کراچی میں جماعت اسلامی کی شکست: جوش ملیح آبادی کی نظر میں

ادیب معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں، یہ وہ سب قبل از وقت دیکھ لیتے ہیں جن حقائق تک ایک عام آنکھ کی رسائی نہیں ہوتی، بانی جماعت اسلامی ابوالاعلی مودودی کی جوش ملیح آبادی کے ساتھ کافی قربت رہی، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”جوش سے زیادہ جماعت اسلامی یا ان کے منشور کو کون جانتا ہو گا“ ؟
1971 کے انتخابات میں جماعت اسلامی کو بری طرح سے شکست ہوئی جبکہ پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئی تھی۔ جوش نے جماعتی ناکامی کا نقشہ انتہائی خوبصورت الفاظ میں کھینچا تھا، انہوں نے وہ سب باتیں جماعتی مائنڈ سیٹ کے حوالے سے آج سے تقریباً پچاس سال قبل لکھ ڈالیں تھیں جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں، جوش نے بہت عرصہ پہلے کہہ دیا تھا کہ
” یہ لوگ اندھیروں کے بیوپاری ہیں، عقل و شعور سے انہیں کیا غرض“ ؟
1971 کے انتخابات کے پس منظر میں لکھتے ہیں کہ
”پیپلز پارٹی کا یہ پیمان تھا کہ اگر تم یعنی“ عوام ”ہم کو برسراقتدار لے آؤ گے تو ہم تمہارے واسطے روٹی، کپڑے اور مکان کا بندوبست کر دیں گے۔ ادھر تھے یعنی“ جماعتی صالحین ”حور، انگور اور غلمان۔ ادھر تھا روٹی کپڑا اور مکان، گمان غالب یہ تھا کہ مسلمان چونکہ دنیا بے زار اور عقبی پرستار ہے۔ لیکن ووٹوں کا جب شمار کیا گیا تو یہ معلوم کر کے حیرت ہو گئی کہ“ ایمان بدوش ”جماعت اسلامی کو شکست کے کھڈ میں گرا دیا گیا ہے اور“ کافر ”پیپلز پارٹی کو مینارہ فتح پر جگہ دی گئی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اب مسلمان نرا جذباتی اور وہم پرست نہیں رہا ہے اور اس کی کھوپڑی میں عقل کی روشنی پہنچ گئی ہے اور وہ علماء کرام کے چوہے دان سے باہر نکل آیا ہے۔ اگر“ حامل کفر ”پیپلز پارٹی ہار اور“ محمل ایمان ”جماعت اسلامی جیت جاتی تو آپ جانتے ہیں کہ بے چارے پاکستان پر کیا آفت ٹوٹ پڑتی؟
حضور والا، یہاں کے تمام بینک بند کر دیے جاتے، درآمد و برآمد کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا، تسخیر ارض و سماوات اور تحقیق اسرار کائنات کے حوصلوں پر زندیقیت کی مہر لگ جاتی، فلسفے، منطق اور سائنس کے مکتب ڈھا دیے جاتے۔ اقوال، اوہام اور اساطیر کی یونیورسٹیاں کھول دی جاتیں۔ عقل کی ناک جڑ سے کاٹ کر پھینک دی جاتی اور جنون کے ماتھے پر تاج زر کج کر دیا جاتا اور قرآن کریم کے محبوب لفظ ”فکر“ کی کھال کھینچ دی جاتی اور لم ڈگے جماعتی محتسب ہر شام کو گلیوں کے چکر لگاتے اور ارباب دانش کے منہ سونگھتے پھرتے۔ جو بدبخت کسی حسین چہرے کی طرف جان بوجھ کر دوسری نگاہ اٹھاتا دردناک عذاب میں گھر جاتا اور شاعری، موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی اور رقص کو حرام ٹھہرا دیا جاتا ”
یہ شاہکار تحریر جوش ملیح آبادی کی معروف کتاب ”یادوں کی بارات“ سے لی گئی ہے، اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم و اضافہ نہیں کیا گیا سوائے چند سخت قسم کے الفاظ ہائیڈ کرنے کے، جوں کا توں لکھ دیا گیا ہے تاکہ سند رہے۔
یہ پیراگراف جماعتی صالحین کے مجموعی مائنڈ سیٹ کی غمازی کرتا ہے اور جوش کی ادبی نگاہ نے جو ایک طویل عرصہ پہلے محسوس کیا تھا اس کا مظاہرہ ہم جماعتی صالحین کے رویوں میں مشاہدہ کر سکتے ہیں، انہی کے روحانی سرپرست مرد مومن ضیاء الحق نے دنیا بھر سے روحانی سائنس دانوں کو اکٹھا کیا تھا اور اس بیٹھک کا ون پوائنٹ ایجنڈا یہی تھا کہ
”جنات سے انرجی کیسے پیدا کی جا سکتی ہے“ ؟
انرجی کا تو پتا نہیں مگر آج تک وطن عزیز میں اندھیروں کا راج ہے۔
جماعتی صالحین ایک طویل عرصہ تک یونیورسٹیز میں مذہب کے نام پر جو اندھیرے پھیلاتے رہے ہیں کون نہیں جانتا؟
ہر سال ویلنٹائن ڈے پر یوم حیا کے نام سے جو مضحکہ خیزی ہوتی ہے کون نہیں جانتا؟ اکیسویں صدی میں جس جماعت کو مورل پولیسنگ کے علاوہ کوئی اور کام نہ سوجھتا ہو اس کا مستقبل بھلا کیا ہو سکتا ہے؟
نوجوان صالح جیسا خیالی لشکر تیار کرنے کے چکروں میں غریبوں کے بچوں کو جماعت اسلامی کا ممبر بننے کی دعوت دیتے ہیں اور انہیں گھیر گھار کے جماعتی عہدے آفر کرتے ہیں اور ساری زندگی انہی کے ذریعے سے جماعت کے راشن پانی کا بندوبست کرتے رہتے ہیں جبکہ اپنے بچوں کو جماعت کی پہنچ سے کوسوں دور رکھتے ہیں، ثبوت کے طور پر مودودی کے فرزند فاروق حیدر مودودی کی جماعت اور جماعتی منشور کے متعلق چشم کشا گفتگو ملاحظہ کر سکتے ہیں جو کہ یوٹیوب پر موجود ہے فرماتے ہیں کہ
” ہمارے والد یعنی مودودی صاحب کا ہم پر سب سے بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ہمیں جماعت اور جمعیت سے کوسوں دور رکھا، ہم 9 بہن بھائیوں میں سے کسی کا بھی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے باپ نے سارے جماعتی نظریات گھر سے باہر رکھے، اگر کبھی جماعت کے کسی جلسے میں ہمیں دیکھ لیتے تو ڈانٹ دیا کرتے تھے کہ تمہارا یہاں کوئی کام نہیں ہے۔ وجہ صاف تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟
مولانا ابوالکلام آزاد نے ہمارے والد سے جماعتی منشور کے متعلق سوال کیا تھا، والد صاحب نے ابوالکلام کو منشور دیا تھا جسے پڑھنے کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ اس منشور کے نتیجے میں جو جماعت معرض وجود میں آئے گی وہ فاشسٹ جماعت ہوگی ”
گفتگو خاصی طویل ہے چند اشارے دے دیے گئے ہیں۔
گفتگو کو شیئر کرنے کا مقصد اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ یہ جو بیچتے ہیں اس سے صرف عوام کو بہلاتے رہتے ہیں جب کہ اپنے بچوں کو اس چورن سے کوسوں دور رکھتے ہیں اور انہیں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے انہی ممالک میں بھیجتے ہیں جن کے خلاف یہاں نعرے لگوا کر عوام کو پر جوش کیے رکھتے ہیں اور جہادی دھنوں پر مست کر کے ان سے جہاد فنڈ کے نام پر پیسے اینٹھتے رہتے ہیں، اب یہ فنڈز کہاں اور کون سے جہاد پر خرچ ہوتے ہیں کون جانے؟
اندھیروں کے ان بیوپاریوں نے البدر اور الشمس جیسی ایکسٹینشن نما تنظیمیں بنا کر جو کچھ بنگلہ دیش میں کیا تھا اس کی ایک طویل تاریخ ہے، یہ بھی تاریخ کا ایک عجب پڑاؤ ہے کہ جماعتی صالحین بنگلہ دیش کی صورت میں ملک کو توڑنے کا الزام پیپلز پارٹی پر عائد کرتے رہے ہیں جبکہ مجیب کی بیٹی نے کن کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا نے کا حکم صادر کیا تھا وہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ تاریخ کو جاننے کا شوق رکھنے والے خود پڑھ سکتے ہیں اور اب حال ہی میں کراچی استنبول بنتے بنتے رہ گیا، مئیر کراچی پیپلز پارٹی کا منتخب ہو گیا۔
ردعمل کے طور پر جماعتی صالحین نے پھر سے بنگلہ دیش کے مسئلے کو موضوع آف دی ڈے بنا دیا ہے۔ اس ملک کا عام آدمی جذباتی ضرور سکتا ہے یا وقتی سے فائدے کی خاطر بہکاوے میں تو آ سکتا ہے مگر اس کا سیاسی شعور اتنا پختہ ضرور ہے کہ ”اقتدار میں کن کو ہونا چاہیے“ ؟ یہ عوام کی اجتماعی دانش کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ مذہب کی خاطر کٹ مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر مذہبی جماعتوں کو اقتدار کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے، وہ عظمت رفتہ اور سیاسی نظام کے فرق کو سمجھتے ہیں۔
انہیں اچھے سے پتا ہے کہ جبر کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے بندوبست میں حقیقی حصے دار کون ہوتے ہیں؟ آمریت، ملوکیت و شہنشاہت کے ادوار میں کون ساجھے دار ہوتے ہیں؟ انہیں بخوبی پتا ہے کہ سیاسی بندوبست غیر محسوس طریقے سے اندھیروں سے نکل کر روشنی تک پہنچنے کا وسیلہ ہوتا ہے جبکہ روایتی بندوبست عظمت رفتہ کے گرد ہی چکر کاٹتا رہتا ہے۔

