پنٹاگون پیپرز اور ڈینیل الزبرگ: اخلاقی جرات کی درخشاں مثال
پاناما پیپرز سے پاکستان میں کون واقف نہیں۔ جب یہ قراطیس خفیہ منظر شہود پر نمایاں ہوئے تو ان میں
داور حشر میرا نامہ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نیشنوں کے بھی نام آتے ہیں
کے مصداق دنیا بھرکے لیڈران کرام کے ساتھ پاکستانی وزیر اعظم کا نام بھی شامل تھا۔
پاناما پیپرز آؤٹ ہونے کے غیر مقصود نتائج میں ایک نتیجہ نواز شریف کی وزارت عظمی سے دستبرداری تھی۔
لیکن شاید یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ پاناما گیٹ کا انتہائی خفیہ رازوں کو فاش کرنے کا یہ سکینڈل ایک سلسلے کی ایسی کڑی تھا جس کا آغاز پچاس سال پہلے پنٹاگون پیپرز کے نام سے مشہور ایک ٹاپ سیکرٹ رپورٹ کی لیک سے ہوا۔
وسل بلوئنگ کی اصطلاح زیادہ پرانی نہیں ہے۔ نصف صدی سے کچھ عرصہ قبل تک تو مخبری کے اس پہلو کا کسی نے اس کا نام تک نہیں سنا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب طاقتور حکومتیں، خاص طور پر امریکی اور مغربی حکومتیں، بڑے اطمینان سے دستاویزات پر ٹاپ سیکرٹ کی لال مہر لگا کر اپنی عوام اور دنیا بھر کی آنکھوں میں دھول جھونکتیں اور سمجھتیں کہ ان کے راز محفوظ رہیں گے۔
لیکن ایک شخص کی اخلاقی جرات کی وجہ سے اس ٹاپ سیکرٹ قلعے کی دیواروں میں اتنا بڑا شگاف پیدا ہوا جس کو بھرنا اب کسی حکومت اور طاقت کے نشے میں مدہوش مالی یا عسکری ادارے کے بس میں نہیں۔ اس اولیں وسل بلوئنگ مخبری کی بنیاد جس شخصیت نے رکھی اس کا نام ڈینئل الزبرگ تھا۔ امریکی منافقت، چھل فریب اور مکاری کا راز فاش کرنے والے پنٹاگون پیپرز کے اس محرک کا ابھی چند دن پہلے بانوے سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
پنٹاگون پیپرز کے نام سے مشہور زمانہ ان دستاویزات کے انکشاف نے دنیا بھر میں ایک ہل چل مچا دی تھی۔ نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا میں شدید مظاہرے ہوئے اور بالآخر اس جنگ کے خاتمے تک نوبت پہنچی جو اس راز افشائی کے بغیر خدا جانے اور کتنی طویل مدت تک جاری رہتی اور کتنے معصوم لوگوں کی جان لیتی۔
الزبرگ خود سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا ایک سینئر افسر تھا۔ اس نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اور عرصے تک رینڈ کارپوریشن میں کام کیا جس کے پنٹاگون سے نہایت گاڑھے مراسم تھے۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے انہیں جنگ کی پیش رفت کا تعین کرنے کے لئے ایک ٹیم کے ساتھ دیتنام بھیجا۔ اپنی ڈیوٹی کے ابتدائی دنوں میں وہ ویت نام میں امریکہ کے رول کی حمایت میں تھے لیکن ویت نامیوں کے خلاف درندگی کے مظاہر دیکھنے کے بعد ان کے دل میں امریکی پالیسی کے خلاف ایک شدید نفرت بس گئی۔ جنگ کی پیش رفت کو قریب سے دیکھنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ آئزن ہاور، کینیڈی، جانسن اور نکسن سمیت چاروں امر کی صدور نے قوم سے گھناؤنے جھوٹ بولے ہیں اور جنگ میں شکست تسلیم کر کے اس کے اختتام کی بجائے اس کو مزید طول دیا ہے۔
جس واقعے نے الزبرگ کے ضبط کی سب دیواریں مسمار کر دیں وہ اس کی ایک میٹنگ میں شرکت تھی جس میں ایک نوجوان امریکی نے بڑے فخر کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ وہ ڈرافٹ کی پابندی نہیں کرے گا اور اپنی آزادی کی قربانی دے کر جنگ کے خلاف اعلان جنگ کر کے جیل جانے کو ترجیح دے گا۔ الزبرگ کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ اس کے نوجوان ہم وطن جنگ کے خلاف مظاہروں کی پاداش میں جیلیں بھریں، قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں اور وہ خود کچھ نہ کرے۔
اس نے پہلے تو اپنے محکمے کے کرتا دھرتا افسران کو بتانے کی کوشش کی کہ امریکی حکومت دنیا کہ دھوکا دے رہی ہے۔ ویت نام کے بارے میں وہ جو کچھ اپنی قوم اور دنیا کو بتا رہی تھی اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ لیکن سرکاری سطح پر اس کی ہر وارننگ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اب اس حساس امن پرست افسر کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا سوائے اس کے کہ ایسا قدم اٹھائے جو خطرات سے بھر پور لیکن اس کے ضمیر کی آواز سے ہم آہنگ ہو۔
پنٹاگون پیپرز کے چھپنے کی وجہ سے امریکی پراپیگنڈہ کے وہ سب پردے چاک ہو گئے جو ویتنام میں امریکہ کے کمانڈر جنرل ویسٹمور لینڈ جیسے لوگوں نے عوام اور سچائی کے درمیان لگائے تھے۔ حکام مسلسل اس وقت کے وسائل ابلاغ کے سامنے یہ جھوٹ بول رہے تھے کہ فتح قریب ہے۔ شاید ان کے ذہنوں میں ہٹلر کے پراپیگنڈہ منسٹر گوئبلز کا یہ قول تھا کہ اگر جھوٹ کو بار بار دہرایا جائے تو سننے والوں کے لئے وہ جھوٹ سچ بن جاتا ہے۔
یہ رپورٹ پنٹاگون کی انتہائی خفیہ رپورٹ تھی جس میں اندرونی ریسرچ کے بعد ویتنام میں جنگ کی صورت حال کا تعین کیا گیا تھا۔ الزبرگ نے خود اس رپورٹ کی ریسرچ میں حصہ لیا تھا۔ لیکن جب رپورٹ مکمل ہو گئی تو اسے اندازہ ہوا کہ باہر جو بات بتائی جا رہی ہے وہ صرف جھوٹ کا پلندا ہے۔ اس نے چوری چھپے پنٹاگون رپورٹ کی فوٹو کاپیاں بنا کر اپنے ایک صحافی دوست کے توسط سے نیو یارک ٹائمز کو بھجوا دیں۔
امریکہ کی تاریخ میں ایسے دھماکوں کی نظیر نہیں ملتی جو تیرہ جون انیس سو اکہتر میں ان دستاویزات کے چھپنے کے بعد ہوئے اور جن کے نتیجے میں امریکہ کو ویتنام سے ذلیل ہو کر نکلنا پڑا۔ ان دنوں رچرڈ نکسن امریکہ کے صدر تھے۔ جس دن یہ خبر چھپی ان کے ڈپٹی سیکیورٹی ایڈوائزر جنرل الیگزینڈر ہیگ نے رائے عامہ کنٹرول کے لئے آرڈر مانگے۔ نکسن نے غصے میں تلملاتے ہوئے الزبرگ کے خلاف شدید کارروائی کا حکم دیا۔ حکومت نے درجن بھر مقدمے الزبرگ کے خلاف دائر کر دیے جن کی پاداش میں اس کو ایک سو پندرہ سال تک کی سزا ہو سکتی تھی۔ جب صحافیوں نے الزبرگ سے اس بارے میں پوچھا تو اس کا دو ٹوک جواب تھا کہ آپ میری سزا کا، چاہے وہ دس، بیس، یا ایک سو پندرہ سال جیسی مضحکہ خیز مدت کے لئے ہو، پچاس ہزار امریکی اور لاکھوں ویت نامی جانوں کے نقصان سے کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں؟ ان جانوں کے ضیاع کے مقابلے میں میری سزا کی کوئی حیثیت نہیں۔
پنٹاگون پیپرز کی اشاعت کے بعد ویتنام کی جنگ کے خلاف مظاہروں میں اور بھی شدت آ گئی۔ بالآخر مزید چار سال اور لاکھوں ویتنامیوں کی موت کے بعد کانگریس نے جنوبی ویتنام کی مدد کے فنڈ بند کر دیے اور یوں اس جنگ کا خاتمہ ہوا جس نے درندگی کی ایک نئی مثال قائم کر دی تھی۔
جنگ کے خاتمے کے بعد الزبرگ نے اپنی زندگی تدریس و تحریر کے لئے وقف کر دی۔ وہ وسل بلوئنگ کا سب سے بڑا ایڈووکیٹ اور حامی بن گیا تھا۔ جب انٹیلی جنس سروسز میں معمولی عہدوں پر فائز چیلسی میننگ اور ایڈورڈ سنوڈن نے انتہائی خفیہ دستاویزات کو انٹرنیٹ پر لگایا تو الزبرگ نے ان کے دفاع کے لئے تحریک چلائی۔ اسی طرح وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کے خلاف بھی الزبرگ نے پوری طاقت سے آواز اٹھائی۔
اس کے خیال میں حکومت عراق اور افغانستان میں اسی دھوکے بازی کا مظاہرہ کر رہی تھی جو تقریباً نصف صدی پہلے اس نے ویت نام میں کیا تھا۔ الزبرگ کا دعوی تھا کہ اگر کوئی ہمت والا کارکن حکومت کے اندرونی راز وقت پر افشا کر دیتا تو شاید عراق اور افغانستان تباہی سے بچ جاتے اور دنیا آئیسس جیسی دہشت پسند تنظیموں سے محفوظ رہتی۔
الزبرگ اس بات پر مکمل یقین رکھتا تھا کہ حکومتیں جھوٹ بولتی ہیں اور ان کو چیلنج کرنا ہر شہری کا حق ہی نہیں فرض بھی ہے۔ مختلف حلقوں میں الزبرگ کی پرستش بھی ہوتی ہے اور بہت سے لوگ اسے غدار بھی کہتے ہیں۔ لیکن اپنی بانوے سالہ طویل زندگی میں حکومتوں کی زیادتیوں سے پردہ اٹھانے کی کاوشوں میں الزبرگ کا نام سب سے اولیں بھی ہے اور اہم بھی۔ اس لحاظ سے الزبرگ کاشف الاسرار تھا جس نے وسل بلوئنگ کی بنیاد رکھی۔ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ جب تک حکومتیں چھپ کر وہ کام کریں گی جو عوام الناس کی فلاح کے خلاف ہے یہ بحث چلتی رہے گی۔ ڈینئل الزبرگ کا نام اور یہ قصہ وسل بلوئنگ کی اساطیر الاولین میں شامل رہے گا۔




