بپرجوائے کے خلاف بروقت کارروائی: ایک خوش آئند اقدام


15 جون 2023 کو ایک شدید سمندری طوفان کا خطرہ تھا جسے بپرجوائے کا نام دیا گیا تھا۔ بحر ہند کے کنارے بسنے والے ممالک کا ایک اتحاد موجود ہے جس نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ جب بھی کوئی سمندری طوفان برپا ہونے والا ہو تو اسے ایک مخصوص نام دیا جاتا ہے اس اتحاد میں بھارت، پاکستان اور عرب ریاستیں شامل ہیں جنہوں اپنے اپنے 13، 13 نام دیے ہوئے ہیں اور سب کو ملا کر دو لسٹیں بنائیں ہوئی ہیں۔ اس مرتبہ جو طوفان آیا یہ ایک نام بنگلہ دیش کا دیا ہوا نام تھا جس کا مطلب ”آفت“ ہے، بھارتی ریاستوں گجرات اور ملحقہ علاقوں میں آنے کی توقع تھی اسی طرح سندھ کے ساحلوں کراچی، ٹھٹھہ، بدین اور کیٹی بندر کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے مگر اس مرتبہ حکومتی پالیسی کے مطابق تمام وفاقی و صوبائی اداروں نے مل کر شب و روز محنت کر کے متاثرہ علاقوں کے لوگوں اور جانوروں کو خطرات والے علاقوں سے انخلاء کرایا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور ان کی حفاظت کے مربوط اور جامع اقدامات اٹھائے ہیں وہ قابل ستائش ہیں اور اس سارے عمل کے دوران محکمۂ موسمیات کا کردار بھی قابل تحسین ہے جس نے موسمی حالات کا قریبی اور بروقت درست جائزہ لیا اور عوام اور حکومت کو آگاہ رکھا اور اس طرح بیشمار قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ گئیں۔

سائنسی ترقی کا صحیح فائدہ اٹھایا گیا۔ اگر پچھلے سال آنے والے سیلاب کی بھی اسی طرح بروقت کوئی اطلاع ہوتی تو بہت زیادہ نقصانات سے گلوخلاصی حاصل کی جا سکتی تھی۔ بروقت پیش گوئی کی جائے تو مناسب اور بروقت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے سے ملکی پیداوار بڑھ سکتی ہے اور نقصانات سے تلافی ممکن ہے۔ ہمارے ہاں سادہ لوح عوام ہیں ان کی ہر وقت ہر موضوع سخن پر رہنمائی درکار ہے۔ جو سیاسی قائدین اور حکومتی اہلکار بر وقت کریں تو یہ ممکن ہے کہ ہم آبادی پہ قابو کن اقدامات سے اعلیٰ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

آبادی میں اضافہ جس رفتار سے ہو رہا ہے معاشرتی و معاشی مسائل روز افزوں ہیں غربت کی لکیر سے نیچے لوگوں کو نکالنے کے لئے لازم ہے کہ صرف موٹیویشن سے ہی راغب کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا میڈیا اپنے فلم، ٹی وی ڈراموں اور سٹیج ڈراموں کے ذریعے اور ریڈیو پروگراموں کے ذریعے اگر عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں نیز منبر و مینار کا بھی اہم رول ہے۔ آبادی پہ قابو ایک ترقیاتی پہلو ہے، اور جو افراد معاشرے کا حصہ ہیں انہیں کی حفاظت و نگہداشت بھی لازم ہے، بنیادی خوراک، صحت، تعلیم اور روزگار کے ذرائع بھی بلا تفریق سب کو میسر کرنا بھی ریاستی ذمہ داری اور اہم ترین فریضۂ اولین ہے۔

طوفان کے خلاف اگر ہم سینہ سپر ہوسکتے ہیں تو دیگر کئی ایک معاملات پہ بھی اسی یکسوئی کا مظاہرہ ازبس لازم ہے۔ اگر ہم ملکی وحدت کے لئے ایک ساتھ یکجان ہو کر کام کریں تو جلد ہی بیرونی سہاروں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS