ایک بین الاقوامی تیل کمپنی کا پاکستان سے کوچ اور ہمارے سنسنی خیز چسکے


جب پاکستان وجود میں آیا تو صرف ایک ہی بین الاقوامی تیل کمپنی کے پیٹرول پمپ نظر آتے تھے جن پر برما شیل کا بورڈ لگا ہوتا تھا۔ اسی کمپنی نے 50 کی دہائی کے ابتدائی سال میں پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری شروع کردی اور پاکستان کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ بلوچستان کے سوئی میں دریافت کر لیا۔ اس ذخیرے کی تعمیر و ترقی کے لئے ایک نئی کمپنی وجود میں آئی جس کے 100 فیصد شیئر برما شیل کے پاس ہی تھے۔

اس کمپنی کا نام پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ رکھا گیا۔ سوئی کے مقام پر 1952 میں پہلے گیس کے کنویں کا افتتاح کیا گیا۔ 1997 میں کمپنی نے اپنی گلوبل کارپوریٹ اسٹریٹیجی کے تحت پوری دنیا سے گیس اور تیل کی تلاش اور پیداواری سیکٹر سے اپنا سرمایہ نکالنے کی منصوبہ بندی کر لی اور اسی منصوبہ بندی کے تحت پاکستان پیٹرولیم میں موجود اپنے 100 فیصد شیئر حکومت پاکستان کو فروخت کر دیے۔ اس وقت پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں کوئی ہاہا کار نہ مچی اور آج بھی پاکستان پیٹرولیم کامیابیوں کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے۔

پاکستان میں 1970 تک برما شیل کا ریٹیل آؤٹ لیٹ بزنس (پٹرول پمپ) میں 100 فیصد سرمایہ کاری برما شیل یوکے کی ہی تھی۔ لیکن اسی سال کمپنی نے اپنے 51 فیصد شیئر پاکستانی سرمایہ کاروں کو فروخت کر دیے اور کمپنی کا نام بھی تبدیل ہو کر پی۔ بی۔ ایس ہو گیا۔ 23 سال بعد 1993 میں کمپنی کا نام ایک بار پھر تبدیل ہوا اور شیل پاکستان لمیٹڈ ہو گیا، کیونکہ شیل پیٹرولیم یوکے نے ایک دفعہ پھر پاکستانی سرمایہ کاروں سے 51 فیصد شیئر خرید لیے ۔

2002 میں کمپنی کی شیئر ہولڈنگ پھر تبدیل ہوئی اور شیل یو کے نے پھر کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کر کے اپنی شیئر ہولڈنگ 76 فیصد تک کرلی۔ اب عالمی معاشی حالات کے پیش نظر کمپنی یورپ اور ایشیا کے ممالک میں اپنے آئل ریٹیل آؤٹ لیٹ بزنس (پٹرول پمپ) کو فروخت کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے اور اس ضمن میں اس نے پاکستان میں بھی اپنے اس کاروبار کو فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اس سے پہلے جنوری میں کمپنی کے ترجمان نے برطانیہ، ہالینڈ اور جرمنی میں اپنے ریٹیل آؤٹ بزنس کو فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس اعلان کی دو وجوہات بتائی گئی ہیں ایک عالمی منڈیوں کے سخت حالات اور کمپنی کی عالمی کاروباری حکمت عملی میں تبدیلی جس کے تحت اب کمپنی دنیا میں لو کاربن فیول کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

گلوبل کارپوریٹ ورلڈ میں اس طرح کی خبریں اہم تو ہوتی ہیں لیکن ان میں کسی قسم کی سنسنی خیزی نہیں ہوا کرتی نہ ہی یہ کسی قسم کی تباہی کی طرف اشارہ کر رہی ہوتیں ہیں۔ لیکن افسوس ہمارے ملک کا نام نہاد پڑھا لکھا طبقہ ہر خبر میں چسکا اور سنسنی خیزی تلاش کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل ہمارا ملک غیر معمولی معاشی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سمجھ لیا جائے کہ بربادی ہمارا مقدر بن چکی ہے۔ معاشی حالات مشکل ترین ضرور ہیں لیکن مکمل طور پر تباہ کن نہیں ہیں

Acquisition، Mergers، Investments، Dis-investments عالمی معاشی دنیا کے معمولات میں سے ایک معمول ہے۔

پاکستان کے معاشی حالات کے بابت کسی قسم کی ذہنی خلفشار کا شکار ہونے سے پہلے معاشی حقائق کا تجزیہ ضرور کر لینا چاہیے۔ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی آئل کمپنی کا نام پاکستان اسٹیٹ آئل ہے جس کے پورے پاکستان میں تین ہزار پانچ سو پیٹرول پمپ ہیں اور پاکستان اسٹیٹ آئل پاکستان کے مقامی تیل کی تجارت کا 60 فیصد حصہ کنٹرول کرتی ہے۔ جب کہ پیٹرول پمپوں کی تعداد کے حساب سے پاکستان سے جانے کا ارادہ کرنے والی کمپنی سب سے چھوٹی ہے اور اس کے پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے پیٹرول پمپوں کی تعداد صرف 766 ہے اور اس کے پاس پاکستان کی مقامی تیل کی تجارت کا صرف 20 فیصد حصہ ہے۔

کسی غیر ملکی کمپنی کا پاکستان چھوڑ نے کا اعلان وقتی طور پر تو اچھا نہیں لگتا لیکن اس کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں آج پاکستان کی سب سے بڑی تیل کمپنی کا وجود بھی 1976 میں پاکستان چھوڑ جانے والی ایک ملٹی نیشنل آئل کمپنی جس کا نام ایسو ایسٹرن (Eastern Esso) ہے کی مرہون منت ہے۔ کیونکہ اس وقت حکومت پاکستان نے کمپنی کے تمام شیئر خرید لیے تھے اور تین چھوٹی مقامی تیل کمپنیوں کو ملا کر ایک نئی کمپنی تشکیل دے دی تھی جس کا نام پاکستان اسٹیٹ آئل رکھا گیا۔

اس کمپنی نے 1976 سے لے کر آج تک مسلسل ترقی کا سفر طے کیا اور 22۔ 2021 میں 86 ارب روپے کا خالص منافع کمایا۔ کیونکہ اب یہ مکمل طور پر ایک پاکستانی کمپنی ہے اس لیے اس کے منافع کا ایک روپیہ بھی کسی باہر ملک میں نہیں بھیجنا پڑ تا جبکہ شیل آئل کمپنی پاکستان اپنے منافع کا بڑا حصہ پاکستان سے باہر ڈالر کی شکل میں ترسیل کر دیتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر بھی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ دوسری طرف کمپنی کے شیئر فروخت کرنے کے لئے جو بھی بات چیت ہوگی تو مجوزہ خریدار تمام ادائیگیاں ملک سے باہر ہی کرے گا جس کی وجہ سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر پر کوئی منفی اثر بھی نہیں پڑے گا۔ عین ممکن ہے کہ نئے خریدار اور نئی انتظامیہ زیادہ بہتر طریقے سے کمپنی کا انتظام و انصرام سنبھال لیں اور پاکستان اسٹیٹ آئل کی طرح اس کمپنی کو کامیابی کی نئی راہوں کی طرف گامزن کر دیں۔

 

Facebook Comments HS