ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں


مولانا روم اپنے احباب کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ رات کا وقت تھا کہ ایک تنگ گلی میں پہنچے آگے ایک بڑا تگڑا کتا سویا ہوا تھا جس کے موجب راستہ رک گیا اگر اوپر سے پھلانگ کے جائیں تو وہ کتا اٹھ جائے گا مولانا روم کھڑے ہو گئے اور تا دیر کھڑے رہے۔ ایک شخص آیا اور دور کر کتے کو پاؤں سے مار کر راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جس پر مولانا نے پکڑ لیا اور کہا کہ وہ آرام کر رہا ہے اس کے آرام میں کیوں خلل ڈال رہے ہو جب وہ از خود نیند پوری کر کے جاگ جائے گا تو ہم گزر جائیں گے۔

ایسے لوگ تو کتوں کا اتنا خیال رکھتے تھے اور آج ہم انسانوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس گلی کے کچھ لوگ ذات باری کی شرم و ڈر کے باعث سر اٹھا کر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کرتے بلکہ گردنیں جھکا کر چلتے ہیں۔ پرانی لائبریری یا کتب خانے کے اوراق ایسی بے شمار مسالوں سے بھرے پرے ہیں جن کے ہر ہر حرف سے ادب چھلکتا ہے۔ پر اس دور ترقی میں کسی کے پاس ورق گردانی کے لیے وقت کہاں۔

مشہور مقولہ ہے کہ اگر کسی قوم کے پاس فکر نہ ہو تو وہ ہجوم میں بدل جاتی ہے اور اگر ایک ہجوم کے پاس فکر ہو تو وہ قوم میں بدل جائے گا اور با منزل ہو جائے گا۔ ہمارا آج کا جمہوری نظام غیر اخلاقی ہو چکا ہے۔ جس میں صاحب اختیار کو جب ضرورت پڑے تو قانون کے ضابطے بدل دے۔ جب گناہ کی ضرورت پرے تو میں جمہوری ہوں، اصول و دستور کے سب قاعدے محض کمزوروں کے لیے ہیں۔ زبوں دیمک اس سسٹم کے اعلٰی ترین جزو سے لے کر ادنیٰ اکائی تک رس چکی ہے کسی نے کہا تھا۔

’جہاں سمندر ہے وہاں خشکی نہیں ہو سکتی اور جہاں خشکی ہے وہاں سمندر نہیں ہو سکتا‘ ۔ بالکل اسی طرح جہاں مذہب ہے وہاں لا دینیت نہیں ہو سکتی اور جہاں لادینیت ہے وہاں مذہب نہیں ہو سکتا۔ آج اہل مغرب ہمارے ان مختلف اصولوں اور ضوابط کو ملانے کی کوشش کر رہا ہے جو پوری نہیں ہو سکتی۔ ہمارا مذہب نہ صرف ضابطہ حیات ہے بلکہ ایک اخلاقی سسٹم ہے جس کے اصول ہی ہمیں باقی قوموں سے ممتاز بناتے ہیں۔ دشمن کو اصل دشمنی اسلام کے اس اخلاقی سسٹم سے ہے۔

اس بات سے اندازہ کیجیے کہ ہمارے ترقی یافتہ سسٹم کے نظام تعلیم میں سائنسی علوم کی کسی ڈگری بیچلر، ماسٹر، پوسٹ گریجویٹ کے لیے آپ کے ادب اور کردار کی ضرورت نہیں۔ کوئی جامع آپ سے ہر گز نہیں پوچھے گا کہ شراب پیتے ہو؟ گھر جا کہ کیا کرتے ہو؟ صبح کی نماز پڑھی یا نہیں؟ احباب میں کیا کرتے ہو؟ آپ پڑھو گے، محنت کرو گے، امتحان پاس کرو گے۔ یونیورسٹی آپ کو ڈگری دے دے گی۔ اس کے برعکس جس کو ہم تصوف کہتے ہیں یہاں پہلا سوال یہی ملے گا کہ جس راہ حق کی تلاش میں نکلے تھے کیا تمہارا کردار تمہاری تعلیم کی طرح تھا؟

جھوٹ بول کر سفر طے تو نہیں کیا؟ سینے میں کوئی ریا، منافقت تو نہیں؟ کیا رزق حلال کماتے ہو؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہی نظام ہمیں اسلام کے اخلاقی ضابطوں، عرفان حق سے شناسائی حاصل کراتا ہے اور یہ بنیادی فرق ہے کہ یہاں ادب اور کردار آپ کے علم کے ساتھ جائے گا اور وہاں ادب و اعلیٰ کردار کسی ڈگری کی ریکوائرمنٹ ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم علم میں پیچھے نہیں، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پیچھے نہیں کیونکہ اس میں جتنی بھی تیز رفتاری سے ہم چل سکتے ہیں چل رہے ہیں۔ لیکن تلاش یہ ہونی چاہیے کہ ہم کہاں پیچھے رہ گئے تو تربیت میں، ادب میں، قوم کی کردار کشی میں ہم پیچھے رہ گئے۔ ادب ہی وہ کھنکتی کنجی ہے، جو نفرتوں کے زنگ آلود تالے کھول سکتی ہے۔

ادب ہی وہ ڈھال ہے، جو اہل محبت کو سائبان عطا کرتی ہے۔ پر آج افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ادب کا بادبان لہلہانے والے خاک ہو چکے ہیں۔

خاموش اے دل بھری بزم میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

Facebook Comments HS

One thought on “ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

  • 20/06/2023 at 9:10 صبح
    Permalink

    Wow zabardast

Comments are closed.