ناول انکشاف (4)

عبدالشکور جب کوچہ رحیم جان میں جس جگہ عبدالشکور کا گھر واقع تھا، وہ جگہ نہایت تاریک اور حبس زدہ تھی۔ یہاں زیادہ تر گھر سکھ برادری کے تھے، جو تقسیم کے وقت یہاں سے ہندوستان چلے گئے تھے، اور اب یہ گھر ان کی جگہ وہاں سے آئے ہوئے لٹے پٹے خاندانوں کو الاٹ ہوچکے تھے۔ ایک مختصر سی گلی تھی، جہاں دس مکان آمنے سامنے واقع تھے۔ گلی کسی زمانے میں کچی تھی، جس کو اس کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت خشت و سنگ ڈال کر پختہ کر لیا تھا، تاکہ بارش کی صورت میں چلنا بھی آسان رہے اور پانی کی نکاسی کا بھی مناسب انتظام رہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ کچھ لوگوں نے پرانے مکانات گرا کے، اب ان کی جگہ نئے مکانات بنا لیے تھے، مگر پھر بھی ایک دو گھر ایسے تھے، جن کی عمارت نہایت شکستہ اور سیلن زدہ تھی۔ برسات اور دیگر بارشوں کے موسم میں چھت جگہ جگہ سے ٹپکتی رہتی اور مکین سامان کو اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہوئے ہی پوری برسات اور بارش کے موسم گزار دیتے۔ عبدالشکور کے گھر سے متصل ایک خالی پلاٹ پڑا تھا، جہاں کیکر اور پھلاہی کے درختوں کے ساتھ ساتھ دیگر جنگلی نباتات کی بھی بہتات تھی۔ کہتے ہیں اس جگہ کا مالک یہاں عالیشان گھر بنوانا چاہتا تھا، مگر پھر نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ وہ یہاں سے کسی دوسرے شہر جا بسا اور یہ خالی پلاٹ وہیں کا وہیں رہ گیا۔ محلے والے اب یہاں کوڑا کرکٹ پھینکتے، جبکہ بچے درختوں کے ساتھ جھولے لے کر اپنے دن گزارتے۔
عبدالشکور جب گھر میں داخل ہوا تو محلے کی چند بیبیاں صحن میں دری بچھائے، پھوڑی کے لئے بیٹھی تھیں۔ گھر کے داخلی دروازے کے آگے ڈیوڑھی تھی، جس کی دیواروں سے دو تین جگہ اینٹیں اکھڑ کر گر چکی تھیں۔ اس وقت رات اپنے پورے جوبن پر تھی اور ڈیوڑھی میں روشنی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مکمل اندھیرا تھا۔ صحن میں البتہ بجلی کا ایک بلب جل رہا تھا، جس کی روشنی میں محلے کی خواتین سوگ کے لئے آئی بیٹھی تھیں۔ دری کے اوپر بوسیدہ سی سفید چادر بچھی تھی، جس کے اوپر کھجور کی گٹھلیاں اوراد و وظائف کے لئے رکھی ہوئی تھیں۔
گھر میں خاموشی کا عالم تھا اور حبس کی وجہ سے پسینہ ماتھے سے ایڑی تک بہہ رہا تھا۔ ایک دو خواتین تسبیح خوانی میں مصروف جبکہ باقی آپس میں گپ شپ کر کے وقت گزار رہی تھیں۔ ”ارے اس رشیدہ کو دیکھو، کیسی تسبیح ہاتھ میں لیے حاجن بنی بیٹھی ہے۔ اور شوہر کو دیکھو وکیل کا منشی بن کر لوگوں کو لوٹ رہا ہے“ ۔ رخسانہ نے سرگوشی کے انداز میں رشیدہ کو دیکھتے ہوئے، ایمن کے کان میں جب یہ بات کی تو ایمن نے دونوں کان ہاتھوں سے لگا کر استغفار پڑھی۔
”بس بہن اب اسی منافقت کا زمانہ ہے۔ وہ کیا خوب کسی نے کہا ہے کہ راضی رہے رحمان بھی اور خوش رہے شیطان بھی“ ۔ ایمن نے بھی بات کی تائید کی۔ ”اب تو بہن زمانہ ہی ایسا آ گیا ہے۔ لوگوں کے اندر سے حرام، حلال کی تمیز ہی اٹھ چکی ہے“ ۔ ایک تیسری خاتون نے کھجور کی گٹھلیوں پہ اپنا وظیفہ پڑھتے ہوئے لقمہ دیا۔ ”بس اللہ ہمیں حرام سے بچائے۔ آخرت بڑی سخت ہے بہن۔ وہاں کوئی مال پیسہ کام نہیں آئے گا“ ۔ ایمن نے آسمان کی جانب دیکھ کر جواب دیا۔
رشیدہ ان کی باتوں سے بے نیاز تسبیح خوانی میں یوں مصروف تھی کہ گویا اس کی ایک سانس بھی ذکر سے اگر خالی گئی تو بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔ ان کی گفتگو شاید اور آگے بڑھتی مگر اس سے پہلے عبدالشکور گھر میں داخل ہو چکا تھا۔ عبدالشکور کو دیکھ کر سب پہلو بدل کر بیٹھ گئیں اور وظائف میں ایسے مشغول ہو گئیں کہ جیسے کوئی سالک چلہ گاہ میں چلہ کاٹتے ہوئے وظیفہ پڑھ رہا ہو۔
وہ جب ڈیوڑھی سے گزر کر آگے صحن میں داخل ہوا، تو غمگین سی نگاہ کے ساتھ تمام گھر کا یوں جائزہ لیا، جیسے اس کی نگاہیں کسی کی تلاش میں ہوں۔ گھر میں دو کمرے تھے، جو آج دونوں ہی بند تھے۔ صحن میں بھی اجنبیت کا عالم تھا اور عبدالشکور کا دل اس غم سے شیشے کی طرح کرچی کرچی ہو کر ٹوٹ رہا تھا۔ یہ کرچیاں اس قدر زیادہ تھیں کہ کوئی ان کو چن کر سنبھالنا چاہتا بھی تو سنبھال نہیں سکتا تھا۔ اس کا دل شدت سے اس بات کا متمنی تھا کہ کاش!
اس موقع پر کوئی اس کا اپنا ہوتا، جو اس کو گلے لگا کر، اس کے آنسو پوچھتا۔ مگر اس وقت گھر میں چند محلے داروں کے سوا، کوئی بھی اپنا موجود نہ تھا۔ وہ غم کی شدت اور درد کی وجہ سے چاہتا تھا کہ کسی اپنے کے کندھے پہ سر رکھ کر اس قدر روئے کہ سارا اندر کا رکا ہوا غم آنسوؤں کے ساتھ باہر نکل کر بہہ جائے۔ عبدالشکور کی آنکھوں میں تاسف، سینے میں جواں بیٹے کی موت کا غم، دماغ میں تنہائی کی وحشت اور خیالات میں مستقبل کے انجانے اندیشے یوں پھن پھیلائے اسے ڈرا رہے تھے، کہ وہ بار بار اپنے سر کو جھٹک کر ان سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتا، لیکن کچھ دیر بعد یہی چیزیں دوبارہ عود کر اپنی جگہ پر واپس آ جاتیں اور اسے ڈراؤنے خواب کی طرح ڈرانے لگ پڑتیں۔

