یونان کشتی: حادثہ یا المیہ


آج ہمارے نوجوان باعزت روزگار نہ ہونے کی وجہ سے قانونی اور غیر قانونی طریقے سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ ہر شہری کو باعزت روزگار مہیا کرنا ریاست اور حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہماری یونیورسٹیاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سکیل لیبر پیدا کر رہی ہیں۔ جن کو باعزت روزگار مہیا کرنے میں ریاست اور حکومتیں بری طرح ناکام ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ان سکیل لیبر جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ جو اپنے والدین کی معاشی حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے کالجوں اور یونیورسٹیوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

ان کے لئے سرے سے روزگار کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ یہ ان سکیل لیبر انتہائی کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہے۔ اکثریت کی اجرت اتنی کم ہے۔ کہ وہ اس سے اپنا دو وقت کا کھانا اور دیگر معمولی روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ اور بارہ سے پندرہ گھنٹے کام کے باوجود انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اگر ہم سکیل لیبر کی بات کریں جو ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ملک چھوڑ دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے سماج میں پڑھے لکھے افراد ناپید ہو جاتے ہیں۔ اور ہمارے سماج میں وہ افراد باقی بچتے ہیں۔ جو سماج میں مزاحمت نہیں کر سکتے بلکہ دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے صبح سے شام تک کمر توڑ محنت کرتے ہیں۔ جس سے دو وقت کی روٹی اور علاج پوری ہوتا ہے اور نہ بچوں کے لئے جدید اور معیاری تعلیم کا بندوبست، یہ افراد انتہائی سخت محنت مزدوری کے باوجود سماج میں باوقار زندگی کا خواب سجائے زندگی کی شام تک پہنچ جاتے ہیں۔

پاکستان کی اکثریت جو اپنے سماج میں باوقار زندگی کا خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کی شام ہو جاتی ہے۔ لیکن وقار نصیب نہیں ہوتا۔ یاد رکھو جس سماج میں مزاحمت دم توڑ دے وہ سماج بنجر ہو جاتا ہے۔ وہاں ہر طرح کی تخلیق و تحقیق کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ سماج پسماندگی کی عمیق گہرائیوں میں گرتا چلا جاتا ہے اور علم کی حد کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ پسماندگی کی عمیق گہرائیوں کی کوئی حد نہیں ہوتی اور پاکستانی سماج اس میں گرتا چلا جا رہا ہے۔

اب وہ سکیل لیبر جن کے والدین پہلے تو اپنے بچوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انتہائی مہنگی تعلیم دلواتے ہیں۔ لیکن تعلیم سے فارغ ہوتے ہی باعزت روزگار نہ ہونے کی وجہ سے بچوں اور والدین کے لئے انتہائی اذیت ناک عمل شروع ہو جاتا ہے۔ والدین کم علمی کی وجہ سے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے بجائے اگر اس کا کوئی ساتھی بروقت جلاوطنی اختیار کرنے میں کامیاب ہو گیا یا کسی کو اتفاق سے نوکری مل گئی۔ اس کے ساتھ تقابلی جائزہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔

اپنے بچے کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے اس کی طعنہ زنی شروع کر دیتے ہیں۔ جس سے ایک تو پہلے ہی وہ پریشان ہوتا ہے۔ اس کو نفسیاتی مریض بنا دیتے ہیں۔ اب جو نوجوان اپنے والدین کی معاشی حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے جلاوطنی اختیار نہیں کر سکتے۔ ان کی زندگی اس سماج میں ایک مریض کی ماند ہو جاتی ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والی اذیت اور عذاب سے بھرپور زندگی۔

ان نوجوانوں کے پاس ایک ہی راستہ بچ جاتا ہے کہ وہ غیر قانونی جلاوطنی اختیار کریں۔ اس کام کے لئے تیسری دنیا میں ایک انتہائی منظم مافیا سرگرم ہے ان نوجوانوں کے پاس خودکشی یا جلاوطنی کے علاوہ تیسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا لہذا یہ نوجوان ڈنگی لگانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں پر خودکشی کرنے کے بجائے زندگی کی قیمت پر یہاں سے بھگا جائے۔ اگر بچ گئے تو مستقبل موجود ہے اور اس سماج میں سسک سسک کر کسمپرسی کی زندگی سے یہ سودا کسی قیمت پر گاٹھے کا نہیں ہے۔ ہر سال پاکستان سمیت تیسری دنیا کے نوجوان اس راستے کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

یونان کشتی کا المیہ ان نام نہاد ریاستوں اور حکومتوں پر لاتعداد سوالات اٹھا رہا ہے۔ کہ بالائی طبقات کی عیاشیوں کا بندوبست کرنے والی نچلے طبقات کے بچوں کا شاندار مستقبل خود کشی سے ہو کر کیوں گزرتا ہے؟ یہ ریاستیں اپنے نوجوانوں کو آج کے جدید عہد میں باعزت روزگار دینے میں کیوں ناکام ہیں؟ حالانکہ حکمران طبقات تو ہر طرح کی جدید سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

میں واضح انداز میں کہنا چاہتا ہوں۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ المیہ ہے یہ معصوم نوجوانوں کا شعوری قتل ہے یہ ایک ماں سے جوان بیٹا، ایک بہن سے بھائی ایک بیوی سے اس کا شوہر، باپ سے اس کا بیٹا، بچوں سے اس کا باپ منظم انداز سے چھینا گیا ہے۔ ریاست کے تمام سٹیک ہولڈر اس قتل کے ذمہ دار ہیں۔ ان سب کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے اور ان سب قوتوں کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔ جو یہاں جدید ٹیکنالوجی میں رکاوٹ ہیں جو موجودہ نظام میں اصلاحات میں رکاوٹ ہیں۔ جو ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ یہ سب سماج میں تحقیق و تخلیق کے قاتل ہیں۔

لیکن یہاں تو سارے اختیارات ہی انہی کے پاس ہیں۔ ان کے خلاف کون ایف آئی آر درج کرے گا۔ کون ایکشن لے گا۔ تو پھر پاکستان کی نچلے طبقات کو طبقاتی سوال سمجھنا ہو گا۔ اب یہ سوال کون سمجھائے گا؟ یہ ذمہ داری ہر اس باشعور شہری کی بنتی ہے۔ جو یونان کشتی المیہ کو المیہ اور ایک منظم قتل سمجھتے ہیں۔ بصورت دیگر اس طرح کے واقعات سڑکوں، ہسپتالوں اور پھر گلی، محلوں میں رونما ہوتے رہے گے اور ہم ان کو حادثات سمجھتے رہے گے۔ بیشک پاکستان میں انقلاب ناگزیر ہے۔

Facebook Comments HS