جب وردہ نے رومال کو لیرا لیرا کر دیا

وردہ نے رومال کو لمبی سانس لے کر سونگھا اور اس کو اپنی ناک سے الگ نہ کر سکی۔ آنسوؤں کی دھار نے آہستہ آہستہ رومال میں سے آتے ہوئی عمار کے عطر کی خوشبو کو مانند کر دیا تھا۔ وردہ نے ایک آہ لی اور رومال کو پھاڑنا شروع کر دیا۔ ’دقیانوسی کہیں کا اس ٹشو پیپر کے زمانے میں بھی رومال استعمال کرتا ہے، پرفیوم کو چھوڑ کر عطر خریدتا ہے۔ پتا نہیں کون سے دور کا انسان ہے!
عمار کو گھر سے گئے دو سال بیت چکے تھے۔ وردہ اسے بات بات پہ کہتی تھی کہ تم یہاں سے چلے کیوں نہیں جاتے۔ مجھے تمہاری عادتیں بالکل پسند نہیں ہیں وہ ہر دفعہ کہہ دیتا کہ چلا جاؤں گا، رہنے کی جگہ کا انتظام کر رہا ہوں۔ اور پھر بات کچھ دنوں کے لیے آئی گئی ہو جاتی، لیکن محض چند دنوں کے لئے۔ وردہ سے اس کا سراپا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ عمار سوچ میں پڑ جاتا کہ یہ وہی عورت ہے جو محبت کے دعوے کرتی تھی۔ اس کے ارد گرد ایک پروانے کی طرح موجود رہتی تھی، اب وہی اسے الگ ہو نے کے لئے کہتی رہتی ہے۔
آخر تنگ آ کر وردہ نے خود ہی اس کے لئے جگہ ڈھونڈی، سامان باندھنے میں اس کی مدد کی، اور اس کو گھر سے رخصت کر دیا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے عمار کی یاد کو بھی کہیں بہا دیا۔ وردہ کو لگا کہ وہ دوبارہ آزاد ہو گئی تھی۔ پابندیاں تو پہلے بھی اس پہ کچھ نہیں تھیں لیکن اب اس کو تنقیدی نظر سے دیکھنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ وقت بھاگ رہا تھا یا اس نے خود کو دوستوں اور اپنی ڈیزائننگ کے کام میں اور مصروف کر لیا تھا۔
کبھی کبھی حسب ضرورت عمار سے بات چیت ہو جاتی کیونکہ اس کی ڈاک ابھی تک اسی پتہ پہ آ رہی تھی۔ وردہ نے کئی بار سوچا کی اسے پتہ بدلنے کے لیے کہے لیکن کسی انجانی سوچ نے ہمیشہ اس کی زبان کو روک دیا۔ عمار نے بھی قدم نہیں اٹھایا فاصلے کم کرنے کے لئے یا بڑھانے کے لئے۔ وردہ سوچتی کہ یہ ڈاک کا رشتہ ہے جس کی وجہ سے وہ ابھی تک اس کچے دھاگے کے ذریعے اس سے بندھی ہوئی تھی۔ شاید وہ اس ڈور کو توڑنا نہیں چاہتی تھی۔
وردہ سوچ میں پڑ جاتی کہ عمار کیسا انسان ہے۔ اس کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ میرے ساتھ رہے یا مجھ سے دور۔ یہ دونوں حالات میں پر سکون نظر آتا ہے۔ اس کو بس ایک ہی الجھن تھی کہ عمار یا تو بالکل بے حس انسان ہے یا وہ اپنے جذبات پہ مکمل قابو رکھتا ہے۔ یا تو یہ کوئی پتھر ہے یا ولی ہے۔ یہی الجھن اس کو علیحدگی سے پہلے بھی تھی۔ وہ شاید کبھی عمار کو سمجھ نہ پائی تھی۔ آج پھر اس کے رومال کو سونگھتے ہوئی وہ اسی تذبذب کا شکار ہو گئی تھی۔ آج اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ تو اتنے سفر کے بعد
بھی وہیں کھڑی تھی جہاں وہ دو سال پہلے تھی۔
اس نے گیلے رومال کو اچانک لیرا لیرا کر کے مسل دیا۔ پھر آنسوؤں کی دوسری بوچھاڑ میں وہ ان لیروں کو سمیٹنے لگ گئی۔

