے، سوانح اور انتقاد میں مرتبین کی کڑی محنت صاف نمایاں ہوتی ہے۔ اس انتخاب کو دیکھ کر دو تین اور بڑے افسانہ نگاروں کے نام ذہن میں گونجتے ہیں جنہیں اس انتخاب کا حصہ ہونا چاہیے تھا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس انتخاب میں موجود پانچوں افسانہ نگاروں کے موضوعات، اسلوب اور ڈکشن ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ اگر کسی اور نامور یا اہم افسانہ نگار کو شامل کیا جاتا تو قوس قزح کے ان رنگوں میں سے شاید کسی ایک رنگ کی کمی یا تکرار سے حسن کا توازن بگڑ جاتا۔


