موجودہ سیاسی و معاشی حالات میں عالمی سامراج کا کردار

پچھلے 75 سالوں سے ٹی وی، ریڈیو، سوشل میڈیا اور اخبارات میں ایک جیسی سرخیاں دیکھنے اور سننے میں آ رہی ہیں۔
*ملکی معاشی حالات انتہائی نازک حالات سے گزر رہے ہیں۔
*بیرونی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
*تجارتی خسارہ پہلے سے بڑھ گیا ہے اس کی سابقہ حکومت ذمہ دار ہے۔
* آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہ کی گئی تو مزید قرضہ ملنا نا ممکن ہے۔
* مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔
* اس سال پہاڑوں میں برفباری اور مون سون میں بارشوں کی وجہ سے سیلاب کے خطرات ہیں۔
* ملٹی نیشنل کمپنی سیل کم ہونے کی وجہ سے اپنا کاروبار کلوز کر رہی ہے۔
اب تو وزیر اعظم نے اعلان کر دیا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط من و عن تسلیم کر لی گئی ہیں۔
اس ساری صورتحال کی بنیادی وجہ پاکستان میں کالونیل ازم یا سامراج کا معاشی و سیاسی کنٹرول ہے۔
سامراج سے مراد غیروں کا راج ہے یعنی پاکستان میں سیاسی و معاشی طور پر غیروں کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہاں کے سیاسی و معاشی فیصلے بیرونی قوتیں کرتی ہیں۔ ہم اس کو مزید جاننے کے لئے برصغیر میں انگریزوں کے دور میں جاتے ہیں۔ گو برصغیر میں ہزاروں سالوں سے غیروں کا راج یا کنٹرول رہا ہے۔ لیکن انگریزوں سے پہلے سامراج نے صرف یہاں پر ٹیکس لگائے یہاں کی دولت لوٹی لیکن یہاں کے معاشی و سماجی ڈھانچے کو جوں کا توں رہنے دیا لیکن انگریزوں نے اپنے دو سو سالوں میں یہاں کا سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو سرے سے تبدیل کر کے رکھ دیا اور اس کو اپنی سیاسی و معاشی مفادات کے مطابق ڈھالا۔
یورپ کے وہ ممالک جنہوں نے صنعتی طور پر ترقی کر لی تھی۔ وہاں اشیاء کی پروڈکشن بڑی تیزی سے ہونے لگی ہر شے کا ریٹ سرمایہ دار خود طے کرتا تھا۔ اب اس کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنے تیار مال کی کھپت اپنے ملک میں کر سکے نہ وہ مال کی تیاری روک سکتا تھا۔ اس مال کی کھپت کے لئے اسے منڈیاں درکار تھی۔ منڈیوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے یورپی صنعتی ممالک نے دنیا کے مختلف علاقوں پر بذریعہ فوج قبضہ کر لیا اور ان ممالک سے خام مال یورپ لے کر جانے لگے اور تیار صنعتی مال کالونیوں کی منڈیوں میں فروخت کرنے لگے۔ جب کوئی ملک کسی دوسرے ملک کو سیاسی و معاشی طور پر کنٹرول کر لے تو اس کو دوسرے ملک میں سامراج کہے گے۔
اس خرید و فروخت کو تجارت کا نام دیا گیا ہے۔ اب اگر دو ممالک میں تجارت سو سو ملین کی ہوتی ہے۔ تو ہم کہے گے کہ تجارت میں توازن ہے۔ اگر ایک ملک دوسرے کو پانچ سو ملین کا مال فروخت کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے ملک سے سو ملین کا مال خریدتا ہے۔ تو ہم کہے گے کہ دوسرے ملک کو چار سو ملین کا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔
اگر صنعتی ملک اور زرعی ملک کے درمیان تجارت ہوتی ہے۔ تو یقینی بات ہے کہ صنعتی ملک کو منافع ہو گا جبکہ زرعی ملک جو خام مال بیچے گا۔ اس کو تجارتی خسارہ ہو گا۔ اب اس کا تجارتی خسارہ ہر سال بڑھتا جائے گا۔ اس کو یہ تجارتی خسارہ پورا کرنے کے لئے دوسرے ممالک، آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے قرضہ لینا پڑے گا۔
سامراجیت یا کالونیل ازم کی دو اشکال ہیں۔
1۔ سامراج یا کالونیل ازم جس میں ایک ملک دوسرے ملک پر بذریعہ فوج سیاسی و معاشی طور پر قبضہ کر لیتا ہے۔
2۔ جدید سامراج یا جدید کالونیل ازم جس میں ایک ملک دوسرے ملک پر سیاسی و معاشی طور پر مختلف معاہدوں کے ذریعے کنٹرول حاصل کر لیتا ہے۔ دوسرے ملک کی عوام سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد و خودمختار ہیں۔ لیکن ان کے سیاسی و معاشی فیصلے جدید سامراج اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر کرتا ہے۔
اگر ہم پاکستان کو دیکھتے ہیں تو برطانیہ نے اس کو ایک زرعی ملک کی سطح پر جامد کر دیا ہے اور اس کا سارا سیاسی و معاشی کنٹرول فوجی بیوروکریسی کے سپرد کر دیا ہے۔ اور پھر جدید سامراجیت کے تحت اس کا مکمل کنٹرول امریکہ نے حاصل کر لیا ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو ایک زرعی ملک سے صنعتی ملک بننے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ اگر پاکستان میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کو دیکھا جائے۔ تو یہ آج انڈسٹری لگنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
کمپنی یا فرم رجسٹر کروانے میں اتنی پیچیدگیاں پیدا کر دی جاتی ہیں۔ کوئی شخص یا اشخاص یہاں انڈسٹری لگانے کے لئے تیار نہیں ہوتا بلکہ اس کے سامنے اپنی رقم محفوظ کرنے کے لئے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار متعرف کروایا گیا ہے۔ جس میں کوئی قدر پیدا نہیں ہوتی بلکہ شہریوں کے اربوں روپے غیر منافع بخش کاروبار میں لگو دیے جاتے ہیں۔ اگر یہی پیسہ کاروبار یا ایسی انڈسٹری میں لگایا جائے جو قدر پیدا کرے، نیا روزگار پیدا ہو، بے روزگاری کا خاتمہ ہو، ملک میں تیار مال کی ایکسپورٹ سے تجارتی خسارے میں توازن لایا جائے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی سے نجات کی کوئی راہ نکلے۔ موجودہ معاشی حالات میں سامراجی ممالک کے مفادات پوشیدہ ہیں اور وہ کسی قیمت پر نہیں چاہتے کہ پاکستان معاشی و سیاسی طور پر آزاد ہو کر ایک صنعتی ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہو۔
پاکستان میں جب تک فوجی بیوروکریسی جو امریکی سامراج کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ اقتدار اعلیٰ پر براجمان ہے۔ جو یہاں جدید سرمایہ داری کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ اس کی اجارہ داری ختم نہیں ہوتی اور جدید صنعت کو آزادانہ ماحول مہیا نہیں ہوتا یا سوشلسٹ انقلاب برپا نہیں ہوتا۔ اس وقت تک حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جائے گے۔ آج پاکستان کے ترقی پسند حلقوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ پچیس کروڑ انسانوں کو اس بیوروکریسی سے نجات دلوا کر جدید سرمایہ داری اور پھر اس سے اگلے سماج سوشل ازم میں کیسے داخل کیا جا سکتا ہے۔

