خالد احمد: ادب کا گگلی بولر


ادھر کینیڈا، شمالی امریکا میں موسم گرما کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ طویل اور ”پرتشدد“ سردیوں کے بعد بہار کی خوش گوار خنکی کا دورانیہ رفتہ رفتہ گرمیوں کی پرتپاک تمازت میں ڈھلتا چلا جا رہا ہے۔ جنوب ایشیائی ممالک کے برعکس یورپ اور شمالی امریکا میں اس موسم کا خیر مقدم خاصے جوش و خروش سے کیا جاتا ہے کیوں کہ اسی رت میں دھوپ سے چمکتے دنوں کے ساحل پر کچھ کھل کر کھیلا جا سکتا ہے۔

بدلتی رتوں کے مناظر کا تصور باندھے آج دن کے تیسرے پہر رابعہ بیٹی کی محنت سے مہکتے رنگا رنگ موسمی پھولوں سے آراستہ بالکونی میں بیٹھا دیکھتا ہوں کہ جنگلوں کی آگ سے پھیلتا دھواں چھٹ جانے کے بعد اب آسمان کی نیلاہٹ لوٹ آئی ہے۔

دور تک پھیلے اونچے نیچے پیڑوں کے جھنڈ دھوپ کی اجلی بارش میں نہائے جا رہے ہیں۔ فضا میں ہوا کی موسیقی گھلی ہوئی محسوس ہوتی ہے جو ’سائیں سائیں‘ کرتی میدانوں اور گل دانوں میں کھلے رنگا رنگ پھولوں کے چہروں کو مس کرتی گزر رہی ہے۔ سوچتا ہوں یہ سب کس نوا گر کے کرم سے ہے؟ اور اچانک کوئی انوکھا، پراسرار، دل سوز ترنم میرے پاس، بہت ہی پاس کھنکھنانے لگتا ہے :

وہی نوا گر عالم خدائے صوت و صدا
وہی ہوا کو فقط سائیں سائیں دیتا ہے

اور میرا دھیان اس پراسرار صدا کے تعاقب میں جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ واٹر ڈاؤن قصبے کی البیلی ہواؤں کی سائیں سائیں سے ابھرتی گھنگھریالی دھن شہر لاہور کی فضاؤں میں تیرتے جھونکوں کی ہموار لے میں مدغم ہونے لگتی ہے۔

ایسا بھی نہیں کہ لاہور کی ہموار لے تموج آشنا نہیں۔ چلنے کو تو ہوائیں کیا آندھیاں بھی چلیں، تہذیب کو تہ و بالا کر دینے والی آندھیاں۔ سڑکوں پر بھی نعرہ زنی کی گئی اور چائے کی پیالی میں بھی طوفان بپا گئے گئے۔ مگر اس شہر کی فضاؤں میں رچی بسی ہلکی ہلکی محبت کی دل پذیر دھن کا حسن اور اس کی دل کشی اپنی جگہ قائم رہی۔ لکھاریوں کی چپقلش بھی رہیں اور ادبی سیاسی تحریکوں کے معرکے بھی گرم رہے۔ ترقی پسند تحریک کا الاو ہو یا حلقہ ارباب ذوق کا سبھاؤ، عابد علی عابد اور ”نیاز مندان لاہور“ ہو یا علامہ تاجور نجیب آبادی اور ”اردو سبھا“ ، جریدہ ادب لطیف ہو یا شاہکار، فنون ہو یا اوراق۔ تخلیقی اور تحریکی فضا میں گرما گرمی اور محفلوں میں ہاؤ ہو کبھی ماند نہ پڑی۔ ایک اور سطح پر نقوش، محفل، فانوس، ماہ نو اور شام و سحر جیسے ادبی رسالے، حلقہ ادب، حلقہ ارباب غالب، ادارہ ادب، مجلس شمع ادب، ادارہ گلشن ادب، تصنیف ادب، ینگ رائٹرز ایکویٹی اور اہل صریر خامہ جیسی ادبی تنظیمیں بھی قدرے کم آہنگ سروں میں سہی مگر اس زندگی پرور کلاسیکی سمفنی میں اپنی جگہ بنائے ہوئے رہیں۔ وقت گواہ ہے کہ رائے اور نظریے کے اختلاف کے باوجود باہم تعلق خاطر کا لحاظ رکھا جاتا تھا۔

حالات کی کشیدگی اور طبع کے کسیلے پن کو ادب نواز چائے خانوں میں آمنے سامنے بیٹھ کر قہقہوں کی مٹھاس سے کم کرنے کی سعی کی جاتی تھی۔ اخلاقی اور تہذیبی اقدار کی پاسداری کی جاتی تھی اور فکری و نظریاتی فاصلوں کے باوجود انسانی سطح پر روابط استوار رہتے تھے۔ ایک خاندان کے مختلف الخیال افراد کی طرح، ایک قبیلے کی طرح۔ اور پھر۔

فرد سے ٹوٹ گئے، فرد قبیلے نہ رہے

ہاں، کہیں کہیں کچھ ہم۔ خیال لوگ ملتے رہے اور چھوٹے بڑے ادبی قافلے سے تشکیل پاتے رہے، کچھ جلد ٹھہر گئے اور کچھ عارضی پڑاؤ کے بعد تازہ دم ہو کر پھر سے چل پڑے۔ لاہور میں ایک ادبی قافلے کا پڑاؤ میکلوڈ روڈ پر واقع رسالہ ”فنون“ کا دفتر تھا جہاں جناب احمد ندیم قاسمی کی شفیق توجہ کے سائے میں سر شام ہی کچھ ادب نواز احباب جمع ہونا شروع ہو جاتے تھے۔ مجھے اس محفل میں متعارف کروانے کا سہرا شاعر دوست عباس تابش اور علی اصغر عباس کے سر ہے۔

یہاں عبداللہ قریشی صاحب جیسی بزرگ ہستیوں سے بھی شرف ملاقات حاصل ہوتا اور جناب خالد احمد، نجیب احمد، منصورہ احمد صاحبہ، جناب اشرف جاوید، جاوید انور اور کتنے ہی اور اچھے شاعروں ادیبوں سے ملاقاتوں کی بھی صورت نکل آتی۔ میں نے دیکھا کہ یہاں گفتگو میں ندیم صاحب کے علاوہ اگر کوئی بول سکتا تھا تو وہ خالد احمد تھے جن کی شاعری، شخصیت اور گفتگو تینوں لاجواب تھیں۔

خالد احمد صاحب کا کلام تو کئی مشاعروں میں سن چکا تھا تاہم ان سے بہ حیثیت شاعر میرا تعارف چوبرجی گارڈنز میں منعقدہ ایک مشاعرے میں ہوا تھا۔ جناب احمد ندیم قاسمی کی صدارت میں ہونے والے اس مشاعرہ کا اہتمام رشید کامل صاحب اور ان کے احباب نے کیا تھا اور انہوں نے والد صاحب (محترم یزدانی جالندھری) کے ساتھ مجھے بھی مدعو کیا تھا۔ مشاعرے میں خالد احمد کی غزل نے واقعی سماں باندھا دیا تھا:

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں
ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے
وا کر سکا مگر لب گویا نہ تو نہ میں
میں نے جو غزل پیش کی وہ کچھ یوں تھی
:
کیسی ظالم رت تھی دریا پیاسا تھا
بادل بھی تو جیسے اڑتا صحرا تھا
یا تو دیر سے کھلنا اس کی فطرت تھی
یا پھر میں اس شخص کو دیر سے سمجھا تھا
وہ بڑھیا راتوں کو سویٹر بنتی تھی
جس کا بیٹا دن بھر سپنے بنتا تھا

بس کچھ ایسی ہی تھی میری شاعری ان دنوں بھی۔ خیر، مشاعرے کے بعد چائے کے دور میں خالد احمد صاحب نے مجھے شاباش اور داد دی۔ پھر والد صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے میرے بڑے بھائی خالد یزدانی صاحب کی شاعری کا ذکر بہت محبت سے کیا، کہنے لگے : ”خالد میرا ہم۔ نام ہے، مؤدب نوجوان ہے، بہت اچھا شاعر ہے بس ایک ہی خامی ہے۔ وہ ملتا نہیں“ ، یہ کہتے ہوئے قہقہہ لگایا اور پھر میری طرف دیکھ کر بولے : ”تم ملا کرو گے یا تم بھی خالد کے بھائی نکلو گے؟“ اور ایک اور زور دار قہقہہ۔ اور پھر بطور شاعر میری آمد پر والد صاحب کو مبارک باد دی۔ یہ تھی مختصر سی تعارفی ملاقات۔

میں نے واقعی ثابت کیا کہ میں خالد یزدانی کا بھائی ہوں۔ بہت دیر انہیں نہ ملا۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا۔ کالج کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں، جز وقتی معاشی مصروفیات، نیم ادبی اور غیر ادبی مشاغل نے معاملہ بہت دیر تعارفی ملاقات سے آگے بڑھنے نہ دیا۔ میں مشاعروں میں خالد صاحب کو دیکھتا اور سنتا رہا مگر باقاعدہ نشست کی صورت نہ نکل سکی۔ اور پھر میری یا شاید شہر کی ”شامت اعمال“ کہ علی اصغر عباس لاہور آ گیا۔

اس نے مجھے لاہور کے ادبی حلقوں اور تخلیقی ہستیوں سے تواتر سے ملنے پر ”مجبور“ کر دیا۔ ایک روز وہ مجھے واپڈا ہاؤس لے گیا جہاں محکمۂ تعلقات عامہ میں خالد احمد صاحب کے ساتھ ساتھ جناب حفیظ تائب، جناب خالد صدیقی، جناب افتخار مجاز اور جناب رضا الحق صدیقی سے بھی ملاقات ہوئی۔ خالد احمد صاحب سے ملاقاتوں میں تسلسل بعد ازاں عباس تابش کی رفاقت میں آیا۔

ایک دور تھا کہ ہم دونوں ہر روز ہی واپڈا ہاؤس جا پہنچتے اور پھر شعر و ادب پر ایک طویل مکالمہ شروع ہو جاتا جس میں کبھی وقفے وقفے سے اور کبھی لگاتار چائے کے دور بھی چلتے رہتے۔ ہاں، خالد صاحب اس دوران میں سگریٹ کا دھواں بھی اڑاتے جاتے اور ہم۔ کار اصحاب کی حرکتوں پر ان کی ہنسی بھی۔ ان کا جان دار قہقہہ شعبہ تعلقات عامہ کی نیم اور مہین دیواروں کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ ”چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد“ کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے وہ ”خوب“ و ”ناخوب“ میں امتیاز روا نہ رکھتے تھے موڈ میں ہوتے، جو کہ وہ اکثر ہوتے، تو ایک ماہر گگلی بولر کی طرح سب کے وکٹ اڑاتے چلے جاتے، جو سامنے آ جاتا ان کی دل چسپ ”چھیڑ خانی“ اور کاٹ دار جملوں کے ہاتھوں ”کلین بولڈ“ ہوجاتا۔

ویسے وہ ”تشبیب“ ، ”دراز پلکوں کے سائے سائے“ ، ”پہلی صدا پرندے کی“ ، ہتھیلیوں پہ چراغ ”،“ ایک مٹھی ہوا ”،“ نم گرفتہ ”اور“ پہلی پو، پہلی پروائی ”کے اظہاری پیکروں اور منفرد تخلیقی انداز سے بھی ادبی میدان کے کئی ایک نقادوں کے بھی چکھے چھڑا چکے تھے۔

بظاہر سب سے ملتے اور خوش دلی سے ملتے مگر اپنے قریب کم کم لوگوں کو آنے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے عظیم شعری سنگھاسن کے گردا گرد کئی مدور دیواروں کا حصار قائم کر رکھا تھا۔

مجھ کو جاننے والے خالدؔ جان نہ پائیں گے

اگر کوئی پھبتیوں کی دیوار خنداں پار کر آتا تو خود کو شعر فہمی کی دیوار کے مقابل کھڑا پاتا، اسے عبور کرتا تو عصری ادبی آویزشوں کی راہ داری سے متعارف ہوتا، اسے پار کرتا تو وقت کی صبر طلب فصیل مقابل ہوتی، ”خالد فہمی“ کا مرحلہ طے کرنا آسان نہ تھا۔

کوئی پائے تو مجھے کیا پائے
کھوئے رہنا ہے نشانی میری
وہ ہر نئے ملنے والے سے شعر کی زبان میں یوں ہم۔ کلام ہوتے :
دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیوں سر کہسار آئے
قد بڑھانے اگر آئے ہیں تو بیکار آئے

وہ عجیب ”واردات“ کرتے تھے۔ صبح آغاز ہونے والی ملاقات میں کوئی ایک مسئلہ سامنے رکھ دیتے، ایک سوال اٹھا دیتے، یا پوچھے گئے سوال کی ایک پرت کی نشان دہی کر دیتے، مخاطب کو زیر بحث معاملے یا شعری رخ کی ایک جھلک سی دکھلا کر حیرت کدے کا در وا کر دیتے اور خود خبرنامہ واپڈا، چیر مین کی رسمی تقریر، ٹی وی پروگرام کے سکرپٹ، ہم۔ کار اصحاب کی شامت اعمال اور چائے نوشی میں لگ جاتے۔ پھر یک بارگی ماتھے پر ڈھلک آئی بالوں کی لٹ کو سر کی ہلکی سی جنبش سے پیچھے کو اچھال دیتے، ہاتھ سے بال سنوارتے ہوئے ایک نگاہ اپنے ”مضروب و مجروح“ مہمان پر بھی ڈال لیتے اور بس مسکرا دیتے۔

مجھے یاد ہے پہلی مشترکہ ملاقات میں انہوں نے :
گورکس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
سنایا اور اس پر گفتگو کے لیے کہا۔ جیسے امتحان لے رہے ہوں اور پھر احمد مشتاق کا شعر پڑھا:
ہوتے ہی شام آنکھ سے آنسو نکل پڑے
یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے

اور اس زمین میں شعر کہنے کا حکم دیا اور خود ”خبرنامہ واپڈا“ کی خبر گیری میں مصروف ہو گئے۔ عباس تابش اور میں نے اپنی سی کوشش کی اور خالد صاحب سے ”حسب استحقاق“ شاباش پائی۔

جی ہاں، خالد احمد صاحب کے پاس بیٹھنا یا ان کے قرب میں جگہ پانا کار آساں نہ تھا۔ جیسے مضطر طبع وہ خود تھے ویسا ہی مضطرب وہ اپنے شریک بزم کو دیکھنا چاہتے تھے۔ اچانک کوئی عجیب سا سوال داغ دیتے یا کوئی ایسا کثیر پہلو جملہ کہہ جاتے کہ مخاطب چکرا کر رہ جاتا۔ اب آنکھوں آنکھوں میں پوچھتے :

میں تو اپنی دھن میں چکرایا سا پھرتا ہوں
تم کو اپنی موج میں رہنا کیسا لگتا ہے؟

تو جناب! اب اگر ان کے مخاطب نے ان کا جملہ اچک لیا اور اسی ”شان“ کا جوابی جملہ اچھال دیا تو خالد صاحب کی زور دار ”وا اا اہ“ اور مزید ایک کپ چائے کا حق دار قرار پا گیا۔ پہلی بار میں ایسے اعزاز کا سزاوار ٹھہرا تو بیرونی کمرے کی طرف رخ کر کے آواز لگائی: ”مولانا! ہن تے دو چاواں بھیج دیو“ ۔

چائے بنانے پر مامور باریش رفیق کا رنے نیم دیوار کے پار سے جواب دیا: ”او پہلیاں دو چاواں دا کیہ کیتا جے؟“

کہنے لگے : ”اک تے او چاواں چنگیاں نہیں سن، دوسرے بالکل ٹھنڈیاں برف۔ حامد وچارا تے صبر شکر کر کے پی گیا اے پر میرے گلے توں تھلے نہیں پئی لتھدی“ ۔

ادھر سے آواز آئی: ”خدا دا خوف کرو، میں بالکل گرم گرم دے کے گیا ساں، ہن تسیں آپ شعر و شاعری چہ ٹھنڈیاں کر لو تے میرا کیہ قصور؟“

فوراً بولے : خدا دا خوف! میں تے اوہدا شکر ادا کرنا واں تے تہاڈا وی جنہاں دی وجہ نال میں تے پکا جنت اچ جاواں گا ”۔

میری وجہ نال؟ ”ادھر سے دھیما سا استفسار ہوا۔

”ہاں جی، مولانا، اوس دن تسیں ایں تے کہہ رئے سو کہ صبر کرن والے جنت اچ جان گے تے ایہو جئی ٹھنڈی تے بے سوادی چاتے صبر دا پھل تے مینوں ملے گا ای ناں!“ ۔ آس پاس کے کئی کمروں سے بیک وقت قہقہے بلند ہوئے۔

”توبہ، توبہ، توبہ، کیہڑی گل نوں مروڑ کے کدھر لے گئے او!“ مولانا یہ کہتے ہوئے اور ایک مودب سی مسکان ہونٹوں پر سجائے کمرے میں داخل ہوئے۔ چائے میز پر رکھی اور اس سے پہلے کہ خالد صاحب شکریہ کی گگلی پھینکتے وہ جلدی سے دوسرے کمرے میں چلے گئے۔

ابھی کچھ ہی دیر گزری ہو گی کہ خالد صاحب پھر سے پکارے : ”مولانا! جمعہ پڑھن جان توں پہلاں دو چاواں ایہدھر پھڑاندے جانا“ ۔

مولانا نے جلدی سے کہا: ”جناب! فوراً نہ گیا تے میریاں نماز دیاں سنتاں رہ جان گیاں“ ۔

خالد صاحب کا جواب تھا: ”جماعت دے بعد پڑھ لینا سنتاں کیونکہ کسے مجبوری کر کے قضا ہو جان والیاں سنتان بعد اچ پڑھن دا ثواب ہور وی زیادہ ملدا اے۔“

دوسرے کمرے میں کچھ دیر خاموشی رہی اور پھرمولانا بھاپ اڑاتی چائے کے دو سفید سفید پیالے رکابیوں پر سجائے کمرے میں داخل ہوئے۔ میرے سامنے ایک پیالہ رکھتے ہوئے آہستہ سے بولے : ”اندروں جاندے سارا کجھ ای نیں، اتوں اتوں مچلے بنے رہندے نیں“ ۔

پھر ایک نظر خالد صاحب کی مسکراتی شریر نگاہوں پر ڈالی اور سر کو اثبات میں جنبش دیتے ہوئے باہر نکل گئے۔
۔ ۔

چائے! ”طاہرہ کی آواز برسوں کے فاصلوں کو یک دم سمیٹ کر رکھ دیتی ہے۔ آنکھوں کے تجسس میں پوچھتی ہے :“ کچھ لکھ رہے ہیں کیا؟”
”نہیں، ابھی سوچ رہا ہوں“ میں خاموشی سے جواب دیتا ہوں۔ یوں ایک بے آواز مکالمہ مکمل ہوجاتا ہے۔

وہ بالکونی سے لونگ روم میں چلی جاتی ہے جہاں رابعہ اپنی تازہ پینٹنگ دیوار پر سجا رہی ہے، اریب ویڈیو گیم کی مہم جوئی پر رواں ہے، ان ڈور پودوں کی ملی جلی مہک کمرے تک محدود کیے جانے پر احتجاج کناں ہے اور بالکونی میں بیٹھا میں اپنے سامنے میز پر دھرے چائے کے مگ سے اٹھتی سفید سفید بھاپ کو دیکھتا ہوں۔ اچانک پھر وہی انوکھا، پراسرار، دل سوز ترنم میرے پاس، بہت ہی پاس کھنکھنانے لگتا ہے :

قمقموں کی طرح قہقہے جل بجھے
میز پر چائے کی پیالیاں رہ گئیں
مجھے لگتا ہے اب میں خالد احمد کے روشن روشن قہقہوں کو یاد کرتی تحریر آغاز کر سکتا ہوں۔

جون کا مہینہ خالد صاحب کی سال گرہ کا مہینہ بھی تو ہے۔ میں سوچتا ہوں اور یک دم جانے کہاں سے کسی مہکتے جھونکے کے دوش پر سوار ایک گہرا سبز، پرنم سا مگر مسکراتا ہوا پتہ پھولوں سے گھری بالکونی میں میرے سامنے پڑی خالی کرسی پر آ گرتا ہے

Facebook Comments HS