غربت کی آ خری لکیر


کچی دیوار کی منڈیر پر کوئے کی کاں کاں سے اماں بسو کی آنکھ کھل گئی جو نیم کے درخت کے نیچے آدھ ٹوٹی چارپائی پر سو رہی تھی۔ برس ہا برس سے دو چارپائیوں پر ہی ماں پتر گزارہ کر رہے تھے۔ جس چا

چارپائی کا وان ثابت تھا وہ اماں نے اپنے پتر انور کو دے رکھی تھی۔ خود اسی ٹوٹی چارپائی پر لیٹ جاتی تھی۔ اس نے لیٹنا بھی کون سا گھنٹوں ہوتا تھا۔ رات بھی آدھی جاگ کر ہی گزارتی تھی۔ اللہ کو یاد کرتے اور عبادت میں مصلے پر بیٹھتی تو وہیں آنکھ لگ جاتی۔

انور کا باپ جب سے اللہ کو پیارا ہوا تھا، تب سے اماں بسو اور انور غربت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ کئی کئی دن سوکھی روٹی مرچ اور کبھی گنڈے (پیاز) کے سات کھانے پر مجبور تھے۔ قناعت کا یہ عالم تھا کہ کسی پر اپنے حالات آشکار نہ ہونے دیتے تھے۔ لیکن جب گھر کے آنگن سے غربت کی لیریں جگہ جگہ لٹک رہی ہوں تو وہ کہاں چھپ سکتی ہے؟

اماں بسو چھوٹے بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی تھی۔ دن بھر وہ گھر کے کام کاج کرتی اور اللہ سے لو لگائے اپنے بیٹے کے لیے دعا گو رہتی تھی۔ اس کی کوئی لمبی چوڑی خواہشات نہ تھیں صرف اتنی آرزو تھی کہ دو وقت کی روٹی میسر آ جائے۔ فقیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی اماں بسو کا خاوند فقیری میں ہی گھر کا خرچ چلا رہا تھا۔ اماں بسو اسی میں مطمئن تھی۔ آج تک کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا۔

انور کے والد کے بعد اس کا واحد سہارا یہی لاڈلا بیٹا تھا۔ خود بھوکا رہ کر اماں انور کا خیال رکھتی تھی۔

انور کا اٹھنا بیٹھنا اچھے گھرانے کے لوگوں کے ساتھ تھا لیکن ان سے کبھی اپنی غربت کا رونا نہیں رویا تھا۔ وہ کسی کے گھر کاما بن کر رہنا اپنی ہتک سمجھتا تھا۔ کئی بار شہر جا کر نوکری کے لیے خاک چھانی لیکن نوکری نہیں ملتی تھی۔ اگر کہیں ملی بھی تو کسی کی بات برداشت نہ کرتا تھا اور نوکری چھوڑ کر آ جاتا تھا۔ اماں بسو پریشان تو ہو جاتی لیکن بیٹے کو دعا دیتی کہ اللہ بہتر کرے گا۔

اماں : ”بیٹا تو پریشان نہ ہو، مل جائے گی نوکری اللہ پر بھروسا رکھو“
بیٹا: ”اماں مجھے لگتا ہے ہماری روزی درخت کی سب سے اوپر والی چوٹی پر ہے“
”پتر! مایوسی گناہ ہے۔ اللہ سب کا رازق ہے“
انور نے روٹی مانگی تو اماں صبح کی پکی روٹی رومال میں لپیٹی ہوئی لے کر آئی۔

”کھانے کے لیے ساتھ کچھ ہے اماں؟“ بیٹے نے دھیمی آواز سے پوچھا اور ماں کے اداس چہرے کی طرف دیکھا۔ اماں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا ”ہاں پتر ایک گنڈا (پیاز) رکھا ہے۔ اس کے ساتھ کھا لو، پتر دل برا نہ کر کچھ لوگوں کو تو یہ بھی نہیں ملتا۔ اللہ کا شکر ہے اس نے اپنا گھر دیا ہے۔ کھانے کو بھی روکھی سوکھی دے ہی دیتا ہے“

اگر چہ انور محنت کرنا نہیں جانتا تھا سست انسان تھا، لیکن ماں کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ رات جیسے تیسے گزر گئی۔ صبح اذان کی آواز سے اماں بسو اٹھی اور نماز پڑھی، قرآن پاک کی تلاوت کی۔ نیم کے درخت کی شاخوں پر جھومتے پرندے بھی اپنی اپنی بولی میں اللہ کی حمد و ثنا میں مصروف تھے۔ اماں بسو کی خوشی اور اطمینان میں اضافہ کر دیتے تھے۔ اللہ پر یقین اور توکل بڑھ جاتا تھا۔

آج بھی انور نے نوکری کی تلاش میں جانا تھا۔ اماں بسو نے کسی کے گھر سے آئی ہوئی لسی میں نمک ڈال کر دونوں نے پی تھی یہی ان کا ناشتہ تھا۔ دعاؤں کا حصار باندھا، انور کو رخصت کیا۔ خود گھر کے کاموں میں لگ گئی۔ بچے قرآن پڑھنے میں مصروف تھے۔ اکیلی اماں کا انور کے بعد یہ بچے ہی رونق کا باعث تھے۔

انور ایک دوست کے ہمراہ قریبی شہر میں ایک فلم سٹار کے گھر گیا تھا۔ فلم سٹار نے انور کو اس کے دوست کی سفارش سے اپنا ملازم رکھ لیا۔ انور فلم سٹار کا گھر دیکھ کر انور کے دل میں امنگ پیدا ہوئی۔ اپنی اماں کی ہتھیلی پر، میں بھی پیسے رکھ سکوں گا۔ عرصے بعد اس کے چہرے پر ایک اطمینان نظر آ رہا تھا۔

دن بھر انور فلم سٹار کے ساتھ رہا۔ شام کو گھر آتے ہوئے فلم سٹار نے انور کو پانچ سو روپے دیے۔ خوشی کی لہر دل میں دوڑی کہ آج اچھی روٹی میسر آئے گی۔

”اماں کب سے خشک روٹی مرچ، پانی کے ساتھ کھا رہی تھی“

انور خود کلامی کرتے بس سٹاپ سے اتر کر گھر پیدل ہی چل پڑا تھا۔ غربت کے اس دریا میں جہاں برس ہا برس سے ماں بیٹا غوطہ زن تھے۔ یہ پانچ سو روپے ان کے لیے ایک وہ تنکا تھا جو انھیں ڈوبنے سے بچا سکتا تھا، لیکن آزمائش کا سفر لمبا ہو تو وہ طے نہیں ہوتا۔ انور ابھی آدھا راستہ ہی چلا تھا کہ بانس کے گھنے جھنڈ جو ڈاکوؤں اور لٹیروں کے لیے پناہ گاہ تھی۔ اس جھنڈ سے دو لٹیرے نکلے جنھوں نے اپنے چہرے سیاہ کپڑے سے لپیٹ رکھے تھے۔

انھوں نے انور کو گھونسے مارے اور اس سے پانچ سو روپے بھی چھین لیے۔ اور مایوسی کے گڑھے میں اتر چکا تھا۔ بوجھل، لڑکھڑاتے قدموں سے گھر پہنچا۔ ماں کو کچھ نہیں بتایا۔ اماں بسو نے بیٹے کو پریشان دیکھ کر دلاسا دیا۔ ”پتر آج نہیں تو کل نوکری مل ہی جائے گی۔ وہی رازق ہے جس نے پیدا کیا۔ پتر منہ ہاتھ دھو لے پھر روٹی کھاتے ہیں۔“

منہ ہاتھ دھو کر انور نیم کے درخت کے نیچے پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اماں روٹی اور مرچ پیسنے والا کونڈا لائی جس میں کئی روز سے پانی ڈال ڈال کر روٹی کھا رہے تھے۔ آج بھی اماں بسو نے پانی ڈالا اور اس میں بھگو کر روٹی کا پہلا نوالہ ہی لیا تھا۔ لیکن آج تو مرچ کا ذائقہ بھی نہیں آ رہا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک کہانی دونوں کی آنکھوں میں پوشیدہ تھی۔ جو کوئی اور نہیں جانتا تھا۔

”اماں! اس کو غربت کا کون سا درجہ کہیں گے؟“ انور نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اماں بسو کے صبر و قناعت کا بند جو سالوں سے بہت مضبوط تھا، ٹوٹا۔ اس کی آنکھ سے آنسو ٹپک کر کونڈے کے پانی کے ساتھ جا ملا تھا۔ دھیمی آواز سے بولی ”غربت کی آ خری لکیر“ اور ٹھنڈی آہ بھری۔

Facebook Comments HS