انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مضبوط قانون سازی کی ضرورت



سادہ لوح افراد کو راتوں رات امیر ہو جانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے کے عوض ایجنٹوں کا مغربی ممالک اسمگل کرنے کا دھندا برس ہا برس سے جاری ہے۔ اس غیرقانونی اور انسانیت سوز کاروبار پر متعلقہ اداروں کی خاموشی انتہائی افسوسناک اور معنی خیز ہے۔ ملک کے سرحدی علاقوں سے تجارتی سامان لے جانے والے کنٹینروں میں انسانوں کو جانوروں کی طرح لاد کر ان غیرقانونی تارکین وطن کو یورپی ساحلوں پر پہنچانے کے بعد کشتیوں کے ذریعے مختلف مما لک میں اسمگل کیا جانا معمول کے واقعات میں شامل ہے۔

جو انتہائی خطرناک عمل ہے اور اس سفر کے دوران اکثر افراد راستے ہی میں مختلف حادثوں کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں مگر تا حال کوئی نہیں ہے جو اس طرف توجہ دے۔ یہ غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے بہت سے ان ممالک کی سرحدوں پر گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود منزل تک پہنچنے والے سیکیورٹی کے اداروں سے بچنے کے لیے انتہائی غیرمحفوظ مقامات پر پناہ لیتے ہیں جہاں یہ لوگ مختلف حادثوں کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

ان افراد میں کسی بھی عمر کے مرد، عورتیں اور بچے شامل ہوتے ہیں جنہیں زیادہ تر بھیک مانگنے، جنسی کاروبار، اعضاء نکلوانے یا جرائم کے لیے استعمال کے لئے لایا جاتا ہے۔ ایک تازہ ترین میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپی پولیس نے مختلف ملکوں میں کریک ڈاؤن کے دوران پاکستانیوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک بڑے نیٹ ورک کا پتہ چلایا ہے جس نے 8 انتہائی مطلوب افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ مزید 6 کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے۔

یہ گروہ اب تک تقریباً 10 ہزار غیرقانونی تارکین وطن کو یورپ لے جا چکا ہے۔ مزید برآں اسمگلنگ میں ملوث 126 سہولت کار بھی حراست میں لیے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر آسٹریا میں تھے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز کی بدنامی کا باعث بنی ہے جسے دیکھتے ہوئے اندرون ملک وسیع پیمانے پر آپریشن کی ضرورت ہے اور انسانیت کے ساتھ کھیلنے والے ان افراد کو گرفتار کرنے اور قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دینے میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے مزید برآں قومی اسمبلی میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک بل کئی برس سے زیر التوا ہے جسے جلد از جلد قانونی شکل دینے کی ضرورت ہے مگر تا حال اس بل کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

14 جون 2023 ء کو ایک ماہی گیر کشتی جو تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی اسمگلنگ کر رہی تھی اور ایک اندازے کے مطابق اس میں 600 سے 750 کے درمیان لوگوں کو لے جایا جا رہا تھا، پیلوس، میسینیا، یونان کے ساحل سے دور بحیرہ ایونی میں ڈوب گئی۔ یونانی حکام کی تلاش اور بچاؤ کی کوششوں سے 104 افراد زندہ بچ گئے ‏جن میں مصری، شامی، پاکستانی، افغان اور فلسطینی‏ شامل ہیں جبکہ 78 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ہیں، اس حادثے میں ابھی بھی سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے یونان میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے واقعے کی تحقیقات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے ’انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرنے‘ کا وعدہ کیا ہے۔ خواجہ آصف نے بھی یونان کشتی حادثے میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ کے اراکین متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ جن لوگوں کے بچے سمندر میں ڈوبے ہیں، یہ لوگ روزی کی تلاش میں نکلے تھے، لوگوں کی مجبوریاں ہیں۔

اگر ہماری معیشت ٹھیک ہوتی اور تعلیم کا معیار اچھا ہوتا تو لوگ ملک چھوڑ کر نہ جاتے۔ معیشت تو انڈیا اور فلپائن کی بہتر ہے لیکن وہاں سے بھی لوگ تارکین وطن ہو رہے ہیں۔ یہ افراد زیادہ پڑھے لکھے یا ہنرمند نہیں تھے، کوئی 22 لاکھ، کوئی 25 لاکھ کوئی 30 لاکھ روپے دے کر ملک سے گیا تھا۔ یونان حادثے میں ملوث انسانی سمگلرز کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ اس کاروبار کو بند ہونا چاہیے۔ کل جو لوگ گرفتار ہوئے اور کچھ لوگ بھاگ گئے، ان کے تانے بانے ترکی میں بھی ہیں اور لیبیا میں بھی ہیں، وہاں بھی ہمارے سفارت خانوں کو پتہ ہو گا کہ ان کا کیا کاروبار ہے۔

پاکستان سے پوری کی پوری لوگوں کی کھیپ جاتی ہے۔ ایک ایک گھر سے 12، 12 افراد جاتے ہیں، یہ لوگ خفیہ طریقے سے تو نہیں گئے، ائرپورٹس سے گئے ہیں، جن ائرپورٹس پر یہ اترتے ہیں تو وہاں بھی لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ کہاں جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں کتنے رسک ہیں۔ اس کا سدباب کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اسے فوری طور پر حل ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے بھی کئی حادثات ہو چکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی مہم میں ایک سرکردہ شریک ہے۔ متحدہ عرب امارات خطے کا پہلا ملک تھا جس نے 2006 میں وفاقی قانون 51 کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک جامع قانون نافذ کیا تھا۔ اس قانون کے تحت انسانی اسمگلنگ میں ہر قسم کے جنسی استحصال اور دوسروں کی جسم فروشی، غلامی، جبری مشقت، اعضاء کی اسمگلنگ، جبری خدمت، غلامی، بھیک مانگنے اور نیم غلامی کے طریقوں میں ملوث کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ قانون اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے واقعے سے آگاہ مگر اس کی اطلاع نہ دینے والے شخص کو سزا دی جا سکے۔

یہ قانون انسانی اسمگلنگ سے منسلک جرائم کے بارے میں آگاہی پیدا کرتا ہے اور متاثرین اور عینی شاہدین کو مدد اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس میں کم از کم ایک لاکھ جرمانہ اور مجرموں کو کم از کم پانچ سال قید کی سزا کا تعین کیا گیا ہے۔ 2013 میں اس قانون میں اقوام متحدہ کے پروٹوکول کے مطابق ترمیم کی گئی تھی تاکہ افراد خصوصاً خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ کی روک تھام اور سزا دی جا سکے، خاص طور پر خواتین اور بچوں (پالیرمو پروٹوکول) کی توثیق کی گئی جس کی متحدہ عرب امارات نے 2009 میں توثیق کی تھی۔ متاثرین اور گواہوں کی حمایت اور تحفظ کو بڑھانے کے لئے فروری 2015 میں اس قانون میں مزید ترمیم کی گئی تھی۔

متحدہ عرب امارات اس وقت انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے تحفظ اور بحالی کے لئے پناہ گاہوں کا نیٹ ورک برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پناہ گاہیں ابوظہبی (خواتین اور بچوں کے لئے ای ڈبلیو اے اے شیلٹر) ، دبئی (خواتین اور بچوں کے لئے دبئی فاؤنڈیشن) اور راس الخیمہ (خواتین اور بچوں کے لئے امان پناہ گاہ) میں واقع ہیں۔ ایک وقف ہاٹ لائن انسانی اسمگلنگ کے معاملات کی رپورٹنگ کو آسان بناتی ہے۔

چونکہ انسانی اسمگلنگ اکثر متاثرین کے آبائی ممالک سے شروع ہوتی ہے، متحدہ عرب امارات نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے بارے میں بہترین طریقوں کے تبادلے اور اس جرم کے متاثرین کے لئے امداد بڑھانے کے لئے متعدد ممالک کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لئے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں میں بھی حصہ لے رہا ہے اور عرب انسانی حقوق کمیشن چارٹر کمیٹی جیسے پلیٹ فارموں پر اس معاملے کو باقاعدگی سے اٹھاتا ہے۔

گزشتہ برسوں میں متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر برائے اسمگلنگ ان پرسنز کی میزبانی کی ہے جنہوں نے انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لئے قومی مہم کے ذریعے حاصل ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے۔ ہمیں بھی ایسے اقدامات کرنے کی سخت ضرورت ہے اور متحدہ عرب امارات جیسے قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک جامع قانون نافذ کر کے اس قانون کے تحت انسانی اسمگلنگ میں ہر قسم کے جنسی استحصال، جسم فروشی، غلامی، جبری مشقت، اعضاء کی اسمگلنگ، ، غلامی، بھیک مانگنے اور نیم غلامی کو ختم کیا جا سکے۔

Facebook Comments HS