نوحۂ یونان: انسانیت کی ناکامی


منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی نت نئے المیے کا ظہور نہ ہو۔ مسلمان ممالک میں کچھ قدریں ایسی قدریں مشترک ہیں جو انسان کی سوچ سمجھ سے باہر ہیں مثلاً حکومتی عملداری کا فقدان جس سے ان ممالک میں امن وامان کا مخدوش ہونا، مہنگائی کا طوفان، بے روزگاری اور پھر وطن سے دور کسی انجان خوشگوار منازل کی تلاش کی جستجو روزگار کے باوقار طریقوں سے ناآشنا ان ممالک کے نوجوان سر دھڑ کی بازی لگا کر اپنے سنہرے دنوں کی آس میں اپنی جانوں پہ کھیل جاتے ہیں۔

ہمارے ایک دوست ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہر شارٹ کٹ دراصل ایک لانگ کٹ ثابت ہوتا ہے۔ ان بیچاروں کے عزیز و اقارب زیر زمیں سرگرم عمل طاقتور گروہوں کے چنگل میں باآسانی آ جاتے ہیں جو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں ان لوگوں کی امثال دیتے ہیں جن کی عمریں دیار غیر میں گزری ہیں اور اب ادھیڑ عمر میں وہ استحکام والے ماحول میں آ پہنچتے ہیں مگر نوجوان سمجھتے ہیں کہ شاید یورپ میں صرف موسم ہی خوشگوار نہیں ہوتا بلکہ یورو اور پونڈ بھی سرراہ ہر پیڑ پہ لگے ہوتے ہیں۔

وہ سوچتے ہیں کہ وہاں پہنچتے ہی وہ دولت کے انبار اکٹھا کر کے اپنے عسرت زدہ بچپن کی ناخوشگوار یادیں یکسر مٹا دیں گے اپنی بہنوں بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر پائیں گے۔ مگر اس غلیظ دھندے میں چند لالچی اور بے حس ایجنٹ اور انسانی سمگلر ہی شامل نہیں بلکہ دیگر کئی حکام بھی مختلف جگہوں پر اس عمل قبیح میں دامے درمے اور سخنے شامل ہوتے ہیں۔ 14 جون 2023 کی بھی ایک ایسی دلخراش ہوس ناک، ہولناک اور ناقابل یقین داستان رقم ہوئی جب ایک کشتی میں سوار ان غریب ممالک کے 750 مسافرین کو جانوروں کی مانند باندھ کر لے جایا جا رہا تھا جس کی کل حیثیت 250 سے زائد مسافروں کی بھی نہ تھی۔

پاکستان سے ایک طویل سفر بذریعہ ریل اور روڈ طے کر کے یہ لوگ اچھے دنوں کی تلاش میں نکلتے ہیں اور بے رحم ایجنٹوں کے کہنے میں آ کر ایران، ایران سے ترکیہ، ترکیہ سے یونان، یونان سے اٹلی یا سپین کا سفر اختیار کرتے ہیں۔ انتہائی غیر انسانی ماحول میں انہیں کام کرنا اور رہنا پڑتا ہے۔ برس ہا برس کی شدید تکلیف دہ محنت و مشقت کے بعد ہی کسی کی قسمت یاوری کرے تو وہ اپنے شہری حقوق کے حصول میں کامیاب ہوتا ہے ورنہ کشتیاں اکثر الٹ جاتی ہیں۔

اب اس نئے واقع میں جو یونان کی۔ سمندری حدود میں 14 جون 2023 کو پیش ہوا کشتی الٹنے کا واقعی ہوا، کم از کم 100 افراد جن میں 34 بچے بھی شامل تھے، کا جانی نقصان ہوا ہے کئی ایک کی ابھی چونکہ حتمی شناخت مکمل نہیں ہوئی۔ کئی ایک لاشوں کی شناخت بھی ممکن نہیں، اصل نقصانات کا صحیح اندازہ تو کچھ دنوں تک ہو گا۔ لازم ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور قرار واقعی سزا و جزا کا عمل کیا جائے۔ جب ریلوے کا کوئی حادثہ ہو جائے تو عموماً وزیر تدبیر کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے اب موجودہ ناکامی تو بنیادی طور پہ وزیر داخلہ و خارجہ ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کریں اور ایک نئی مثال قائم کر کے اپنے وقار میں اضافہ کریں مگر یہ دیوانے کی بڑ ہی لگتی ہے۔

اقوام متحدہ کو اس معاملے میں خصوصی توجہ دینا ہوگی اور عالمی ساہو کاروں کے خلاف اگر کچھ نہیں کر سکتی تو کم از کم انسانی جدید غلاموں کی امد و رفت کا کوئی مناسب حل نکالے۔ ملکی سیاسی حالات کو بھی سازگار کرنا ہو گا، ملکی صنعتی و زرعی ترقی کی ترویج کرنا ہوگی یہ سب تب ہی ممکن ہو گا جب ملک میں مقبول عام حکومت ہو جسے عوامی خواہشات کا احترام ہو اور وہ اپنی قومی ترجیحات کا تعین کرسکے اور کوئی اجتماعی فائدے کی پالیسی بنا کر عملدرآمد کرے ایسے ماحول کا ہونا قومی وحدت و یکجہتی کے لئے لازم ہے کہ نوجوان اپنی مادر علمی سے نکل کر کسی صحیح راستے پہ گامزن ہو سکیں جنہیں دیار غیر جانے اور اپنی قیمتی جانیں نہ گنوانا پڑیں۔

اس المیے کا تقاضا تو تھا کہ قومی سوگ منانے کا اہتمام کیا جاتا مگر بے حسی ایسی کہ ہمیں اپنی سیاسی بکھیڑوں سے ہی کوئی فرصت نہیں۔ جبکہ حیران کن بات ہے کہ یونانی باشندے ان تارکین وطنوں کے حق میں ریلیاں نکال رہے ہیں جبکہ راوی سب چین لکھتا ہے ادھر اپنے گھر میں۔ نہ جانے اس بے حسی کا اصل سبب کیا ہے۔ شہداء کی بخشش و مغفرت کے لئے ہم دعاگو ہیں۔ اللہ لواحقین کو بھی صبر و استقامت عطا فرمائے۔ آمین

Facebook Comments HS